فکری خلا کا شوشہ.. کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟

0

یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ علوم وتحقیق کی دنیا میں کسی کو بھی حرف آخر ہونے کا شرف حاصل نہیں اگر ایسا ہوتا تو دنیا پیچھے رہ جاتی اور اتنی ترقی فکری ومادی لحاظ سے کبھی دیکھنے کو نہ ملتی.. دراصل دنیا کی خوبصورتی بھی اسی فکری تنوع میں پنہاں ہے.. انسانی علم اور انسان کی فکری بساط کتنی ہے کیا وہ (انسان) قدرت کے ان تمام علوم وحقائق کا احاطہ کرنے کی وہ استعداد رکھتاہے جو صرف اللہ کے برگزیدہ بندوں (انبیاء) کی تخصیص رہی ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو یقینًا کسی بھی نئے مفکر کے مطالعہ سے پہلے صاحب مطالعہ کے ذھن میں پیدا ہوتے ہیں ان کا تشفی جواب پا کر ہی کسی بھی محقق کی آراء اور علمی کاوشوں سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
اسی تمہید کا سیدھا سادہ جواب تو یہی ہے کہ تمام علوم و اسرار کا مصدر اول تو اللہ کی ذات ہے۔۔وہ تمام علوم و دانش کا سمندر ہے اور تمام علوم اسی کی دسترس میں ہیں اور انسان اپنی عقلی و اکتسابی قوت کے ساتھ اس بچے کی سی حیثیت رکھتاہے جو سمندر کنارے سنگریزوں سے کھیلتا ہو
امت مسلمہ پر اللہ کا خصوصی کرم ہےکہ اللہ نے مسلمانوں میں علمی و فکری سوتے کبھی خشک نہ ہونے دئیے کبھی افراد کی صورت میں تو کبھی اسلامی تحریکات کی شکل میں۔۔مسلمانوں نے ترقی و تنزلی ہر دو طرح کے دور میں علمی روایت سے خود کو جوڑے رکھا۔ ۔یہاں پر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ان ادوار میں ان کی فکری نہج کیا رہی۔ ۔دنیا میں اسلام کےمتعلق سوالات کا جو محاذ کھولا گیا۔۔۔! کیا ہمارے زرخیز اذھان ان کا تسلی بخش جواب دینے میں کامیاب رہے تو اس کا جواب یقینًا اثبات میں ہے کہ انھوں نے تین علمی اصولوں (قرآن،سنت، اجتہاد) کے ذریعے ان مسائل کا درک بہم پنچائے۔۔ ملحدین آج ذات باری تعالی کے متعلق جو سوال اٹھاتے ہیں کیا یہ آج ہی کے سوال ہیں؟۔۔ دین اور دنیا کی تفریق کا جو فلسفہ گھڑا گیا ہے کیا یہ آج کی پیداوار ہے؟ کیا اسلام کی اساسیات پر جو رکیک حملے ہورہے ہیں کیا آج ہی سے متعقلہ ہیں یا اس کے ڈانڈے ماضی سے جاملتے ہیں۔۔ اس کا جواب ہر ذی شعور انسان کو معلوم ہے کہ اسلام کے لئے یہ کوئی پہلی اور نئی آزمائش نہیں ہے یہ ماضی میں سر اٹھاتے رہے اور ان کے مقدر میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ اور لکھا ہی نہیں گیا ہے۔۔ یہ میرا دعوی نہیں اللہ کی سنت رہی ہے۔۔ اور قرآن ببانگ دہل اللہ کا یہ دستور بیان فرما رہے ہیں کہ “ولن تجدا لسنت اللہ تبدیلا”
تحریک اسلامی سے جڑے کچھ حضرات علمی وفکری آبیاری کے نام پہ ہر کسی سے خوشہ چینی کرنے کو جس طرح روا رکھے ہوئے ہیں۔۔ ان کے رویوں کو دیکھ کر ایک سوال میرے ذھن میں اٹھ رہاہے کہ کیا عالمی اسلامی تحریکوں کے استاد اور فکری رہنما کہلانے والے سید ابوالاعلی مودودی رح اور اس کے رفقاء تحریک اسلامی کی فکری تربیت کے معاملے میں کیا ایسے خلا چھوڑ گئے ہیں کہ جسے پُر کرنے کے واسطے آج ہمیں ریشم میں ٹاٹ کے پیوند لگانے کی ضرورت پڑرہی ہے۔۔
کیا اتنی بڑی علمی تحریک اور زرخیز لٹریچر رکھنے والی تحریک کے حاملین کا علمی معیار اس قدر نیچے آیا ہے کہ ان کو اب ایسے لوگوں کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے جن کا یہ ازلی وطیرہ رہاہے کہ “چلوتم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی”
کیا اسلامی تحریک کے حاملین فکری طور پر اس قدر یتیم ہوگئے ہیں کہ وہ اپنی فکری غذا کے لئے ان کا سہارا لیں جن کی پوری فکری عمارت ٹیڑھی ہو۔۔
ان سب کے باوجود سب سے پریشان کن سوال کیا تحریک اسلامی والوں کو اسلام پر منڈلاتے فکری خطرات کا ادراک بھی ہے یا نہیں؟ کیا ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس وقت دین کے کس طرح نئے ایڈیشن لائے جارہے ہیں؟
کیا ہم ان لوگوں پہچان رہے ہیں۔۔۔ جن لوگوں کی پہچان مغرب سے حذر کرکے اسلام کا محاسبہ رہ گئی ہو۔۔ مغرب جو بھی مارکیٹ میں پھینک دے اس پر ان کی رال ٹپکتی ہو۔۔۔ جہاد کا وہ ایڈیشن جس کو مغرب ڈالروں کی بارش کرکے بھی قابل قبول نہ بنا سکا ہو مگر تجدد کے نام پہ یہ سارے مسموم اثرات مسلمانوں کے اذھان پہ انڈیلا جارہاہو۔۔۔ روایتی اسلام کا ڈاروا دے کر اسلام کی اساسیات کو روندا جارہاہو۔۔ ایک ایسی نسل سامنے لائی جارہی ہو جو ہر بات پہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر حملہ کرتی ہو۔۔۔ خود کو قرآنسٹ باور کروا کے مسلمانوں کو فکری انتشار کا شکار کیا جا رہا ہو۔۔ ان تمام کاوشوں کو عام کرنے کےلئے میڈیا کا دروازہ جن کےلئے وا کیا گیا ہو۔۔ ان کا لیٹریچرعام کیا جارہاہو۔۔۔ کیا وہ تحریک اسلامی کے ممد ومعاون ثابت ہونگے۔۔۔ فکر کر نادان۔۔۔۔ تیری بربادیوں کے لئے جال بُنا گیا ہے
صاحب تفہیم القرآن نے اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی ہے اس کےلئے اسلام ایک عشق تھا سو اس نے اپنے عشق سےایسی وفاداری نبھائی ہے کہ اس کا عشق اس کے لٹریچر میں سر چڑھ کر بول رہاہے۔۔ اس نے تحریک اسلامی میں کوئی بھی فکری خلا نہیں چھوڑا ہے اس نے اسلام کے معاملے پر کسی سے کوئی مفاہمت نہیں برتی ہے اس نے چھانٹ چھانٹ کر ان تمام طبقات کا پول کھول دیا ہے جو مسلمانوں پہ مختلف فکری یلغار کئے ہوئے تھے۔۔۔ بس مطالعہ شرط ہے۔۔جو مطالعہ نہیں کرتے وہ پھر اس طرح تحریک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
نائن الیون کے بعد اسلام پر جتنے بھی آزمائشیں آئی ہیں۔۔۔ احباب یقین جانئے ہمارا یہ دور ان سب سے کڑا دور ہے کیونکہ اب فکری یلغار کےلئے خود مسلمان ہی کرائے کا سپاہی بنے بیٹھے ہیں۔
اس کا توڑ کیا ہے؟ اسلامی تحریکات کیا ایسا کوئی لائحہ عمل تیار کرچکی ہیں جس سے امت مسلمہ کو اس باد سموم سے محفوظ ومامون کیا جاسکے؟ امت مسلمہ کے زرخیز اذھان کو اس باد صرصر کے اثرات سے بچایا جا سکے۔۔؟ معذرت کے ساتھ میرے علم میں ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔۔۔ یاد رکھیں اس طرح کی کاوش تحریک اسلامی پر قرض ہے۔۔ خدارا اس قرض کو چکانے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کیجئے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: