منطق اور مذہبی اور سائنسی ایمان

0

یہ ضرور ہے کہ ہمیں اس بات کا مکمل یقین ہوتا ہے کہ ہم معروضی حقائق کو پوری صراحت کے ساتھ جانتے ہیں، خاص طور پر جب کہ ہم نے مادی سائنسز کا خاصہ علم حاصل کیا ہوا ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ہرمعروضی حقیقت کو براہ راست جانتے نہیں ہیں۔ بلکہ سائنس کے معاملے میں تو ہمیں مدعین سائنس کی انتہائی قلیل تعداد کے بیانات کو حقیقت ماننا پڑتا ہے۔ سائنس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تجربے کی ریپیٹیشن سے ہر بار درست ثابت ہوتی ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں سوائے ھائی سکول لیول کی سائنس کے ، باقی تجربات لیبارٹری صورتحال میں کئیے ہی نہیں جاسکتے خاص طور پر آسٹروفزکس، نینو فزکس، کوانٹم فزکس اور جینیٹکس انجینئیرنگ کے۔ اور پاکستان ہی کیا، ترقی یافتہ ممالک میں بھی انتہائی محدود تعداد کے سکالرز کو پارٹیکل ایکسلیریٹرز یا ھبل جیسی ٹیلیسکوپس سے ملنے والے تمام ڈیٹا تک رسائی ہے۔ ساری دنیا کے سکالرزکی ایک عظیم تعداد کو ان سائنسی دعووں کو کنفرم کرنے کے نہ مواقع میسر ہیں اور نہ ہی ان کو اس بات کی کوئی اجازت دینے کو تیار ہے کہ آئیں اور ہماری فیسیلیٹی میں آکر ہمارے دعوے کو ٹسٹ کرلیں۔

ہم جس شے کوتجربی سائنس کہتے ہیں اور جسے اپنے فلسفہ سائنس میں دلیل کے طور پر لاتے ہیں وہ سائنس نہیں ٹیکنالوجی ہے۔ ہم اس ٹیکنالوجی میں ریسرچ وغیرہ کے حوالے کو سائنس کے عمومی طریقہ کار کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئیے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ یہ محض مغالطہ ہے۔ وہ سائنس جس نے ہماری فلسفیانہ فہم میں ہلچل مچائی ہوئی ہے اس تک تو دنیا کی زیادہ تر تعلیم گاہوں اور انسانیت کی عظیم تعداد کی رسائی ہی نہیں۔ سو، لے دے کے انسانیت کے پاس جو حل پچتا ہے وہ یہ کہ ان سائنسی دعوے کرنے والوں کی بات مان لیں اور اسے سائنس تسلیم کرکے اس کائنات کے بارے میں اپنی فہم کی، بلا اپنی تجربی گواہی کے، تعمیر کریں اور اس کو اپنے سائنسی ایمان کا حصہ بنائیں۔ آج کی سائنس کے پاس کوئی طریقہ نہیں کہ انسانوں کی عظیم تعداد سے، سائنسی اصولوں کے مطابق، یہ منوالے کہ سائنس کے وہ سارے دعوے بھی درست ہیں جن کے حواسی تجربے تک عام انسان کی رسائی نہیں۔ لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ دنیا کی عظیم آبادی اس بات پر ایمان رکھتی ہے کہ سائنسدان اس کائنات، اس میں موجود مادے اور طاقتوں اور اس کے ازل اور ابد کے بارے میں جو دعوے کررہے ہیں وہ درست ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بغیر تجربے کے بغیر کسی آبزرویشن کے، یہ تمام انسان، آخر کس منطق کی بنا پر سائنسدانوں کے دعووں کو سچا مانتے ہیں؟ اس کا جواب سیدھا سادہ ہے۔ سب انسان سائنسدانوں کے تمام دعووں کو بلا تجربہ، بغیر سوال اٹھائے اسی منطق کی بنا پر حق تسلیم کرتے ہیں جس منطق کے ذریعئیے وہ مذہبی دعووں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اگر فلاسفہ کے نزدیک ان کا مذہب کے دعاوی پر ایمان غیر منطقی ہے تو پھر سائنس کے دعاوی کی حقانیت پر ایمان کی بھی کوئی منطق نہیں رہ جاتی۔ لہٰزہ مزہب کی منطق پر سوال اٹھانا اور اس کا تمسخر اڑانا اورعام اعلیٰ علمی انسانی سطح پرسائنس کے تجرباتی طور پر غیر ثابت شدہ دعووں پر بلا چوں و چرا ایمان رکھنا، دانشوروں کے فکری بحران سے زیادہ کچھ نہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: