بڑھتی ہوئی دہشت گردی میں عورت کا کردار ۔ فارینہ الماس

0

محبت کے بہت سے ذائقے ہیں۔ اس کی انگنت جہتیں ہیں ۔یہ اپنے اظہار و انداز میں کثیر رنگی اور بے کنار ہے۔ یہ خود اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے اور اس جہان رنگ و بو کے ہر کنارے، ہر دوار تلک پھیل جاتی ہے۔یہ لمحوں ،جذبوں، ارادوں ،خوابوں سے ہوتی ہوئی رشتوں، انسانوں اور انسانیت تک محیط ہو جاتی ہے۔ یہ کسی دھیمی اور مدھر لوری کی طرح ہر وقت کانوں میں رس گھولتی اور زندگی کو ٹھہراؤ ،صبر اور امن و سکوں دیتی ہے۔ یہ انسان کی درست سمت میں رہنمائی کرتی اور انسانی معاشرے کو پاگل پن جنونیت ،شر پسندی اور شدت پسندی سے بچاتی ہے۔ عورت کی تخلیق اور اس کے مزاج میں قدرت نے مرد سے کئی گنا ذیادہ محبت کی چاشنی گھول رکھی ہے۔ وہ ہر طرح کے موسم اور نصیب میں بھی ہر ذمہ داری محبت سے نبھاتی ہے۔  وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن، شوہر، اولاد سبھی کے لئے سراپا محبت اور الفت بنا دی گئی ہے۔ وہ اپنی ذات کی خوشیاں کم ہی تلاش کرتی ہے بلکہ خود سے وابستہ رشتوں کے لئے خوشی تلاش کرنے میں ہی خوش رہتی ہے۔ کیونکہ وہ فطری طور پر تخلیقیت پر قادر ہے اس لئے تخلیقات سے محبت اس کا بنیادی وصف ہے۔ فطرت اور مظاہر فطرت کی تباہی و بربادی کو اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر اپنانے کو شدید قسم کی وحشت سے تعبیر کرتی ہے۔ اسے فتح کرنے کی بجائے فتح ہونے میں ذیادہ لطف آتا ہے اسی لئے برتری اور غلبہ کا اسے کوئی شوق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ و جدل سے بھی نفرت کرتی ہے۔ وہ ایسی برتری اور فتح پر لعنت بھیجتی ہے جس کے حصول کے راستے میں ہزاروں، لاکھوں انسانوں کے کٹے ہوئے سر وں کے مینار تعمیر ہوں ۔ اسی لئے فرعون، ہلاکوخان، چنگیز خان، ہٹلر جیسے لوگوں میں ایک بھی نام کسی عورت کا نہیں۔ کیونکہ عورت محبت سے فتح کرنا جانتی ہے جب کہ مرد دھونس اور طاقت سے۔ دنیا کے تمام تر تربیتی نظام کا دارو مدار عورت پر ہے۔ عورت کی تربیت کا بنیادی وصف محبت ہی ہے۔ اگر اسی وصف کی بنا پر یہ تربیتی نظام بحال رہے تو یہ فعال اور مستعد ہو کر دنیا میں امن و استحکام قائم کر سکتا ہے۔ گویا وہ صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ مجموعی معاشرے کے مزاج کی تشکیل کی زمہ دار بھی ہے۔

لیکن انسانی معاشروں میں عورت کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک نے اس کے مزاج کو سنگین قسم کا چڑچڑا پن عطا ک دیا ہے جس کا اظہار اب وہ اپنے سنگ دل اور منتشر عمل سے کرنے لگی ہے۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں عورت پر بڑھتے جنسی و جسمانی استحصال اور تشدد نے اس کی ذات کے ٹھہراؤ اور اس کے حوصلہ وصبر کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کی تحقیر اور تذلیل نے اسے بھی متشدد بنا کر رکھ دیا ہے ۔ ایک طرف تو بد ترین معاشرتی رویہ اس کے حواس اس سے چھین رہا ہے اور دوسری طرف معاشرے میں پھیلتی دہشت کا شکار بن جانے کے بعد جب ایک ماں اپنا بچہ، ایک بہن اپنا بھائی، ایک بیٹی اپنا باپ یا ایک بیوی اپنا شوہر گنوا بیٹھتی ہے تو وہ اپنی ہمت، صبر اور تحمل کے اوصاف کھو بیٹھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ ورانہ فسادات یا دہشت گردی کے واقعات میں عورت کو بھی مرد اپنا آلہء کار بنانے لگا ہے ۔ سال 2015ء میں داعش کے حوالے سے ایک خوفناک خبر سامنے آئی کہ کراچی میں خواتین کا ایک 20 رکنی گروہ داعش کے لئے کام کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی کام خواتین کی اپنے مخصوص طریقوں سے انتہا پسندی کے لئے ذہن سازی کرنا اور اپنی تنظیم کے مردوں سے شادیاں کروانا ہے۔ گزشتہ سال لاہور سے تین خواتین درجن بھر بچوں کے ساتھ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لئے روانہ ہوئیں ۔ ایسے ہی واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہے لیکن حکومت اسے ماننے سے ہی انکاری رہی کہ پاکستان میں داعش نامی کسی تنظیم کا کوئی گروہ بھی موجود ہے۔ لیکن پھر دہشت گردی کے کچھ واقعات میں عورتوں کی شمولیت کا سراغ بھی ملنے لگا۔ خصوصاً اب حالیہ رونما ہونے والا نورین لغاری کا واقعہ تو ایسا واقعہ ثابت ہوا جس نے سب کے ہوش ہی اڑا کے رکھ دئیے۔ ایک ایسی جگہ جہاں خواتین کو صنف نازک کا نام ہی نہیں دیا جاتا بلکہ سمجھا بھی جاتا ہے، ایک ایسا ملک جہاں عورت کو ایک ڈری سہمی مخلوق سمجھا جاتا ہے ۔ ایسی جگہ عورت کا ایسی دہشت ناک سرگرمیوں میں ملوث پایا جانا ایک اچنبھے کی بات ہے۔ خواتین کے دولت اسلامیہ جیسی تنظیم میں شمولیت کے پیچھے کچھ عوامل موجود ہیں ۔مثلاً اگرگھر کے مرد اس شدت پسند تنظیم میں شامل ہیں تو وہ اپنی عورتوں کو بھی اس میں شمولیت پر مجبور کر سکتے ہیں ۔دوم ایسی خواتین جو اپنے بھائی،اپنے بیٹے یا شوہر کسی نا کسی سانحے میں گنوا چکی ہیں،یا وہ دہشت گردی و فرقہ ورانہ فسادات کی نظر ہو چکے ہیں، وہ خودکشی سے کہیں ذیادہ بہتر،انتقام کی صورت اس جنگ کا حصہ بننے کو سمجھتی ہیں۔ ایک اہم صورت یہ بھی ہے کہ وہ لڑکیاں جو دینی مدرسوں میں تعلیم پانے جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ مدرسے جو با لا ہی بالا کسی نا کسی عسکری تنظیم کا حصہ بن چکے ہیں ۔ وہاں موجود معلمات ان لڑکیوں کی برین واشنگ کرنے لگتی ہیں۔ ایسی تنظیموں سے وابستہ خواتین وقتاً فوقتاً درس کی محافل بھی منعقد کرتی رہتی ہیں اور ان محافل میں باقاعدگی سے شرکت کرنے والی لڑکیوں کو اپنی عسکری تنظیم کا حصہ بنا لیتی ہیں۔

یہ امر بھی انتہائی اہمیت کا حامل بن رہا ہے کہ اب جدید اور مخلوط و لبرل تعلیمی اداروں میں موجود لڑکیاں بھی اس راستے پر آنے لگی ہیں ۔ ان روشن خیال لڑکیوں کو ذہنی طور پر بدلنے کے لئے سوشل میڈیا کو بھرپور طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ایک ان دیکھے شخص کی باتیں ذیادہ بھرپور طور پر نوجوان لڑکیوں کو میسمرائز کرتی ہیں ۔اور یہی ان کا طریقہءواردات ہے ۔ شدت پسند تنظیموں کے اراکین پہلے تو اس رابطے کو استعمال کرتے ہوئے لڑکیوں پر دوستی کا جال پھینکتے ہیں اور بعد میں ان کی برین واشنگ شروع کر دیتے ہیں ۔ایسی تنظیموں سے وابستگی کے علاوہ اور بھی ایسے بے شمار واقعات ہیں جو عورت کے اس بدلتے روپ کے گواہ بنتے ہیں ۔ مثلاً ایک حالیہ واقعے کے مطابق سیالکوٹ کی تین خواتین نے مل کر ضلع پسرور کے گاؤں نانگل مرزا میں ایک مذہبی رہنما مظہر حسین کے بیٹے کو اس کے گھر میں جاکر قتل کر دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ مرنے والے شخص نے 2004 ءمیں توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔ ان لڑکیوں کا کہنا ہے کہ جب اس شخص نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ا س وقت وہ کم سن تھیں۔ اور بدلہ نہ لے سکیں لیکن اب موقع پاتے ہی انہوں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ہمارے معاشرے میں بڑھتے تشدد کی فضا عورت سے بھی اس کی رحمدلی اور نرم دلی چھیننے لگی ہے۔ وہ بھی پر تشدد اور بے رحم ہوتی جا رہی ہے ۔ درجنوں ایسے واقعات بھی رونما ہونے لگے ہیں جس میں عورت قتل و غارت گری میں ملوث پائی گئی ہے ۔گویا اب وحشت نے محبت کے بنیادی منبع پر ہاتھ ڈال دیا ہے ۔ وہ وقت قریب آنے لگا ہے جب ہماری سوچ کی دھرتی کو نفرت کا کلر کھا جائے گا اور محبت کی فصل کبھی لہلہا نہ پائے گی ۔۔۔محبت جب نفرت سے بدل جائے گی تو ہمارا معاشرا کتنا بدنما، بدرنگ اور کس قدر خونی اور وحشی بھی ہوتا چلا جائے گا اس کا ہمیں اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ہونے لگا ہے۔۔۔۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: