انسانی اختیار کی حدود اور سزا و جزا کی حقیقت: مجاہد خٹک

0

جبر و قدر کا مسئلہ دور قدیم سے موضوع بحث چلا آ رہا ہے۔ ماضی میں اس مسئلے کی مابعدالطبیعاتی جہت سب سے اہم تھی۔ مقدس کتب، فلسفہ اور دیگر علوم کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی تھی کہ کائناتی سکیم میں انسان کے اختیار کی حدود کیا ہیں۔ ہمارے سامنے ہر لمحہ بے شمار امکانات موجود ہوتے ہیں جن میں سے ایک کو ہم چن سکتے ہیں۔ ہم کتاب پڑھنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، نیند کو ترجیح دے سکتے ہیں، جرم کی طرف جا سکتے ہیں یا پھر ہم سے نیکی کا ظہور ممکن ہے۔ یہ امکانات ہر لمحہ اپنی بانہیں پھیلائے ہماری نظر کرم کے منتظر ہوتے ہیں۔ جب ہم کسی ایک کو منتخب کرتے ہیں تو وہ حقیقی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے جبکہ باقی تمام امکانات فنا ہو جاتے ہیں۔

اس مقدمے سے چند سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر خدا سب کچھ جانتا ہے تو پھر اسے یہ بھی علم ہے کہ اگلے لمحے سے لے کر اپنی آخری سانس تک ایک فرد نے کونسے امکانات کو منتخب کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں انسان کا مستقبل متعین ہو جاتا ہے اور مختلف امکانات کے درمیان چناؤ کا اختیار فقط ایک التباس بن کر رہ جاتا ہے۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہو گا کہ اگر ہمارے پاس اختیار ہی موجود نہیں تو پھر جزا و سزا کی کیا اہمیت ہے۔

یہ تو اس مسئلے کی ایک مابعد الطبیعاتی جہت تھی جس پر صدیوں بحث ہوتی رہی۔ دور جدید میں جنم لینے والے مختلف علوم اس موضوع کو آسمان سے اتار کر زمین پر لے آئے ہیں۔ نفسیات، عمرانیات، حیاتیات اور دیگر بہت سے علوم نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ہمارے اختیار کی حدود اس سے بہت کم ہیں جتنا کہ عموماً سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا ہر انتخاب بہت سے ایسے عوامل کا مرہون منت ہوتا ہے جو انسان کے بس سے باہر ہیں۔ ہماری ذات کا وہ حصہ جو مختلف متبادلات میں سے کسی ایک کا انتخاب کررہا ہوتا ہے، اس کی باگیں بیشمار ایسی خفیہ قوتوں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں جو خاموشی سے ہمیں ایک خاص انتخاب کی جانب لے جاتی ہیں۔ ہمارا یہ احساس کہ ہم کوئی فیصلہ، عمل یا سوچ خالصتاٗ اپنے اختیار کے تحت کر رہے ہیں ایک عظیم مغالطے کے سوا کچھ نہیں۔

کروڑوں سال سے بنتی بگڑتی جبلتیں، آباؤ اجداد سے منتقل ہونے والے عظیم تجربات، جینز کی ساخت، دماغ میں موجود مختلف کیمیائی مادوں کی کمی بیشی، گھریلو یا سماجی ماحول اور نہ جانے کتنے پیچیدہ معاملات ہماری ہر سوچ ، فیصلے اور عمل کے وجود پذیر ہونے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ہماری ذات کا وہ حصہ جسے ہم خالص اختیاری کہہ سکتے ہیں، اس کی حدود بہت تنگ ہوتی ہیں اور یہ حدود بھی ہر لحظہ بڑھتی اور کم ہوتی رہتی ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسا کوئی پیمانہ موجود نہیں جس کی بدولت ہم اس اختیار کو ماپ سکیں۔ علم کا بنیادی مقصد بھی یہی ہونا چاہئے کہ وہ انسانی اختیار میں اضافہ کرے۔ اسی بنیاد پر ایک عامی کے مقابلے میں ایک عالم پر زیادہ ذمہ داری ڈالی جاتی ہے۔ اسی طرح تجربات بھی ہمارے اختیار کی حدود وسیع کرتے ہیں۔ ایک بچے کی نسبت ایک پختہ کار انسان سے زیادہ توقع کی جاتی ہے کیونکہ زندگی میں ہونے والے تجربات کی بدولت اس کے پاس اختیار کی دولت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

انسان کے بے اختیار ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مسلمان کے گھر پیدا ہونے والے تقریباً تمام ہی لوگ ساری زندگی مسلمان رہتے ہیں۔ عیسائی گھرانے میں جنم لینے والا عیسائی اور ہندوؤں کے ہاں پیدا ہونے والا فرد ہمیشہ ہندو ہی رہے گا۔ حتی کہ ایک شیعہ، سنی، بریلوی ، دیوبندی وغیرہ بھی اپنے فرقے کو کم ہی چھوڑتے ہیں۔ مذہب تبدیل کرنے کے واقعات انتہائی کم ہیں اور ان کی حیثیت مستثنیات کی ہے۔

انسانی اختیار کے محدود ہونے کا یہ مقدمہ تسلیم کیا جائے تو اس سے چند انتہائی اہم نتائج نکلتے ہیں جن کے بارے میں عموماً زیادہ غور نہیں کیا جاتا۔ آئیے انہیں سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں۔

اگر انسان کا اختیار محدود ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جسقدر اختیار ہے اسی کے مطابق جزا و سزا کا تعین کیا جائے۔ اگر ایک شخص نے قتل کیا ہے تو اس فعل کے سرزد ہونے میں اس کا اپنا اختیار کسقدر تھا، یہ معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ اسی کے مطابق سزا دی جائے۔ چونکہ انسان کے پاس ایسا کوئی پیمانہ موجود نہیں جو اس اختیار کا احاطہ کرسکے، اس لئے ہمارے پاس حقیقی انصاف کا کوئی نظام موجود نہیں۔ جسے ہم عدالتی نظام کہتے ہیں اس کا مقصد صرف ان لوگوں کو سزا دینا ہے جو انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور معاشرے کے نظم و ضبط کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک بہت ہی سطحی انداز میں قانون یہ کوشش ضرورکرتا ہے کہ جب سزا دینے کا موقع آئے تو کچھ ظاہری شواہد کو مدنظر رکھ کر مجرم کی سزا میں کمی بیشی کر دے۔ مگر پھر بھی وہ مجرم کے حقیقی اختیار کی بحث سے لاتعلق رہتا ہے کیونکہ اس کے پاس ایسا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے جو اسے درست طریقے سے ماپ سکے۔ حقیقی سزا وجزا صرف آخرت میں ہی ممکن ہے کیونکہ انسان کو تخلیق کرنے والی ہستی ہی ہمارے اختیار کے تمام پہلوؤں سے آگا ہ ہے۔ یہ ہر مذہب کا بنیادی مقدمہ ہے جس سے اس کے ماننے والوں کی اخلاقی شخصیت نمو پاتی ہے۔

اس مقدمے کا ایک اور نتیجہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اگر انسانی اختیار کو ماپنے کا کوئی پیمانہ ہمارے پاس موجود نہیں تو پھر ہمارے پاس کسی سے نفرت کرنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔ اگر ہم ایک کافر کے بارے میں یہ جانتے ہی نہیں کہ اس کفر کے ارتکاب میں اس کے اختیار کا کتنا عمل دخل ہے تو پھر نہ ہی اسے کفر کی سزا دے سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ نفرت و حقارت کا رویہ رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مذہب میں انسانوں کے ساتھ محبت کا سبق دیا گیا ہے۔ یہ مذاہب کی تشریح کرنے والے افراد ہوتے ہیں جو اپنی افتاد طبع یا ذاتی مفادات کے تحت نفرت کی فضا قائم کرتے ہیں۔ اگر تمام ممالک اپنے شہریوں کو یہی نکتہ سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں تو دنیا میں پھیلے فساد کو محدود تر کیا جا سکتاہے۔

اگر انسانوں سے نفرت نہیں کی جا سکتی تو پھر فرد کو یہ اختیار تو بالکل بھی نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی کو قتل کر دے۔ ہمارے ہاں مذہب کے نام پر جتنے بھی قتل ہوتے ہیں ان کی وجہ فقط یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو ایک عصبیت بنا کر اپنی انا سے منسلک کر دیا ہے۔ توہین رسالت کے الزامات کے تحت جس وحشت ناک طریقے سے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے اور ان کی لاشوں کا مثلہ ہوتا ہے، اس کی وجہ بھی یہی ہے۔ کسی کو قتل کرنا صرف ریاست کا اختیار ہے اور وہ بھی اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی معاشرے کے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ عدل و انصاف کا سزا وجزا کے اس سلسلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہمیں اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی شخص نے تمام عمر برائیاں کیں لیکن ایک نیکی وجہ سے اس کی بخشش ہو گئی۔ اسی طرح ایک دوسرا فرد تمام عمر پرہیزگار رہا لیکن ایک غلطی ایسی ہوئی کہ خدا اس سے ناراض ہو گیا۔ چونکہ عدل کرنا بھی خدا کی ایک صفت ہے اس لئے امکان یہی ہے کہ جس نے ایک نیکی کی، شاید وہ اختیاری نیکی تھی جبکہ برائیاں اس کے اختیار سے باہر تھیں۔ اسی طرح جس نے تمام عمر نیکیاں کیں ہو سکتا ہے ان میں اس کے اختیار کا عمل دخل نہ ہو جبکہ وہ واحد برائی جس نے اسے جہنم تک پہنچا دیا، اس کا صدور حقیقی اختیار کی بنا پر ہوا ہو۔

ایک مشہور حدیث مبارکہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اس بلیغ فقرے پر غور کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ نیت سے مراد وہ اختیار ہے جس کے تحت اچھے یا برے اعمال کا ظہور ہوتا ہے۔ جس طرح ہم کسی کے اختیار کی حدود نہیں دریافت کر سکتے اسی طرح ہم نیتوں کے بارےمیں بھی فیصلے نہیں کر سکتے۔ یہ صلاحیت صرف پیغمبران کرام کے پاس تھی کیونکہ ان کا خدا سے براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ مذہبی طبقہ ہی سب سے زیادہ نیتوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ مذہب کی روح کے یکسر خلاف ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ تجزیہ اور نیت پر شک میں فرق ہے۔ ایک غیر جانبدارانہ تجزیے کے بعد کسی کے حقیقی ارادوں کو سمجھنے کی کوشش کرنا ایک مختلف بات ہے جبکہ بغیر ٹھوس وجوہات بتائے ایسا کرنا نیتوں پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ یہ خدا کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی ایک کوشش ہے جس سے احتراز اشد ضروری ہے۔

اگر ہمارے تمام نظریات، احساست، افعال اور فیصلے ایسی اندرونی اور بیرونی قوتوں کے زیر اثر ہوتے ہیں جن پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے تو پھر بات میں حتمیت کی بنیاد بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ہماری رائے کی تشکیل بھی آزادانہ ماحول میں نہیں ہوئی بلکہ اس میں بہت سے عوامل شامل ہیں تو پھر ہماری بات میں عجز ہو گا۔ ہم اپنی رائے تبدیل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ اسی طرح جو شخص ہم سے مختلف بات کر رہا ہے اس پر بھی کھلے دل سے غور کریں گے۔

اس سارے معاملے کی بیشمار جہتیں اور بھی ہیں جن کی تفہیم انسان کو مہذب اور اخلاقی طور پر پختہ بنانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان پر انسان کو غور کرتے رہنا چاہئے۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: