منٹو کا خاکہ، ممتاز رفیق کے قلم سے

0

ہمارے گرو بھی کس کمال کے آ دمی تھے کہ موت کو بھی غچہ دے گئے، وہ سمجھی سانس کی ڈور کاٹ دی یہ مر گیا مگر وہ تھے کہ مٹی میں کیا ملے ، مٹی ہوتے ہوتے بھی نکھرتے سنورتے چلے گئے۔ آدمی اگر ذہین اور حساس ہو تو زندگی اس کے لئے کانٹوں کی سیج بن جاتی ہے۔ ایسا نہیں کہ انسان یہ سب مقدر میں لے کر آتا ہے ، یہ سب اسی نامراد دنیا کا کھیل ہے۔ ہمارے گرو ،کو بچپن ہی سے بے مروتی اور سفاکیت کا سامنا رہا۔ ایسا کیوں ہوا ؟ آ ج جو ہم گرو کے لہجے میں اتنی کڑواہٹ دیکھتے ہیں اس کی جڑیں وہیں ان کے محروم بچپن میں مستور ہیں ،جسے کھوجنے کے لیے ہمیں ان کے بچپن کو کھنگالنا ہو گا۔

امرتسر کے محلے وکیلاں کے ایک گھر میں منٹو کے والد. غلام حسن منٹو سکونت رکھتے تھے، اسی محلے میں سب جج غلام حسین منٹو کے بہت سے رشتے داربھی رہائش رکھتے تھے۔ کہتے ہیں بچے میں بگاڑ کی بنیاد اس کے بچپن میں ہی پڑ جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں ہمارے گرو اپنی ابتدائی عمر ہی سے عدم توجہ کا شکار رہے۔ ان کے والد نے دو شادیاں کر رکھی تھیں ، گرو، ان کی دوسری کے بطن سے پیدا ہوئے، یہ خاندان سے باہر کی عورت تھیں. کے لئےخاندان میں ایک عام ناپسندیدگی پائی جاتی تھی ۔ اب کوئی ماں کو نہ پوچھے توبچہ کتنی کوڑی کا اور نتیجہ؟ جب ہمارے گرو میں کچھ سوجھ سمجھ پیدا ہوئی تو ان کے گرد تنہائی ناچ رہی تھی ۔ بچے کی شخصیت پانچ برس کی عمر تک مکمل ہو جاتی ہے اور اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو اس میں شدید درعمل پیدا ہوتا ہے۔ گرو بھی ایسے ہی کم نصیب بچے تھے ،جنہیں ابتدائی عمر ہی سے بہت سے سوالوں کا سامنا تھااور جواب کہاں سے لتے. والد درشت مزاج تھے ان کے پاس وقت کہاں کے بچے سے سر کھپائیں، والدہ نرم دل سہی لیکن ان کے پاس گرو ،کے سوالات کے جواب کہاں؟ اور یوں منٹو کے باطن میں تلخی کی چنگاریوں نے راہ پائی۔

یہ گیارہ مئی انیس سو بارہ کا دن تھا جب گرو ،نے لدھیانہ شہر کو اپنی پہلی سانس سے سرفراز کیا۔ والد صاحب کے لئے یہ کوئی بہت خوش کن واقعہ نہیں تھا کہ وہ اس سے پہلے چھے لڑکوں کے باپ تھے اور غالبا وہ انہیں زیادہ عزیز بھی تھے ۔نتیجہ؟ گرو کی جانب سے عدم توجہ کا سبب بنا۔ جج صاحب نے قبل از وقت نوکری سے ریٹائر منٹ لے لی اور یوں گھر میں غربت کو یہاں جگہ بنانے کا موقع مل گیا۔ ایسے منظر نامے میں منٹو کیا خاک متوازن زندگی گزار سکتے تھے۔ اب وہ خاصے بڑے ہو چکے تھے،

جب گھر میں اطمینان کا سامان نہ ہو تو انسان باہر کی راہ دیکھتا ہے۔گرو ،بھی اپنے اوباش ہم عمروں کے ساتھ امرتسر کی گلیوں محلوں کو اپنے قدموں کی خاک چٹوانے لگے ، ان کے سوتیلے بھائی باقاعدہ تعلیم حاصل کر رہے تھے جب کے منٹو کو ڈائیں ڈائیں پھرنے کے سوا کوئی کام نہ تھاْ اگر بچے کو ابتداء ہی سے تعلیم کی طرف راغب نہ کیا جائے تو اس کا دل پڑھائی سے اٹھ جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ گرو نے کئی کوششوں کے بعد بمشکل میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بچپن سے ہی ہرذہین بچے کی طرح منٹوبے حد شریر تھے، ان کی نوعمری پتنگ اڑانے اور فلمیں یکھنے میں گزری۔پتنگ اڑانے میں تو شاید یہ رمز تھا کہ آگے چل کر انہیں خود پر پرواز کھولنا تھے اور فلمیں ،یہ ہمارے گرو کے لئے ایک نئی طرزحیات کی جھلک تھی۔ جو وہ پردہء سیمیں دیکھتے تھے ان کی حقیقی زندگی میں اسکا کوئی نشان تک نہیں تھا۔ وقت برق رفتاری سے محو سفر تھا۔

جب گرو کے والد کا انتقال ہوا وہ اٹھارہ سال کے ہوچکے تھے .اب درسی تعلیم سے عدم تعلق ان کا سب سے بڑا خسا رہ بن کر ان کامونہہ چڑا رہا تھالیکن وہ تو جیسے عمر بھر کے خسارے کے سودے کرنے کے لئے کمر کس چکے تھے۔امرتسر میں آوارہ گردی کے دوران ان کا کوئی ہم جولی انہیں بنت انگور کے دوار لے جا چکا تھا، جو انہیں اس درجے بھائی کہ انہوں نے اسے زندگی بھر کے لئے اپنا ہمدم بنا لیا۔ ایسا کیوں ہوا اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں جب انسان رات دن کی مارا ماری سے تھک جائے اور کوئی جائے پناہ نہ ہو تو وہ خود کو بھلانے کے لئے کڑوے پانی میں عافیت کا سامان دیکھتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا ان کے ماضی کو کھنگالنے کی کیا تک ہے؟میرے مہربان ،یہ اس لیے ضروری تھا کہ ہم کھوج سکیں کہ ایک انسان اس درجے درشت کیسے ہوگیا۔ یہ زندگی جو بیان میں آئی، ایسے رات دن بتانے والا اگر ذہین بھی ہو تو ردعمل میں اکثر خود اپنے خلاف کمر کس لیتا ہے۔ کیوں؟ ایسا اس لئے یوتا ہے کیوں کہ وہ کسی اور کو اپنے نشانے پر رکھنے کا روادار نہیں ہوتا اس کے لئے سب سے سہل اپنی ذات ہوتی ہے جسے وہ مٹانے پر تل جاتا ہے، ہم گرو کی زندگی میں یہی سب نظارہ کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ گرو ،تمام زندگی اپنی ذات کی نفی کرتے رہے۔

ایسا نہیں ہے کہ وہ تمام عمر تعلیم کی طرف متوجہ ہی نہ ہوئے ہوں، انہوں نے ایم اوکالج میں داخلہ بھی لیا اور فیض احمد فیض کی شاگردی میں بھی رہے مگر اب یہ سب ان کے بس میں نہیں رہا تھاجلد ہی انہوں نے اس سلسلے کو خیرآبادکہہ دیا۔ علی گڑھ میں رہائش کی دوران وہ شدید علیل ہو گئے، بیماری کی تشخیص کے لئے وہ کشمیر کے شہر بٹوٹ چلے گئے۔ وہاں کے باشندوں کی زندگی نے ان کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کیے جن کا مشاہدہ ہم ان کے ابتدائی افسانوں میں کرتے ہیں۔ وہ جلد ہی امرتسر لوٹ آئے جہاں انہوں نے شہر کے نچلے اور متوسط نچلے طبقے کی زندگی کا مشاہدہ کیا۔ وہ اپنی علمی استعداد کی کمی کا پورا ادراک رکھتے تھے جسے پورا کرنے کے لئے انہوں نے باری علیگ کے کہنے پر روسی اور فرانسیسی ادیبوں کے شہ پاروں کا آنکھ جما کر مطالعہ کیا، جن میں دوستو وسکی، چیخوف، ٹالسٹائی، نورگنیف اور گورکی کی تصانیف شامل ہیں، ان کے علاوہ ارسکن کورڈریل اور دیگر مصنف بھی ان کے مظالعے میں رہے۔ وہ وکٹر ہیگو کے بھی معترف تھے انہوں نے فلوبیر کو بھی پڑھا۔ ایک بڑا فن کار اپنی تخلیقات محض اپنے مشاہدے اور تجربے پر اکتفا نہیں کر سکتا۔ ان عظیم مصنفوں کے فن پاروں کے مطالعے نے جہاں انہیں کہانی بننے اور بیانیہ لکھنے کا ڈھنگ عطا کیاوہیں وہ انقلاب روس سے بھی بہت متاثر ہوئے۔ یہ دنیا ہمیشہ سے بالا دست اور زیر دست طبقات میں بٹی رہی ہے اور جب کوئی زیر دست دیکھتا ہے کہ کسی نظام میں یہ طبقات نہیں ہیں تو وہ فطری طور پر اس میں کشش محسوس کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے ممدوح سوشلزم سے متاثر تھے حالانکہ وہاں بھی یہ دونوں طبقات پوری کرو فر سے وجود رکھتے۔

گرو، کی افسانہ نگاری بعد کا قصہ ہے ،انہو ں نے اپنی تخلیقی سرگرمیوں کا آغاز تخلیق نو یعنی تر جمے سے کیا۔ انہوں نے گورکی کی کہانیاں، ہیگو کی ـ ایک اسیر کی سرگزشتــــ، آسکر وائلڈ کی ویرا اور چیخوف کے ڈرامے ترجمہ کئے۔ آپ دیکھئے کہ تراجم کے لئےمنتخب کئے جانے والے ان اعلی شہ پاروں میں کتنا تنوع ہے۔ انسان جب کسی دوسری زبان سے کوئی فن پارہ اپنی زبان میں منتقل کرتا ہے تو اس کام میں اسے طبع ذاد تحریر سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، وہ تخلیق کے بطن میں اترنے اور اس کے جوہر تک رسائی کے لیے بار بار دیکھتا ہے تخصیص کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے۔ یہ محنت تخلیق سے آگاہی کے ساتھ خود اسے اپنی تخلیق خلق کرنے کا سلیقہ انعام کرتی ہے۔ گرو کی حقیقت نگاری ان کے شخصی اور اجتماعی تجربات کا نتیجہ ہے شاید اسی لئےان کی تخلیقات میں ہمیں روح عصر کی گونج سنائی دیتی ہے۔ افتادگان خاک سے ہمدردی اور استحصال پر علم احتجاج بلند کرنا ان کی زندگی اور فن کا بنیادی تجربہ ہے۔ وہ تخیل اور قیاس کے زریعے زندگی کو سمجھنے کے بجائے زندگی میں شرکت اورعملی تجربے کو انسانی عوامل کی میزان قرار دیتے تھے۔ باری علیگ نے منٹوکی تخلیقی شخصیت کی پرداخت میں اہم کردار ادا کیا ، یہ ان کا تشکیلی دور تھا۔

گرو ،کی امرتسر سے سے بمبئے نقل مکانی نے انہیں زیادہ شاد و آباد نہیں کیا ، انہوں نے بمبئی سے احمد ندیم قاسمی کے نام جو خطوط تحریر کئےان میں بھی ان کے لہجے اور ذہنی کیفیت میں کوئی تغیر نظر نہیں آتا۔ ان خطوط میں یا تو وہ اپنی ذات کو تفصیل کرنے سے گریزاں تھے یا پھر اپنی کیفیت کو مبہم رکھنے کے خواہاں تھے، وہ ایک غیور انسان کی مانند اپنی محرومیاں کسی سے بھی شیئر کرنا اپنی شان سے بعید خیال کرتے تھے۔ اسی بے سروسامانی کی حالت میں انہوں نے شادی رچالی، یہ شاید تنہائی بانٹنے کا جتن تھا. ان کی شریک زند گی صفیہ ہوش مند خاتون تھیں جب انہوں نے دیکھا کہ منٹو نفاست پسند مزاج رکھتے ہیں تو انہوں نے گھر میں سلیقہ بچھا دیااور یوں ہمارے ممدوح کی زندگی میں ایک باقاعدگی در آئی ،رہی شراب تو وہ تو ان کے بدن میں لہو کی طرح دوڑ رہی تھی۔ شادی شدہ زندگی کا المناک واقعہ ان کے بیٹے عارف کی جواں مرگی تھی جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکے۔ گرو ،نچلے اور متوسط نچلے طبقے کے ترجمان تھے یہی وجہ ہے کہ ہمیں ان کے افسانوں کی زبان اکھڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ میرے ممدوح زبان پر دسترس نہیں رکھتے تھے۔

لیجئے میں بھی گرو کے ماضی میں دھنس کر ان سے آپ کی ملاقات تو کرانا بھول ہی گیا۔ آیئے دیکھتے ہیں ہمارے گرو دیکھنے دکھانے میں کیسے دکھائی دیتے ہیں۔

پیچھے کو پلٹے ہوئے سیاہ بال جن میں کہیں کہیں چاندی بھی اپنی بہار دکھاتی ہے اوران کے تلے کشادہ تر ماتھا اور قدرے گھنی بھنوں کے سائے میں گول شیشے کے چشمے سے ڈھکی متجسس روشن آنکھیں جو ان کی غور و فکر کی غماز ہیں اور ستواں ناک اور نتھنے کسی قدر کشادہ اور مونچھوں سے محروم تراشیدہ ہونٹ اور ستے ہوئے گال اور مضبوط تھوڑی جو مزاج کی ضد اور ارادے کے اٹل ہونے پر دلیل ہے اور گردن نمایاں تو نہیں لیکن اسے کوتاہ قرار دینا بھی نامناسب ہوگا اور کان نمایاں گویا وہ سماعت کے تیز ہیں اور کاندھے ناتواں اور رنگت طلوع ہوتی صبح کے مماثل اور لانبی انگلیاں جو ان کے فنکار ہونے کی نوید سناتی ہیں اور قد لانبا، ان کی مجموعی شخصیت میں اک عجب من موہنا پن ہے ایک کشش جو ہر دیکھنے والے کو اپنی اُور متوجہ کرتی ہے، یہ ایک خوب رو شخص کا پورٹریٹ ہے۔

اس خاکے میں میرے ممدوح کی زندگی سے جڑی بہت سی تفصیلات بیانیہ کا حصہ ہیں ،جن سے اس پر کسی مضمون کا گماں بھی کیا جاسکتا ہے مگر کیا کیجئے کہ یہ میری ایک خود غرضی کے باعث ہوا، میں اپنے معنوی استاد کی یادیں تازہ کرنے کے ہڑکے میں جو یاد آیا لکھتا چلا گیا، لیکن اس سے کسے کلام ہوسکتا ہے کہ یہ تحریر ایک منفرد تخلیق کار کے حوالے سے لکھی گئی ہے اور یہ ممکن نہیں تھا کہ اسے رواروی سے نمٹادیا جاتا۔ آپ نے دیکھا سعادت حسن کو منٹو بننے میں کس جوکھم سے گزرنا پڑا؟ انہوں نے جو لکھا وہ ان کی دردمندی، مطالعے، تجربے، اور مشاہدے کا شان دار آمیزہ ہے آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں ان کی شخصیت سے زیادہ ان کی تحریر کو زیر بحث لا رہا ہوں تو صاحب آپ فرمائیں کہ میرے ممدوح نے تمام عمر آوارہ گردی، شراب نوشی اور لکھنے کے سوا کیا ہی کیا جو بیان میں آئے۔

گرو! میں آپ سے محبت کرتا ہوں،اس لیے میرا آپ پر کچھ حق بھی ہے۔ میں اگر کوئی کڑوی بات کروں تو بکھر مت جایئے گا، مجھے بتائیں کہ جب آپ کی رزق روٹی لفظ سے بندھی تھی تو آپ نے زبان کا سلیقہ کیوں نہیں سیکھا؟ اسے تو آپ کے خون میں راسخ ہونا چاہیئے تھا۔ افسانے تو چلئے اسی اکھڑی ہوئی زبان میں خلق ہونے چاہیئے تھے لیکن کیا اچھا ہوتا اگر آپ کو زبان پر مکمل دسترس حاصل ہوتی، خیر افسانوں کو تو ایک طرف رکھئے لیکن خاکہ تو رچی ہوئی شائستہ زبان کا متقاضی ہوتا ہے۔ اچھا چلیں آپ ہی فرمائیں گنجے فرشتے میں سوائے اس کے عنوان کے اور کیا چیز تخلیقی ہے؟ نہیں تھی نا؟ تو پھر آپ اسے خاکوں کا مجموعہ منوانے پر بضد کیوں ہیں؟ یہ تحریریں شخصی مضامین سے بڑھ کر کچھ اورنہیں اور وہ بھی اس لئےکہ یہ منٹو کے قلم سے سرزد ہوئے ہیں۔

امرتسر سے بمبئی آمد ہمارے گرو کو بہت مہنگی پڑی.

یہاں ان کی صحت خراب ہوئی اور معاشی طور پر اس درجے پریشان رہے کہ دو بار ذہنی توازن جاتا رہا اور انھیں پاگل خانے جانا پڑا اورٹکے ٹکے کے مدیروں کے لئےبرائے نام معاوضہ پر افسانے لکھنے پڑے ۔ وہ سوچتے اچھا مشقتی ہاتھ آگیا ہے جس کے لکھے افسانے پرچے کو پہیئے لگا دیتے ہیں۔ ہمارے گرو کہتے تھے کہ کہانیاں ان کی جیب میں پڑی رہتی ہیں اور انہوں نے اپنا یہ دعوا ثابت کیا ،ہوا کچھ یوں کہ ایک بار بقایاجات کی وصولی کے لئے کسی مدیر کے دفتر گئے، اس نے انہیں روک لیا اور لگا شکایت کرنے کہ فلاں ادیب ایڈوانس لے گیا لیکن ایک لفظ لکھ کر نہیں دیا ،کہتا ہے لکھنے کا موڈ نہیں بن رہا۔ گرو ، ترنگ میں تھے بولے جو لکھنا جانتا ہے وہ موڈ کا پابند نہیں ہوتا ،پھر جانے کیا خیال آیا بولے لاؤ مجھے کاغذ پر کوئی لفظ لکھ کر دو میں ابھی تمہیں افسانہ لکھ دیتا ہوں، دفتر میں موجود ایک شخص نے آنکھیں لکھ دیا۔ انہوں نے دیکھا ،کرسی پر اکڑو ں بیٹھ کر پنسل کاغذ کھینچا، سگریٹ سلگایا، ایک لحظے کو سوچا اور پھر جو قلم چلایا ہے تو افسانے کے اختتام پر جا کر سانس لی۔ آپ نے ان کا معروف افسانہ آنکھیں پڑھا ہوگا ،یہ اسی افسانے کے ظہور میں آنے کا قصہ ہے۔ گرو، بمبئی میں فلمی دنیا سے منسلک ہو گئے، اس دنیا کی تمام چمک دمک محض ظاہر کا قصہ ہے ورنہ اندر کیا ہوتا ہے وہ لائق تفصیل نہیں ،اس جادونگری میں ان کا طرح طرح کے انسانوں سے واسطہ پڑا ، کچھ لوگوں سے ان کی قربت بھی رہی لیکن وہ جب تک وہاں رہے انہوں نے کسی ناظر کی سی زندگی گزاری۔ ان کی کتاب گنجے فرشتے اسی دورکی یادگار ہے۔

تقسیم ہند سے قبل ان کی چار کتابیں آتش پارے، منٹو کے افسانے، دھواں اور چغدشائع ہوچکی تھیں، ان کے علاوہ منٹو کا ایک اور مجموعہ افسانے اور ڈرامے بھی زیور طباعت سے آراستہ ہو چکا تھا، ان کاپہلا مجموعہ دھواں دہلی سے شاہد احمددھلوی نے شائع کروایا تھا۔ ان کی ابتدائی تخلیقات میں روسی ادیبوں کے اثرات نمایاں ہیں۔پہلی کتاب میں منٹو کا ہنر نمایاں نہیں ہے لیکن دوسری کتاب سے وہ اپنے فن کے جوبن پر دکھائی دیتے ہیں۔ محلہ وکیلاں سے لکشمی مینشن لاہور ان کی مراجعت کوئی خوش کن واقعہ نہیں تھا، یہاں بھی ان کی محرومیاں اور تنگ دستی ان کا سایہ بنی ہوئی تھیں، انہوں نے صرف وطن تبدیل کیا تھا ، اپنا مقدر وہ اپنے ساتھ لائے تھے، اب تک ان کی پندرہ کتابیں شایع ہوچکی تھیں مگر اس سے کیا ہوتا ہے۔ جب وہ پاکستان پہنچے تو وہ نہایت معروف افسا نہ نگار تھے لیکن یہ ملک تازہ تازہ آزاد ہوا تھا . قومی ترجیحات میں اہل علم و ادب کے لئےکوئی جگہ نہیں تھی۔ بازار گر م تھا، گرو، ذہین سہی لیکن چنٹ چالاک نہیں تھے۔ یہاں انہوں نے کئی پرچوں کے لیے لکھا لیکن ادبی دنیا کے ناشروں، مدیروں اور جرائد کے مالکان کا وہی استحصالی رویہ تھا جو معاشرے کے دوسرے شعبوں میں اہل ثروت کا تھا، لیکن جو قلم سے جہاد کا فیصلہ کر لے اس میں سختیاں جھیلنے کا حوصلہ پیدا ہو ہی جاتا ہے۔ منٹو کو کراچی محمد حسن عسکری نے پرچے کی ادارت سنبھالنے کی پیش کش کی وہ رضامند بھی تھے لیکن ترقی پسندی کے پرچم برد ار احمد ندیم قاسمی آڑے آگئے اور گرو، کو ایک لمبے چوڑے خط میں جانے کیا لکھا کہ وہ عسکری سے دلبرداشتہ ہو کر سب کچھ چھوڑ چھاڑ واپس لاہور واپس پلٹ آئے۔

منٹو کو اپنی بیٹیوں اور بیوی سے بہت محبت تھی۔ وہ واقف تھےکہ قلم سے اس گھر میں آسودگی نہیں لائی جاسکتی اسی لئے انہوں نے ایک دوست کی ایماء پر جس کے پاس برف خانے کا پرمٹ تھا، برف خانہ بھی چلانا چاہا لیکن یہ بھی دو دن کا قصہ تھا، یہ ان کے بس کا کام نہ تھا۔ کچھ لوگ آزاد پرندوں کی طرح ہوتے ہیں ، انہیں چہار دیواری کا پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ زندگی کی گاڑی ان کی ناہموار زندگی میں ہچکولے کھا کر لڑھک رہی تھی مگر کب تک؟ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ دن بھی آیا جب سخت سردی میں ہمارے ناتواں گرو، جن کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی، ہلکے بادامی رنگ کا چسٹر پہنے جس کے کالر کھڑے ہوئے تھے اور جسم پر حسب معمول شلوار قمیض تھی اور پیر میں دیسی جوتی تھی جی ایم اثر کی تلاش میں یونی ورسٹی آتے ہیں، وہ ان سے کچھ رقم حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں، لڑکوں کے قریب رک کر وہ سوال کرتے ہیں کہ اثر کتھے اے؟ لڑکوں کی نشاندھی پر وہ اثر صاحب کے کمرے میں جاتے ہیں لیکن جلد ہی لوٹ آتے ہیں، ان کے دو ست نے انہیں مایوس کیا ہے ، اب انہیں کرامت حسین جعفری کی تلاش ہے تاکہ ان سے وسکی کے لئےرقم لے سکیں، وہ انہیں بیس روپے دے دیتے ہیں ۔ اس رات گرو دیر تک شراب پیتے ہیں لیکن اب ان کے بدن میں جان کہاں ان کی طبیعت بگڑ جاتی ہے۔ گھر میں کھلبلی ہے، گروپر نیم بے ہوشی طاری ہے ذرا ہوش آتا ہے تو وہ وسکی کا مطالبہ کرتے ہیں، ان کے حلق میں چمچہ بھر کر وسکی انڈیلی جاتی ہے مگر ان پر غشی طاری ہو جاتی ہے اور ایک آدھ بوند ہی ان کے حلق تک پہنچ پاتی ہے۔ منٹو اب ہم میں موجود نہیں؟ موت کا بے حس رتھ ایک زندگی کچلتا ہوا گزر چکا ہے، ایک زخمی روح عدم سے ابد کو پرواز کر چکی ہے۔

لیکن کیا واقعی منٹو اب ہم میں موجود نہیں رہا؟

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: