دردِ بے زباں! ۔۔۔۔ حیا ایشم ۔۔۔۔۔ قسط نمبر 2

0

شام کو گھر آیا تو ماہم آئی بیٹھی تھی، اسے ایک عجیب سی کوفت نے جکڑ لیا، سارا قصہ پھر سے یاد آ گیا، اس نے بغور اپنی امی کا چہرہ دیکھا، اس پر عجیب سا خوف اور بے بسی بھی تھی۔ ایک گہرا سانس لیتے اس نے جیسے اپنے آپ کو کسی فیصلہ لینے کے لئے تیار کیا۔ وہ جانتا تھا اسکی ماں کا خوف بے جا نہیں، اور وہ اپنی ماں کو اس کیفیت میں مزید دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ دوسری طرف ماہم کے چہرے پر وہی استحقاق و رعونت تھی جو صبح تھی۔ اسے صبح کے بعد اب یکدم حبہ یاد آئی۔

“خیریت تم کیوں آئی ہو آج؟” حنظلہ نے جان بوجھ کر غیریت بھرے انداز میں کہا، ماہم نے اسکا انداز نظر انداز کرتے فورا اپنائیت جتاتے کہا، ” کیا مطلب ہنزی؟ میں تمہارے پورشن میں نہیں آ سکتی؟ ” حنظلہ اور اسکی امی تو لگاوٹ بھرے ہنزی پر ہی ششدر رہ گئے تھے۔

حنظلہ نے ساری مروت بالائے طاق رکھتے کہا۔ ” ایکسکیوزمی، میرا نام حنظلہ ہے، بہتر ہے میرا نام مت خراب کرو اور نہ ہی ہمارے درمیان کوئی بے تکلفی ہے جو تم مجھے کسی بھی نام سے بلاؤ” حنظلہ نے ایک ہی جملے میں اسکے حواس درست کئے تھے۔ اسکی امی چائے بنانے کچن میں چلی گئیں، حنظلہ نے پانی پی کر ایسے ہی ریمورٹ اٹھا لیا،  ماہم کو سبکی کا احساس تو ہوا، مگر اس نے خود کو یہ سوچ کر سمجھایا کہ ممکن ہے ابھی پھپھو نے حنظلہ کو کچھ بتایا نہ ہو۔ آنکھوں میں عجب سی چمک لیئے اس نے حنظلہ کے بے نیازانہ انداز کو چیلنج کے طور پر لیا تھا۔ وہ آسانی سے ہار ماننے والوں میں سے نہ تھی، خاص کر جہاں اس کی انا کو چیلنج کیا جائے، اس کے سجنے سنورنے اور بولڈنیس نے یونیورسٹی کے تمام لڑکوں کو بخوبی اپنی جانب مائل کر رکھا تھا۔ حنظلہ کتنی دیر تک اس کے حسن سے محفوظ رہ سکتا تھا۔ اسے چینل بدلتا دیکھ اپنے سامنے ایک انوکھے چیلنج کو دیکھ کر عجب مسرت اور غرور کا سا احساس ہوا، ہاں ایسا ہی ہونا چاہیے ماہم کا شوہر جو یونیورسٹی کے سب لڑکوں کی طرح آسانی سے اسکے سامنے نہ بچھ جائے، اپنے طور پر وہ آنے والے وقت کو سوچ کر حظ اٹھا رہی تھی جب حنظلہ کو اس کے رشتے کی بابت پتہ چلے گا، تو وہ کتنا خوش نصیب محسوس کرے گا، کہ جس پر سب لڑکے مرتے ہیں وہ لڑکی اس شخص کی بیوی بننے جا رہی ہے۔ اس کی بلا وجہ کی موجودگی سے حنظلہ کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا تھا، بالآخر مسلسل چینل بدلتے اور اسے خود کو تکتے بے نیاز شو کرتے اس نے پلٹ کر اسکو دیکھا ” میں اب کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں، جب تم باہر جاؤ تو دروازہ بند کر دینا” 
” جو جناب کا حکم” اپنی سوچوں سے نکلتی، اب کے ماہم جیسے اس کے اس انداز کو تیار تھی، حنظلہ کو اسکے جواب اور انداز سے عجب کراہیت سی محسوس ہوئی، مگر اس کا ذہن کسی خطرے کی گھنٹی بجا رہا تھا، اسے جلد ہی کوئی فیصلہ لینا تھا۔

اس کا ارادہ کچھ دیر سونے کا تھا، مگر ماہم کے انداز نے اسکی نیند اڑا دی تھی، وہ امی کے پاس چلا گیا، وہ تسبیح پڑھ رہی تھیں۔  وہ خاموشی سے بیٹھا رہا، پھر اسکی امی نے دعا مانگ کر جائے نماز اٹھائی اور اس پر کچھ پڑھ کر پھونکنے لگیں۔ حنظلہ قدرے بغور اپنی ماں کو دیکھتا رہا۔ وہ ایک عورت جن کی زندگی میں اسکے سوا اور کوئی شخص نہیں تھا ۔۔ جس پر وہ مان رکھتیں، وہ محسوس کر سکتا تھا، اسے جس شریک حیات کا بھی انتخاب کرتا اس کے رویوں میں اسکی ماں کے لئے عزت سب سے پہلے ہونی چاہیے تھی، اور ماہم کسی بھی طرح اس کرائیٹیریا پر پورا نہیں اترتی تھی، اسکی ماں نے محسوس کیا وہ کچھ سوچ رہا ہے، پھر خود ہی پوچھا، “کیا ہوا بیٹا کیا تم پریشان ہو گئے ہو؟ ” انہیں کچھ تشویش ہوئی۔۔ ” نہیں امی،، آپکی پریشانی کے لیئے آسانی کا سوچ رہا ہوں” اس نے قدرے مطمئن سے لہجے میں جواب دیا، اسکی ماں گہرا سانس بھر کر رہ گئیں” ہاں بیٹا پریشانی تو ہے مگر تم نے کیا سوچا؟” وہ اسکی زندگی کا فیصلہ ماہم سے بھی بچانے کے لئے خود نہیں کرنا چاہتی تھیں، “بیٹا تم ہی بتاؤ اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو؟” حنظلہ کچھ دیر خآموش رہا، ” ہممم امی ۔۔ ماہم تو قطعی نہیں ۔۔ ہاں البتہ اگر آپ حبہ کے بارے میں سوچیں تو سوچ لیں، ایسا نہیں ہے کہ میں اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، مگر شادی کسی سے تو کرنی ہے، اور میرا خیال ہے حبہ ایک اچھی لڑکی ہے۔ آگے جیسے آپ مناسب جانیں، اور اگر آپکا دل مائل ہو تو حبہ کی مرضی ضرور پوچھیے گا” حنظلہ نے اپنی جانب سے قصہ ہی تمام کر دیا۔ حنظلہ کی امی کی تو جیسے دل کی کسی نے سن لی ہو۔  ان کے چہرے پر فورا سکون اتر آیا تھا، مگر اگلے ہی لمحے ۔۔۔۔” ہاں بیٹا،،، حبہ اچھی ہے،، مگر ۔۔۔ بیٹا ۔۔۔۔ بھابھی ۔۔۔۔” انکے لہجے میں خدشہ اور اضطراب تھا۔ حنظلہ سمجھ رہا تھا وہ کیوں خآئف ہیں، ” امی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں، ابھی ممانی کو کچھ مت بتائیں کہ آپ نے مجھ سے بات کی یا نہیں، آپ چچی سے بات کریں، اور حبہ سے، اسکے بعد انکو بھی دیکھ لیں گے”  حنظلہ کے لئے جیسے کوئی مسلہ ۔۔ مسلہ ہی نہیں تھا۔ قدرت نے اسے آزمائشوں سے گزار کر انکے خوف سے بے خوف کر دیا تھا، جبکہ وہ اپنی فساد سے بچنے والی طبیعت اور انہی لوگوں کے ساتھ رہنے کے سبب ابھی بھی ان سے دبتی تھیں۔   

———————————————–

اللہ کا نام لیتے نسیمہ بیگم نے اپنی بھابھی سے بات کرنے کا سوچا۔۔ عابدہ بیگم انہیں دیکھتے ہی بہت خوش ہوئیں، کہ وہ بہت زیادہ ایک دوسرے کی جانب نہیں جاتی تھیں، عابدہ بیگم نے اپنی مصروفیت کے لئے کئی کام ڈھونڈ رکھے تھے، جن میں وہ مصروف رہتیں، جب کہ نسیمہ بیگم کی اپنی زندگی کی مصروفیات تھیں جن میں وہ محلے کے بچوں کو بلا معاوضہ قرآن بھی پڑھاتی تھیں۔
” عابدہ ۔۔ آج میں تم سے ایک بات کرنے آئی ہوں” نسیمہ بیگم نے تمہید باندھتے کہا، عابدہ بیگم غور سے انکو دیکھ رہی تھیں، کہ وہ ایسا کیا کہنے والی ہیں۔۔” عابدہ میں اور حنظلہ چاہتے ہیں کہ ہم اب تمہاری حبہ کو اپنے پورشن میں لے آئیں” پہلے تو وہ سمجھی نہیں، مگر جب آںہیں سمجھ آئی، تو انکے چہرے پر ایک دم مسکراہٹ دوڑ گئی، جس سے نسیمہ بیگم کو تقویت ہوئی اور انھوں نے اب مسکرا کر کہا ” ہاں ہم چاہتے ہیں کہ حنظلہ اور حبہ کی بات کریں تو کیا تمہیں یہ رشتہ قبول ہو گا؟”
” باجی بھلا مجھے کیا اعتراض ہو گا، آپ سمجھیں یہ تو میری دعاؤں کی قبولیت ہے کہ میری حبہ ہمارے حنظلہ کی بیوی بنے ان شاء اللہ، ہاں بس حبہ کے پاپا سے بات کرنا ہو گی جیسا کہ آپ جانتی ہیں، ” ۔۔۔ انکے چہرے کا سکون بتا رہا تھا وہ بہت خوش ہوئی ہیں،
” ہاں میں جانتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ان شاء اللہ، لیکن یہ خآص حنظلہ کی خواہش ہے کہ حبہ سے بھی اسکی مرضی پوچھی جائے” وہ سب جانتے تھے کہ یہ نسیمہ بیگم کے والد مرحوم کی ہی مہربانی تھی، کہ انھوں نے اپنی وفات سے قبل ہی منصفانہ فیصلہ کر دیا تھا اور سب کو ان کے پورشنز میں منتقل کر دیا تھا ورنہ حبہ کے پاپا نے اپنی خود غرضی میں انکا کوئی خیال نہیں کیا تھا۔ اکثر کوگ عابدہ بیگم کو کہتے تھے کہ ان سے خلع  لے لیں، کہ اسلام کبھی ایک مرد کو اجازت نہیں دیتا کہ ایک ہی کی طرف جھک جائے اور دوسری کو بالکل لٹکتا چھوڑ دے، مگر یہ انکا صبر اور دور اندیشی تھی کہ انھوں نے کڑا وقت کاٹا، اور آج الحمدللہ ایک جوان بیٹی کے لئئے اللہ انکے لئے خود آسانی کر رہا تھا، انکا بس نہیں چل رہا تھا ابھی سجدہء شکر بجا لائیں، بے اختیار نم آنکھوں سے وہ اپنی نند کے گلے لگ گئیں، دونوں ہی خوش بھی تھیں اور دونوں ہی رو بھی رہیں تھیں، عجب ہوتا ہےناں یہ خوشی اور غم کا معاملہ ۔۔ شاید بچھڑ جانے والے ایسے ہی لمحۓ پوری شدت سے روم روم میں سلگ اٹھتے ہیں۔۔نسیمہ بیگم اور عابدہ بیگم دونوں اپنے اپنے شوہر کے بارے میں سوچ رہی تھیں، مگر انکا دل اس خوشی میں خوش راضی بھی تھا۔
 
کچھ لمحوں بعد نسیمہ بیگم نے خود کو سنبھالتے کہا۔۔” ہاں مگر ایک بات ہے ۔۔۔ جو تمہارے علم میں لانا ضروری ہے۔ بھابھی نے کچھ دن پہلے حںظلہ کے لئے ماہم کے لیئے مجھ سے بات کی تھی۔ اور سچ پوچھو تو یہ میرے لئے خوشی کی نہیں پریشانی کی بات تھی۔ جب حنظلہ سے یہ بات کی تو اس نے حبہ کا نام لیا۔ اور سچ پوچھو تو مجھے لگا اس نے میرے دل کی بات کہہ دی ہو۔ ” عابدہ بیگم کے چہرے کی بے ساختہ خوشی آہستہ آہستہ تشویش میں ڈھلنا شروع ہو گئی، وہ دونوں ہی مسرت بیگم کی حاکمانہ طبیعت سے واقف تھیں۔ اس لئے محتاط رہتی تھیں۔ اور کوئی وقت ہوتا تو دونوں ہتھیار ڈال دیتیں، مگر اب معاملہ کچھ ایسا تھا کہ دونوں نے اپنے بچوں کے لئے فیصلہ کرنا تھا۔
” خیر تم پریشان نہ ہو، اللہ آسانی کرے گا، تم پہلے حبہ سے اسکی مرضی معلوم کر لو، پھر میں اپنے دونوں بھائیوں سے خود بات کر لوں گی” وہ خود جتنا بھی خائف بھی ہوں اس وقت عابدہ بیگم کے ذہن سے پریشانی ہلکی کرنا چاہتی تھیں۔ 

بڑی بے حسی سی طاری ہے
نگاہ خاموش لب جامد ہیں
یخ بستہ ماحول میں ۔۔ ویرانی ء دل میں
سناٹے میں تنہائی میں
کسی آہٹ کی منتظر
دل کی دھڑکن بھی اب
چپ سی ہوتی جا رہی ہے
امیدبکھرتی جا رہی ہے
آس گم ہو گئی ہے
ہر شخص عذاب لگتا ہے
ہر جذبہ سراب لگتا ہے
بے یقینی کے اُس پار کھڑے ہیں
کہ ۔۔۔
اپنے آپ پر بھی یقین نہیں آتا۔۔

اسکی غائب دماغی عروج پر تھی۔ ماہم کا حقارت بھرا لہجہ اسکی سماعتوں سے نہیں نکلا تھا۔ ایک ماں ہی تو تھی اسکی زندگی اگر انہیں بھی کچھ ہو گیا تو ۔۔۔ یہ سوچ اسکے دل کی دھڑکن بے اختیار تیز کر دیتی تھی، بے چینی حد سے سوا ہو رہی تھی، کیسے ماہم نے ایک پل میں کہہ دیا کہ “انہیں کیا ہونا ہے” اس نے غصۃ نکالنا نہیں بس چپ ہو جانا سیکھا تھا، اور اندر ہی اندر یہ دبا ہوا غصہ خوف اور بے بسی کو ہوا دے رہا تھا۔ اسکی نظر میں تاحد نگاہ کوئی ذات نہیں تھی جس پر بھروسہ کر کے وہ اپنا دل ہلکا کر لیتی، رو لیتی چیخ لیتی،اس کی زندگی میں اسکی ماں کے سوا کوئی نہیں تھا، یہ عجب بات تھی کہ ماں کے ساتھ بھی اسکے تعلق میں محض خاموشی تھی، باپ کہنے کو تو زندہ تھا، مگر انہوں نے بہت سالوں پہلے باہر جا کر دوسری شادی کر لی تھی، اور پھر وہیں دوسری بیوی اور بچوں کے ہو کر رہ گئے۔ کبھی پیسے بھیج دیتے تھے، یا عید تہوار پر فون کر لیتے تھے، اسکی ماں آج بھی انکے عقد میں تھی، مگر یہ تعلق صرف ایک رسمی کاروائی میں ملبوس تھا، اس نے اکثر اپنی ماں کو نمازوں میں دعاؤں عید تہوار خوشی غمی میں گھٹ گھٹ کر روتے دیکھا۔۔ اکثر وہ دعا میں اللہ سے مانگ رہی ہوتی تھی، وہ صرف ایک نظر ڈال کر رہ جاتی ،، بھلا کیا دے سکتا ہے وہ انہیں،، جس کے سامنے یہ آںسو بہاتی ہیں، وہ ان کی سنتا تو کیا انکے شوہر دوسری شادی کرتے، اسے چھوڑ کر اس طرح تنہا جاتے، اسے خدا پر یقین نہیں تھا، یہ الگ بات تھی اس نے اسکا برملا اظہار کبھی نہیں کیا تھا، نہ کبھی اسے اسکی ضرورت محسوس ہوئی تھی، وہ جس سے بھی خفا ہوتی اس سے بالکل چپ ہو جاتی تھی، اس لسٹ میں خدا کے بعد اسکا باپ شامل تھا۔ خدا کیوں شامل تھا یہ ایک الگ کہانی تھی۔
 
اک عمر گزری تحیر زندگی میں

نہ ختم ہونے والی مسافت

ایک سعی لاحآصل اور کچھ بھی نہیں

باز گشت سے بے نوا تنہا سناٹے

شکستہ دھول سے اٹی امید

ٹھٹھرتی بے بسی کا جامد خول

سسکیوں سے گونجتی گُھٹتی فضا

سانسوں کا چلن باقی

مگر مشکِ کافور سے بھرپور

تھم کر دیکھا تو بہت خفا ہوئے خود سے

آخر ۔۔۔۔۔

کس آس پر زندگی گزاری ہے اب تک؟

تنہا، ماؤف ذہن کے ساتھ وہ بیڈ پر پاؤں سکیڑ کر لیٹ گئی، عجب سی خلش عجب سی کیفیت اسے بے چین کر رہی تھی، کوئی اذیت جو راحت کی تلاش میں تھی، وہ بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی، گہرا لمبا سانس لینے کے بعد وہ دبے پاؤں خان بابا کے کوارٹر کی طرف بڑھ رہی تھی، حسب معمول وہ اپنی ڈیوٹی یعنی چوکیداری پر مامور تھے، ایک دفعہ اس نے دیکھا تھا کہ وہ اپنے سگریٹس کہاں رکھتے تھے۔ اس نے آج سے پہلے کبھی سگریٹ نہیں پی تھی، مگر پتہ نہیں آج ۔۔ وہ خود سے مزاحمت نہیں کر پا رہی تھی۔ اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کئے بنا دراز کھولی، اس میں سے کانپتے ہاتھوں سے سگریٹ نکالا اور اپنے کمرے میں تقریبا بھاگتی ہوئی آ گئی، وہ اتنا بھاگی نہیں تھی جتنی زیادہ اس کی سانس پھول رہی تھی، صوفے پر بیٹھتے اس احساس ہوا، وہ سگریٹ تو لے آئی تھی مگر اسے جلائے گی کیسے؟ ۔۔۔۔ اب اس نے سگریٹ پہلے تکیے کے نیچے پھر الماری میں کپڑوں کے نیچے چھپایا اور کچن میں سے ماچس لینے گئی، ادھر ادھر کن انکھیوں سے دیکھتی اس نے کیبن سے ماچس نکالی اور سیدھا کمرے کی جانب بڑھ گئی، کمرے میں  آ کر سگریٹ اٹھانے کے بعد پہلے اس نے کمرہ لاک کرنے کا سوچا، مگر پھر جانے کیا سوچ کر واش روم میں جا کر دروازہ لاک کر دیا۔،
 
اسے لگ رہا تھا وہ کوئی چوری کر رہی ہے، کچھ ایسا جو اسے نہیں کرنا چاہیے ۔۔ مگر اس کے اندر ہی ایک ایسی کیفیت تھی جو اسے اس وقت ہر احساس ہر اذیت ہر خوف سے بیگانہ کر کے بس راحت کے لیئے تڑپا رہی تھی، ابھی اس نے کانپتے ہاتھوں سے ماچس جلا کر سگریٹ سلگائی ہی تھی، قبل اس سے کہ بمشکل ایک کش لیتی، اچانک اس کی ماں کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی، جو اس کے کمرے میں اس کو بلانے آئیں تھیں۔

ان شاء اللہ جاری ہے

 

اس کہانی کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: