میچ ابھی ختم نہیں ہوا —- نوید تاج غوری

0

نقطے


کیا پانامہ سکینڈل کیس کا فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ ہے؟ آیئے جائزہ لیتے ہیں۔

پانامہ سکینڈل کیس میں دو بنیادی باتیں ہیں۔

ایک تو یہ کہ پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد جو طوفان دنیا میں اٹھا اس کو پاکستان میں زندہ اور قائم رکھنے کا سہرا بہرحال عمران خان کے سر جاتا ہے۔ حسین نواز اور مریم کی آفشور کمپنیوں سمیت بیرون ملک جائدادیں نوازشریف اور ان کے خاندان کی ملکیت ہیں، اس بات کو انہوں نے بالآخر تسلیم بھی کیا۔ معاملہ صرف یہ تھا کہ پیسے ملک سے باہر کیسے گئے؟ قانونی یا غیر قانونی طریقہ؟ مزید برآں پیسے آئے کہاں سے؟ دوسرا یہ کہ کیس سے پہلے دوران بہت سے واضح جھوٹ عدالت اور اسمبلی میں بولے گئے۔ بہت سی اگر مگر، چونکہ چناچہ ہوتی رہی، قطری، پتھری سب طریقے آزمائے گئے لیکن گلو خلاصی نہ ہوئی۔ فلاں کو بیچ کر فلاں، اس نئے فلاں کو قرضے پر رکھ کر ڈھمکاں، اس ڈھمکاں کو گفٹ کیا دختر کو، دختر نے مادر کو، مادر نے پدر کو، پدرنے پسر کو جیسی گھمن گھیریاں ڈالی گئیں۔ بڑے بڑے ماہرین کی خدمات کے باوجود شریف فیملی سادہ اکاوؑنٹنگ میں سارے کیش فلو کو نہیں ثابت کر سکی۔ اس کے ساتھ ماضی کا اسحاق ڈار کا منی لانڈرنگ کا بیان، دوسرے سکینڈلز کو بھی ساتھ رکھیں تو صاف ثابت ہے کرپشن ہوئی، منی لانڈرنگ ہوئی، آفشور کمپنیاں بنیں، بے نامی جائدادیں خریدی گئیں، الیکشن گوشواروں سے چھپائی گئیں، ٹیکس بچایا گیا وغیرہ وغیرہ۔ اس میں نہ کوئی دو رائے ہے نہ کنفیوژن۔ اور اس حقیقت سے ن لیگ اور ان کے حامی بھی واقف ہیں۔

اب دیکھتے ہیں ‘فی الحال’ فیصلہ کیا آیا ہے؟

کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں سے جسٹس اعجاز افضل ، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن نے وزیراعظم کے خاندان کی لندن میں جائیداد، دبئی میں گلف سٹیل مل اور سعودی عرب اور قطر بھیجے گئے سرمائے سے متعلق تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ جسٹس آصف سعید اور جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم میاں نواز شریف اور اُن کے بچوں کی طرف سے اس ضمن میں پیش گئے ثبوت اور بیانات کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان دو ججوں کے اختلافی نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے قوم سے خطاب اور قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر میں قوم سے جھوٹ بولا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ اسی اختلافی نوٹ میں الیکشن کمیشن کو وزیر اعظم کو فوری طور پر نااہل قرار دے کر ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت کو ڈی نوٹیفائی کرنے کو کہا گیا ہے۔

جیسا کہ پہلے توقع تھی کہ نواز شریف کی ڈائریکٹ وزیراعظم ہاوس بدری نہ ہو سکے گی، بلکہ کمیشن وغیرہ بنانے کا اعلان کیا جائے گا۔ بہرحال پانامہ فیصلے کو کسی فٹبال میچ کی طرح محض 2-3 کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ پانامہ کیس کا جو فیصلہ آیا ہے داراصل مکمل فیصلہ نہیں ہے، بلکہ اس فیصلے نے اس کیس کو اگلے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم دو ماہ میں اپنا کام مکمل کرے گی اور اس عرصے میں ہر دو ہفتوں کے بعد پیش رفت سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔ عدالت نے وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو حکم دیا ہے کہ وہ اس تحقیقاتی عمل کا حصہ بنیں اور جب ضرورت پڑے تو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ ٹیم اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی جس کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس اس رپورٹ کی روشنی میں الگ بینچ تشکیل دیں گے جو وزیر اعظم کے خلاف شواہد ہونے کی صورت میں ان کی نااہلی کے معاملے کا بھی جائزہ لے سکے گا۔

اب بتائیں کہ کیا یہ نون لیگ کی فتح ہے یا عمران خان اینڈ کمپنی کی؟ سارا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو فیصلے کے ملکی سیاست، تاریخ اور معشت پر گہرے اثرات ہونگے دوسرے اس کے عالمی اور بین الاقوامی تناظر میں دوررس نتائج مرت ہونگے۔ لہذا بہت سے لوگ جو جسٹس آصف سعید اور جسٹس گلزار کی طرز پر فوری ہاں اور ناں کا فیصلہ چاہتے تھے ہو سکتا ہے ان کو وقتی مایوسی ہوئی ہو۔ شاید کچھ لوگ مزید انتظار کو بھی پسند نہ کریں یا جے آئی ٹی کی نشکیل اور اس کے با اختیار ہونے پر سوال اٹھائیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے کمیشنز اور مشرکہ تحقیقتی رپورٹس پر عملدرآمد کی صورتحال بھی اچھی نہیں۔ لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ محض کرمنل یا فائنانشل کیس نہیں۔ اس کا سب سے اہم زاویہ سیاسی ہے۔ بہت ممکن تھا کہ براہ راست فیصلے سے فیصلہ کرنے والوں کی تحقیقی صلاحیت یا میکانزم پر سوال اٹھتا، یا نواز شریف کو سیاسی شہید بننے کا موقع ملتا۔ اخلاقیات کی اگر رمق بھی حکمران جماعت میں ہو تو نواز شریف اور اسحاق ڈار اور کسی بھی عہدے پر فائز ملزمان کو استعفی دے کر ٹیم کے سامنے پیش ہونا چاہیئے، جس کی سردست ان سے توقع نہیں۔ نون لیگ والوں کا صرف نواز شریف کو وقتی طور پر ایک ووٹ سے نا اہل نا قرار پانے پر نام نہاد جشن یا فتح کا اعلان سیاسی شعبدہ بازی کے سوا کچھ بھی نہیں، جس کی ان سے توقع بھی تھی۔ شاید دوسری صورت میں کچھ اور ردعمل بھی پلان ہوتا۔ سو سپریم کورٹ پر جو طنز کے تیر چلائے جا رہے ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے بجا نہیں۔ آئینی اور قانونی معاملات بہت سی پیچیدگیاں رکھتے ہیں۔ جس کا فائدہ کسی بھی فریق کو مل سکتا ہے۔

بہرحال، فی الحال عمران خان کو مبارک بھی ہو، پہلی اننگز میں وہ برتری لے چکے۔ اب دیکھتے ہیں دوسری اننگز میں پانامہ ٹیسٹ کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ آخری بال تک پورے میچ کا نقشہ پلٹ سکتا ہے۔

سب دوستوں اور دشمنوں کو مبارک ہو، میچ ابھی ختم نہیں ہوا

About Author

"کچھ ہڈ بیتی، کچھ جگ بیتی، تحریریں مگرلاؤڈ تھنکنگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی کی فسوں کاری میں غم روزگاراورغم جاناں کے بیچ، بس نمک کی کان میں نمک ہونے سے بچتا ہوں۔ "

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: