پانامہ فیصلہ: پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔ ثمینہ رشید

0
پاناما کا فیصلہ آگیا 
فیصلہ نہ میاں صاحب کے خلاف ہے نہ ان کے حق میں
فیصلہ عمران خان کے حق میں ہے نہ مخالفت میں 
اور فیصلہ شاہد ہے کہ پاکستان کانظامِ انصاف کیسا ہے ۔
اور یہ فیصلہ شاہد ہے کہ کبھی کبھی انصاف کو اتنی تہوں میں چھپا دیا جاتا ہے کہ اس کو تلاش کرتے کرتے نا انصافی جیت جاتی ہے۔
 
اب اس فیصلے کے اخلاقی پہلو دیکھئے 
کسی ایک جج نے بھی نواز شریف کو نہ معصوم تصور کیا نہ مظلوم 
تین نے کہا تحقیقات کروائیں
دو نے وزیرِاعظم کو نا اہل قرار دینے کی سفارش کی
 
پھر بھی وفادار وزراء فرماتے ہیں کہ
نواز شریف صادق بھی ہیں اور امین بھی 
 
اب تحریکِ انصاف والوں کے پوائنٹ آف ویو سے جائزہ لیں تو اُن کا موقف درست تسلیم کیا گیا ہے یعنی نواز شریف کو کلئیر نہیں کیا ۔ لیکن کیونکہ سپریم کورٹ تحقیقاتی یا تفتیشی ادارہ نہیں اور نہ ہی ٹرائل کورٹ کی اس لئے ایک جے آئ ٹی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو ساٹھ دن میں تحقیقات کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔
 
یعنی کہ شارٹ ٹرم میں حکومت کو اگر لگتا ہے کہ وہ بچ گئے ہیں تو یہ اگر دستاویزات درست ثابت نہیں ہوئیں تو لانگ ٹرم میں اس کا نواز شریف  کی حکومت کو یقیناً نقصان ہوسکتا ہے۔ جس کا فیصلا اگر ان کے حق میں نہ ہوا تو اگلے الیکشن کے نتائج پہ اثر انداز ضرور ہونگے۔ 
 
کیونکہ سپریم کورٹ براہ راست جے آئ ٹی کو سپر وائز کرے گی اور اس پورے عمل کی رپورٹ بھی سپریم کورٹ کو ہی پیش کی جائے گی۔ تو اس صورت میں حکومت کو اپنے سر پہ تلوار لٹکتی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔
 
باوجود اس حقیقت کہ، کہ قانون کی شق 184  کے تحت عدالت کے اختیارات  کافی محدود تھے سپریم کورٹ نے بہت تدبر سے کام لیا اور معاملے کو بہتر طریقے سے سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ اور ایک غیر معمولی فیصلہ دیا ہے۔ 
 
یاد رہے کہ یہ ایف آئ اے کی تحقیقات نہیں ہونگی بلکہ ملک کی سب سے بڑی ایجنسیوں کی تحقیقات ہونگی۔ اور اس کا فیصلہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
 
اس صورت میں جب دو ججز پہلے ہی نا اہلی کے حق میں ہیں۔ اور تین ججز نے بھی وزیرِ اعظم  کو معصوم تسلیم کرنے کے بجائے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکومت کے وزراء کا اتنا خوشیاں منانے کی منطقی طور پہ کوئ دلیل نہیں ۔
 
اب جب کہ عدالت نے شریف فیملی کے دستاویزات کو قبول نہیں کیا اور اس کی تحقیقتات کا حکم دیا ہے۔ تو بازی کسی بھی موڑ پر اور کہیں بھی پلٹ سکتی ہے۔  
 
یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی آئ سی یو کے مریض کے لئے کہا جائے کہ مریض کے لئے اگلے اڑتالیس گھنٹے اہم ہیں اور مریض کے رفقاء اس بات پہ خوشی منانا شروع کردیں کہ ابھی اڑتالیس گھنٹے ہمارے ہاتھ میں ہیں۔
 
مسلم لیگ کے وزرا کو پاناما کہ ہنگامے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ بلکہ اس پورے مرحلے کو پاناما کی دوسری قسط کا آغاز سمجھنا چاہئے۔
 
کیونکہ یہ صرف ٹیزر ہے 
پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔
 
 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: