گدھا کہتے کسےہیں ۔۔۔۔ حسن تیمور جکھر

0
  • 22
    Shares

گدھا کہتے کسےہیں۔۔۔۔ آج کل سوشل و پرنٹ میڈیاپہ گدھے کی بڑی چرچاہے ۔۔ ہردوسرے روز یارلوگ اس معصوم پہ قلم آزمائی کرتے نظرآرہے ہیں۔۔کچھ اسے دانشورقراردیتے ہیں تو کچھ ‘‘گدھا‘‘ہی سمجھتے ہیں۔۔کچھ گدھے کے کھانے پہ نکتہ چیں ہیں توکچھ گدھے کو ‘‘کھانا‘‘سمجھ رہے ہیں۔۔کچھ گدھے کی پھیلائی بیماریوں کا ڈراوا دے رہے ہیں تو کچھ اس سے بنی ‘‘ادویات کے فوائد ’’پہ نظریں رکھے ہوئےہیں۔۔خود کوبھی پانچ سواروں میں شامل کرتے ہوئے اس موضوع پہ تحقیق کا فیصلہ کیا ۔۔۔ چلیں ملکر ڈھونڈتے ہیں کہ یہ گدھا کہتے کسے ہیں؟؟؟؟؟

اپنی وضع قطع اور چال ڈھال میں گدھا ایک شریف النفس اور صابر قسم کا جاندار ہے ۔۔۔ یہ گھنٹوں بلاچوں چرا کیے مشقت کرتا ہے اور بدلے میں کچھ نہ بھی ملے توہینکنے سے زیادہ کچھ نہیں کرتا ۔۔۔ اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس پہ جتنا بھی بوجھ لاد دیا جائے یہ دبنے کی بجائے مزید اٹھانے کےلیے تیار رہتا ہے ،لادنے والے سے شکایت تک نہیں کرتا۔۔ ضروری نہیں گدھا ایک لمبوترے چہرے والا اور بڑے بڑے کانوں والا ہی ہو۔۔یہ کوئی گول مٹول،کتابی ،یابیضوی چہرے والابھی ہوسکتا ہے۔۔ ۔۔ ضروری نہیں گدھا چار ٹانگوں والا ہی ہو،،،،دو ٹانگوں پہ بھی کوئی گدھا ہوسکتا ہے ۔۔ ضروری نہیں کہ گدھا ڈھینچوں ڈھینچوں ہی کرے ۔۔ یا اسلام علیکم میرے عزیز ہم وطنو ۔۔۔یا ناظرین میں اس وقت موجود ہوں فلاں فلاں جگہ پہ ۔۔۔۔بھی کہہ سکتا ہے ضروری نہیں کہ گدھاصرف وزن ڈھوئے اور مال برداری کرے ۔۔ یہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر انسانوں پہ حکم بھی چلاسکتاہے۔۔ گدھے کی ایک دم بھی ہوتی ہے ،،اور کئی بغیر دم کےایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر بےاختیار زبان خلق پکار اٹھتی ہےکہ ’’ابے او گدھے کی دم’’؟؟؟؟۔۔۔ گدھوں میں بھی درجے ہیں ۔۔ کچھ اعلی گریڈ کے ہوتے ہیں تو کچھ درجہ چہارم کے ۔۔۔۔۔۔۔درجہ بندی کے لحاظ سے اعلی منصب والے زیادہ جبکہ کم والے نسبتا ‘‘کم گدھے ’’ہوتے ہیں۔۔۔ کھانے کے معاملے میں گدھاغیرمتوقع مزاج رکھتا ہے ۔۔۔چار ٹانگوں والا ہو تو گھاس پھونس پہ گزاراکرلیتا ہے ،،،،، اور اگر دوٹانگوں والا ہو تو آدھاملک کھاکہ بھی پیٹ نہیں بھرتا۔۔۔ کچھ ناقدین کا یہ بھی کہناہے کہ گدھا کسی ٹھوس جسم کا نہیں، بلکہ ایک کفیت کا نام ہے ۔۔اس کیفیت میں آنے والے سے اپ کچھ بھی توقع کرسکتے ہیں ۔۔ وہ ایک ہی تعمیراتی منصوبے کا دوبار افتتاح بھی کرسکتا ہے ۔۔۔ وہ ایک نئی سڑک کو ایک ہفتے بعد ہی نئے منصوبے کے نام پہ دوبارہ بھی اکھاڑ سکتا ہے ۔۔ گدھے کو بےوقوف بنانا ایک نہایت مشکل کام ہے ،،،کیونکہ اس کےلیے دماغ کی سخت ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ اور یہ یقینا گدھے کے پاس نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے پاس جو گدھے کو بےوقوف بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔۔۔۔ ایک اندازے کےمطابق دنیامیں سب سے زیادہ گدھے مصرمیں پائے جاتے ہیں ۔۔یہ اندازہ (مرسی کی حکومت پہ السیسی کےقبضے کے بعد لگایاگیاہے )۔۔ اسی اندازے کے بعد مصرکےبعد سب سے زیادہ گدھے پاکستان میں پائے جاتے ہیں (تاہم حتمی تعداد مردم شماری کےبعدہی سامنے آئیگی)۔۔ اس موضوع پہ جتنا مرضی لکھتے جائیں ،کم پڑجائیگا ۔۔ اس لیے محدود رہتے ہوئے اسی پہ اکتفا کرناچاہوں گا کہ اس قدر خصائل گنوانے کےبعد میں خود کو بھی گدھا گدھا سا محسوس کرنےلگا ہوں ۔۔۔ اور اب ڈر ہے کہ سی پیک والے چائنیز شائد مجھے بھی کھا جائیں ۔۔۔کیوں کہ سنا ہے کہ گدھوں کا تو وہ کچھ بھی نہیں چھوڑتے۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: