عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں؟

0
  • 1
    Share

جدید دور میں صارفیت، انفرادیت اور سرمایہ داریت کے مذموم اتحاد ثلاثہ نے انسان کو بری طرح سے گھیر رکھا ہے اور اس سے “خبر” کو چھپا کر باخبر رہنے کے مسلسل فریب میں مبتلا کررکھا ہے۔ ہماری خوراک بھی اب خوراک کی روایتی تعریف کے مطابق خوراک ہی نہیں رہنے دی گئی، اور اسے بھی فطرت کے بجائے مشینوں کا مرہون منت کردیا گیا ہے۔ ہم روزانہ “خوراک” کے نام پہ کیا کچھ اپنے معدے میں اتاررہے ہیں اور اسکے ہماری زندگی اور صحت پہ کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، یہ حقائق چشم کشا اور خوفناک ہیں۔  جناب ریاض خٹک نے اس نازک موضوع پہ قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی اختصاصی تعلیم کی بدولت ریاض صاحب اس موضوع پہ مکمل دسترس اور اندر کی  خبر رکھتے ہیں۔ دانش کے قارئین اس حوالے سے مختلف پہلووں پہ یہ مضامین سلسلہ وار ملاحظہ کرتے رہیں گے۔ ش۔ا۔


مسئلہ کو جب سب مسئلہ مان لیں تو پھر اسکا حل ڈھونڈا جاتا ہے ورنہ مسئلہ کیلئے جواز ڈھونڈے جاتے ہیں۔ اسی لئے مسائل کی نشاندہی اہم ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ مسئلہ مانا تو جاتا ہے لیکن چونکہ ہم عادی ہوچکے ہیں تو اسے جواز سمجھ کر قبول کرنے کا کہا جاتا ہے۔
ہماری روزمرہ زندگی کیا ہے؟ یہ ہمیں طے کرنا ہے۔ جب ہم اپنی روزمرہ زندگی کو طے کرنے کا اختیار کسی اور کو دے دیں، اور وہ تاجر بھی ہو تو اس میں تاجر اپنا مفاد ہی مقدم رکھتا ہے۔ ہمھاری یہی روزمرہ زندگی ہمارا لائف سٹائل ہے۔ اس لائف سٹائل کو ہم اپنے مفاد میں رکھتے ہیں، یا کسی کی بنائی شکل کے مطابق، یہ اختیار ہمارا ہے یا ہم رکھ سکتے ہیں۔
تاجر جب لائف سٹائل طے کرتا ہے تو اُسکی ساری جدوجہد ڈیمانڈ اور سپلائی پر ہوتی ہے۔ جیسے برائیلر مرغی کی مثال ہے۔ ہم پہلے دیسی مرغی استعمال کرتے تھے، آبادی بڑھی ایگریکلچر سیکٹر کم ہوا، مرغیاں پالنے والے کم ہوگئے، کھانے والے بڑھتے چلے گئے، تاجر برائیلر مرغی مارکیٹ میں لے آیا۔ قیمت کم ہوئی، ڈیمانڈ بڑھتی گئی۔ اس ڈیمانڈ کی سپلائی کیلئے اُس نے اس مرغی کو کم وقت میں تیار کرنے کی کوشش کی۔ فیڈز بدلیں۔ وقت کم کیا۔ لیکن اس کمی کی قیمت ہم اپنی صحت سے ادا کرتے ہیں۔
اُس نے سبزیوں کو ہائے برڈ کردیا، اُس نے فصلوں کے بیج بدل لئے۔ یہ سب کوششیں اس سپلائی کو ممکن بنانے کیلئے کی جاتی رہیں، لیکن کیا ہمارا جسم بھی بدل رہا تھا۔ ایسا نہیں ہے۔ انسانی جسم کچھ اصولوں پر چلتا ہے۔ یہ اصول ہر دوسرے انسان کے الگ ہوسکتے ہیں۔ بنیاد بہرحال ایک ہوتی ہے۔ ہمارے خون کو جسم کے افعال چلانے کیلئے توانائی درکار ہوتی ہے۔ زندگی کو قائم کرنے کیلئے پانی درکار ہوتا ہے۔ ہمارا جسم اس خوراک اور پانی سے اپنے مطلب کی چیز اٹھاتا ہے۔ لیکن باقی لوازمات کا کیا ہوگا۔؟
ہمیں پیاس لگتی ہے تو ہم پانی پیتے ہیں۔ اگر یہی پیاس ہم کسی کولڈ ڈرنک سے پوری کریں تو وہ جو ہائی لیول کا شوگر ہم بدن کو دیتے ہیں وہ پیسٹی سائیڈز جو اس شوگر اور فلیور کو شیلف لائف دینے کیلئے استعمال ہوئے کیا وہ بھی جسم میں نہی جائیں گے۔؟

ہمیں یہ سمجھ لینی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کے باسی ہیں جہاں تجارت جنگ کے اصول سے ہوتی ہے۔ اس میں سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے۔ ہم ایک ایسے نظام میں ہیں جہاں کنزیومر کے مفادات کے نگران محکمے سرے سے موجود نہیں یا نہ ہونے کے برابر ہیں۔
یہ سمجھ ہمیں ہر شعبے میں درکار ہے۔ ایک چھوٹی سی کون مہندی میں استعمال ہوئے تیزاب سے، جو ہمھاری بچیوں کے ہاتھ بگاڑ دیتی ہے، سے لےکر روز کھائے جانے والے اناج تک۔ یہ سمجھ اگر آگئی اور مسئلہ کی نوعیت طے ہوگئی تو حل بھی نکل ہی آتا ہے۔ گھر کی ہانڈی محتلف اشیاء سے مل کر بنتی ہے۔ جب یہ سمجھ آجائے تو گھر کے گملوں میں ہم دھنیا مرچ ٹماٹر کاشت کرلیں تب بھی ہم اس ہانڈی میں پچاس فیصد بدلاو لے آتے ہیں۔

یہ ایک جستجو ہے۔ یہ مارکیٹنگ و تجارت کی دوڑ میں انسانی معاشرت کی گم کردہ راہ ہے۔ یہ ایک اجتماعی کوشش ہے۔ جس میں ہم اپنی اصل سے دور سے ہوئے آج کی انڈسٹریل دوڑ میں بھولے بھٹکے راستوں کی کھوج کریں گے۔
اس کھوج میں ہم اپنے آج کے باورچی خانے میں کھانے کی ہرچیز کی پڑتال کریں گے۔ یہ تحقیق کریں گے کہ میڈیا کی چکاچوند روشنیوں میں بتائی ہوئی چیز کا پس منظر کیا ہے۔ کیا یہ ایسا ہی ہے جیسا دکھایا جارہا ہے۔ کیا یہ وہی ہے جو بتایا جارہا ہے؟
یاد رکھیں اس کائنات میں سب سے بڑی نعمت صحت ہےجس کی بنیاد پر زندگی کی عمارت کھڑی ہے۔ ہمیں اپنی بنیادوں کا ایندھن ٹٹولنا ہے، اسے پرکھ کر اپنانا ہے۔
آج ہم پیتے کیا ہیں۔ کھاتے کیا ہیں، وہ مشروبات، یہ اناج، یہ سب بنتا کیسے ہے؟ وہ مصالحہ جات، تیل، گھی، چینی، دودھ  و ڈیری  کی  پراڈکٹس کے ساتھ ڈیپارٹمنٹل سٹورز کی طویل قطاروں میں ڈبہ بند خوراک تک ہر چیز ہم نے دیکھنی ہے۔ اسکی اصل کے بارے میں جاننا ہے اور اپنے ساتھ کئے گئے اس کھلواڑ کا جائزہ لینا ہے۔
اس سلسلہ کے تحت آنے والے ہر مضمون میں ہم ایک چیز اور ایک پہلو کے بارے میں مفصل بات کریں گے، اسکی کنہہ تک پہنچیں گے، اصل جانیں گے اور ممکنہ متبادل پر بھی تجاویز دیں گے۔

زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے
عہد کم ظرف کی’خوراک‘ گوارا کرلیں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: