سیاست میں انسانی عنصر اور ترقی – احمد جاوید

1

سیاست، خصوصاً اس کی عملی صورتوں کو موضوع بنا کر کالم نگاری یا تقریر بازی کا شوق پورا کرنا ہو تو الگ بات ہے،کام کی گفتگو بہر حال نہیں ہو سکتی۔ یہ کسی پہلو سے ارادہ و شعور کی مرکزی فعلیت سے مناسبت نہیں رکھتی۔ بلکہ فکر و عمل اپنی معیاری ساخت پر برقرار ہوں تو یہ سارا تماشا سرے سے ناقابل التفات ہے۔

سیاست میں انسانی عنصر اس حد تک غائب ہو چکا ہے کہ ہر وہ شخص جسے آدمی ہونے پر اصرار ہو، اس سے لاتعلق رہنے پر مجبور ہے۔ ارادہ و شعور کی وہ خاصیت جو کمال انسانی کے اصول اور ان سے ہم آہنگ اوضاع و تصورات کو زندہ حالت میں اور حتمی ترجیح کے ساتھ زندگی کی ہر سطح پر موجود رکھتی یا رکھ سکتی ہے، اس کی ذرا سی جھلک بھی ہماری سیاسی صورت حال میں نظر نہیں آتی۔ انسانی نفسیات میں گراوٹ اور کجی کی جتنی شکلیں ہو سکتی ہیں، سب کی سب یہاں موجود ہیں۔ تفصیل میں تو کیا جانا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ سیاست نے ہماری زندگی میں اس نظریے کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جس کی بنیاد پر ہم ایک ملت ہیں ۔ اس نے ہر طرح سے ثابت کر دیا ہے کہ اسلام کو مدار حیات نہیں بنایا جا سکتا۔
ترقی وغیرہ کے نام پر مقاصد کا ایسا پرکشش نظام کھڑا کر دیا گیا ہے جس سے موافقت پیدا کرنے کے لیے احکام حق سے بے وفائی ناگزیر ہو گئی ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں کامیابی کا ہر دروازہ جھوٹ اور حب جاہ کی کنجی سے کھلتا ہے، دین کو نظام زندگی بنانے کی کوشش اقدام خودکشی ہی متصور ہو گی۔

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. نعمان علی خان on

    میں تو احمد جاوید صاحب کو خاصہ معقول مفکر سمجھتا تھا۔ یہ تو اس پیراگراف کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ شاید موصوف کا بھی پاکستان کے سسٹم میں اسی طرح سے پھدو لگا ہوا ہے جیسے بہت سے دوسرے دانشوروں کا۔ اور اسی بنا پر وہ [جانے یا انجانے میں] اس سسٹم پر ملامت کرکے، اپنا دامن بچا کر، سٹیٹس-کوو برقرار رکھنے کی اس غلیظ سازش کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
    پس نتیجہ یہی نکلا کہ یہاں جس کی دم اٹھاوٰ، وہ سسٹم کا ایجنٹ نکلتا ہے، یا اپنے انسانی ضمیر کو سلائے ہوئے ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: