جہیز میں گھر ایک لازوال نعمت ہے

0

جو لوگ جہیز کو ایک لعنت قرار دیتے ہیں پتا نہیں وہ آئینے میں اپنی شکل کیوں نہیں دیکھتے حالانکہ وہ سب اسی جہیز کے سائے تلے پل کر جوان ہوئے ہیں۔
نکاح ایک سماجی اعلان ہوتا ہے کہ فلاں فلاں لڑکا اور لڑکی آج سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہے ہیں، اس موقع پر موجود لوگوں کا اکٹھ ایک سماجی گواہی اور خوشی میں شرکت سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا لیکن اس موقع کو جس طرح سے انا، غیرت، موج میلہ اور دکھاوے کا باعث بنا لیا گیا ہے یہ ایک ظلم کے مترادف ہے جس کے متاثرین صرف غرباء ہیں ۔
نفاذ اسلام کا نعرہ ان چھوٹے چھوٹے مگر اہمیت کے لحاظ سے حد درجہ اہم کاموں پر منطبق کرنا چاہئے تاکہ ان فضول رسم و رواج کو یکسر ختم کیا جا سکے جن کی وجہ سے غریبوں کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے، دیگر رسم و رواج کے علاوہ شادی پر خاندان بھر کا اکٹھ کرنے کی بھی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے، شادی میں صرف ارد گرد موجود لوگوں کو ہی بلانا چاہئے تاکہ تقریب نکاح کو سماجی شو بنانے سے گریز کیا جا سکے۔
اگر کسی خاندان نے ایک ساتھ کوئی موج میلہ کرنا ہو تو وہ سال بھر میں ویسے ھی اپنی ایک گرینڈ فیملی گیدرنگ رکھ لیا کریں لیکن سماجی ضرورتوں کو موج میلہ اور دکھاوے سے اسقدر پولیوٹ نہ کریں تاکہ دوسرے لوگ جو افورڈ نہیں کرسکتے وہ ان رسموں کی سولی پر بلاوجہ نہ ٹنگے رہیں۔
جہیز کے معاملے میں آپ اپنے گھروں، رشتے داروں اور ملنے جلنے والوں کے ہاں یہ ضرور دیکھ سکتے ہیں کہ جن کی شادیاں بیس بیس سال پرانی ہوگئیں ان کے جہیز کا بیشتر سامان ابھی تک ویسا ہی پیک پڑا ہوگا، خاص طور پر برتن، بسترے اور کامدار جوڑے وغیرہ وغیرہ، اسلئے دلہن کو جہیز میں صرف ایک ڈبل بیڈ، ایک ڈنر سیٹ جس میں ہر قسم کے برتن موجود ہوں، چھ چھ گرم سرد سوٹ اور چھ بستروں کے سوا کچھ مت دیا جائے اور یہ جہیز دینا میکے کی بجائے دلہا کے ذمے ہونا چاہئے۔
والدین کی طرف سے لڑکے اور لڑکی کو جائیداد میں سے بقدر حصہ نقد پیسہ ملنا چاہئے تاکہ اس رقم سے نیا جوڑا اپنے لئے گھر یا پلاٹ جو بھی ممکن ہو وہ لے کے اسے آباد کر سکیں، باقی چیزیں وقت کے ساتھ ساتھ ہر کوئی خود بنا لیتا ہے سوائے گھر کے، اس کے برعکس یہاں ہوتا یہ ہے کہ سارا پیسہ شادی کے فضول رواجوں پر خرچ کے نیا جوڑا بیچارا ساری عمر مکان بنانے کو ترستا رہتا ہے، اگر ان کو پلاٹ ہی لے دیا جائے تو جو رقم کرائے کے مکان پر ماہانہ خرچ کرنی ہے اس سے یہ کچا پکا کمرہ بنا کر آہستہ آہستہ اسے ڈویلوپ بھی کرسکتے ہیں جو بچے بڑے ہونے تک اچھا خاصا مکان بن جاتا ہے لیکن ہمیں عقل سے نوازنا یا اس سے کام لینا کار عبث ہے بلکہ ایک سر دردی کے سوا کچھ نہیں۔
بعض کھاتے پیتے لوگ جو اس مشورے پر عمل کر سکتے ہیں وہ بھی محض اس لئے اس پر عمل نہیں کر پاتے کہ کل کو میاں بیوی کا نبھاہ نہ ہوا تو اس مشترکہ جائداد کا کیا بنے گا حالانکہ وقت کے ساتھ ساتھ پلاٹ یا گھر کی قیمت بڑھتی ہی ہے کم ہرگز نہیں ہوتی جسے علیحدگی کی صورت میں بیچ کر دونوں کی رقمیں فریقین کو لوٹائی جا سکتی ہیں جبکہ شادی ہمیشہ نبھاہ کی نیت سے ہی کی جاتی ہے یہ کوئی چار دن کا کھیل سمجھ کر تو کوئی بھی نہیں کرتا تاہم یہ بھی سچ ہے کہ کچھ جوڑوں کا نبھاہ نہیں بھی ہو پاتا لیکن یہ بھی ایک طے شدہ امر ہے کہ جب میاں بیوی کا اپنا گھر ہو اور اس میں دونوں طرف کے سسرالیوں کی مداخلت کم ہو تو پھر گھر ٹوٹنے کی نوبت کم ہی آتی ہے خاص طور پر جب دونوں نے مل کر بنایا سنوارا ہو تو جہیز میں ملا گھر بھی ایک لازوال نعمت سے کم نہیں ہوتا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: