بچوں کو کلاسکس کیوں پڑھوائیں : لنڈی ایفیکٹ

0

اگر آپ لوگوں کو کہیں کہ بچوں کو مستقبل کیلئے تیار کرنا ہے تو انہیں “فیوچرسٹک اسکلز” سکھانے سے زیادہ کلاسیکی کتابیں پڑھانے کی ضرورت ہے تواس چیز کا خاصا امکان ہے کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں گے اور آپ کو بتائیں گے کہ زمانہ بدل چکا ہے اور ماضی کے تصورات مستقبل میں بے کار ہی نہیں نقصان دہ بھی ہوں گے۔ آپ کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ نئے تصورات کو نہ اپنانے والے جلد ہی نابود ہوجاتے ہیں۔۔۔ “آئین نو سے ڈرنا طرزَ کہن پہ اڑنا۔۔۔۔۔” وغیرہ وغیرہ۔ لہذا اگر آپ نے مستقبل میں کامیاب ہونا ہے تو آپ کو “فارورڈ لکنگ” ہونا پڑے گا۔

لیکن کیا ایسا ہی ہے؟ نسیم طالب جن کا تعارف کچھ ہفتے قبل دانش پر ہی پیش کیا گیا تھا ان لوگوں میں شامل ہیں جن کا خیال اس کے برعکس ہے اور اسکی وضاحت کیلئے انہوں نے “لنڈی ایفیکٹ” (Lindy Effect) کی اصطلاح کو رائج کیا ہے۔ لنڈی ایفیکٹ کی اصطلاح پرانی ہے اور اس سے ملتے جلتے خیالات بھی متعدد لوگوں نے پیش کیے ہیں تاہم نسیم طالب نے اسکی تعریف کو وسعت دے کر اسے رائج کیا ہے اور فیصلہ سازی میں اس کے عملی اطلاقات کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔

لنڈی ایفیکٹ کو سمجھنے کیلئے پہلے یہ سمجھیے کہ ہم عام طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ جوں جوں کسی چیز کی عمر بڑھتی جاتی ہے اس کی بقیہ عمر کم ہوتی جاتی ہے۔ مثلا ایک بیس سال کا شخص مزید چالیس سال زندہ رہنے کی توقع کرسکتا ہے۔ لیکن جب اسی شخص کی عمر بڑھ کر پچاس برس ہوجائے گی تو اس کے مزید بیس سال زندہ رہنے کی توقع کم ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر آپ نے بالکل نئی گاڑی لی ہے تو آپ اسے اگلے پندرہ استعمال کرنے کی توقع رکھ سکتے ہیں لیکن جب آپ اسے بارہ برس استعمال کرلیں گے تو اس کے بعد آپ اسے چار پانچ سال ہی مزید استعمال کرنے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ گویا کسی شے کی موجودہ عمر جتنی زیادہ ہوتی جائے گی بقیہ متوقع عمر اتنی ہی کم ہوتی جائے گی۔

تاہم نسیم طالب کے مطابق اس اصول کا اطلاق فنا نا پذیر (Non-perishable) چیزوں پر نہیں ہوتا۔ فنا پذیر (Perishable) کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جسکی ایک متعین عمر ہوتی ہے اور اس نے لازمی طور پر فنا ہوجانا ہوتا ہے۔ جیسے ایک کوئی ایک خاص انسان یا ایک خاص گاڑی۔ جبکہ فنا ناپذیر ایسی چیز ہے جس کی کوئی متعین عمر نہیں ہے اور وہ فنا ہو تو سکتی ہے لیکن اس کیلئے فنا ہونا ضروری نہیں ہے۔ یعنی ایک مخصوص گاڑی تو فنا پذیر ہے لیکن گاڑی بطور ایک ٹیکنالوجی فنا ناپذیر ہے۔ آپکی گاڑی نے تو دس، بیس، تیس یا چلیے پچاس سال بعد لازما فنا ہوجانا ہے لیکن آٹو موبائل بطور ٹیکنالوجی لازمی نہیں کہ فنا ہوجائے۔ یہ ٹیکنالوجی فنا ہوسکتی ہے لیکن اسکی کوئی متعین عمر نہیں ہے۔ اسی طرح عاطف، اسلم، اکرم یا کوئی بھی مخصوص انسان تو فنا پذیر ہے لیکن نوع انسانی فنا ناپذیر ہے۔ آپکی گاڑی میں لگا ہوا پہیا فنا پذیر ہے جبکہ پہیہ بطور ٹیکنالوجی فنا ناپذیر ہے۔ افلاطون کی کتاب کی جو کاپی آپ کے پاس ہے وہ تو فنا پذیر ہے لیکن یہ بطور ایک کتاب فنا ناپذیر ہے۔ و قس علیٰ ہذاالقیاس۔

نسیم طالب کے مطابق فنا پذیر چیزوں کی عمر تو میں ہر دن کا اضافہ جیسا کہ اوپر گزر چکا ان کی بقیہ عمر میں کمی کا باعث بنتا ہے لیکن فنا ناپذیر چیزوں کے معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ کسی نظریے، خیال، تصور، کتاب یا ٹیکنالوجی کی عمر میں ہر دن کا اضافہ اس کی باقی ماندہ متوقع عمر میں اضافہ کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کوئی کتاب، نظریہ، خیال یا ٹیکنالوجی جتنی پرانی ہوگی اسکے مستقبل میں بھی موجود ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ یعنی اگر پہیہ ٹیکنالوجی اگر 4000 سال پرانی جبکہ آٹوموبائل سوا سو سال پرانی ہے تو آج سے پانچ سو سال بعد پہیے کے موجود ہونے کے امکانات آٹو موبائل کے موجود ہونے سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ لنڈی ایفیکٹ ہے۔
 
لنڈی ایفیکٹ کی وجہ تسمیہ نیویارک میں لنڈی کا ریستوران ہے جہاں کامیڈینز روزانہ جمع ہوتے اور گپ شپ کرتے۔ یہیں پہلی مرتبہ البرٹ گولڈ مین نے ساٹھ کی دہائی میں مشاہدہ کیا کہ جو کامیڈین ٹی وی پر جتنے زیادہ عرصے سے پرفارم کررہا ہے اس کے مستقبل میں بھی ٹی وی پر موجود ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہیں۔ گولڈمین نے لنڈی کے ریستوران کی نسبت سے اسے “لنڈی کا قانون” قراردیا۔  اسی کو بعد میں مینڈلبراٹ نے بیان کیا اور پھر نسیم طالب نے اس کی تعریف کو وسعت دی۔

اسی سے ملتے جلتے خیالات طبیعات دان رچرڈ گاٹ اور کئی دوسرے لوگوں نے بھی پیش کیے ہیں۔ رچرڈ گاٹ نے اصولِ معمولیت  (Mediocrity Principle) کے اطلاق سے مختلف چیزوں کی زندگی کے بارے میں حیران کن حد تک درست پیش گوئیاں کیں۔ یہاں ہم اپنے مقصد کیلئے اصولِ معمولیت کی سادہ  سی تعریف یہ کرسکتے ہیں کہ کوئی بھی چیز جو ہم دیکھتے ہیں زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ خاص نہیں بلکہ عام ہے یعنی زیادہ سب سے زیادہ پائی جانے والی چیزوں میں سے اور سب سے عام حالت میں ہے۔ رچرڈ گاٹ نے جب 1969 میں دیوار برلن دیکھی تو اس وقت وہ آٹھ سال پرانی تھی۔ اس نے اس بنیاد پر کہ اس کا یہاں آنا کوئی خاص بات نہیں بلکہ عام اور معمولی بات ہے یہ نتیجہ نکالا کہ اس چیز کا 75 فیصد امکان ہے کہ دیوار اپنی پچیس فیصد زندگی گزار چکی ہے لہذا عین ممکن ہے کہ 1993 تک یہ دیوار اپنی زندگی پوری کرچکی ہو۔ اور 1993 سے قبل ہی دیوار واقعی فنا کا شکار ہوگئی۔  یہی نہیں بلکہ اسی اصول کے اطلاق سے اس نے متعدد تھیٹر شوز کے دورانیے کی بھی 95 فیصد درست پیش گوئیاں کیں۔

یاد رہے کہ رچرڈ گاٹ اور نسیم طالب کے دلائل مختلف ہیں تاہم فنا ناپذیر چیزوں پر اصول معمولیت کے اطلاق سے بھی ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جو چیزیں جتنے لمبے عرصے سے موجود ہیں اوسطا انہی کے ابھی کافی عرصے تک مزید موجود رہنے کے امکانات ہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ لنڈی ایفیکٹ اوسطا درست ہے تاہم ضروری نہیں کہ مخصوص چیزوں پر اس کے اطلاق سے ہم ہمیشہ ہی درست پیش گوئی کرسکیں۔ مثلاً یہ ہر گز ضروری نہیں کہ کوئی ٹیکنالوجی اگر دوسوسال سے موجود ہے تو وہ اگلے پانچ سال میں ختم نہیں ہوسکتی۔ نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ ہر نئی چیز لازما ناپائیدار و بے کار ہے۔ یعنی اگر انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کو  صرف پچیس سال ہوئے ہیں تو لنڈی ایفیکٹ کے اطلاق سے جس طرح یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ یہ اگلے پانچ سال بعد لازما موجود ہوگا اسی طرح یہ بھی نتیجہ بھی نہیں نکالا جاسکتا کہ پچیس سال بعد یہ لازما موجود نہیں ہوگا۔

ویسے تو لنڈی ایفیکٹ کے متعدد دلچسپ اطلاقات ہوسکتے ہیں لیکن یہاں ہم صرف مضمون کے شروع میں اٹھائے گئے سوال سے بحث کرتے ہیں۔ بچوں کو مستقبل کیلئے تیار کرتے ہوئے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مستقبل نامعلوم ہے۔ ہم  نہیں جانتے کہ مستقبل میں کون سی اسکلز اور نظریات ریلونٹ (Relevant) ہوں گے تو ہم انہیں کیا سکھائیں؟۔ لنڈی ایفیکٹ کے اطلاق سے ہم بڑی حد تک اعتماد سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جو  نظریات اور کتابیں کئی دہائیوں اور صدیوں سے ریلیونٹ چلے آرہے ہیں وہ اگلے بیس پچیس سال میں بھی ریلیونٹ رہیں گے۔ جبکہ وہ نت نئی چیزیں جو آج مقبول ہیں وہ اگلے دس سال میں شاید فنا کے گھاٹ اتر جائیں گی۔ مثلا یہی دیکھیے کہ آج سے دس سال پہلے 2007 میں دنیا بھر میں لاکھوں کتابیں چھپیں جن میں سے ننانوے فیصد کا نام و نشان دس سال میں ہی مٹ گیا ہے۔ جب کہ صدیوں پرانی کتابیں آج بھی اتنی ہی ریلیونٹ ہیں جتنی کہ وہ دس سال پہلے تھیں۔  تو بچوں کو مستقبل کیلئے تیار کرنے کا بہترین طریقہ شاید یہی ہے کہ انہیں کلاسکس پڑھوائیں (اس سے جو لوگ یہ نتجہ نکالیں گے کہ بچوں کو کوئی نئی چیز ہر گز نہ پڑھائیں یہ ان کے اپنے فہم کا قصور ہوگا)۔

 

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: