پانامہ فیصلہ: کس کا یقین کیجیئے، کس کا یقیں نہ کیجیئے

0
  • 1
    Share

کس کا یقین کیجیئے، کس کا یقیں نہ کیجیئے

لائے ہیں اس کی بزم سے یا ر خبر الگ الگ
فیصلہ آگیا۔۔میڈیا نے اس طرح شور مچایا جیسے شیر آیا شیر آیا ( یہاں نون والے شیر کا ذکر نہیں حالانکہ اس کیس میں نون بھی ایک فریق ہے)۔اللہ ہی جانتا ہے ، کیا میڈیا والوں کی فیملی انہیں ان کے بھانڈ پن پر نہیں ٹوکتی۔۔فیصلے آتے رہتے ہیں لیکن اس طرح کائونٹ ڈائون !!! دو بجے سے پہلے اس طرح الٹی گنتی دکھائی۔پانچ، چار ، تین ، دو، ایک۔ صفر۔۔۔ جیسے راکٹ داغا جا رہا ہے یا خلائی شٹل کی روانگی ہو رہی ہے۔۔عدالت نے بھی کمال کردیا کہ دو دن پہلے سے پبلسٹی شروع کردی’ ’فیصلہ سالہا سال یاد رکھا جائے گا‘‘۔۔ یہ بالکل اس طرح تھا جیسا فلموں کو کامیاب کرنے کے لیئے اشتہار بازی۔۔انتظامیہ نے بھی نمبر بنانے شروع کردیے۔۔ اتنے پولس والے ہونگے۔۔ کون کونسی شاہراہ بند ہو گی۔۔ خاردار تار۔ریڈ زون۔ ریڈ الرٹ۔۔داخلہ پاس۔۔شناختی کارڈ۔۔کون سے عدالتی کمرے میں فیصلہ سنایا جائے گا۔۔ ہال میں کتنی گنجائش۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔
بس یہ صورت تھی ؎ انوکھی کا تیتر، اندر باندھوں کہ بھیتر
ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی انوکھا کام ہونے جا رہا ہے ۔پہلی بار کوئی فیصلہ ہو رہا ہے۔۔فریقین نے بھی کہنا شروع کردیا کہ عدالتی فیصلے کو من و عن مانیں گے۔
لو جی فیصلہ آگیا۔۔ دونوں فریق جیت گئے۔۔پتہ ہی نہیں چل رہا ، ہارا کون؟ ۔۔ من و عن ماننے کی بجائے ،سب اپنے اپنے طور پر تشریح کر رہے ہیں۔دونوں فریق مٹھائی کھا رہے ہیں۔ مبارک بادیاں وصول کر رہے ہیں۔عوام کیا؟۔ہماری خود سمجھ میں نہیں آرہا کہ کون سرخرو ہوا کون رسوا۔نہ دودھ کا پتہ چل رہا ہے نہ پانی کا۔ اس لیئے سوچا خود فیصلہ پڑھ لیں۔۔ فیصلے کی ’’PDF‘‘ فائل سامنے رکھی ہے لیکن ’’549‘‘ صفحات کو کھولنا بھِڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔۔کیوں کہ ان کو پڑھنے کے بعد ہماری بے لاگ رائے کا احترام کون کرے گا۔۔ پھرزیادہ سے زیادہ ایک کالم لکھ دیں گے جو پتہ نہیں شائع ہو گا یا ضائع۔۔ تو کیوں وقت ضائع کریں۔
فیصلے سے پہلے اور بعد۔کوئی فرق نہیں نظر نہیں آرہا ۔سب کچھ ویسا ہی ہے۔صرف میڈیا کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا ہے۔۔کئی روز کا دال دلیا ہو گیا بلکہ مٹن پلائو ہو گیا ہے۔ بڑے بڑے جغادری مبصرنئی نئی چھوڑ رہے ہیں۔۔ پیشن گوئیوں میں کچھ خرچ نہیں ہوتا۔۔اگر تکّا لگ گیا تو رکارڈڈ وڈیو دکھا کر اپنی ساکھ بنائیں گے۔۔ورنہ ذکر ہی گول کردیں گے۔
ہماری سمجھ میں تو یہ نہیں آتا کہ آنکھوں والے تو تصویر کے دو رخوں میں سے اپنی اپنی طرف کا رخ دیکھ لیتے ہیںلیکن یہ اندھا قانون دو رخ کیسے دیکھتا ہے۔پانچ میں سے تین کو جو دکھائی دیا وہ دوسرے دو کو نہیں دکھا۔۔کہیں یہ بھی ہاتھی کو ٹٹول کر تو نہیں پہچانتے ہیں۔
قانون ایک ۔استغاثہ کا موقف بھی وہی،صفائی کے وکلا کے ثبوت بھی وہی تو سننے والے ججو ںمیں اختلاف کیوں؟
ہماری حد تک ہمیں ایسے فیصلوں سے بڑا فائدہ ہو تا ہے۔ ماضی میں بھی ایک ججمنٹ میں فاضل جج نے لبنان کے خلیل جبران کی ایک نظم کا زکر کیا تھا اور ہمیں شرمندہ کردیا تھا کہ خلیل جبران کو ہم نے اتنی گہرائی سے کیوں نہیں پڑھا اور اس نظم نے ہمیں کیوں متاثر نہیں کیا جبکہ جج صاحب کے بتانے پرنظم نے اتنا متاثر کیا کہ ہم نے نہ صرف ایک کالم ، ’’جبران، جسٹس اور قابل ر حم قوم‘‘ لکھ مارا بلکہ اس کالم میں قابل رحم قوم کے حوالے سے کچھ اضافے بھی کر دئے تھے۔
آج کے اس فیصلے میں بھی ہمارے لیئے شرمندگی کا سامان اور اس ’’زیر تحریرکالم ‘‘کے لیئے مواد موجود ہے۔ ہم نے ماریو پیوزو کی گاڈ فادر(MARIO PUZO’s GOD FATHER) کئی بار پڑھی لیکن اس کوٹ (Quote)“Behind every successful fortune there is a crime.” ۔ پر توجہ نہیں دی جس کا زکر فاضل جج نے اپنے فیصلے میں کیا ہے۔ہمیں اپنی کوتاہ بینی پر افسوس ہو رہا تھا کہ ہم نے اس جملے کو کیوں نظر انداز کیئے رکھا جس کو فاضل جج نے نہ صرف فیصلے کا حصہ بنا دیا بلکہ اس جملے کے اصل فرینچ خالق’’Honoré de Balzac‘‘ کا بھی ذکر کرکے اپنی علم دوستی کی دھاک بٹھادی۔لیکن غور کرنے پر سمجھ آئی کہ ہم نے کیوں اسے قابل توجہ نہیں سمجھا تھا۔ دراصل ہمیں اس کہاوت سے اختلاف تھا کیونکہ ہم نہیں سمجھتے کہ ہر کامیابی کے پیچھے کوئی ’جرم‘ ہوتا ہے۔۔اگر کوئی کامیاب جج ، ڈاکٹر، انجینئریا بزنس میں ہے تو کیا اس کی کامیابی کسی جرم کی مرہون منت ہو تی ہے۔
اگر فیصلے میں کچھ کوٹ کرنا ضروری تھا تو ہماری نظر میں گاڈ فادر سے یہ کوٹ زیادہ بہتر ہوتا
’’“The lawyer with the briefcase can steal more money than the man with the gun.”

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: