صدیوں یاد رکھا جانے والا فیصلہ —— محمود فیاض

0

صدیوں یاد رکھا جانے والا فیصلہ کہہ کر ججز نےعوام کی توقعات کو چوتھے آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ الحمد للہ آج دو بجے وہ خیریت سے واپس پاک دھرتی پر لینڈ کر گئیں اور ابھی تک آنے والی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان کی اطلاعات بھی نہیں ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر صرف حیرت ہوئی کہ اس “متوازن” اور “ہومیوپیتھک” فیصلے کو دو ماہ تک محفوظ کرنے کی سمجھ نہیں آرہی۔ یہ تو ایسا فیصلہ تھا جو ایک دو پیشی کے بعد بھی سنا دیا جاتا تو فریقین اگلے مرحلے کو بڑھ جاتے۔ مگر ظاہر ہے میرے ملک کی عدلیہ قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں طاق ہے اور انصاف کے لیے جتنا زیادہ احتیاط برتی جائے، جس قدر وقت بھی لیا جائے وہ کم ہوتا ہے۔
میری بدگمانی شروع دن سے میرے کان میں “انصاف میں تاخیر، بے انصافی” جیسی احمقانہ باتیں ڈالتی رہتی ہے۔ جب ایک بینچ نے عدالتی وقت کے کتنے ہفتے سماعت کرنے کے بعد جسٹس صاحب کے ریٹائر ہونے پر پورے بنچ کی تحلیل اور ساری سماعت کے بے فائدہ ہونے پر، مختلف ججز کے وقتاً فوقتاً چھٹی، بیماری، اور دیگر کاموں میں مصروف ہونے پر، اور پھر دو ماہ تک ایک ایسے فیصلے کو (جو میرۓ خیال میں جلد از جلد سنانا چاہیے تھے) دو ماہ کے لیے حنوط کرنے کے بعد بغیر کسی معقول وجہ کے اظہار کے، سنایا گیا۔ اب ظاہر ہے ایسے میں بدگمانی کو باتیں کرنے کا موقع تو ملنا تھا۔ مگر میں پر امید ہوں کہ میرے ملک کی عدلیہ صرف اور صرف قانون و انصاف کے تقاضے ہی مدنظر نہیں رکھ رہی بلکہ ملکی سلامتی، جمہوریت کے تسلسل اور ملک میں جاری ردالفساد جیسے آپریشنز کے وقت کو بھی سامنے رکھتے ہوئے ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہی ہے۔ میرے اس جملے کو طنزیہ سمجھنے والوں کو منفی خیالات سے چھٹکارے والی دوائیاں لے لینی چاہیں۔
ہمارے ایک دوست تھے جو والی بال کھیلنے کے بہت شوقین تھے۔ انکا ایک انداز بہت مشہور تھا۔ وہ ہر پوائینٹ کے شروع میں ہونے والی پہلی ہٹ، جس کو “سروس ” کہتے ہیں، وہ کرواتے تھے، او رخود ہی ایکسیلنٹ سروس” کا نعرہ لگاتے تھے۔ اب جج صاحبان نے بھی اگر اپنی “سروس” کو ایکسیلنٹ قرار دیدیا ہے تو ظاہر ہے ٹیکنیکل معاملات وہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اور میرے بہت سے قانون والے دوست بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ واقعی بہت شاندار ہے کہ اس میں انصاف بہت صفائی سے کیا گیا ہے اور سانپ کو گھیرنے کے ساتھ ساتھ ، لاٹھی کو بھی بچا لیا گیا ہے۔ اب میں نے مارنا کیوں نہیں لکھا، آپ بہتر سمجھتے ہیں، اور قانون دان بھی بتا رہے ہیں کہ کورٹ کو سانپ مارنے کا اختیار نہیں تھا
خیر جناب، وہ فیصلہ آ چکا جس پر عوام کو بہت سی امیدیں تھیں اور بظاہر یہ ایک فیصلہ ہے جس پر سب فریق اپنے اپنے آنسوؤں کو خوشی کے قرار دیکر اپنی آہیں چھپا سکتے ہیں۔ عوام بھی۔
مجھے نہ جانے کیوں وہ گھسا پٹا لطیفہ یاد آ رہا ہے، جس میں ایک شخص کسی روتے بچے کو سو روپے دیکر مٹھائی کی دکان پر بھیجتا ہے، اور بچہ دس روپے کی مٹھائی لیکر خوش خوش باقی کے نوے روپے اس شخص کو دیتا ہے۔ جس پر کسی پوچھنے والے کو وہ شخص بتاتا ہے کہ آج بڑا اچھا دن ہے، بچہ خوش کہ اسکو مٹھائی مل گئی، حلوائی خوش کہ اسکی باسی مٹھائی بک گئی، اور میں خؤش کہ میری جعلی نوٹ چل گیا۔ کوئی قنوتی اگر اب یہ سوچنا شروع کردے کے جعلی نوٹ کسی کی جیب میں پہنچا اور بچہ باسی مٹھائی سے بیمار ہوا یا نہیں تو اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔
بظاہر یہ لگتا ہے کہ ججز نے اپنے بہترین دماغوں کو ایک بہترین فیصلے تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ حتی کہ دو ججز کو کیا کہنا چاہیے اور باقی تین کو کیا کہنا چاہیے یہ بھی (لگتا ہے) کہ باہمی مشاورت سے یا کم از کم باہمی استفہام (مشکل لفظ پر بحث کم ہوتی ہے) سے ہی ممکن ہو پایا۔ مجھے اپنے محلے کے اسکول یاد آگئے، جہاں والدین کے تحفوں پر یہ فیصلہ تو ہو چکا ہوتا ہے کہ فرسٹ اور سیکنڈ کس بچے کو آنا ہے، بس انکے پرچے چیک کرنے کا مرحلہ باقی رہ جاتا ہے۔ وہ بھی باہمی افہام و تفہیم سے طے کر لیا جاتا ہے۔ اس لیے اصلی فرسٹ آنے والے بچے کو بتایا جاتا ہے کہ “بیٹا! آپ بھی فرسٹ ہی ہو، بس دوسرا آدھے نمبر سے زیادہ فرسٹ ہو گیا ہے”۔
چلیے آئے فیصلے کے مضمرات بھی دیکھ لیں۔ اب ایک تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے گی جو ساٹھ دن میں تحقیقات کر کے سپریم کورٹ کو پیش کرے گی اور پھر قوم ایک اور تاریخی فیصلے کی حفاظت کی جانب جائے گی یا ایک اور انتخابات کے لیے وقت مناسب ہو جائے گا، یہ وقت بتا دے گا۔
ماضی کی ساری جے آئی ٹیز کی کارکردگی، یا انکے نتائج نے ہمارے ملک میں جے آئی ٹیز کو ہمسایہ ملک کی “محترمہ سنی لیون” سے زیادہ قابل عزت بنا دیا ہے۔ اس لیے میرے جیسے سادہ دل تو اس کے نام سے ہی بدک رہے ہیں، جبکہ میں نے کئی خوش گمان صحافیوں کو تفصیل سے بتاتے سنا ہے کہ یہ جے آئی ٹی کافی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں دنوں کی قید ہے، دائرہ کار طے ہے، اور سوالات بھی کم و بیش وہی ہیں جن کے جواب دینے کا سوچ کر میاں فیملی کو سری پائے بدمزہ لگنے لگتے ہیں۔
اللہ کرے، میری امیدیں مجھے ان خوش گمان صحافیوں کی طرف کھینچتی ہیں اور اپنے ملک میں ایک رائی کی بہتری کی خاطر میں اپنی تمام تر بدگمانی کو جون کی دوپہر میں موٹر سائیکل پر بٹھا سکتا ہوں۔ مگر ابھی ظفر ہلالی صاحب چیخ چیخ کر کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ایک ایسی ٹیم جس میں ایک بندہ جو اسٹیٹ بنک سے ہوگا، وہ بھی وزیر اعظم کے دست راست کے طور پر مشہور ہے، دوسرا نیب سے ہوگا، جس کی کارکردگی صفر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، سوائے ایم آئی کے باقی سب کسی نہ کسی طرح سے وزیر اعظم سے متعلق یا زیر نگین ہیں۔ تو ایسے میں کیا عدالت وزیر اعظم سے یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ ہم نہیں کہتے کہ آپ نااہل ہو چکے، ہم نہیں کہتے کہ آپ گلٹی ہیں، مگر کیا جب تک یہ جے آئی ٹی کام پورا نہیں کر لیتی ، آپ اسٹیپ ڈاؤن کر جائیں اور اپنے بھائی یا بیٹی ہی کو اپنی جگہ وزیر اعظم مقرر کر دیں۔
اور کچھ داد دیں نہ دیں، سپریم کورٹ نے وزیر اعظم پر، ہمارے ملک کے تمام اداروں پر، اور ان میں “میرٹ پر” موجود تمار افراد پر جس اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے اسکی داد نہ دینا زیادتی ہوگی، جس پر سوموٹو لینا بنتا ہے۔ عظمیٰ صاحبہ کے خیال میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ وزیراعظم کے ادارے پر قابض شخص، جس کے خاندان کا ہر فرد ایک ایک ملکی ادارے میں براجمان ہے، جو خود پانچ پانچ وزارتیں سنبھال کر بیٹھا ہے، اور جس نے تیس سال کی حکمرانی میں ہر ادارے میں اپنے بندے جوانی سے بڑھاپے تک پہنچا دیے ہیں، وہ ان ساٹھ دنوں میں تحقیقات پر نہ صرف اثرا انداز نہیں ہوگا، بلکہ حتی المقدور پورا تعاون کرے گا۔ جی وہی شخص جس کے ایما پر اسکے آدمی ماضی میں اسی سپریم کورٹ پر حملہ کر چکے ہیں۔
خوش گمانی ایک اور خواب بھی دکھا رہی ہے کہ شائد سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو ایک باعزت راستہ دینا چاہا ہو۔ کہ دیکھیں ہم آپ کو نااہل نہیں کر رہے، مگر تین دو کا اشارہ سمجھیں اور ان دو ماہ کو مہلت۔ اپنے کام جلد از جلد سمیٹیں اور ایک باعزت رخصتی کا مہورت چن لیں۔ ہو سکتا ہے وزیراعظم سپریم کورٹ کا یہ اشارہ سمجھ جائیں۔ مگر بسیار خوروں کو راقم التحریر نے بہت کم ہی باعزت راستے چنتے دیکھا ہے۔
خیر جہاں ایک سال گذر گیا، ساٹھ دن بھی گذر جائیں گے۔ پاکستان کی عوام انصاف کا بول بالا ہوتے دیکھیں گے، یا انصاف کا وہی ڈرامہ انکے نصیب میں ہوگا جو انار کلی سے ایان علی تک رچایا جاتا رہا، کہ جس میں ظل سبحانی کا انصاف بھی قائم رہتا ہے اور زندہ دیوار میں چنوائی جانے والی انار کلی کو راتوں رات دبئی والی فلائیٹ پر بٹھا دیا جاتا ہے۔

اگلی قسط ساٹھ دن بعد۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: