فیصلے کی گھڑی آن پہنچی۔

0

پانامہ پیپرز کیس کا ہنگامہ خیز کیس آج اختتام پزیر ہوگا۔ تقریبا تین ماہ تک فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد آج دوپہر دو بجے فیصلہ سنایا جا رہا ہے کہ نواز شریف وزارت عظمی پر فائز رہنے کے اہل رہیں گے یا نہیں؟

یہ فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی بنچ آج سنائے گا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز اکحسن پر مشتمل بنچ نے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کی اور امسال 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
پچھلے سال مارچ کے اواخر میں
پانامہ رپورٹ منظر عام پر آتے ہی دنیا بھر کے ساتھ پاکستانی سیاست میں بھی بھونچال آگیا تھا۔ کیونکہ ان پیپیرز لیکس میں تقریبا دو سو پاکستانی سیاستدانوں، تاجروں اور دیگر افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر شائع کئے جانے والے ڈیٹا میں تین پاکستانی آف شور کمپنیاں اور 150 سے زائد پاکستانیوں کے نام مع پتے کے شامل ہیں۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بچوں کے نام سامنے آنے پر حزب اختلاف اور حکومت کے مابین کشیدہ تعلقات نے ایک نیا موڑ لیا اور اس وقت سے یہی معاملہ پاکستانی سیاست میں مسلسل کشمکش کا نیا عنوان ثابت ہوا۔ حزب اختلاف نے اس امر پر وزیر اعظم میاں نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا لیکن وزیر اعظم نے استعفی کا مطالبہ رد کرتے ہوئےشفاف تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بنانے کا عندیہ ظاہر کیا۔
حکومت اور حزب اختلاف کے مابین عدالتہ کمیشن کی تشکیل اور ضوابط طے کرنے کے ضمن میں طویل ملاقاتیں رہیں تاہم کوئی متفقہ حل سامنے نہ آسکا۔
اس معاملے پر حزب اختلاف کی دوسری اہم جماعت تحریک انصاف نے سڑکوں پر آنے، دھرنا دینے اور دو نومبر کواسلام آباد کو بند کرنے کی کال دی جس پر پکڑ دھکڑ اور پر تشدد جھڑپ کے متعدد واقعات سامنے آنے پر یکم نومبر 2016 کو سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔جبکہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے عدالتی کمیشن تشکیل دیئے جانے کے اقدام سے معذرت کر لی تھی۔

پانامہ پیپرز لیکس کے منظر عام آنے کے بعد سے اپریل اور نومبر تک کا یہ دور سیاسی منظر نامہ کو مسلسل مرتعش کئے رکھے ہوئے تھا۔ حکومت پر کرپشن کے الزامات اس سے قبل بھی لگتے رہے تھے لیکن یوں باقاعدہ وزیر اعظم کے بچوں کے نام شامل ہونے پر حزب اختلاف نے اسے لے کر وزیر اعظم میاں نواز شریف پر کرپشن کے الزامات اور ان کی اہلیت کے خلاف اپریل سے لے کر نومبر تک کے دورانیہ میں مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ تاوقتیکہ سپریم کورٹ نے عدالتی کمیشن تشکیل دیئے جانے کا اعلان نہ کر دیا۔
اکتوبر 2016 میں تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان ، امیرجماعت اسلامی سراج الحق، شیخ رشید، ایڈوکیٹ طارق امداد اور بیرسٹر ظفراللہ کی آئینی درخواستیں سماعت کے لئے منظور کی گئی تھیں۔

20 اکتوبر کوسپریم کورٹ نے پانامہ لیکس سے متعلق درخواستوں پر نواز شریف، مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز، اسحاق ڈار، کیپٹن صفدر اور سرکاری اداروں کو نوٹسز جاری کئے گئے اورتحریری جواب طلب کیا گیا۔ بعد ازاں 28 اکتوبر2016 کو سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پانامہ لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لئے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ۔ کیس کی باقاعدہ سماعت کا آغاز یکم نومبر 2016 کو ہوا۔ 126 دنوں کے دورانیہ میں کل چھیبیس سماعتیں مکمل ہوئیں ۔جن میں تحریک انصاف کی جانب سے نعیم بخاری، توفیق آصف، طارق ایڈوکیٹ جبکہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، شاہد حامد اور مخدوم علی خان نے دلائل دیئے ۔

کیس کی سماعت کا دورانیہ تین ادوار پر مشتمل کہا جا سکتا ہے یعنی پہلا دور یکم نومبر سے نو دسمبر2016 تک اور دوسرا دور چار جنوری سے یکم فروری 2017تک جبکہ تیسرا دور پندرہ فروری سےتئیس فروری 2017 تکقرار دیا جا سکتا ہے۔126 د ن تک جاری سماعتوں کے دوران پندرہ شہادتیں موصول ہوئیں۔

آخری روز 23 فروری 2017 کو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فیصلہ پر مزید غور و خوض کے لئے فیصلہ محفوظ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق تفصیلی نوعیت کا سنایا جائے گا اور ایسا ہوگا کہ لوگ بیس سال بعد بھی کہیں گے کہ فیصلہ قانون کے مطابق تھا۔

آج ان تمام قیاس آرائیوں، خدشات اور توقعات کے خاتمے کا دن ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے یا نا اہل قرار دیئے جائیں گے یا یہ کہ تحقیقات کے لئے مزید وقت لے لیا جائے گا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ پانامہ پیپرز لیکس کیس ملکی تاریخ کا ایک اہم کیس ہے اور آج کا فیصلہ بھی ایک اہم ترین فیصلہ ہوگا جو آیندہ کی سیاست کا نیا رخ متعین کردے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: