چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 4

0

چامکا گھر کا نہ گھاٹ کا
رات کا پچھلا پہر تھا، تھیٹر ختم کرکے میں فنکار راہی صاحب کے ساتھ ہی آگیا تھا۔ اگلی صبح ملتان جانا تھا اس لیے فوراً ہی چارپائی پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں تاکہ تین چار گھنٹے سہی، نیند تو ہوجائے لیکن ابھی آنکھ بھی نہ لگنے پائی تھی کہ دو تین فنکارائیں بھی آگئیں کہ جن کیلئے پروڈیوسر نے عارضی ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔ یہ سب کھانے میں مشغول ہوئے اور بات چیت کا ماحول بھی بن گیا۔ یہ تھیٹر کی فنکارانہ زندگی کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا پہلا موقع تھا۔ کسی فنکارہ کا موبائل فون بجنے لگا۔ اس نے سب کو دیکھا تو راہی صاحب نے جگت ماری’’ چُک لے چامکے دی کال وی۔۔ نوٹ تے بڑی چھیتی چُکدی ایں۔‘‘ (اٹھالو اپنے عاشق کی کال بھی اُس کے پھینکے گئے نوٹ تو بڑی جلدی اٹھاتی ہو)۔ اس نے منہ بنا کر اپنے عاشق کو گالی نکالی اور کہا ’’گھنٹہ دماغ کھائے گا، کل ہی دیکھوں گی اسے‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون کا گلا مکمل طور پر گھونٹ دیا۔ اس کے بعد چامکوں کا ذکر چھڑ گیا اور میری نیند اُڑ تی چلی گئی۔ کیونکہ بے چارہ چامکا جس کے چکر میں اپنے گھر والوں سے دغا بازی کررہا تھا وہ اسے جوتے کی نوک پر رکھی رہی تھی، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ چامکا کی حالت اُس دھوبی کے کتے جیسی ہوسکتی ہے جو نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا۔
٭٭
چامکا سے شوہر تک
امبر بلوچ بھی شو سے واپس آکر حلیہ تبدیل کرچکی تھی۔ گھریلو لباس میں وہ ایک عام سی لڑکی دکھائی دے رہی تھی۔ چونکہ پروڈیوسر سے پیمنٹ پر ٹال مٹول کے باعث جھگڑا بھی ہوچکا تھا اس لیے ارجنٹ میں ملتان واپس جانے کی تیاری کررہی تھی۔ باتوں باتوں میں اسے علم ہوا کہ صبح میں نے بھی ملتان جانا ہے تو اس نے مجھے ملتان تک اپنی آرام دہ گاڑی میں ساتھ چلنے کی خوبصورت آفر کردی۔ بیوی کے آگے کس کی چلتی ہے؟ پھر بیوی بھی وہ جو لاکھوں کماتی ہو۔ اس کے شوہر نے بھی فوراً حامی بھری اور مجبور کیا کہ ساتھ ہی چلیں۔ ہائے ری قسمت کہ میرا ذاتی سامان کسی اور جگہ تھا اِس وقت وہاں جانا آسان نہ تھا پھر دوسرا راہی صاحب نے بھی کان میں پھونک ماری:
’’یہ لوگ اتنے نیک نہیں کہ تم پر مہربانی کریں۔ فلم میں چانس پکا کرنے کیلئے آفر دی ہے۔ بچ کے رہنا، اس کا شوہر بھی پہلے بڑا مالدار تھا، اب ڈرائیور بنا پھرتا ہے۔‘‘
میں نے امبر بلوچ سے معذرت کرلی اور وہ دیکھتے دیکھتے ہی روانہ ہوگئی۔ اِن کے جاتے ہی راَہی صاحب نے بتانا شروع کیا کہ اس کا شوہر جنوبی پنجاب کا ایک بڑا پروڈیوسر تھا۔ امبر بلوچ کے چکر میں آکر کافی نقصان کرا بیٹھا اور بھاگتے چور کی لنگوٹی پکڑ نے کیلئے اس نے امبر بلوچ سے ہی شادی کرلی اور اب اِسے لے کر تھیٹر تھیٹر گھومتا رہتا ہے اور امبرہی اسے پال رہی ہے۔ مگر ہر چامکے کی قسمت میں محبوبہ کا شوہر ہونانہیں لکھا ہوتا۔
٭٭

اداکار چامکا
شوہر سے مجھے تھیٹر کامیڈین شوکت رنگیلا یاد آگیا۔ گوجرانوالہ کے پنجاب تھیٹر میں اسٹیج ڈرامے کی ریہرسل جاری تھی کہ اسی دوران شوکت رنگیلا کی بیوی خورشید بی بی وہاں پہنچ گئی اور شوہر پر جوتوں کی بارش کرڈالی تھی۔ اس موقع پر شوکت رنگیلا کے ساتھ ریہرسل میں موجود شاہ زیب مرزا اور امجد رانا سمیت دیگر ساتھی اداکاروں نے میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی کی کی کوشش کی تو خورشید بی بی نے ان پر بھی جوتے برسا ڈالے۔خورشید بی بی کا کہنا تھا میرے شوہر کے مختلف اداکارئوں کے ساتھ تعلقات ہیں جس کی وجہ سے نہ تو وہ گھر آتا ہے اورنہ ہی خرچہ دیتا ہے، نہ بچوں پر کوئی توجہ۔ جس کے باعث فاقوں تک کی نوبت آگئی ہے۔ یہ ویڈیو بڑی تیزی سے سوشل میڈیا پر گردش میں رہی جس میں اداکار کوڈو بھی اس جھگڑے کو نمٹانے کی اپنی سی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اور ایک ڈری سہمی اداکارہ اپنی صفائی دینے کی ناکام کوشش میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ یہ ویڈیو جب زیادہ ہی پھیل گئی تو ہفتے بعد ہی اس ڈرامے کو ایک فرضی کہانی سے نمٹانے کی کوشش کی گئی۔ لاہور کے صرف ایک نجی چینل پر خورشید بی بی سے ملتی جلتی ایک اداکارہ نے آکر اسی طرح نقاب پہن کر بیان دیا کہ وہ سب ڈرامہ کی ریہرسل کا ایک سین تھا، اس کے سوا کچھ نہیں ورنہ میرا شوہر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اگر یہ واقعی ریہرسل ہوتی تو اداکار کوڈو کا حیرت میں ڈوبا بیان یوں نہ ہوتا کہ ایسی ریہرسل تو پہلی بار دیکھی ہے۔ بہر حال شوکت رنگیلا بھی چامکا نہ ہوتا تو گھر بار پر توجہ دیتا، تھیٹر کی کمائی تھیٹر کی اداکارائوں پر نہ لٹاتا اور نہ بیوی کی جوتیوں کا نشانہ بن کر جگ کا تماشا بنتا۔


تیسری قسط یہاں ملاحظہ کریں  

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: