اگر تم نہ ہوتے: رشتہ دار ۔۔۔ شکور پٹھان

0

گر تو برا نا مانے

مالک نے جب دنیا بنائی تو بندوں کو یونہی کھلا نہیں چھوڑا۔،وہ تو جانتا ہی تھا کہ یہ مٹی کے پتلے کیا گل کھلائیں گے۔ انہیں بتادیا کہ جتنی چاہے موج مستی کرلو، آنا تمہیں میرے پاس ہی ہے۔ اور تم جو کچھ کروگے گہ اس سے میں بے خبر نہیں۔ ساتھ ہی ہمارے دائیں بائیں دو نگران بٹھا دئیے جو ہماری ہر اچھی بری حرکت کی رپورٹ کرتے ہیں اور ہمارا سارا کچا چٹھا ان کے پاس رہتا ہے۔

 لیکن اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جنہوں ںے یہ کام فی سبیل اللہ سنبھال رکھا ہے۔ وہ رضاکارانہ یہ کرتے ہیں یا عادت سے مجبور ہیں یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ انہیں آسان زبان میں ” رشتہ دار” کہا جاتا ہے۔

 اور مجھے رشتے اور رشتہ دار دل سے بھاتے ہیں، بشرطیکہ وہ کہیں دور دیس میں رہتے ہوں۔

 لیکن اب وہ ایسے بھی دور نہیں رہے، سوشل میڈیا کی مہربانی سے آپ ان کے فیوض و برکات سے محروم نہیں رہ سکتے۔

 یہ رشتہ دار جب کبھی آتے ہیں تو میں ان کے بارے میں اچھی اچھی اور مثبت باتیں ہی سوچتا ہوں، ورنہ انہیں برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی ہے کہ رشتے اور تعلقات رکھنا ہی پڑتے ہیں ، وہ آپ کے سارے راز جو جانتے ہیں۔

 میں مالک کا اسی لئے شکر ادا کرتا ہوں کہ دوست میں اپنی مرضی سے چن سکتا ہوں

 

ان کی توجہ اور التفات سے تو کوئی محروم نہیں رہتا لیکن نوجوان لڑکے اور لڑکیوں پر ان کی نظر کرم کچھ زیادہ ہی رہتی ہے۔ جہاں کہیں اٹھارہ بیس سالہ نوجوان نظر آیا، سوالات کی بوچھاڑ کردیں گے۔

” کیوں میاں رزلٹ کب آرہا ہے”

 ” اس بار کیا کارنامہ کرنے والے ہو۔”

 ” نوکری کا کیا ہوا ؟ ملی یا نہیں”

 ” کیا کام کررہے ہو، کیا تنخواہ مل رہی ہے ؟”

ادھر بڑی بوڑھی رشتہ دار ہیں۔ جس نوجوان لڑکی کو دیکھا جھٹ سے سوال داغ دیا” کوئی رشتہ آیا یا نہیں؟”

شادی ہوجائے تو انہیں اب یہ فکر رہتی ہی ” کہ کوئی اچھی خبر ہے یا نہیں”

اگر کسی نے اپنی فیملی بڑھانے کا منصوبہ دوچار سال کے لئے موخر کررکھا ہو تو ان بڑی بوڑھیوں کی چہ مگوئیاں ساری دنیا سن سکتی ہے۔

” اے بہن صغرا کی ہاں سے اب تک کوئی خبر نہیں۔ پتہ نہیں میاں بیوی نے ڈاکٹر کو دکھایا یا نہیں “

اور نئی نسل کی بے راہ روی کا ایک مظاہرہ تب بھی دیکھنے میں آتا ہے جب کوئی دور پار کی خالہ ، پھپھو یا آنٹی فون کرے اور وہ غلطی سے فون اٹھالیں مذکورہ سوال جواب کے درمیان جیسے ہی کوئی بزرگ نظر آئے، فورا” ” لیں آنٹی ، امی سے بات کریں ” کہہ کر موقع واردات سے فرار ہوجائیں گے۔

 

مسئلہ یہ ہے کہ دوست تو آپ اپنی مرضی کے بنا سکتے ہیں لیکن رشتہ دار ، خیر جانے دیں۔۔۔

 مصیبت البتہ یہ ہے کہ جو تنخواہ آپ سینکڑوں میں کمار ہے ہوتے ہیں وہ دوستوں کو ہزاروں میں نظر آتی ہے اور رشتہ داروں کو لاکھوں میں۔ لیکن یہ نہ سمجھئے گا کہ وہ اسے آپ کی جائز کمائی سمجھتے ہیں۔

 آپ نے اپنی بیگم کی مہینوں کی بچت، اپنے سالانہ بونس اور بینک کے قرض سے ایک چھوٹی موٹی سی کار خرید لی۔ رشتہ داروں کو لیکن یقین ہے کہ آپ نے کہیں لمبا ہاتھ مارا ہے، یونہی تو کار نہیں آتی.

یوروپ اور خاص کر مغربی یوروپ میں خاندا ن کا ادارہ تقریباً دم توڑ چکا ہے لیکن اٹلی اور اسپین اب بھی ایسے ممالک ہیں جہاں خاندان کا ادارہ اپنی بھرپور شکل میں موجود ہے۔ میرا اطالوی دوست ٹونی تو کہتا ہے کہ کسی مصیبت یا لڑائی جھگڑے کی صورت میں ہم پولیس کو نہیں ، رشتہ داروں کو فون کرتے ہیں۔

 ٹونی حیرت میں پڑگیا جب میں نے اسے بتایا کہ ہمارے ہاں، لڑائی جھگڑا، مصیبت اور پولیس ، ہوتے ہی رشتہ داروں کی وجہ سے ہیں۔

 ماہر نفسیات آج کل اس بات سے نالاں ہیں کہ ہماری قوم آج کل سیاست میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہی ہے۔ وہ اس کا ذمہ دار آزاد میڈیا یعنی بھانت بھانت کے نت نئے ٹی وی چینلوں کو قرار دیتے ہیں کہ عوام کے ذہنوں میں سیاست کا خناس ان کی وجہ سے نمو پاتا ہے۔ یہ ماہر نفسیات یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ہاں رشتوں کا ایک لامتناہی جال بچھا ہوتا ہے اور سیاست دان تیار کرنے کی سب سے بڑی فیکٹری یہی رشتہ دار ہیں۔

 میرا ایک دوست اس خاندانی سیاست سے نالاں رہتا تھا۔ ایک دن میں یونہی پوچھ بیٹھا کہ کیا اس کے عزیز کسی ذہنی مرض کا شکار ہیں۔ کہنے لگا نہیں یار، وہ تو اس کے مزے لیتے ہیں۔

 اکثر گھرانوں میں فریم شدہ خاندانی شجرہ یعنی ‘ فیملی ٹری” بڑے فخر سے آویزاں کیا جاتا ہے۔ میرے دوست کا خیال ہے یہ شجرہ ” کیکٹس’ کے پودے پر بننا چاہئیے۔

 آپ اس غلط فہمی میں نا مبتلا ہوں کہ میں رشتوں سے کوئی پرخاش رکھتا ہوں۔ مجھے اپنے سارے رشتہ دار حتّٰی کہ سسرالی رشتے دار بھی پسند ہیں خاص طور پر میری بیوی کے ساس اور سسر تو مجھے اتنے اچھے لگتے ہیں کہ وہ مجھے میرے اپنے ساس، سسر سے زیادہ بلکہ جان سے زیادہ پیارے ہیں۔ سسرالی رشتوں سے پیار کی ایسی مثال آپ کو شاید ہی کہیں ملے۔

 

آپ مانیں یا نا مانیں، یہ رشتہ دار ہی ہوتے ہیں جو آپ کو آگے بڑھنے اور محنت پر اکساتے ہیں۔ آئے دن کی شادیوں میں لفافہ، دینا، سالگرہوں پر بچوں کو تحفے دینا اور آپ کے بجٹ کی ایسی ہی کئی فاضل میں ہیں جن کے لئے آپ دفتر میں “اوورٹائم” کرتے ہیں۔

 ظاہر ہے یہ سب آپ اپنے رشتہ داروں کی محبت اور خلوص کے مارے کرتے ہیں۔ رشتہ دار بھی اس محبت کا جواب محبت سے ہی دیتے ہیں۔

 ایسے ہی پرخلوص اور محبت کرنے والے ہمارے ایک عزیز جو اپنے تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں اور چھوٹے بھیا کہلاتے ہیں، عید کے دن صبح سویرے اپنی بیگم اور چھ بچوں کے ساتھ پہنچتے ہیں، مجھ سے گلے ملنے سے بڑی شتابی سے فارغ ہوتے ہیں اور فورا” میرے اکلوتے بیٹے کے ہاتھ پر پچاس کا نوٹ رکھ دیتے ہیں۔ میں اور میری بیگم منع کرتے رہ جاتے ہیں اور وہ اصرار کرتے ہیں کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے، ان کا حق ہے، اور یہ کہ بچے کو بزرگ عیدی نہ دیں تو وہ بچارے مایوس ہوجاتے ہیں اور بزرگوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جواباًمیری بیوی اندر جاکر میرے بٹوے سے پچاس پچاس کے چھ نوٹ لاکر ان کے بچوں کے حوالے کرتی ہیں جو میرا اور میری بیوی کا منہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ شیرخورمہ اور دہی بڑوں سے انصاف کرکے چھوٹے بھیا دوسرے محاذ پر یہ نوید سناتے ہوئےروانہ ہوجاتے ہیں کہ بڑے بھیا بھی آتے ہی ہو ں گے، گھر سے تو چل پڑے تھے۔

 انہیں رخصت کررہا ہوتا ہوں کہ بڑے بھیا ٹیکسی سے سے اپنے کٹم کے ساتھ اترتے نظر آتے ہیں۔

 ان کی تکنیک ذرا مختلف اور زیادہ، بلکہ بے حد تباہ کن ہے۔ چھوٹے بھیا کی تو ایک ہی بیگم ہیں اور انہوں نے چھ بچوں کے بعد فل اسٹاپ لگا دیا تھا، لیکن بڑے بھیا کی دوبیگمات سے آٹھ بچے ہیں۔ بڑی سے اولاد نہیں ہورہی تھی تو انہوں نے دوسری کرلی اور شاید جیسے دہی میں ” جاگ” لگتا ہے، چھوٹی کے آتے ہی بڑی بھی چل نکلی اور دونوں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ بچے جنتی رہیں۔ اب تک کا مشترکہ اسکور آٹھ ہے لیکن بڑے بھیا نے ابھی اننگز ڈیکلئیر نہیں کی ہے۔

 خیر بات ہورہی تھی بڑے بھیا کی تکنیک کی۔ وہ آتے ہی میری بیگم کے سرپر ہاتھ رکھتے ہیں اور پانچ سو کا نوٹ بڑے چاؤ سے اس کے ہاتھ پر رکھ دیتے ہیں ، پھر میرے بیٹے کو سو کا نوٹ تھماتے ہیں۔ ان کی دونوں بیگمات مجھے پرامید نظروں سے ” بھائی سلام علیکم، عید مبارک ” کہتی ہیں۔ ان کی اس محبت سے میری اور میری بیگم کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں۔ ہم کمرے میں جاکر ” گلک” پھوڑ کر پچھلے آٹھ ماہ سے جمع کئے ہوئے پیسے نکالتے ہیں ، میں اپنا بٹوا خالی کرتا ہوں اور دونوں بڑی بھابیوں کے ہاتھ پر پانچ پانچ سو اور ہر بچےکےہاتھ پر سو کے نوٹ رکھتا ہوں، اس دوران بڑے بھیا کا پریوار سارے شیرخورمہ سوئیوں اور دہی بڑوں کاصفایا کرچکا ہوتا ہے جو میری بیوی نے عید پر بیس پچیس متوقع مہمانوں کے لئے بنائے تھے۔ بڑے بھیا کے جاتے ہی ہم تیزی سے تیاری کرکے اماں کے گھر بھاگ نکلنے کی کرتے ہیں۔

 ہم تینوں رکشہ میں بیٹھے گلی سے مڑ ہی رہے تھے کہ سامنے سے منجھلے بھیا اپنی اکلوتی بیگم کے ساتھ آتے نظر آتے ہیں، وہ تقریباً لٹک کر رکنے کے اشارہ کرتے ہیں۔ ہمارا رکشہ والا رکشہ آہستہ کرتا ہے تو میں اس سے چلتے رہنے کو کہتا ہوں۔

” صاحب وہ آپ ہی کو اشارہ کررہے تھے” رکشہ ڈرائیور بڑے وثوق سے کہتا ہے۔

” ابے چلتا رہے” اب میں تقریباً چلا کر کہتا ہوں۔ میں جلد از جلد خطرے کے مقام سے دور ہونا چاہتا ہوں۔

 ان رشتوں کی محبت اور مٹھاس کے قصے سنانے بیٹھوں تو ایک کتاب مرتب ہوجائے، مشتے از خروارے ایک آدھ ہی سن لیں تو آپ جان جائیں گے کہ مجھے رشتوں سے اتنا پیار کیوں ہے۔

 ایک بزرگ ہیں جو ہر چار چھ ماہ۔ بعد نیاز بخشتے ہیں ۔ اتوار کے دن صبح سویرے تشریف لاتے ہیں۔ میں آنکھیں ملتا دروازہ کھولتا ہوں تو وہ کھنکھناتی آواز میں اطلاع دیتے ہیں کہ یہاں سے گذر رہا تھا سوچا چھٹی کا دن ہے، تم تو گھر پر ہی ہوگے، سوچا کھڑے کھڑے تم سے ملتا چلوں۔

 بس میں کچھ دیر میں چلا جاؤں گا۔

 میں انہیں بٹھاتا ہوں اور چائے کے لئے پوچھتا ہوں، وہ اندر کی طرف جھانکتے ہوئے نہایت اپنائیت سے کہتے ہیں کہ ‘ ہاں کیوں نہیں میاں، اپنے گھر میں ہیں ، چائے کیوں نہیں پئیں گے، دلہن کہاں ہیں نظر نہیں آر ہیں’

میں اندر جاکر بیگم کو اٹھاتا ہوں وہ بیٹھک میں آکر مندی آنکھوں سے بڑے میاں کو آداب کرتی ہیں۔ مسئلہ اب یہ ہے کہ ہمارا تو آج دیر سے اٹھنے کا پروگرام تھا اور اتوار کا ہی دن ہوتا ہے جب میں ڈٹ کر ناشتہ کرتا ہوں۔ تکلفا” بڑے میاں سے ناشتے کے لئے پوچھتے ہیں۔

” ارے بھئی تم کروگے تو تمہارے ساتھ کچھ لقمے لے لوں گا”

پھر وہ دوپراٹھوں کے ساتھ، دو فرائی انڈے اور چائے سے فراغت حاصل کرنے کے بعد پیر پھیلا کر بیٹھ جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں ” اب میاں ڈرا تفصیل سے بتاؤ کیسی گذر رہی ہے”

گیارہ ساڑھے گیارہ بج جاتے ہیں، میری بیگم کن انکھیوں سے پوچھتی رہتی ہے کہ ان کا کیا ارادہ ہے، کھانے پر رکیں گے یا نہیں۔ وہ ان سب باتوں سے بے نیاز اخبار لئے صوفے پر نیم دراز نظر آتے ہیں۔ شرما حضوری میں میری بیوی کہتی ہے کہ کھانا کھا کر جائیے گا،

 جوابا” وہ پوچھتے ہیں آج کیا بنا رہی ہو۔ بھئی بہت دن ہوگئے ، دلہن کے ہاتھ کا کھا نا کھائے ہوئے۔ ہمیں اپنی بات کا جواب مل جاتا ہے، اندر جاتا ہوں تو منّا پوچھتا ہے ابو ہم باہر کب جائیں گے۔ آج میں نے اس سے سمندر کنارے چلنے کا وعدہ کیا تھا،

 کھانے کے بعد بڑے میاں تو صوفے پر دراز ہوکر قیلولہ فرماتے ہے ان اور ہم تینوں اندر بیٹھے ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

 تین بجے کے قریب جب ان کی آنکھ کھلتی ہے تو پوچھتے ہیں کہ “بھئی تمہارے ہاں سہ پہر کی چائے کا رواج نہیں ہے کیا؟ “

چائے اور اس کے لوازمات سے انصاف کرکے وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں رک جائیں، رات کا کھانا کھا کر جائیے گا تو بڑی محبت سے فرماتے ہیں ، ” بس میاں، اب چلوں گا، میں تو یونہی کھڑے کھڑے آگیا تھا”

ان کے جاتے ہی منا پوچھتا ہے یہ اگلے ہفتے تو نہیں آئیں گے ناں۔ میں اسے ڈپٹتا ہوں کہ بری بات۔ یوں نہیں کہتے۔ بزرگ ہیں وہ ہمارے۔ وہ کچھ نہیں سمجھتا، پوچھتا ہے

” ابو آپ ہر ایک سے اتنے فرینڈلی کیوں ہوجاتے ہیں۔”

نئی نسل کو ان رشتوں کی کیا خبر۔

 ان ہی بزرگ کے ہاں ہم ایک بار شام کو پہنچے، میں نے بھی اپنائیت جتاتے ہوئے بے تکلفی سے چائے کے لئے کہہ دیا۔ بزرگ بولے” میاں اپنی جوانی پر رحم کھاؤ۔کیوں گردوں کا بیڑہ غرق کرنے ہر تلے ہوئے ہو۔ تمہارے بیوی بچے ہیں۔ چائے سے پرہیز کیا کرو۔

 اور میں غور کرتا رہا کہ میرے کتنے دوستوں کے بیوی بچے ، ان سے چائے کی وجہ سے محروم ہوئے۔

 

اکثر یہ بھی ہوا کہ کچھ رشتہ داروں کو دعوت دی اور ان کے ساتھ کچھ اور رشتہ دار جو ان کے ہاں آئے ہوئے تھے، وہ بھی چلےآئے۔بیگم نے سالن میں پانی بڑھا دیا ،لیکن شاباش ہے ہمارے ان عزیزوں کو۔ وہ سالن کو سوپ کی طرح پی گئے۔

 کبھی کبھار یہ ہوا کہ کسی رشتہ دار نے کسی ایسے رشتہ دار کا ذکر کیا جن سے ہمارے گھر والوں کی ان بن ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ ان پرتبصرے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، لیکن اس سے بڑی مصیبت اس وقت آتی ہے جب کسے عزیز سے کسی ایسے رشتہ دار کا تذکرہ کیا جائے جن سے ان کی نہیں بنتی۔ وہ فورا” اس سوال یا ذکر میں چھپی سازش پرغور کرنے لگتے ہیں۔

 ہمارے گھر میں کوئی شادی تھی۔ ہمارے ہاں قریبی رشتہ دار اس وقت تک کھانے کے لئے نہیں اٹھتے جب تک کہ انہیں کھانے کی باضابطہ دعوت نہ دی جائے۔ میرے ذمہ اس دن یہی کام تھا کہ دو تین قریبی بزرگوں پر نظر رکھوں اور انہیں کھانے کے لئے چلنے کو کہوں۔ جیسے ہی کھانا ” کھلنے” کا اعلان ہوا میں نے اپنے قریب بیٹھے ” بشیر انکل ” جو قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے انہیں کھانے کی دعوت دی اور پھر نذیر انکل سے کھانے کی طرف چلنے کے لئے کہا۔ میں پھر دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔ مجھے خیال سا گذرا کہ نذیر انکل نظر نہیں آئے، سوچا کہ شاید ہاتھ دھونے چلے گئے ہوں۔

 دوچار دن بعد کسی اور شادی میں نذیر انکل نظر آئے۔ میں نے سرسری سا پوچھا کہ آپ اس دن کھانے پر نظر نہیں آئے۔ یہ کہنا تھا کہ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے۔ ‘بھئی تمہیں ہمارے دشمنوں کو دعوت دینے سے فرصت ہو تو ہم کو پوچھتے نا، پہلے تو تمہیں وہی نظر آتے ہیں۔ ہمارا نمبر تو ان کے بعد ہی ہے ناں”

مجھے یاد آیا کہ بشیر اور نذیر انکل کی بول چال نجانے کب سے بند ہے۔

 اور شاید ہی کوئی ایسا خاندان ہوگا جہاں کوئی، تائی، پھوپھی یا ممانی، کسی خاص موقع پر منہ نہ پھلائے۔خاندان کی ایسی ہی ایک شادی میں ایک آنٹی جب مہندی اور مایوں میں نظر نہیں آئیں تو انہیں ان کے گھر جاکر منا کر خصوصی دعوت دی گئی۔ کہنے لگیں ، پانچ سال پہلے ہماری رضیہ کی شادی میں تمہارے پیروں میں کیا مہندی لگی تھی جو تم نہیں آئے تھے۔ میں نے بہت دماغ پر زور ڈالا تو یاد آیا کہ رضیہ کی شادی کے دن مجھے انجمن افزائش مویشیاں کے سالانہ اجلاس میں صدارتی خطبہ دینا تھا۔ آنٹی تب کا حساب آج چکا رہی تھیں۔

 رشتہ داروں کی ایک قسم وہ ہے جو کسی طرح سے بہت ترقی کر گئی ہے اور اب ان کے ہاں پیسے کی ریل پیل نظر آتی ہے۔ وہ آپ سے یہ تو نہیں کہتے کہ تم تو پیچھے رہ گئے، ہمیں دیکھو،ہم کہاں پہنچ گئے۔ ان کا انداز ذرا مختلف ہوتا ہے۔

 ایک عزیز ہیں جو باہر آنے سے پہلے کراچی میں نیو کراچی میں رہتے تھے لیکن یہاں آکر خوب ترقی کی، کیسے کی یہ وہی جانتے ہیں، اب ماشاءاللہ ڈیفینس ، کے ڈی اے اسکیم ، بحریہ ٹاؤن اور نجانے کہاں کہاں مکانوں ، بنگلوں اور فلیٹوں کے مالک ہیں، بڑی ہمدردی سے مشورہ دیتے ہیں، یار ڈیفینس فیز آٹھ میں دو ہزار گز کے پلاٹ بڑے سستے مل رہے ہیں ، دوچار لے کر رکھ لو۔ اچھی انویسٹمںٹ ہے، چند ایک کروڑ کی ہی تو بات ہے۔

 اور میں دل میں حساب کررہا ہوتا ہوں کہ اس مہینے ، منے کی فیس کے لئے پیسے کس سے ادھار لوں۔

 دوسرے عزیز نے تو گویا زنگ آلود تلوار ہی چلا دی۔ یہ بہت پہلے کی بات ہے۔ یہ وہ تھے جن کے ہاں ہم عید سے ایک شام پہلے فطرے کے پیسے پہنچایا کرتے تھے۔ اب یہاں سعودیہ سے کما کر کر عجمان میں ایک ہوٹل کھولنے آئے تھے۔ مجھے فون کیا میں گھر پر نہیں تھا۔ میری بیگم کو انہوں نے بتایا کہ فلاں جگہ ان کی رہائش ہے۔ میں وہاں آجاؤں ان سے ملنے۔ میری بیوی نے بتایا کہ ہمارے پاس کار نہیں ہے۔ ” ہیں !! کیا کہا گاڑی نہیں ہے؟!” انہیں حیرت ہورہی تھی۔

” اچھا جب وہ آئیں تو کہیں مجھے فون کرلیں۔ ان کا موبائل نمبر کیا ہے۔”

میری بیگم نے بتایا کہ میرے پاس موبائل فون نہیں ہے۔

” ارے، موبائل بھی نہیں ہے؟”

رشتہ داروں کا ایک انداز غمی اور سوگ کے موقع پر نظر آتا ہے۔ کچھ عزیز آکر اس انداز میں پرسہ دیتے ہیں کی متوفی کے چال چلن پر کئی سوال اٹھ جاتے ہیں۔ وہ بظاہر تو دکھ کا اظہار کرتے ہیں لیکن وہ کچھ ایسا ” سپریم کورٹ” کے فیصلے جیسا ہوتا ہے کہ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ مرحوم کی تعریف ہوئی یا بد گوئی۔

 لیکن یہ رشتہ دار ہی ہیں جو ہمارا سہارا ہیں۔ انہی میں سے کچھ بزرگ ہوتے ہیں جو غمی، خوشی کے مواقع پر آکر انتظامات کوسوموٹو طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ ان میں سے ایک تجربہ کار بزرگ قورمہ اور بریانی کی دیغ پر بیٹھ جائیں گے۔ اور یقین جانئیے، یہ نہ ہوں تو آپ کے گھر کی شادی میں کھانا کبھی پورا نہ پڑے۔

 ٹونی ، میرا اطالوی دوست کچھ رشتہ داروں سے ناراض ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ خاندان والے، زیر جامہ کی طرح ہوتے ہیں، کچھ تنگ ہوتے ہے۔ ، تو آپ کو مستقل پریشان کئے رکھتے ہی! کچھ اچھی کوالٹی کے ہوتے ہیں تو آپ کو سکون کا احساس ہوتا ہے۔

 

میں اس سے کہتا ہوں، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جوواقعی برے وقتوں میں ستر پوشی بھی کرتے ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: