فیصلہ، عوامی حقوق اوراستثنا ۔۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان

0

کل جو کچھ اسلام آباد کی سفید عمارت سے برآمد ہوا ہے اس بارے میں پچھلے سال نومبر میں اپنے تجزئیے میں لکھ دیا تھا کہ
“۔ ۔ ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پنامہ کیس میں آپ کچھ بھی عدالت میں ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اخباری خبریں اور مختلف لوگوں کے متضاد بیانات ہیں۔ تو پھر یہ تجزیہ نگار اور وکلا اس اونس آف ایویڈنس کے دعوے پر اتنے پر اعتماد کیوں نظر آتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ سب مل کر ایک ھائپ کری ایٹ کررہے ہیں جس میں کہ لوگ پنامہ سکینڈل کو اصل ایشو سمجھیں اور مطمئن رہیں کہ اس الزام اور اس کی سزا سے عدالت میں جان چھڑانے کا اب شرفا کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ لیکن عدالت جب عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہو ئے شرفا کو عدم ثبوت کی بنا پر اس الزام سے مبرا کرے تو اسے قبول کرلیں۔ پنامہ سکینڈل کے غبارے میں ہوا بھری ہی اس لئِے گئی تھی کہ آخر میں ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے۔ لیکن کیوں ؟ وہ اس لئِے کہ پنامہ سکینڈل کے کان پھاڑ شور میں عوام کے آئینی فلاحی حقوق اور سانحہ ماڈل ٹاوٰن سے اٹھنے والی چیخوں کو دبایا جاسکے۔ اور یہ ھدف فی الحال حاصل کرلیا گیا ہے۔ اس کا دوسرا فاٰئدہ اس نورا کشتی میں شریک سب پہلوانوں کا مشترکہ فائدہ ہے۔ اور وہ یہ کہ جب پنامہ جیسا ھائی لیول سکینڈل بیٹھ جائے گا تو باقی پہلوانوں پرجو بھی بڑی کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں وہ بھی عدل و انصاف کی سر بلندی کی دھول میں غائب کردئیے جائیں گے بس اتنا ہوگا کہ سب اپنے اپنے “اثاثے” نئے وزیر اعظم کی تقلید میں ڈیکلئیر کرکے صاف سلیٹ پر نئے کھاتے کھول کر آغاز کریں گے۔َ
سو بظاہر نورا کشتی اپنے اس ھدف میں بہت جلد کامیاب ہونے جارہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب پنامہ سکینڈل ثابت ہی نہیں ہو پائےگا اور موجودہ حکومت فارغ ہی نہیں ہوگی تو نیازی صاحب وزیر اعظم کیسے بنیں گے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ پنامہ کا شور تونیازی صاحب نے شرفا کو سانحہ ماڈل ٹاوٰن سے بچانے کیلئیے مچایا تھا سو اس سے جو مقصد حاصل ہونا تھا وہ ہوگیا۔ لیکن ماڈل ٹاوٰن کے سانحے کے سنگین الزام سے گلو خلاصی، وزارت عظمیِ کے حصول کی قیمت سے کم پر تو طے نہیں ہوئی ہوگی، چنانچہ پنامہ سکینڈل کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 62/63 کی تلوار بھی اس نورا کشتی میں ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ پنامہ سے بریت کے ساتھ ہی شرفا کے بیانات کے تضادات کو ثابت شدہ متواتر جھوٹ کی ذیل میں عدالت کے سامنے بآسانی ثابت کردیا جائے گا۔ اور یوں پنامہ نہیں بلکہ 62/63 کے مطابق وزارت عظمیِ شریف سے نیازی کی جھولی میں منتقل کرنے کی صورت پیدا ہوجائے گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن کیا ڈاکٹر طاہر القادری اس صورت میں سپریم کورٹ میں فریاد نہیں پہنچائیں گے کہ مائی لارڈ اس 62/63 کی ذد میں تو تقریباً ساری پارلیمنٹ آتی ہے۔ ان سب کو گھر بھیجیں اور پہلے احتساب کروائیں”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تب میرا خیال تھا کہ فیصلے میں صرف پنامہ کا معاملہ گول کردیا جائے گا اور مسائل کا حل حکمرانوں کی حد تک 62/63 کے ذریعئیے طے کیا جائے گا۔
لیکن، آج دوپہر دو بجے کے بعد کی خبروں میں ملفوف یہ انکشاف ہوا ہے کہ نہ صرف پنامہ بلکہ 62/63 کی براہ راست ذد سے بھی ڈیفنڈنگ پارٹی بچ گئی ہے۔ اس پہلے ہی مرحلے میں ڈیفنڈنگ پارٹی کا 62/63 کی ذد سے بچنا اس بات کی نشانی ہے کہ اگرٰان پر 62/63 کی ذد پڑجاتی تو پھر ڈاکٹر طاہرالقادری یا کوئی دوسرا عدالت سے مطالبہ کردیتا کہ اس کی ذد میں تو پھر ساری پارلیمنٹ اور پورے سسٹم کو لے آیا جائے۔
لگتا ہے کہ فیصلہ اتنے دن جو محفوظ رہا، اس دوران تمام فریق مل کر یہی طے کرتے رہے کہ اس62/63 کی ممکنہ ذد سے، اس نورا کشتی کے سب پہلوانوں کو کیسے بچایا جائے۔ اس کا حل یہی نکالا گیا لگتا ہے کہ پنامہ کا معاملہ تو عدم ثبوت کی بنا پر ویسے ہی ٹھپ ہوجائے گا، اسلئیے صورتحال کو 62/63 کی جانب جانے سے روکنے کیلئیے، قطر کی منی ٹریل اور لندن فلیٹس کی ملکیت کی تحقیقات تک محدود کردیا جائے۔ لندن فلیٹس کی ملکیت کے بارے میں میاں صاحب کے بچوں کے پچھلے چند ماہ کے اعترافات، اس وقت اس تحقیقات کے نتائج میں ان کیلئیے بہت اہم ایسیٹ میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ ثابت کرنا کچھ مشکل نہیں کہ پیسہ پاکستان سے باہر گیا ہی نہیں بلکہ بیرون ملک دولتمند دوستوں کے تحائف اور کاروباری ساجھے داری کے نتیجے میں جنریٹ ہوا ہے۔ آخر کار بات یہاں آکر رکے گی کہ اچھا جو ایسیٹس اور پیسہ ملک سے باہر جنریٹ ہوا ہے وہ ملک کے اندر ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیا گیا یا نہیں۔ بس یہیں پر آکر کچھ جرمانوں اور وزارت عظمیٰ اور آئندہ انتخاب کیلئیے کوالیفیکیشن کے معاملات پر فیصلے ہوں گے۔
آج کے فیصلے کے فوراً بعدعدالت کے باہر پریس کانفرنس میں، میاں صاحب کے ساتھیوں نے بہت ڈٹ کے عدالت کے فیصلے کو ان کی بے گناہی کے حق میں استعمال کیا۔ خواجہ سعد رفیق نے انتہائی جوش اور ولولے سے بار بار یہ نعرہ لگایا کہ نواز شریف صادق و امین ہیں۔ یہ براہ راست اشارہ تھا ان مخالفین کی جانب کہ چونکہ تم سب نے خود کو 62/63 سے بچالیا ہے لہٰذہ اگر تم صادق و امین ہو تو ہم تم سے بھی بڑے صادق و امین ہیں۔
دوسری جانب، عمران نیازی صاحب کے نمائندوں نے جو اہم بات کی اور جسے اپنی فتح اور حکومت کی اس فیصلے میں [شرمناک] شکست سے تعبیر کیاوہ یہ تھی کہ فیصلے کےمطابق جو جے آئی ٹی بنے گی اس میں وزیر اعظم کو [حکومت کا سربراہ ہوتے ہوئے بھی کتنا نیچے آنا پڑے گا کہ] ایف آئی اے کے ایک ڈائریکٹر کے عہدے کے افسر کے سامنے پیش ہوکر صفائی دینا پڑے گی۔ اس بیان کا جو انتہائی حیرتناک پہلو ہے وہ یہ کہ اس بیان کے ذریعئیے پی ٹی آئی نے یہ عندیہ دے دیا کہ جب تک یہ تحقیقات جاری رہیں گی تب تک وہ وزیر اعظم کو سربراہ حکومت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور ان سے استعفیٰ دے کر جے ٹی آئی کے سامنے پیش ہونے کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی کا یہ ابتدائی سٹانس بذات خود اس بات کا غماذ تھا کہ سب “سٹیک ہولڈرز” پہلے سے آن بورڈ ہیں۔ اس ابتدائی پوزیشن کے بعد عمران صاحب نے وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ تو کیا ہے لیکن وہ فی الحال فقط مطالبہ ہی ہے اور اس میں کسی قسم کی سٹریٹ پاور استعمال کرنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس نورا کشتی کی گردن پر سانحہ ماڈل ٹاوٰن کے شہدا کا خون ہے جو پنامہ کی اڑائی ہوئی گرد و غبار میں دبا دیا گیا۔ اس نورا کشتی نےملک کے خزانے کی لوٹ مار کو جاری رکھنے کے جدید ہتھکنڈوں کو زیادہ سوفسٹیکیشن کے ساتھ جاری رکھنے کا انتظام کیا ہے، اس نورا کشتی نے ملک کے آئین کی ان واضع شقوں کو ایک مزاق بنا کے رکھ دیا ہے جو ملک میں انتخابی اداروں کے قیام، ان کے فرائض، پارلیمنٹ میں جانے والوں کی کوالیفیکیشن، حکمرانوں کی ایمانداری اور دیانت اور سب سے بڑھ کر عوام کے بنیادی فلاحی حقوق کی پاسدار ہیں۔
اگر یہ سب نورا کشتی نہیں ہے تو آنے والے چند دنوں میں پی ٹی آئی، پی اے ٹی اور دوسرے اتحادیوں کو شاید نئے سرے سے معاملات کا جائزہ لینا پڑے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو امکان ہے کہ ان کا سٹریٹس پر آکر پہلا مطالبہ یہی ہوگا کہ وزیر اعظم مستعفی ہوکر جے آئی ٹی کا سامنا کریں۔ اور اس دوران عدالت ایک انٹیرم سیٹ اپ کا بندوبست کرے۔ دوسری جانب بھی، اگر سب کچھ واقعی نورا کشتی کے تحت نہیں ہورہا تو میاں صاحب کے پاس بھی سب سے آسان راستہ یہی ہوگا کہ اعلان کردیں کہ جب تک وہ وزیر اعظم ہیں، انہیں کسی بھی پیشی سے استثنا حاصل ہے۔ اور یوں اگر انہوں نے پیش ہونے سے بھی انکار کردیا اور حکومت سے دست بردار بھی نہ ہوئے تو اس صورت میں ان کو صدر مملکت سمیت آئینی طریقے سے کوئی بھی نہیں ہٹاپائے گا۔ اور یوں ایک ڈیڈ لاک پیدا ہوگا جس کے کلائمکس پر طاقتور حلقے کوئی ایسا اقدام کرنے پر مجبور ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں موجودہ حکمران سیاسی شہید بن جائیں۔ اور یہی تو موجودہ پارٹی کا اصل مطمہ نظر ہے۔ اس فیصلے کی ٹائمنگ بھی، حکمران پارٹی کیلئیے اتفاقاً بہت بروقت محسوس ہوتی ہے کہ آئندہ الیکشن کی کیمپینز شروع کرنے کا وقت بھی تقریباً آیا چاہتا ہے۔
ایک اہم سوال رہ جاتا ہے۔ کہ تمام مخالفین اور موافقین یہ سوال کیوں نہیں اٹھا رہے کہ آخرکیا گارنٹی ہے کہ جب جے آئی ٹی بنا ئی جائیگی تو نواز صاحب فرمانبرداری سے ویسے ہی عدالت کے حکم کو فالو کریں گے جیسے یوسف رضا گیلانی اورراجہ پرویز اشرف نے کیا تھا؟ کیا وزیر اعظم کی حیثیت سے وہ اپنے استثنا کا استحقاق کلیم نہیں کریں گے؟ اور اگر انہوں نے اپنے استثنا کا حق استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا تواس ملک کے اداروں کے درمیان جو تصادم ہوگا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ لہٰذہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ پہلے سے سمجھ لیا لگتا ہے کہ وہ استثنا کی جانب نہیں جائینگے اوریہ بات بذات خود اس بات کی چغلی کھا رہی ہے کہ سب پلیئرز گیم کی جزیات پر آن بورڈ ہیں۔
چنانچہ ایک سیناریو تو یہ ہے کہ ہلکا پھلکا احتساب کرنے کیلئیے سراج الحق جیسے “صادق اور امین” بندوں پر مشتمل ایک انٹیرم سیٹ اپ بنایا جائے گا جو آئندہ انتخابات کا انعقاد کروائے گا۔ اور اس کے بعد یہ ملک واپس اسی ڈگر پر چلنے لگے گا جس پر اب تک چلا ہے۔
دوسرے سیناریو میں امکانات کافی وسیع ہیں۔ اگر حکم رانوں نے جے آئی ٹی سے ٹکراوٰ کا راستہ اختیار کیا تو عدالت کوعوام اور فوج کی مدد سے اس پورے سیاسی-سماجی ظالمانہ نظام کے خلاف جے آئی ٹی فارم کرنا پڑے گی۔ جس کے نتائج انقلابی اور دور رس ہوں گے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: