ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری: یک چراغ آخریں — شاہد اعوان

0

(24 اپریل، ڈاکٹر انصاری کی برسی کے موقع پر، ایک سال قبل لکھی گئی تحریر)


میرؔ نے کہا تھا

یہ جو مہلت جسے کہیں ہیں عمر
دیکھو  تو  انتظار  سا  ہے  کچھ

استاذ الاساتذہ محترم ظفر اسحق انصاری کا انتظار بھی ختم ہوا۔
چند روز قبل اپنے عزیز دوست –اور مجھے عزیز تر– ڈاکٹر ممتاز صاحب کی رحلت کے بعد ان کا یہ انتظار گویا اپنے دوست سے ملنے کا انتظار ہوگیا تھا۔
ممتاز صاحب کے انتقال کے بعد انصاری صاحب نے گفتگو کرنا تقریباً ترک کردیا تھا۔ شاید سوچتے ہوں اب دوست سے ملاقات پہ سب باتیں ہوں گی۔ انصاری صاحب! آپ نے تو محفل سجالی ہوگی، ہماری زندگی سونی ہوگئی۔
ایک دوست نے آج خبر سناکر جنازے میں جانے کو پوچھا تو لگا کہ زندگی یکلخت کسی گہرے سناٹے میں ڈوب گئی:

تو نے پوچھا، درد میرے دل کا دُونا ہوگیا

یاد پڑتا ہے کہ انتقال سے کچھ ہفتے پہلے ڈاکٹر ممتاز صاحب نے اپنی مرتب کردہ آخری کتاب کا انتساب انصاری صاحب کے نام کرتے ہوئے مصرعہ لکھا:

شاخ گل میں جس طرح باد صبحگاھی کا نم

مجھ سے کہنے لگے اسے جلی حروف میں لکھنا۔ پھر بہت دیر تک زیر لب یہ مصرع دُہراتے رہے اور میری جانب اپنے حسن انتخاب کے لیے داد طلب نظروں سے دیکھتے رہے۔ میں ان کی آنکھوں میں اترتے حزن اور لہجے کی گھمبیرتا کی تاب نہ لاتے ہوئے سر جھکائے داد دیتا رہا۔ اُس لمحہ یہ نم مجھے ان کی آنکھوں میں نظر آیا، ہاں! اب یہ میری چشم گریاں کا نصیب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نامعلوم، زندگی کی رفتار تیز ہوگئی ہے یا میرا احساس شدید۔  چراغ ہیں کہ بجھتے جارہے ہیں۔
کیسی گھنی، چھتناور، علم و حلم کی منتہی شخصیت تھی۔ مسلم برصغیر کے قدیم و جدید کے امتزاج کی پوری تہذیبی روایت اپنے اندر سموئے ہوئے، کم آہنگ مگر بلند قامت۔ یک پیکرِ اخلاص و تلطف، یک منارہِ شفقت و انسیت۔
انصاری صاحب سے میری ملاقات تو کم کم رہی مگر تاثر گہرا۔ مولانا ظفر انصاری کے فرزند، خود بحر علم کے شناور، بلند پایہ مصنف۔ بیک وقت پانچ چھ زبانوں پر عبور اور دنیا کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں میں تعلیم و تعلم۔ مشرق و مغرب کے علمی سرچشموں سے فیض یابی نے –زمانے کے چلن کے برعکس، ان کے انکسار میں اضافہ ہی کیا۔
تصنیف اور مطالعہ محاورتاً نہیں، حقیقتاً ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ہمہ گیر علمی ذہن اور رچا ہوا ذوق، اس پہ حلاوت اور شیریں سخنی۔ ان خصائل کے اس امتزاج کے ساتھ ہی ایسی تہذیبی شخصیت وجود میں آسکتی تھی۔ میری خوش بختی کہ ان کے زمانہ کو پاسکا۔ بالواسطہ اور براہِ راست بھی ان سے اکتساب فیض کا کچھ موقع ملتا رہا۔
اپنے علمی مشاغل کے دوران میں آنے والے ہر قسم کے ملاقاتیوں سے یکساں خندہ پیشانی سے پیش آتے۔
گاہے قریبی دوستوں میں قہقہہ بار دیکھا تو معلوم ہوا کہ خندہء عالِم کا قرینہ کیا ہوتا ہے۔
اپنی ذات میں ادارہ، انصاری صاحب جیسی شخصیت ہی خود سے وابسطہ کسی ادارہ کو معاشرہ میں وہ مقام دیتی ہے جوہمیشہ کے لیے اس کا تعین کردیتا ہے۔ ہاں وہ بھی ایسی ہی نادر روزگار شخصیت کے مالک تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری زندگی میں قائم اور ایستادہ کوئی زیست آور شخصیت چلی جاتی ہے تو اپنے ساتھ ہماری زندگی کا کچھ حصہ بھی لے جاتی ہے۔ میرے لیے بھی ان دونوں احباب کے باب میں یہی معاملہ ہوا۔
رشید احمد صدیقی نے لکھا تھا کہ ”مدت حیات کا حساب مہ و سال کے گذرنے سے ہی نہیں کرتے، عزیزوں کی مفارقت سے بھی کرتے ہیں۔ وہ اٹھالیے جاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی ختم ہوگئی۔ زندگی خود اپنی زندگی سے اتنی عبارت نہیں ہوتی جتنی عزیزوں کی زندگی اور خوشی سے ہوتی ہے۔ یہ نہیں تو زندہ رہنا اور نفس کے مطالبے پورا کرتے رہنا ایک مسلسل بے غیرتی اور بڑھتی ھوئی تنہائی اور تاریکی ہے، جس کو نہ چھپاسکتے ہیں نہ اس سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ اسے حق بجانب بھی نہیں قرار دے سکتے۔“
انصاری صاحب اپنی نسل کے آخری چراغ تھے، اب ہماری دنیا کی تاریکی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
لیجیے پھر میر یاد آئے:

رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں
ساتھ اس کاررواں کے ہم بھی ہیں

 

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: