سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات

0

سیاسی گمشدگیان اور صوبہ سندھ اور وفاقی حکومت کا ٹکراؤ
سندھ کو موئن جو دڑو ہونے سے بچائیے!!!
آئین، وفاق اور صوبے
سیاسی گمشدگیان اور صوبہ سندھ اور وفاقی حکومت کا ٹکراؤ

روزنامہ جیجل کراچی نے 14 اپریل 2017 کے ادارتی نوٹ میں سندھ کے وزیراعلیٰ کی تقریر قابل تعریف قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ وفاق کا رویہ شرورع سے چھوٹے صوبوں بلخصوص سندھ کے ساتھ درست نہیں رہا ہے۔ ہمارے محترم وزیر اعلیٰ پہلے بھی اسے طرح کے جرائتمندانہ بیانات دیتے رہے ہیں لیکن اس پر ہوتا کچھ بھی نہیں۔ عمومی طور پر جب مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتی ہے تو وفاقی حکومت کا چھوٹے صوبوں اور جنوبی پنجاب کے ساتھ رویہ سوتیلی ماں والا ہوتا ہے۔ لیکن گذشتہ 9 سال سے حکمران پیپلز پارٹی کا رویہ سندھ کے ساتھ بھی کوئی مثالی نہیں رہا۔ کیونکہ ان 9 سالوں کے طویل دورانیہ میں سندھ کے شہروں کو کھنڈر بنادیا گیا ہے۔ سڑکیں اور راستے تباہ ہوگئے ہیں،شہر گندے پانی کے تالابوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ حکومت سندھ تو گذشتہ9 برسوں میں سندھ کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی جیسا حق بھی نہ دے سکی ہے۔

روزنامہ سندھ ایکسپریس نے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت فقط پنجاب کی ترقی کو ہی ملکی معیشت کی ترقی سمجھتی ہے۔ جبکہ باقی صوبوں کو ملکی ترقی میں شمار ہی نہیں کیا جاتا۔ اور چھوٹے صوبوں کی فریاد کو سننا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خدا را فقط پنجاب کو وفاق نہ سمجھا جائے اور چاروں صوبوں کے برابر حقوق تسلیم کئے جائیں۔ اور مسائل کے حل کرنے کے لئے موثر اور وسیع اقدامات کئے جائیں۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہےکہ وزیر اعلیٰ کے اس سخت موقف والے بیان کی بھی حمایت نہیں کی جاسکتی جس سے سندھ میں وفاق کے خلاف ماحول بن رہا ہو۔

روزنامہ مہراں حیدرآباد نے اپنے ادارتی نوٹ میں وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو سندھ کارڈ کا عنوان دیتے ہوئے لکھا ہےکہ یہ بات عجیب ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو جواب صوبائی وزیر رانا ثناءُاللہ سے دلایا جاتا ہے، کسی متعلقہ وفاقی وزیر یا صوبہ کے وزیر اعلیٰ نےجواب نہیں دیا جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ پنجاب ہی اصل پاکستان ہے۔ اخبار کا خیال ہےکہ وفاق اور صوبوں کو یکسان محب وطن آنکھ سے معاملات دیکھنے ہونگے۔

مذکورہ اخبار کے ادارتی نوٹ میں عابد شیر علی کی جانب سے سندھ کے لوگوں کو بجلی چور کہہ کر 17 سے 20 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کرنے کی مذمت کی ہے۔ اخبار کے مطابق سندھ 70 فیصد گیس پیدا کر رہا ہے لیکن گیس پر چلنے والے 70 فیصد پروجیکٹ فقط پنجاب کو دیئے جارہے ہیں۔ اخبار نے گیس کی ملکی پیداوار میں صوبوں کی پیداواری صلاحیت کے اعداد شمار بھی دئے ہیں جس کے مطابق سندھ4032 MMCFD (سب سے زیادہ پیداوار)، پنجاب 137 MMCFD(سب سے کم)، خیبرپختونخواہ 1377 MMCFD، اور بلوچستان 1889 MMCFD سے پیدا ہو رہی ہے۔ اخبار کے مطابق نوری آباد میں پاور پلانٹ تیار ہیں لیکن اسے چلانے کے لئے گیس نہیں دی جارہی ہے اس سے پہلے پاکستان اسٹیل مل کو گیس نہیں دی جارہی تھی اور اسٹیل مل آج کل بند ہے۔

سندھ کو موئن جو دڑو ہونے سے بچائیے!!!
روزنامہ عوامی آواز نے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ جون میں مالی سال کا اختتام ہوتا ہے اور جولائی سے نیا مالی سال شروع ہوتا ہے۔ صوبہ سندھ کی حکومت کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں وقت پر ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کئے جاتے اور مارچ مہینے سے اس میں تیزی لائی جاتی ہے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر اس طرح کے منصوبوں پر بدعنوانیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہےاور یہ منصوبہ بے فیض بن جاتے ہیں۔ اس وقت بھی سندھ میں 41 ترقیاتی منصوبہ بنائے گئے ہیں اور ان کے لئے اضافی رقوم کا بندوبست کیا جارہا ہے تاکہ31 دسمبر 1917 تک ان پروجیکٹس کو پایہ تکمیل پر پہنچایا جائے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ گذشتہ 8 سالوں میں ترقیاتی پروگراموں پر جو اربوں روپیہ خرچ ہوئے ہیں اس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ اور کسی ایک علاقے میں بھی ترقی نام کی کوئی چیز نہیں دکھائی دے رہی اور پورا صوبہ موئن جہ دڑو کا منظر پیش کر رہا ہے۔

روزنامہ کاوش نے 15 اپریل2017 کے ادارتی صفحے پر اشفاق آذر کا تفصیلی تجزیہ شایع ہوا ہے جس کے مطابق جب انتخابات قریب آتے ہیں تو اس طرح کےبیانات آنے شروع ہوجاتے ہیں اور پیپلز پارٹی ایک قوم پرست جماعت بن جاتی ہے اور چھوٹے صوبوں پر وفاق کی طرف سے زیادتیوں کے تاثر کو زور دار طریقے سے ابھارا جاتا ہے۔اس سے پیپلز پارٹی کی اپنی کوتاہیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور دوسری طرف رائے عامہ بھی اس طرح بن جاتی ہے کہ وفاق ہمیشہ سندھ کے ساتھ زیادتیاں کرتا ہے۔ مضمون میں تجزیہ نگار نے عزیر بلوچ کا فوج کی تحویل میں جانا حالات کا ایک نیا رخُ ہے۔ جس نے ایک سال پہلے مئجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان میں پیپلز پارٹی کی سیاسی قیاد ت کو ملوث بتایا تھا۔

روزنامہ کاوش نے 15 اپریل2017 کے ادارتی نوٹ لکھا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت سینیٹ کو وہ اہمیت نہیں دے رہی جو(سینیٹ) فقط “مجلس مذاکرہ” بنی ہوئی ہے۔ حد یہ ہے کہ وزراء صاحبان سوالات کے جواب دینے کے لئے آنے کی تکلیف تک گوارا نہیں کرتے نہ ہی وزیراعظم صاحب تشریف لاتے ہیں۔ تو یہ ایک ایوان بالا کی بے توقیری نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن اب جو سیاسی ماحول بنایا جارہا ہے اس میں میاں نواز شریف کو اپنی کابینہ کو فعال کرنا چاہیے اور میاں رضا ربانی کو بھی صبر وتحمل سے کام لینے کی درخواست ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کے اس رد عمل سے غیر جمہوری قوتیں فائدہ اٹھائیں اور میان رضا ربانی کو پھر تیسری بار معذرت کا اظہار کرنا پڑے جس طرح وہ پہلے دو مرتبہ فوجی عدالتوں کی منظوری کے موقع پر کرچکے ہیں۔

آئین، وفاق اور صوبے
روزنامہ عوامی آواز نے اپنے15اپریل 2017 کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہےکہ 10 اپریل کو آئین کا دن منایا گیا جس میں آئین کی پاسداری کےعہد کئے گئے۔یہ ملک ابتدائی 25 سالوں تک ایسے آئین سے محروم رہا ہے جس پر تمام صوبے اور سیاسی پارٹیان متفق ہوں۔ چھوٹے صوبے 1940 کی قرارداد کے مطابق صوبائی خود مختاری، وسائل اور آمدنی پر اختیار مانگتے رہے ہیں لیکن شروع سے وفاق اور پنجاب کے سیاستدانوں کا رویہ رانا ثناءُاللہ اور عابد شیر علی جیسا رہا ہے جیسا انہوں نے سندھ کے وزیر اعلیٰ کے بیان پر دیا ہے۔ اس دفعہ معلوم ہوا ہے کہ سندھ کو وفاق نے 76 ارب روپیہ کم دئے ہیں، خریف کی موسم میں زراعت کے لئے پانی نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ کراچی اور دیر ساحلی علاقوں میں پینے کے پانی کے منصوبوں کے لئے بھی حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی حرکتوں سے سندھ اور بلوچستان کے باشندوں میں ناراضگی اور غم و غصہ کی لہر کا پھیلنا لازمی اور فطری ہو جاتا ہے۔۔۔

اسی تاریخ میں روزنامہ عوامی آواز نے سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر نصرت سحر عباسی کی رائے لکھی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بلا شبہ وفاق سندھ سے زیادتی کر رہا ہے لیکن جب پیپلز پارٹی خود وفاق میں حکومت کر رہی تھی تو اس نے سندھ کے لئے کیا کیاتھا؟ اب 4 سال گذرنے کے بعد جب الیکشن قریب آرہی ہے تو عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی آوازیں دی جارہی ہیں۔ ممتاز دانشور نصیر میمن نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے اس طرح بیانات سیاسی ہیں ان کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔ اور یہ فقط زرداری کے دوستوں کے گم ہوجانےکا رد عمل ہے۔انھوں نے کہا کہ نواز شریف میں بھی کسی نیکی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ انھوں نے مسلم لیگ ن سندھ کے عھدیداروں یا وزراء کو کتنا اختیار دیا ہے۔ سید غوث علی شاہ کی مثال آپ کے سامنے ہے۔سابق وفاقی سیکریٹری منصوبہ بندی فضل اللہ قریشی نے بھی موجودہ حکومت کے رویہ کو سیاسی اور انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا۔

روزنامہ عبرت کے ادارتی صفحے پر سرمند منصور کا تجزیہ شایع ہوا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ پیپلز پارٹی مقتدر قوتوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ اگر ان کے لئے گنجائش ختم کی گئی اور اس کو دیوار سے لگایا گیا تو متبادل طور پر قوم پرست پارٹیوں کو تقویت ملی گی اور وہ کسی بھی وقت مشکل صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔ موجودہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے اس طرح کے بیانات اس سلسلے کے ریئلسل ہے۔

روزنامہ عوامی آواز کے ادارتی صفحے پر زاہد حسین کا تجزیہ کے مطابق عزیر بلوچ کو فوج کی تحویل میں لینا اور زرداری کے مئنیجروں کی گمشدگی کے بعد یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب احتساب کا عمل پ پ قیادت کے خلاف شروع ہوگیا ہے۔ اور اس لئے وزیر اعظم کے سندھ کے متواتر دوروں سے پ پ مخالف قیادت کو ایک پیج پر لانے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ نواب لغاری اسلام آباد سے،غلام قادر مری اور اشفاق لغاری سندھ سے لاپتے ہوئے ہیں۔ اور اس کا ذمیدار وفاقی وزیر داخلہ کو بنایا جارہا ہے اور یہ سندھ حکومت کے لئے ایک پیغام ہے کہ کراچی آپریشن کا فیز 2 شروع کردیا گیا ہے۔ متماز صحافی زاہد حسین کے کالم کا سندھی ترجمہ کے مطابق ایک پولیس افسر کے عدالت میں دئے گئے بیان میں 1996 سے 80 ہزار لاشوں کو بغیر شناخت کے کراچی کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: