اقبالؒ اگر شاعر نہ ہوتے تو۔۔۔! منیر احمد خلیلی

0

اقبالؒ جیسی ہمہ جہتی نادرِ روزگار شخصیت کے بارے میں لکھنا بہت مشکل کام ہے۔وہ ایک معتبر و معزز سماجی شخصیت تھے۔ ماہر قانون دان تھے۔ کچھ عرصہ تعلیم و تدریس سے بھی وابستہ رہے۔اس زمانے میں خال خال ہی لوگ انگلستان جاتے تھے۔ ایک طرف وہ فرنگی تہذیب و تمدّن کے عروج کا زمانہ تھااور دوسری طرف ہمارا عہد زوال تھا جس میں ہوا کا ہر جھونکا کمتری کا احساس دلاتا تھا۔جوکوئی بھی وہاںجاتااس کے پھندے میں آ جاتا۔ اس کا والہ و شیدا ہو کر رہتا۔کوئی خوش قسمت ہی ہوتا جواس تہذیب کی فسوں گری سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتا تھا۔ کم ہی لوگ تھے جو وہاں سے ایمان،سیرت و کردار اور اپنی اقدار و روایات کی متاع سلامت لے کر آتے تھے۔ اقبالؒ وہاں گئے، کیمبرج سے قانون کی اور میونخ سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔پلٹے تو ایمان کی روشنی اور یقین کی قوت فزوں تر تھی۔اقبالؒ گئے۔ تین سال وہاں قیام کیا۔ کیمبرج سے قانون اور جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ نہ صرف یہ کہ دامِ تہذیب ِ مغرب سے صاف بچ کر نکلے، بلکہ ایمان کی روشنی اور یقین کی قوت فزوں تر لے کر لَوٹے۔ تہذیبِ فرنگ کی جھلکیاں دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچے کہ تہذیب نہیں یہ تو پردہ ٔ ِ تہذیب میں غارت گری اور آدم کُشی ہے۔کئی اہلِ قلم نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اقبالؒ کی عادات اور مزاجی خصوصیات،ان کی روزمرہ زندگی کے معمولات اور لوگوں کے ساتھ ان کے معاملات و تعلقات کی تفصیلات اکٹھی کر کے ان کی شخصیت کے جامع خاکے مرتّب کیے ہیں۔لیکن میرا یہاں ان کی شخصیت کا خاکہ لکھنے کا ارادہ نہیں۔میرے پیشِ نظر اپنے عہد کی اس نادرِ روزگار شخصیت کے تین پہلوہیں جنہوں نے اس کواسلامی تاریخ کے آنے والے ہر دور کی شخصیت بنا دیا۔
٭ اقبالؒ بحیثیت سیاسی مدبّر ٭ اقبالؒ بحیثیت مجتہد اور دینیاتی سکالر ٭ اقبالؒ بحیثیت شاعر
اقبال ؒ کے سیاسی افکار و خیالات،فلسفیانہ و مجتہدانہ تصورات اور شاعرانہ مقام و مرتبہ پر نگاہ ڈالی جائے تو وہ بلا مبالغہ ایسے پہاڑ نظر آتے ہیں جس کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چوٹی سر کرتے ہوئے بھی بڑے بڑے ادبی و علمی ’کوہ پیمائوں‘ کی سانس پھول جاتی ہے۔جہاں تک اقبال ؒ کی سیاسی زندگی کا تعلق ہے تویہ نہ زیادہ طویل ہے اور نہ زیادہ ہنگامہ خیز۔وہ سیاستِ دوراں سے نالاں تھے۔ان کے اردو کلام میں لفظ’ سیاست ‘ سترہ اٹھارہ مرتبہ آیا ہے لیکن اس کے بارے کہیں پسندیدگی کاتأثر نہیں ملتا۔’بانگِ درا ‘کی نظم ’ایک خط کے جواب میں ‘ کے چوتھے شعر میںسیاست راستے سے مفادات اور جاہ و منصب کے حصول کی ترغیب دینے والے کسی سیاست دان دوست اور خیرخواہ پر انہوں نے واضح کیا تھا کہ جاہ و منصب اور اثر و اقتدار کے لیے
اہلِ سیاست جو پاپڑ بیلتے ہیں اور اس میدان میں جو فتنہ تراشیاں ہوتی ہیں میری طبیعت کا میلان اس طرف ہو ہی نہیں سکتا۔
یہ عُقدہ ہائے سیاست تجھے مبارک ہوں
کہ فیض ِ عشق سے ناخن میرا ہے سینہ خراش
مغرب سے درآمد فلسفہ ٔ ِ سیاست کو اقبال ؒ علم و حکمت اور تجارت ہی کی طرح ’فکرِ ملوکانہ کی ایجاد‘ تصور کرتے تھے۔اپنے ’دِلِ خبیر و بصیر ‘ اور شعور کی روشنی میں وہ دیکھ رہے تھے کہ سیاستِ لا دِین ’کنیزِاہرمن، دُوں نہاد و مردہ ضمیر‘ کے سوا کچھ نہیں۔’اِبلیس کی عرض داشت ‘ میں تخیّلاتی طور پر ابلیس کی زبانی یہ کہلوایا کہ:
جمہور کے ابلیس ہیں اربابِ سیاست باقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک
اور پھر سیکولر سیاست کے بارے میں اپنی دو ٹوک رائے دے دی :
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو جدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اقبال ؒ 1905سے 1908تک انگلستان میں رہے۔ اسی عرصے میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔واپسی پر انہوں نے سیاستِ وقت سے کوئی سروکار نہ رکھا۔ پہلی عالمی جنگ سے لے کر تیسرے عشرے کے وسط تک (1914-1924)کے دس سال کے عرصے میں ایسے حالات و حوادث کے خوفناک زلزلے آئے جنہوں نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریاں، ترکی کا عاقبت نا اندیشانہ انداز اس جنگ میں کود پڑنا، شریفِ مکّہ کی اپنے مغربی سرپرستوں کے ایما پر خلافتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت، ترک خلافت کی بقاکا معرضِ خطر میں پڑنا اور برّ صغیر پاک و ہند کے بحرِ سیاست تحریکِ خلافت کی صورت میںزبردست ہلچل، مسلم رہنمائوں کی برطانوی حکومت سے ترکی خلافت اور ریاست کے بچائو کی اپیلیں، خلافت کا خاتمہ، مصر میں شاہ فوأد اول کی منصبِ خلافت کے لیے کوشش، الازہر اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ شیخ علی عبدالرّزاق کی معرکۃُ الآراء کتاب’الاسلام و اصول الحکم‘ کی اشاعت اور احیائے خلافت کی تمنّائوں کی حتمی موت جیسے سانحات کے سارے زلزلے انہی دس برسوں میں آئے اور ان کی لرزش ترکی، ہند، مصر، جزہرۃُ العرب سے لے کر برطانیہ کے پارلیمانی اور شاہی ایوانوں تک میںمحسوس ہوتی رہی۔ برّصغیر کا کوئی قابلِ ذکرمسلم لیڈر نہ تھاجس نے اس دور کی سیاست میں اپنا کردار ادا نہ کیا ہو۔لیکن اقبالؒ نہ میدانِ سیاست میں اترے اور نہ تحریکِ خلافت میں کوئی حصہ نہیں لیا۔اس عرصے میں ان کی شاعرانہ حسّاسیت و حرکیت اور اور دانشورانہ قوتوں کا ارتعاش ان کے کلام میں پوری طرح جلوہ گر رہا۔ الگ تھلگ رہ کر بھی وہ ان موضوعات پر اپنے خیالات کا مسلسل اظہار کرتے رہے۔بقائے خلافت کی تحریک ہی ان کے سامنے تھی جب اپنی نظم ’دریوزہ ٔ ِ خلافت ‘ میں انہوں نے کہا تھا:
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا خلافت کی کرنے لگا تو گدائی
خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشاہی
اور جب اغیار کی عیّارانہ چالیں کامیاب ہوئیں اور اسلامی اجتماعیت اور شوکت و عظمت کی علامت ادارۂ ِ خلافت کی بساط ترکوں نے خود لپیٹ دی تو اقبالؒ اپنا دکھ کا چھپا نہ سکے :
چاک کر دی ترکِ ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مُسلم کی دیکھ، اوروں کی عیّاری بھی دیکھ
بانگِ درا کی طویل بندوں والی نظم ’خضرِ راہ‘ کے ہر بند اور ہر شعر کی رگوں سے ترکی کے حصے بخرے ہوجانے اور وسیع مسلم سلطنت کو قومیتوں کی بنیاد پرکئی ملکوں میںٹکڑے ٹکڑے کر کے استعماری تسلط کے تابع کر دینے پراقبالؒ کے کرب و درد کا خون ٹپکتا نظر آتا ہے۔
حِکمتِ مغرب سے مِلّت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز
اس وقت تک برّ صغیر کی سیاسی حرکیات کا پورا ادراک رکھنے اور ان کی روشنی میں لوحِ دانش پر مستقبل کی تصویر کشی میں مصروف سیاست دان اقبالؒ پر شاعر اقبالؒ چھائے ہوئے تھے۔انہوں نے زندگی کا ایک توانا، انقلاب آفریں اور حیات افروز پیغام اپنی اردو اور فارسی شاعری کی صورت میں امّت تک پہنچا دیا تھا۔1915سے 1935تک ان کی فارسی اور اردو شاعری کے مجموعے شائع ہو کر شرق و غرب میںمقبولیت کے جھنڈے گاڑ چکے تھے۔’رموزِ خودی ‘ کا انگریزی ترجمہ بھی ہو گیا تھا۔ان کی شہرت برّ صغیر سے نکل کر ایران، ترکی، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کو عبور کرتی ہوئی یورپ تک پھیل چکی تھی۔
وفات سے تقریباً دس سال قبل کے عرصے میں ان کا سرگرم اور رہنما سیاسی کردار بھی پوری طرح محسوس کیا جانے لگاتھا۔وہ دیکھ رہے تھے کہ کانگریس کی شاطرانہ پالیسیاں اور ہندو مہاسبا کی متعصبانہ ذہنیت ہندوستان میں ایک نئی خطرناک صورتِ حال کو جنم دے رہی ہیں۔ان پالیسیوں اور اس ذہنیت کازہر ہندوستان کی سیاسی اور سماجی زندگی میں مسلسل گھل رہا تھا۔ہندو مہاسبا کے پھیلائے ہوئے تعصب کے نتیجے میں بار بار ہندو مسلم فسادات کی آگ بھڑک رہی تھی۔ کانگریس نے جناح صاحب کی دستوری تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔اس ساری صورتِ حال میں جہاں اقبالؒ کا راہوارِ قلم علم ومعرفت اور فلسفہ و فکرکی چوٹیاں سر کر رہا تھا،وہاں ان کی دور رس اور مستقبل بین سیاسی بصیرت و فراست کا توسن برّ صغیر میں مسلمانوں کے
مذہبی، سیاسی، معاشی، تہذیبی و ثقافتی مستقبل کے محفوظ ممکنات کی نئی راہیں تلاش کر رہا تھا۔
ہندووں اور مسلمانوں میں جو اعتقادی اور تہذیبی تفاوت تھی وہ سیاست پر اپنے منفی اثرات مرتب کر رہی تھی۔ کانگریس ہندوبالادستی کی نفسیات کا کئی طرح سے اظہار کر رہی تھی۔وہ مسلمانوں کو یہ احساس دلا رہی تھی کہ انگریزوں کے جانے کے بعد مسلمانوں کے زندہ رہنے کا انحصار اس امر پر ہے کہ وہ اپنی زیردست اور محکوم حیثیت کو تسلیم کر لیں۔ اقبال ؒ گہرے غورو خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ مسلمانوں کی بقا متحدہ ہندوستان میں ممکن نہیں۔ چنانچہ 29 دسمبر1930 کوآل انڈیامسلم لیگ کے الہ آباد میں منعقدہ سالانہ اجلا س میں انہوںنے یہ تصور پیش کیا کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبے،سندھ اور بلوچستان کے علاوہ بنگال کے مسلم اکثریتی صوبوں کو انگریزی انتداب کے اندر یا اس سے آزاد خود مختار ریاستوں کی الگ شکل دی جائے۔ وہ یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ درپیش حالات میں محمد علی جناحؒ ہی وہ زیرک، با اصول اور مضبوط عزم و کردا ر کے رہنما ہیں جو مسلمانوں کی کشتی کو ساحلِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں۔ جناح ؒصاحب گول میز کانفرنسوں کے بعد برطانیہ ہی میں مقیم ہو گئے تھے۔ اقبال ؒ کی اپنی صحت بگڑ رہی تھی۔ انہیں فکر کھائے جا رہی تھی کہ ہندو رویے کے باعث انڈیا خانہ جنگی کے دھانے پر کھڑا ہے۔متحدہ ہندوستان میں اگر نہرو کے بے دین سوشلزم کا نفاذ ہو گیا تو ہندو مسلم تصادم تو نقشِ دیوار ہے ہی، ذات پات میں بٹے ہوئے ہندووں کے اپنے مختلف طبقوں میں بھی تباہ کن ٹکرائو ہو گا۔ اگرمسلمانوں کے لیے ایک یا دو الگ اور آزاد ریاستوں کو وجود میں نہ لایا گیا توہندوستان میںنوبت خانہ جنگی تک پہنچ جائے گی۔ انہوںنے جناح ؒ صاحب کو قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے، نیز مسلمانوں کے الگ وطن کے فارمولے کا قائل کرنے کے لیے دو سال تک خط وکتابت کی۔یہ سلسلہ ان کی وفات کے چند ماہ پہلے تک جاری رہا۔قائدِ اعظم ؒ اقبال کی فراست و حکمت اور اخلاص سے متأثر ہوئے اور آ خر مسلم لیگ کی قیادت اور ایک آزاد اور خود مختار مسلم ریاست کی جدوجہد کی رہنمائی سنبھالی۔اقبال ؒ کے یہی خطوط آگے چل کر تحریکِ پاکستان کی تمہید بنے۔ یہ سیاست دان اقبالؒ کی شخصیت کا مختصر خاکہ ہے۔
اقبالؒ کی شخصیت کے جن تین پہلووں کا ذکر ہوا ہے وہ باہم کچھ اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کہاں ایک پہلو ختم ہوا اور دوسرا نمایاں ہو گیا۔ ہمیں شاعر اقبال کے اندر مجتہد اور دینی سکالر اقبال ؒ کی جلوہ نمائی صاف نظر آتی ہے اور مجتہد اور دینی سکالرکے اندر ایک مدبّر سیاست دان کے نظریات بھی پوری طرح جھلک رہے تھے۔تاہم انہوں نے مختلف مواقع پر حیدر آباد، علی گڑھ اور مدراس میں جو فاضلانہ لیکچر دیے،انہوں نے بعد میں The Recostruction of Religious Thoughtsکے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو کر علمی حلقوں میں بہت سے فکری مباحث کے دروازے کھولے، ان کو اقبالؒ کی علمی شخصیت کا ایک منفرد پہلو تسلیم کیا گیاہے۔اسی لیے آج تک ان پر بحثیں اور تحقیقی نکتہ رسی
جاری ہے۔سیّد نذیر نیازی نے ان خطبات کا ’تشکیل جدیدِ الٰہیاتِ اسلامیہ‘ کے نام سے ترجمہ کیا تھا۔ ان خطبات میں سیاست، مذہب، روحانیت، فقہ و اجتہادکے مختلف پہلووں سمیت اجتماعی زندگی سے تعلق رکھنے والے متعدد موضوعات زیرِ بحث آئے ہیں۔یہ شاعرانہ جذبات کے برعکس فلسفیانہ خیالات کا مجموعہ ہیں۔طویل فکری جمود اور اجتہادی تعطل کو محسوس کرتے ہوئے اس سے قبل شاہ ولی اللہ ؒ نے جن میدانوں میں فکر و تدبّر اور اجتہاد کی راہیں دکھائی تھیں، اقبالؒ نے ان سے آگے کی طرف نشاندہی کی۔ لیکن ایک چیز محسوس ہوتی ہے کہ اہلِ علم نے جب ان خطبات سے اعتنا برتنا شروع کیا تو شاعر اقبالؒ کو پسِ پشت دھکیل دیا۔یہاں یہ عرض کر دینے میں کوئی حرج نہیں کہ ان خطبات میں اقبال ؒ نے جو افکارِ عالیہ پیش کیے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ خود ان کو حرفِ آخر سمجھتے تھے۔اس وقت مصر و عرب میں چھپنے والی ساری کتابوں تک اقبالؒ کی رسائی نہیں ہوئی تھی۔تحقیق کی جو راہیں وقت کے ساتھ وا ہوتی گئیں وہ ساری اقبالؒ پر نہیں کھلی تھیں۔اقبالؒ زندہ ہوتے تویقینی طور کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کئی خیالات کو بدلتے اور اپنی کئی آراء سے رجوع کرتے۔سیاست جس طرح اخلاقی پستی کا شکار ہوتی گئی، اس دور میں ابھی وہ اس پست سطح پر نہیں پہنچی تھی۔صرف ایک مثال شاید بات کو واضح کر دے کہ آج اقبالؒ زندہ ہوتے اور پارلیمنٹ میں کرپٹ سیاست دانوں کی یہ کثرت دیکھتے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اجتہاد کا اختیار دینے کی رائے پر بھی نظرِ ثانی کر لیتے۔ تا ہم ان خطبات کی مفکرانہ شان مسلمہ ہے۔
دنیا کی قوموں میں پرورشِ لوح و قلم اور تزئینِ فکر و فن کرنے والے نامور ادیبوں اور شاعروں کی کمی نہیں ہے۔لیکن ایسے کم ہوں گے جن کی شاعری نے آبِ حیات بن کر قوم کو ایک نئی زندگی بخشی ہو۔جن کا نیم مردہ ابنائے قوم کی نشأۃِ ثانیہ کا باعث بنا ہو۔جن کے کلام کے ایک ایک شعر سے منجمد خون کوحرکت و حرارت ملی ہو۔جنہوں نے ’شِکوہ و جوابِ شکوہ ‘ جیسا کوئی فنّی و فکری شاہکار تراشا ہو جس میں مریض کے عوارض بھی گن گن کر بتائے ہوں اور چن چن کر وہ اسباب بھی گنوائے ہوں جو ان عوارض کا سبب بنے۔جن کی شاعری میں ’شمّع و شاعر ‘ جیسی نظم ہو جس میں شمّع کی زبانی امید کے بجھے ہوئے چراغ روشن کیے ہوں اور احساسِ کمتری کے روگ کو رفع کیا ہو۔جنہوں نے یقین کی مضمحل روح کو توانائی عطا کی ہو۔جنہوں نے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ بتاتے ہوئے ماضی کی تدابیر سے رشتہ کٹنے نہ دیاہو۔ جنہوں نے مستقبل سے مایوس اپنی ہراساں و پریشاں قوم کو یہ یقین دلایا ہو :
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ ِ خورشید سے یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ ِ توحید سے
اقبالؒ نے عشق، فقر اور خودی کا نسخہ دیا۔ یہ شاعری ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں یاد کیے جاتے ہیں اور ان کی عظمت کو سلام کیا جاتا ہے۔وہ اس وقت مطلعِ اُمت پر نمودار ہوئے جب مسلمانانِ برّ صغیر کو کوئی منزل سجھائی نہیں دیتی تھی
۔مایوسی کی کیفیت ایسی تھی کہ کسی بھی راہ پر وہ اعتماد کے ساتھ قدم نہیں رکھ رہے تھے۔متاعِ کارواں لُٹ چکا تھا اور کارواں حیران وسرگشتہ کھڑا تھا کہ کوئی خضر آئے اورمِلّت کو اس چشمۂ ِ آبِ حیات تک لے جائے جہاں سے اس کو حیاتِ نومل سکے۔عُلماء ’آئینِ نوسے ڈرنا اور طرزِ کہن پہ اڑنا‘کی نفسیاتی کیفیت میں مبتلاتھے۔ایک راہ سر سیّد احمد خان دکھا رہے تھے لیکن اس میںخود سپردگی تھی۔ اس پر چلنے میں یہ ضمانت نہیں تھی کہ ایمان، اخلاقی اقدار اور تہذیبی روایات کا سرمایہ بھی محفوظ رہے گا اور درماندگی و پسماندگی سے لڑکھڑاتے قدم بھی جم جائیں گے۔امید و یقین، عزم و اعتماد، غیرت و حمیت کی بازیافت بھی ہو جائے گی۔اقبالؒ کے دوست شیخ عبدالقادر کی روایت ہے کہ بیسویں صدی کے اوّلین عشرے کے دوران جب اقبالؒ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے انگلستان میںمقیم تھے، ایک موقع ایسا بھی آیا جب انہوں نے شاعری ترک کر دینے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ شیخ عبدالقادر اور اقبالؒ کے انگریز استاد پروفیسر آرنلڈ نے انہیں اس ارادے سے باز رکھنے کے لیے جو دلیل دی وہ یہ تھی کہ ’ان کی شاعری کوئی عام شاعری نہیں ہے۔ان کے کلام میں وہ تأثیر ہے جس سے ممکن ہے کہ ہماری درماندہ قوم اور ہمارے کم نصیب ملک کے امراض کا علاج ہو سکے۔‘ اور یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اقبالؒ کی شاعری مسلمانانِ ہند کے امراض کا علاج ثابت ہوئی۔ آہِ سحرگاہی کے جھونکوں اور خونِ جگر کی طراوت سے نمو پانے والی اقبال کی شاعری کا ایک ایک شعر ملّت کے لیے پیغام ِ حیاتِ ابدی تھا۔
وہ شعر کہ پیغامِ حیاتِ ابدی ہے یا نغمۂ ِ جبریل ہے یا بانگِ سرافیل
اس شاعرِ دل نواز کی کھری باتوں سے مزرعِ زندگی ہری ہوئی اور شانِ خلیل ؑ رکھنے والے کلامِ اقبال ؒ نے شعارِ آزری اختیار کر لینے والی قوم کونمرودوںسے جا ٹکرانے کا جذبہ دیا۔انہوں نے شاعر اور شاعری کی یہی خصوصیات اپنی نظم ’شاعرـ‘ میں بتائی ہیں۔
شاعرِ دل نواز بھی بات اگر کہے کھری ہوتی ہے اُس کے فیض سے مزرعِ زندگی ہری
شانِ خلیلؑ ہوتی ہے اُس کے کلام سے عیاں کرتی ہے اُس کی قوم جب اپنا شعار آزری
اہلِ زمیں کو نُسخۂِ زندگیِ دوام ہے خُونِ جگر سے تربیت پاتی ہے جو سُخن وری
سینہ ٔ ِ پر سوز سے نکلا ہوا ہرشعرِاقبال ؒ ’کر کسی سِینۂ ِ پُر سوز میں خلوت کی تلاش‘ کے مصداق پُرسوز سینوں میں جگہ پاتا اور اپنا اثر دکھاتا رہا، یہاں تک کہ اقبالؒ نے خود پُرسوز سینوں والوں کو عزت اور وقار کی زندگی کی راہ دکھائی اور آزادی کی منزل بتائی۔
The Reconstruction of Religious Thought بلاشبہ اقبال ؒ کاعظیم فکری اور تجدیدی سرمایہ
ہے۔ان خطبات کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگراقبال ؒ شاعر نہ ہوتے، یہ خطبات ہی ان کی فکر کا کل سرمایہ ہوتے تو اقبال ؒ کب کے بھلائے جا چکے ہوتے۔ اس دنیا سے گزر جانے کے 79 برس بعد بھی آج ہرخاص و عام میںان کا بدستور چرچا ہے اس میں ان کا ’مصوّرِ پاکستان ‘ ہونا بھی شامل ہے لیکن تمام تر سیاسی کردار یا ان خطبات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی شاعری کی وجہ سے ہے۔پرائمری سکولوں سے لے کر جامعات تک اقبالؒ سے طلبہ جو واقف ہیں تو یہ حوصلوں کی جوت جگانے والا کلامِ اقبالؒ ہے۔اسی کے باعث مذہبی علماء اور جدید تعلیم یافتہ حلقوںمیں یکساں ان کے تذکرے ہوتے ہیں۔ مقررین کی زبانوں اور اصحابِ قلم کی تحریروں میں اسی کی بنا کی یادوں کا یہ سلسلہ جاری رہتاہے۔خطبات توبس اہلِ تحقیق کے لیے ایساحوالہ ہیںجس کی عوامی سطح پر نہ کسی کو خبر ہوتی ہے اور نہ ایک عام آدمی کی سمجھ اوردلچسپی ہے۔اقبال ؒ تحریکِ پاکستان کے آغاز سے تقریباً دو سال پہلے فوت ہو گئے تھے۔شاہی مسجد کی سیڑھیاں چڑھیں تو دائیں بائیں دو قبریں ہیں۔اقبال ؒ بائیں ہاتھ پر دفن ہیں اوردائیں طرف نواب زادہ سر سکندر حیات کی قبر ہے جوپنجاب کے وزیر اعظم، ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ ہونے کے علاوہ طویل مدت تک انگریز وں کی قابلِ اعتماداور منظورِ نظرشخصیت تھے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اقبال کا مزار مرجعِ عوام و خواص ہے، جب کہ دائیں جانب والی قبر کی طرف آثارِ قدیمہ کی نشانی سمجھ کر بھی کوئی نگاہ اٹھا نہیں دیکھتا۔ کیوں؟اس لیے کہ ایک طرف نازشِ سکندر ی مدفون ہے اور دوسری فقرِ غیورمحوِ استراحت ہے:
مِرا فقر بہتر ہے سکندری سے یہ آدم گری ہے، وہ آئینہ سازی
شاعر اقبالؒ کی قبر گویا بزبانِ حال کہہ رہی ہے:
زیارت گاہِ اہلِ عزم و ہمّت ہے لحد میری کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی
قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ ضبط واحتیاط کا ایسا گہرا سمندر تھے کہ ان کے غم اور خوشی کے جذبات کی لہروں میں اظہار کی شدّت کم ہی کبھی آتی تھیں۔وہ الفاظ کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرتے تھے۔ لیکن علّامہ اقبالؒ کی وفات پر انہوں نے جو تعزیتی بیان جاری کیا تھاصاف نظر آتا ہے کہ اس میں سیاست دان اقبال سے زیادہ صاحبِ دانش و فکر اور شاعر اقبال کی موت پر ان کو شدیددکھ ہواتھا۔ان کے صدمے کی لہریں بڑے زور سے احتیاط کے ساحل سے ٹکرائی تھیں۔ تعزیتی پیغام میں اقبالؒ کی سیاسی بصیرت اور ان کی خدمات کاتذکرہ ہے لیکن اس بیان کے ابتدائی حصے میں جس چیز کو بطورِ خاص بیان کیاگیا تھا وہ اقبالؒ کی شاعرانہ عظمت ہے۔ قائدؒ کے الفاظ پر غور کریں:’ مجھے سر محمد اقبال کے انتقال کی خبر سن کر سخت صدمہ ہوا۔وہ عالمی شہرت کے حامل ایسے غیر معمولی شاعر تھے جن کے کلام کاسرمایہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔اپنے وطن اور تمام مسلمانوں کے لیے ان کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا یہ ریکارڈکسی بھی دور کی کسی عظیم ترین ہندوستانی شخصیت کے ہم پلّہ قرار پاسکتا ہے۔‘

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: