اپنی ملت پہ قیاس مُلا و مسٹر سے نہ کر

0

مولوی، لبرل اور ٹرئیڈ تھیسز

جرمن فلسفی فریڈرک ہیگل نے گفتگو، رویوں اور نظریات کی ڈویلپمنٹ کے بارے میں ایک نظریہ پیش کیا تھا جس کے تین اجزاء ہیں، تھیسز، اینٹی تھیسز اور سینتھیسز یعنی نظریہ، مخالف نظریہ اور حتمی نظریہ، یہ فلسفہ ہیگل کی اپنی کسی تحریر میں مذکور نہیں تاہم مفکروں کے ہاں یہ اسی کے نام سے منسوب ہے، ٹرئیڈ کا مطلب ہے سہہ جہتی یا تین پرتوں والا، اسی مناسبت سے اسے Hegelian Tried Thesis کہتے ہیں۔

ٹرئیڈ تھیسز” کے مطابق کسی بیانیئے یا رویئے سے ایک تھیسز یا نظریہ پیدا ہوتا ہے پھر اس نظریئے میں موجود کمزوریوں یا چیرہ دستیوں کے ردعمل میں ایک اینٹی تھیسز یا مخالف نظریہ پیدا ہوتا ہے اور پھر ان دونوں کے ٹکراؤ سے سینتھیسز یا ایک آسودگی مائل حتمی نظریہ پیدا ہوتا ہے، اس پر مزید گفتگو کرنے سے پہلے اس نظریئے کہ کچھ تفہیم کرلیتے ہیں۔

[تھیسز کی تشریح]
مثال کے طور پر جب آپ بچے کی تعلیم و تربیت شروع کرتے ہیں تو آپ کے تربیتی زاویئے سے بچے کے اندر زندگی سے متعلق عین آپ کی منشاء کے مطابق ایک نظریہ پرورش پا رہا ہوتا ہے، وہ آپ کی بتائی ہوئی ہر ایک بات کو سچ ماننے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ ایک تو وہ آپ کے زیردست یا آپ کا محتاج ہوتا ہے، پھر اس کے پاس کوئی دوسرا آپشن یا اتنی سمجھ بوجھ بھی نہیں ہوتی کہ آپ کی بات کو کسی دوسرے سے کمپیئر کرکے اپنا کوئی ذاتی نظریہ قائم کر سکے لہذا اس دور میں آپ اسے جو بھی بھاشن دیں گے اسے سن کر وہ آمنا و صدقنا کہہ کر قبول کر لے گا اور اس بات کو حتمی اصول ہی سمجھے گا، یہ اصول اس بچے کا تھیسز کہلائے گا۔

[اینٹی تھیسز کی تشریح]
آپ سے تربیت یافتہ وہی بچہ جب اپنی تعلیم اور اپنے ذاتی فہم و شعور کے ساتھ عملی زندگی کے آزاد دائرے میں داخل ہوتا ہے تو بہت ساری چیزوں کے آئینے میں آپ کے دیئے ہوئے بھاشن کے کچھ حصے اسے غلط نظر آنے لگتے ہیں، اس مرحلے پر ان حصوں سے متعلق اس کے اندر اپنا ایک ذاتی نظریہ پرورش پانے لگتا ہے جو آپ کے نظریئے سے کچھ مختلف ہوتا ہے، یہ اس کا اینٹی تھیسز کہلائے گا۔

[سینتھیسز کی تشریح]
بچے کو آپ اسی وقت تک اپنے کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں جب تک وہ تھیسز کے دور میں رہتا ہے، جب وہ اینٹی تھیسز کے دور میں داخل ہو جائے تو اسے کچھ اسپیس دینی پڑتی ہے لیکن اس موقع پر جب آپ اسے اختلافی معاملات پر اسپیس نہیں دیں گے بلکہ پہلے کی طرح اپنی ہی بات کو درست تسلیم کروانا چاہیں گے تو یہاں پر ایک نظریاتی ٹکراؤ پیدا ہوگا، اس موقع پر بےجا سختی سے تنگ آکے نوجوان اگر اپنی علیحدہ ایک راہ متعین کرلے اور آپ کے دائرے سے مکمل طور پر نکل جائے تو یہ اس کا سینتھیسز کہلائے گا جس میں زندگی سے متعلق اس کے نئے نظریئے میں کچھ باتیں آپ کی ہوں گی، کچھ دوسروں کی اور کچھ اس کی اپنی اخذ کردہ ہوں گی اور اس پیکیج کے ساتھ وہ زیادہ کمفرٹیبل محسوس کرے گا بہ نسبت اس کے جو آپ نے اسے پڑھا رکھا تھا یا منوانا چاہا۔

[عملی زندگی اور ٹرئیڈ تھیسز]
زندگی کے کسی بھی معاملے کو ہینڈل کرنے کیلئے معاشرے کے پاس بھی ایک مروجہ نظریہ ضرور ہوتا ہے، عمومی طور پر اسے حتمی نظریہ سمجھا جاتا ہے اسے ہم تھیسز بھی کہہ سکتے ہیں۔

لیکن ایک وقت کے بعد جب نئی سوچ کی نسل عملی میدان میں آتی ہے تو وہ اس نظریئے میں موجود خامیوں یا ناانصافیوں سے متفق نہیں ہوتی اور اس نظریہ کی اصلاح کیلئے اس میں کچھ ترامیم کا تقاضا کرتی ہے، اسے ہم اینٹی تھیسز کہہ سکتے ہیں۔

قابل اصلاح چیزوں کو درست کرنے کے بعد جب اس نظریئے کی ایک نئی اور حتمی شکل پیدا ہو گی تو اسے ہم سینتھیسز کہہ سکتے ہیں لیکن یہ سینتھسز ایک مخصوص عہد تک قائم رہتا ہے اس کے بعد یہ تھیسز کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے جس میں اگلی نئی نسل کو پھر سے کچھ تبدیلیوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

زندگی کے کسی بھی معاملے کو ہینڈل کرنے میں موجود دشواریوں، ناہمواریوں یا غیرمنصفانہ رویوں کے خلاف یہ ترمیمی سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے اور جسے ہم تہذیبی یا معاشرتی ارتقاء کہتے ہیں وہ ہمیشہ اسی ترمیمی سلسلے یا ٹرئیڈ تھیسز کا محتاج ہوتا ہے اور اسی پروسس سے ارتقائی منزلیں طے کرتا ہے۔

[جدید دنیا کا نظام تعلیم اور ٹرئیڈ تھیسز]
جدید دنیا خصوصاً فرانس نے اپنا نظام تعلیم ہمیشہ نفسیاتی بنیادوں پر استوار رکھا ہے تاکہ بچے کی گروتھ پرفیکٹ طریقے سے ہو سکے، آئیکیو کی ایجاد بھی اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھی جو سر الفرڈ بنٹ نے نظام تعلیم میں ذہنی نشوونما کو بہتر کرنے کیلئے قائم کی تھی، موجودہ دور میں فرانس کا طالبعلم اس وقت تک کوئی نظریہ پیش نہیں کرتا جب تک وہ بذات خود اسے تھیسز، اینٹی تھیسز اور سینتھیسز کی چھلنی سے نہ گزار لے، وہ اپنے ہی نظریئے کا ناقد بن کر پہلے اپنے نظریئے کی خامیوں پر قابو پاتا ہے پھر اسے ادبی مطالعے یا ادبی تنقید کیلئے پیش کرتا ہے، اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے نظریئے کو مخالفت کا سامنا نہ ہونے کے برابر ملتا ہے کیونکہ اپنے نظریئے کو مخالف کی آنکھ سے دیکھ کر اس میں ضروری ترامیم بروئے کار لانے کے بعد ہی وہ کوئی چیز تنقیدی جائزے کیلئے پیش کرتا ہے۔

[جدید دنیا کا سماجی فلسفہ]
فرد کے ذاتی نظریات ہمیشہ بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں اور اسی طرح زندگی کے مختلف مدارج میں فرد آگے بڑھتا رہتا ہے، لیکن اسٹیٹ میں چونکہ خاندان، قبیلے اور طبقات بھی آباد ہوتے ہیں جنہیں آسودہ حال زندگی فراہم کرنے کیلئے ایک تھیسز اسٹیٹ کی طرف سے بھی ہوتا ہے، عرف عام میں اسے آئین کہتے ہیں تاکہ معاشرے کے لوگ اس کی پاسداری کرتے ہوئے بین الطبقات اور بین الریاست آسودگی کے ساتھ رہ سکیں۔

مغربی دنیا نے چونکہ مذہب سے آزادی حاصل کرلی تھی اسلئے وہاں خاندان سے وفاداری کی بجائے individualism بڑھتا چلا گیا اور وفاداری کا محور مادیت اور ریاست طے پائی، ریاست نے بھی فرد کو اس کے حسب منشاء ہر قسم کی آزادی و خود مختاری دیتے ہوئے معاشرتی اکائیوں کے ٹوٹنے کی کوئی پرواہ نہیں کی البتہ فرد کو اکائی کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے اسے آسودہ حال کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

[ہمارے بیانیوں کا مسئلہ]
سیاسی اور مذہبی ذمے داروں کی بداعمالیوں اور اپنی حد سے تجاوز کرنے پر جو صورتحال پیدا ہوئی اس نے لبرلزم کی شکل میں ایک اینٹی تھیسز پیدا کیا جسے پسی ہوئی عوام کی طرف سے بھرپور پزیرائی ملی لیکن لبرلزم بھی اس پزیرائی کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کرسکا بلکہ کئی قدم آگے بڑھ کر اب یہ ہمارے بنیادی ڈھانچے پر ہاتھ ڈال چکا ہے تاکہ فرد اور ریاست کو مغربی معاشروں کے قریب تر لایا جا سکے۔

لبرلزم ایک اینٹی تھیسز کے طور پر ابھرا تھا اور ابھی سینتھیسز نہیں بن پایا تھا کہ اس نے اپنے جارحانہ رویئے سے اپنا اینٹی تھیسز بھی پیدا کر لیا، اس کی بنیادی وجہ یہ بنی کی نیا لبرل بیانیہ جب اس شدت پسند قوم کے ہاتھ میں آیا تو وہ بھی شدت پسندی پر اتر آیا اس سے ثابت یہ ہوا کہ ہمیں بیانیئے نہیں بلکہ صرف اپنے رویئے بدلنے کی ضرورت ہے۔


ہم پہلے ہی سے لبرل ہیں لیکن اتنے بڑے لبرل نہیں کہ اپنے پیش رؤوں کا ٹھٹہ اڑائیں، ہم مذہبی ہیں لیکن اتنے بڑے مذہبی بھی نہیں کہ کسی کی گردن مارنے چل دیں


میں حقیقت سے آنکھیں چرانے والا ہرگز نہیں، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم مغربی معاشرے کے مقابلے میں ہر طرح سے بہت پیچھے ہیں، عقل، فکر، تحقیق، سماج، معاش، معاشرت، تعلیم، نظامِ مملکت، بنیادی سہولتوں اور دیگر ضروریات زندگی میں بہت تنگدست ہیں، مذہبی اور سیاسی سائیڈ پر ویژنری قیادت کا فقدان ہے، ہم ایک قوم نہیں رہے، ہماری کوئی منزل ہے نہ رہنما، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ تمامتر روشن عقلیں جمع کرکے اس کا نقص صرف یہ بتائیں کہ مسلمان روز اول سے ایسے ہی گھٹیا ہیں، پھر جنہیں ہم مشاہیر مانتے ہیں ان کے عیب گنوائیں، جسے ہم اپنا زریں دور مانتے ہیں اسے جھوٹ کا پلندہ گردانیں، پھر ان نقائص کا علاج یہ بتائیں کہ ہر کوئی اپنے ماضی حال اور اصل اصول ترک کرکے انفرادیت و مادیت پسند لبرل کلب جوائن کرلے۔

صاحب گزارش ہے کہ ہم پہلے ہی سے لبرل ہیں لیکن اتنے بڑے لبرل نہیں کہ اپنے پیش رؤوں کا ٹھٹہ اڑائیں، ہم مذہبی ہیں لیکن اتنے بڑے مذہبی بھی نہیں کہ کسی کی گردن مارنے چل دیں یا گلا کاٹنے والوں کو معتبر جانیں، ہم اپنے حال پہ شرمندہ ضرور ہیں مگر اتنے بھی شرمندہ نہیں کہ کسی دوسری تہذیب میں منہ چھپانے چل پڑیں، ہم پسماندہ ضرور ہیں لیکن اتنے بھی پسماندہ نہیں کہ اپنی قوم کے بچے آپ کی تہذیب کے پاس گروی رکھ دیں، ہم شوشل ضرور ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ اس قوم کے بچے بچیاں بس اسٹاپوں پر کھڑے ہو کر فرینچ کسنگ کریں، ہم اپنے خاندان کا ادارہ بچا کے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہماری اولادیں رات کسی اور کے بیڈ رومز میں نہ گزاریں، ہم نہیں چاہتے یہ شراب پی کر زنا اور لواطت کی کلبوں میں اپنے شرم وحیا، عزت نفس اور حمیت ایمانی کا کھلے بندوں بلیدان کریں۔

[مسلم تشخص قائم رکھنے کا آخری حل]
پیٹر مارشل نے کہا تھا کہ “ہمیں صحیح نقطہ نظر دیں تاکہ ہمیں یہ پتا ہو کہ کس جگہ کھڑے ہونا ہے اور کس چیز کیلئے کھڑے ہونا ہے کیونکہ جب ہم کسی چیز کیلئے کھڑے نہیں ہوتے تو پھر کسی بھی چیز کیلئے گر پڑتے ہیں”۔

ہیگل ان فلاسفہ میں سے ہے جو انفرادیت کی بجائے خاندان کو معاشرے کی بنیادی اکائی مانتے ہیں اور خاندان کی بنیاد سوشل کنٹریکٹ کی بجائے محبت کو قرار دیتے ہیں، ہیگل کا مذکورہ ڈائیلیکٹک میتھڈ بھی تضادات کو بتدریج ختم کرنے اور کامنیلٹیز، اتفاقات اور مواخات کو بڑھانے کے اصول پر کام کرتا ہے۔


ایک صحیح العقل انسان کسی بھی انتہا پر نہیں ھوتا بلکہ وہ ان دونوں رویوں میں اعتدال اور معقولیت کے قریب رھتا ہے لیکن اگر نسیم حجازیوں میں سے ھی کسی ایک کو چننا مجبوری بن جائے تو پھرہم اپنے نسیم حجازی کوہی ترجیح دیں گے


یہی چیز ہمارے پاس پہلے سے ہمارے آئین، قانون اور مذہبی تعلیمات میں بھی موجود ہے اسلئے نظریاتی طور پر ہمیں کسی نئے بیانیئے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، ہمارا بنیادی مسئلہ بددیانتی، بدعملی، ذمہ داریوں سے تغافل اور اپنے نظریات سے پہلوتہی کا ہے ورنہ ہمارے ریاستی بیانئے اور دینی تعلیم میں کوئی ایسا سقم موجود نہیں جسے درست کرنے کی ضرورت ہو، ضرورت صرف اپنے رویوں کو سدھارنے اور دیانتداری اختیار کرنے کی ہے ورنہ اغیار کے پیچھے لگ کے ہم اپنا تشخص اور حمیت بھی کھو بیٹھیں گے اور یہ لبرل بیانیہ بھی کچھ کام نہیں آئے گا۔

ہر معاشرے کے کچھ میرٹس اور کچھ ڈی۔میرٹس ہوتے ہیں، مسلمانوں میں کچھ نقائص ضرور ہیں لیکن ہمارے آئین و دین میں کوئی کجی ہے نہ نقص ہے، ہمیں جو ریمیڈی چاہئے وہ اپنے آئین و دین میں سے ہی تلاش کریں گے اور اسی سے اپنا معاشرہ تشکیل دیں گے خواہ کسی متفقہ حل تک پہنچنے میں ہمیں ایک صدی ہی کیوں نہ لگ جائے، آخر مغرب نے بھی تو تین صدیاں ارتقاء میں گزارنے کے بعد ہی کوئی حتمی راہ متعین کی تھی۔

گزارش ھے کہ ایک صحیح العقل انسان کسی بھی انتہا پر نہیں ھوتا بلکہ وہ ان دونوں رویوں میں اعتدال اور معقولیت کے قریب رھتا ہے لیکن اگر نسیم حجازیوں میں سے ھی کسی ایک کو چننا مجبوری بن جائے تو پھرہم اپنے نسیم حجازی کوہی ترجیح دیں گے اس لئے کہ درآمد شدہ نسیم حجازیوں کی تہذیب ہمیں کسی بھی طور وارہ نہیں کھاتی، یہ اینٹی تھیسز کے طور پر ایک تیسرے طبقے کی آواز ہے جو دن بہ د ن اونچی ہوتی چلی جائے گی اور اس کا وارث ایک معتدل مزاج اور معقولیت پسند اسکالر طبقہ بنے گا لیکن اس کام میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔

اس آرٹیکل پر دو اعتراضات بے جا سمجھے جائیں گے پہلا یہ کہ اپنا استدلال مغربی مفکروں کے ذریعے سے کیوں کیا گیا، اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری اور ہمارے بڑوں کی بات آپ سنتے نہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ جس لبرل کلب کی طرف آپ بھولی عوام کو ہانکنا چاہتے ہیں وہ اور ان کے مشاہیر سب ہمارے دیکھے بھالے ہیں، ہم اندھیرے میں رہ کر بات نہیں کر رہے، دوسرا اعتراض یہ کہ کونسی شرم وحیا اور کونسی حمیت یہاں باقی ہے جس کی ہمیں حفاظت درکار ہے، اس کا جواب اوپر ہو چکا ہے کہ ہمارا مسئلہ صرف بددیانت قیادتیں ہیں جو تمام مسائل کی جڑ ہیں ایکبار گورنینس اور رُول آف لاء کا مسئلہ درست ہوجائے تو باقی ساری گرد خودبخود بیٹھ جائے گی، فی الحال یہ سب کچھ عارضی ہے ہاں البتہ آنکھ نہ کھلی تو پھر سب کچھ یونہی چلتا رہے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: