اضطراری سیکولرازم

0

سیکولرازم سے سے عموماّ “ریاست (حکومت) سے دین کی علیحدگی” مراد لی جاتی ہے اور ہم نے گذشتہ کئی مقالات میں بیان کیا ہے کہ سیکولرازم سے ہم یہ معنی مراد نہیں لے رہے، کیونکہ یہ مفہوم جس ثقافتی رہن سہن کی پیداوار ہے، وہ ہمارے ماحول اور بود و باش سے یکسر الگ اور مختلف ہے، اگرچہ ہماری قوم کے بچوں کی ایک مٹھی بھر تعداد دوسری اقوام کی انہی باتوں کی نقالی پسند کرتی ہے جن سے اس کی آنکھیں چکا چوند ہوچکی ہوں۔ مثل مشہور ہے کہ الناس فیما یعشقون مذاھب (پسند اپنی اپنی مزاج اپنا اپنا) ۔
لیکن ” اضطراری سیکولرازم ” سے ہم ایک نئے معنی مراد لے رہے ہیں اور ان معنوں تک ہمیں پہنچانے کا سہرا ان اسلامسٹوں کے سر جاتا ہے جو امتِ مسلمہ سے اس کا دین چھین کر (ہائی جیک کرکے) اس پر صرف اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں الّا یہ کہ لوگ ناپسندیدگی کے باوجود ان کی قیادت کو قبول کرلیں، اگرچہ یہ قیادت شرعی اعتبار سے حق کے مقرر کردہ معیارات سے کتنی ہی بعید کیوں نہ ہو۔ ہم نے طویل عرصہ اس بات کا انتظار کیا کہ شائد ان اسلامسٹوں کی صفوں سے کوئی عاقل اٹھے جو انہیں ان کے اختیارکردہ فیصلوں اور طرزِ عمل کے عواقب و نتائج سے آگاہ کرکے انہیں روکے، لیکن یہی دکھائی پڑتا ہے کہ ایسی کوئی بھی آواز جو ان کی صفوں سے اٹھے، اسے دبا دیا جاتا ہے اور اسلامسٹوں کے ایسی سوچ رکھنے والے اصحاب الرائے لوگ ، راندہءِ درگاہ قرار پاتے ہیں۔
“اضطراری سیکولرازم” سے ہماری مراد ہے “دین سے سیاست کی علیحدگی”۔ اور یہ اوپر بیان کی گئی تعریف یعنی “سیاست سے دین کی علیحدگی” کے بالکل برعکس ہے، اگرچہ بظاہر صورت کے اعتتبار سے ایک ہی بات معلوم ہوتی ہے۔ اور ہماری اس بات (یعنی یہ کہ دین سے سیاست کو علیحدہ کیا جائے) کی وجہ یہ ہے کہ سیاست نے اسلامسٹوں کے دین میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے، اس کا نتیجہ یہی نکلا کہ یہ لوگ امت کے حق میں مفسدین ثابت ہوئے۔ اور ہم دین میں بگاڑ اور فساد پرپا کرنے پر خاموش نہیں رہیں گے۔ اگرچہ جس کی اس فساد پر نظر نہیں پڑی، اس کی نظر میں سب اچھا ہی دکھائی دے رہا ہے۔
اس بات کو سرسری اور ہلکا لینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اصلاح کے نام پراسلامسٹوں نے اگلی صفوں میں بڑھ کر قیادت سنبھالنے کی کوشش کی اورمعاشرے کے مختلف طبقوں نے ان کے لئے جگہ چھوڑی تاکہ دیکھیں تو سہی کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں !۔۔۔۔ لیکن اسلامسٹوں نے امور کو حکمت کی میزان پر رکھ کران کا حقیقی وزن جانچنےکی بجائے سطحیت کے ساتھ ان نعروں کو بلند کیا جو صرف اہلِ دین کے ائمہ کو سزاوار تھے۔ چنانچہ جب ان لوگون کو اقتدار ملا اور ہم نے ان کے اقوال و افعال کا جائزہ لیا توان کی اکثریت کو خیالی دنیاؤں میں خواب دیکھنے والے ان بے وقوفوں پرمشتمل پایا جنہوں نے ابھی تک عقلی بالغ نظری( Maturity) کی سیڑھی پر قدم نہ رکھا ہو۔ بلکہ ان میں سے بعض تو مرّوت جیسے بنیادی اخلاقی اوصاف سے تہی دامن پستیوں کی طرف گامزن تھے۔
اسلامسٹوں کا یہ دعویٰ ہے کہ “سیاست دین میں سے ہے اور اس امر سے غافل ہونے کی وجہ سے ہی امّتِ مسلمہ کو اغیار سے چوٹ پہنچی ہے”۔ بے شک یہ بات بالکل درست ہے اور حق ہے ، لیکن وہ اس سے باطل مراد لے رہے ہیں۔ کیونکہ سیاست جو دین کے تابع ہوتی ہے، ضروری ہے کہ وہ دین کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کرے، جبکہ ان اسلامسٹوں کی سیاست اور پالیسی ان کی اپنی ایجاد کردہ ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ۔ نہ وہ شرقی ہے نہ غربی نہ دینی نہ لادینی۔ گویا وہ ان متناقضات( Contradictions) کو باہم جمع کرنا چاہتے ہیں جن کی جمع پرخود ابلیس بھی قادر نہ ہوسکا۔
اسلامسٹوں کی سیاست نے دین کو میکاویلی سیاست کے تابع کردیا۔ جبکہ چاہئیے تو یہ تھا کہ اس کے برعکس ہوتا۔ اور بجائے اس کے کہ ان کے ہاتھوں امت کو کچھ خیر و عافیت پہنچتی اگرچہ قلیل ہی سہی، لیکن ہوا یہ کہ انہون نے مرض میں مزید اضافہ کیا۔
چنانچہ ہمارا مطالبہ اب یہی ہے کہ دین کو سیاست سے پاک کیا جائے اور یہ وہی اضطراری سیکولرازم ہےاور ہم ایسا ہرگز نہ چاہتے اگر شرع شریف میں بڑے ضرر سے بچنے کے لئے چھوٹے ضرر کو بادلِ نخواستہ اختیار کرنے کی اجازت نہ ہوتی۔ اور جب تک دین ان کے پھیلائے گئے فساد اور شوائب سے پاک صاف کرکے دین کی رغبت رکھنے والوں کی دسترس میں آسانی کے ساتھ نہیں آجاتا، تب تک ہم دین و سیاست کے اجتماع کی ہئیتِ ترکیبی میں کسی قسم کی کاوش سے معذرت چاہتے ہیں. ہماری کوشش کا مرکز سیاست نہیں بلکہ دین کو ہونا چاہئے جب تک ظروف ( Circumstances) تبدیل نہیں ہوجاتے۔ تاکہ ہم خسرانِ مبین سے بچ سکیں۔
ہمیں معلوم ہے کہ اسلامسٹ دین کو اپنی سیاست کی دکان چمکانے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں اوران کی حیلہ گری کے لئے دین ان کی ایک ضرورت تھا۔ لیکن ہم اس صورتِ حال کو اسی طرح جاری و ساری رہنے کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے چنانچہ اپنی استطاعت کے مطابق ان کا محاسبہ کرتے رہیں گے۔ وہ زمانے گذر گئے جب اسلامسٹ دین کا کھلواڑ بنا کر جو چاہا وہ کرتے رہے اور اس وہم میں مبتلا رہے کہ گویا زمامِ کار ان کے ہاتھوں میں ہے اوراس یقین میں مبتلا رہے کہ بالاخر اس تمام جوڑ توڑ اور کھلواڑ کا نتیجہ ان کے حق میں نکلے گا۔۔۔۔اب ان ترک تازیوں کی مزید گنجائش نہیں رہی۔ فتنوں نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، چنانچہ اگر دنیا ان کی نظر میں بہت قیمتی ہے تو آخرت ہماری نظر میں اس سے زیادہ قیمتی ہے۔
چنانچہ جو متنبہ ہونا چاہے وہ متنبہ ہوجائے، یا پھر اس کے بعد اپنے اعمال کے عواقب و جوانب ( Consequences) بھگتنے کے لئے تیار رہے۔ !!!!!۔۔۔۔۔۔

الشیخ سیّد عبدالغنی العمری القاسمی الادریسی الحسنی

(اردو ترجمہ: محمود احمد غزنوی)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: