پانامہ… فرینڈلی اپوزیشن اور ہم

0

۔۔ایک دن بعد یعنی بیس اپریل دو بجے دن میں سپریم کورٹ کا لارجر بنچ پاناما پیپرز لیکس کیس کا فیصلہ سنائے گا۔۔پانامہ پیپرز لیکس میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے اہل خانہ کے نام آنے پر تحریک انصاف کے رہنماء عمران خان، شیخ رشید اور جماعت اسلامی کی جانب سے سراج الحق نے وزیر اعظم محمد نواز شریف، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحق ڈار کو ناہل قرار دینے کے لئےآئینی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔جن پر سپریم۔کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے مختلف ادوار کے بعد امسال۔4 جنوری 2017کو کیس کی از سر نو سماعت شروع کی تھی۔ چھبیس روز مسلسل سماعت کے بعد 23 فروری 2017 میں بنچ کر سربراہ جسٹس سعید آصف کھوسہ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ آئین اور قانون کے مطابق ہی فیصلہ سنایا جائے گا جس کے لئے مزید غور و خوض کے لئے وقفہ درکار ہے۔ ۔

مزید یہ ریمارکس بھی دیئے گئے تھے کہ فیصلہ ایسا ہوگا کہ بیس سال بعد بھی لوگ کہیں گے کہ فیصلہ قانون کے مطابق تھا۔

اس حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زوروں پر ہیں۔ تا ہم آپ کو یہ ضرور محسوس ہوگا کہ جیسے یہ محض وزیر اعظم میاں نواز شریف اور عمران خان کے مابین شخصی ٹکراؤ ہے۔۔ ایسی فضاء تشکیل دینے کے لئے حکومتی اراکین تو جوش و خروش سے عمران خان کی ذات کو کڑی تنقید کا ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن نے بھی فرینڈلی اپوزیشن کے نام۔پر کبھی عمران خان کے دھرنا تحریک کو جمہوری نظام کے لئے مناسب نہ جانا کبھی یہ شکوہ کیا گیا کہ عمران خان صلاح مشورہ نہیں کرتے۔ چنانچہ فرینڈلی اپوزیشن نے اپنا پلڑا جمہوری نظام کی بقاء کے لئے حکومت کے پلڑے میں ہی ڈالا تھا۔ ۔کیا آپ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت اور اس کے سربراہ آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کی جانب سے کرپشن کے خاتمے کے کسی عزم کی نشاندھی کر سکتے ہیں؟ ایسا ممکن نہیں اس لئے کہ یہ سب جمہوری کھیل کی باری اور باہمی مفادات کے تحفظ کی خاطر یکجان ہیں۔

کرپشن کا ناسور ہمارے سماجی اداروں کو کمزور کر رہا ہے اور پورے نظام کی بنیادی کھوکھلی ہو چکی ہیں۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ سیاست دانوں کو چنداں فکر نہیں ہے کہ جب سماج میں احتساب کی روایت نہ رہے، قانون کی بالادستی کو چیلنج کیا جائے یا حکومتی اراکین ان الزامات کوسرے سے تسلیم۔کرنے سے انکاری ہوں وہاں سماج مکمل تباہی سے دوچار ہونے کو ہے۔۔یہ احساس ان کو ہو بھی کیسے وہ اپنی اور اپنی تمام اولادوں کا مستقبل بیرون ملک محفوظ کر چکے ہیں۔ اپنے لئے جائیدادیں کھڑی کر چکے ہیں۔
کیا سیاست اسی کا نام ہے کہ آپ بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات پہ زرا بھی شرمندہ نہ ہوں اور مکمل ڈھٹائی سے اپنے عہدوں پر براجمان رہیں؟

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند ! یہاں نہ نکلا کر

اب رہے ہم عوام تو افسوس!! صد افسوس !! ہم کو ہمارے بزرگوں سے سخت شکایت ہے کہ شرافت اور ایمانداری کے وہ اسباق پڑھا گئے ہیں جن کی وجہ سے ہمارا اسٹیٹس ہمیشہ ترقی پزیر ہی رہا ۔۔۔اور جی فائیو خاندانوں کی طرح سے ترقی یافتہ نہ کہلائے جا سکے ۔۔۔۔اب ہماری قدر اس غریب اور مسکین عوام کی طرح سے اس قدر گھٹ چکی ہے کہ ہم پر کسی سازشی عنصر کی نظر کرم نہ پڑ سکی اور نہ ہی کسی کرم فرما نے گھاس ڈالی اور ہم کو فیکٹری اور شوگر مل کے منافع بخش کاروبار کے لئے مواقع یا سازگار ماحول فراہم کیا ۔۔نہ ہی ملک کے اندر یا باہر بینکوں اور مالیاتی اداروں نے کروڑوں کے قرضے دینے کے قابل سمجھا ۔۔۔۔۔ نہ ہی ٹیکس وصولی کے ذمہ داروں نے بے قاعدہ ٹیکس وصول کرکے ہمارا نام بھی مشہور افراد کی فہرست میں شامل کرنا مناسب مسجھا ۔۔۔ہم اپنے بے پناہ شوق کے باوجود کس منہ سے سیاست میں آکر غریب عوام کی خدمت کا دعوی کریں ۔۔۔چہ پدی اور چہ پدی کا شوربا ۔۔۔

باقی وزیر اعظم صاحب ہرگز رنجیدہ نہ ہوں ۔۔۔۔۔شریفانہ سی زبان میں ہم بھی عوام کو سمجھا دیں گے کہ چچا غالب کے سنہری الفاظ یاد کریں جب وہ کہہ گئے کہ :
غلط ہے جذب دل کا شکوہ، دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو ؟

ہم عوام اچھی طرح سے جانتے اور سجھتے ہیں کہ ان سازشی عناصر کو جو پر امن تصفیئے سے طے شدہ معاملات پر انگلی اٹھا کر ان سیاستدانوں کے ہوش ربا عجب پیار کی غضب کہانیوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔اب سازشی عناصر خود ہی بتا دیں کہ جب ملک میں احتساب کی روایت ہی نہ ہو ۔۔۔ جب صلح جو اداروں نے خود عزت مآب پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دیا ہو وہاں کیا احتساب اور کہاں کا احتساب ۔۔۔۔وہاں پانامہ لیکس کی خبروں اور ثبوتوں کو کون مانے ۔۔۔۔
یہ اب انہی سازشی عناصر کی وہ سازش ہے جس کے زریعے سے عوام کو روزی روٹی کی مشقت سے ہٹا کر عوام کی رہی سہی حمیت کو بھی دم توڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔۔۔۔ عوام ہرگز خبردار نہ ہو ۔۔ہمیشہ کی طرح اپنے پسند کی برادریوں ، جماعتوں ، زرداریوں شریفوں اور مولویوں کو ووٹ دے کر جمہوریت کے ہاتھ مضبوط کرے اور ان سازشی عناصر کی ناپاک سازشوں میں نہ آئے ۔۔۔۔۔
بے نام سے سپنے دکھلا کر
اے دل ہر جا نہ پھسلا کر
نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
ہاں کہنے کو وہ خادم ہیں
یہاں ڈالر ڈالر ہوتی ہے
کسوٹی ہے جی ڈی پی اور
کچھ لوگ ہیں عالیشان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر ۔۔۔
حبیب جالب

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: