رحمت الالعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

0

مکہ فتح ہوا تو اسلام کے سب سے بڑے دشمن ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہہ کے گھر کو بھی امان بخش دی گئی۔ عام معافی کیا اعلان ہوا۔ اور دنیا کی تاریخ بدل گئی۔
لیکن 9 ایسے شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابھی موجود تھے جن کے لئے معافی کا اعلان نہیں بلکہ ان کے قتل کا حکم صادر فرمایا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ اگر یہ لوگ غلاف کعبہ میں بھی چھپے ہوئے پائے جائیں تو بھی ان کو قتل کر دیا جائے۔ کیونکہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو رب تعالی کو بھی پسند نہیں۔
یہ 9 گستاٰخ
1 عبدالعزی بن خطل 2 عبد اللہ ابن سعد بن ابی سرح 3 عکرمہ بن ابی جہل 4 حارث بن نفیل بن وہب 5 مقیس بن صبابہ 6 ہبار بن اسود 7 سارہ (لونڈی) 8 ،9 ابن خطل کی دو لونڈیاں تھیں۔ ان سب کے قتل کا حکم صادر فرما دیا گیا
پھر کیا ہوا کیا یہ سب کے سب قتل کر دیے گئے ؟ جی نہیں ۔ یہ “رحمت الالعامین” کا در ھے یہاں ھر حال میں توبہ قبول کی جاتی ھے۔
عبداللہ ابن ابی سرح کے لئے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہہ نے خدمت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں جا کر ان کی جان بخشی کی گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جان بخشی فرماتے ہوئے اس کا اسلام قبول فرما لیا۔ حالانکہ یہ شخص پہلے بھی اسلام قبول کر چکا تھا لیکن مرتد ہوگیا تھا۔
عکرمہ بن ابی جہل یمن بھاگ گیا تو اس کی بیوی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس کے لئے امان طلب کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بھی امان بخشی اور اس نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
ہبار بن اسود جو فتح مکہ کے موقع پر بھاگ نکلا تھا اس نے بھی امان طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بھی امان دی اور وہ بھی مسلمان ہو گیا۔
سارہ جو کہ اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کی لونڈی تھیں ان کے لئے بھی امان طلب کی گئی تو اسے بھی بخش دیا گیا اور اس نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
عبدالعزی بن خطل کی دو لونڈیوں میں سے ایک نے امان طلب کی اور مسلمان ہو گئی
ابن خطل خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر لٹکا ہوا تھا اسے اسی حالت میں قتل کر دیا گیا
مقیس بن صبابہ کو حضرت نمیلہ بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہہ نے قتل کیا
حارث بن نفیل مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سخت اذیت پہنچایا کرتا تھا اسے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے قتل کر دیا۔
عبدالعزی بن خطل کی دوسری لونڈی کو بھی قتل کر دیا۔
ان 9 شاتموں میں سے 5 نے رحمت الالعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے امان طلب کی آپ نے ان کی جان بخشی کی ان کی توبہ قبول فرمائی یہی نہیں بلکہ ان کو اسلام قبول کروا کر انہیں صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رتبہ بھی عنایت فرمایا۔
اور باقی 4 لوگ جو اپنی ضد پر اڑے رہے انہیں قتل کر دیا گیا۔ ( الرحقیق المختوم ، فتح الباری )
یہ ہیں ہمارے رحمت الالعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن کی بارگاہ میں کسی بھی وقت توبہ کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ گناہ چاہے کوئی بھی کیوں نا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں تو یہ اختیار آپ کے پاس موجود تھا کہ توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کی بھی توبہ قبول فرمائی گئی ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد یہ اختیار کسی کے پاس ہے یا نہیں یہ فیصلہ تو ذمہ داران امت کریں گیں ۔ البتہ ریاست کی موجودگی میں ایسے لوگوں کو سزا دینا فقط ریاست ہی کا کام ہے۔ آپ فقط ریاست کو سچے ثبوت مہیا کر سکتے ہیں۔ خود ہی وکیل خود ہی جج اور خود ہی جلاد بننے کا ٹھیکہ آپ کے پاس بالکل بھی نہیں ھے۔ اور ھاں توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانا بھی توہین رسالت ہی کے زمرے میں آتا ھے۔ اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت اس کے علاوہ۔
گزارش صرف اتنی ہی ہے کے بڑھتی ہوئی ہیجان انگیزی کو روکنے کے لئے بات چیت کا رویہ اختیار کیجیے۔
نظریاتی اختلاف ہو تو بھی ، علمی اختلاف ھے تو بھی ، فقہی اختلاف ھے تو بھی سیاسی اختلاف ھے تو بھی آئے بیٹھیے بات چیت سے حل نکالتے ہیں۔ لڑائی سے حل نکلنا ہوتا یا بادشاہت ملنی ہوتی تو بقول مشال کے والد کے
” کتے اس دنیا کی بادشاہت کرتے کیونکہ سب سے زیادہ لڑائی کتے ہی آپس میں لڑتے ہیں “

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: