عالم ارواح سے محبت نامہ —— طیبہ زیدی

0
  • 1
    Share

تم یہ مجھ سے کیوں جاننا چاہتی ہو کہ میں تم پر کیوں مرتا ہوں؟ تمھاری نظریں کیوں مجھ سے بار بار سوال کرتی ہیں؟ جب تم کو میرا درد ہی نہیں تو تم میری کیا داد رسی کرو گی؟ میں نے تو سنا تھا کہ عورت کا دل بہت نرم ہوتا ہے بلکل موم کی طرح اور جسم پھول کی طرح ملائم؟ میں نے یہ بھی سنا تھا کہ ہر عورت چاہتی ہے کہ اس کا محبوب ہو؟ جو اس کو ٹوٹ کر چاہے؟ پھر تم کیوں مجھ سے دور رہتی ہو، تم کو کیا میں اچھا نہیں لگتا؟ اگر ایسا ہے تو میں بہت بد نصیب ہوں۔ تم میری روح میں سرائیت کرچکی ہو، میری آنکھوں کی ٹھنڈ ک ہو، میری خون کی روانی،میرے وجود کی تسکین ہو؟ تم کیا ہو؟ میں جاننا چاہتا ہوں؟ میں ہوش کھو نا چاہتا ہوں؟ مجھے اپنے وجود میں سمالو! میرا کیا قصور کے میرا دل تمھارے لئے دھڑکتا ہے؟ سانسیں رکنا شروع ہوجاتی ہیں جب بھی تم کو دیکھتا ہوں،میرے جسم سے جیسے میری روح جدا ہورہی ہو، مجھے ایک بار گلے سے لگا لو، میں تمھاری دھڑکن محسوس کرنا چہتا ہوں! میں دردچھپا نہیں سکتا، مر رہا ہوں اور تمھارے پاس دوا نہیں،دعا نہیں!
کیا دل ہے تمھارا؟ سانسوں کو محسوس کرتی ہو اپنی؟ ہونٹ کبھی خشک ہوئے ہیں؟ چہرہ ذرد ہوا ہے؟ میں ہر دن مرتا ہوں ہر لمحے تڑپتا ہوں،جانتی ہو کیوں؟
صرف تمھارے لئے، تمھارے چہرے کی ایک جھلک کیلئے ترستا ہوں، کیوں دکھائین نہیں دیتا تمھیں؟ محبت کیوں نہیں کرتیں مجھ سے؟ ایک نظر دیکھ لو مجھے! میں بہت تکلیف میں ہوں؟

تم کو میری آنکھوں کی بے نوری دکھائی نہیں دیتی؟ کاش کہ تم میرے سرہانے آکر ہر روز رات کو میرے ہونٹوں پر گرتے آنسوؤ کی برسات دیکھ پاتیں!میں شاید تمھارے قابل نہیں،تم مجھ سے محبت نہ کرو مگر مجھے تم سے محبت کرنے سے روکنے کا تمھیں کوئی حق نہیں!کاش کہ تم اس درد کو محسوس کرسکتیں جو میرے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے،کاش کہ تم میرے جلتے ماتھے پر اپنے ہونٹوں سے بوسہ دیتیں! مجھےاپنی بانہوں میں چھپا لیتیں، سلا دیتیں!
میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں کہ تم مجھے دیکھنا تک گوارا نہیں کرتیں پھر بھی دل کا درد سنا رہا ہوں،پتہ ہے یہ سب کیوں کرہا ہوں؟صرف سکون کی نیند سونے کیلئے!تم اب پریشان نہ ہونا،نہ گھبرانا،میں تمھیں اب نہیں دیکھنے آیا کروں گا،میں نے خدا سے سکون مانگ لیا ہے،چین مانگ لیا ہے،میں اس دنیا سے رخصت ہورہا ہوں،میرا دل بھی اب نہیں دھڑکے گا،سانسیں بھی تھم جائیں گی،آنکھیں بھی ابدی نیند سو جائیں گی،میں اپنا درد لے کر جارہا ہوں اندھیری قبر میں،تم مجھ سے ڈرتی تھیں میں تم پہ مرتا تھا،دل نے جب دھڑکنیں ہی چھین لیں تو جسم و روح کی تذلیل نہیں کرسکتا تھا!آج میری نماز جنازہ ہوگی،تمھیں کافی مجمع دکھے گا،تم کالج سے واپس آرہی ہوگی،گھبرانا نہیں،میں اپنا دل لے کر جارہا ہوں،درد بھی،تم اب میرے وجود کو کہیں نہیں پاؤ گی،نہ ڈرو گی نہ ہی گھبراؤ گی۔بس جب کبھی رات کو چھت پر جانا،ایک نظر آسمان پر ڈالنا،اور ہاتھ اٹھا کر اپنی محبت مانگنا،میں دیکھنا چاہتا ہوں جسے تم نے چاہا،دل دیا اور درد لیا،رونا نہیں چین کھونا نہیں،محبت بہت درد دیتی ہے،نہ سانس آتی ہے نہ جان جاتی ہے،تم بھی محسوس کرنا میرے درد کو،بے بسی کو،میں بھی خدا سے تمھارا چین مانگوں گا،سکون مانگوں گا،قرار مانگوں گا۔
جب کبھی میری قبر سے گزرو،بس ایک دعا کرنا،کسی کو کبھی محبت نہ ہو،کسی کا انتظار نہ ہو،نہ درد ہو نہ ملال ہو،نہ کوئی چاک گریبان ہو،نہ کسی کی قبر ویران ہو،نہ کوئی اپنے محبوب سے محبت کی بھیک مانگے،نہ محبت کرے نہ ہجر کاٹے۔
عالم ارواح سے۔
تمھارا رنج و ملال
قبر نمبر:۷۸۶
چوکنڈی قبرستان

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: