زومبی اورسکرین شاٹس! نوید تاج غوری

0

۔۔۔نقطے


2013 میں ہالی ووڈ کی ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا نام تھا World War Z.۔ اس میں ایک ایسے زمانے کی منظر کشی کی گئی ہے جب ایک نامعلوم وائرس پھیلنے سے پوری دنیا زندہ لاشوں میں تبدیل ہوچکی ہے اور دنیا بھر میں پھیلی نسل انسانی خطرے میں پڑچکی ہے۔ اس قسم کی فلموں میں دکھائی جانے والی زندہ لاشوں کو انگریزی میں ’’زومبی‘‘ کہا جاتا ہے۔World War Z. بھی دنیا بھر کے انسانوں کو زندہ لاشوں میں تبدیل ہوتے ہوئے دکھاتی ہے اور اس میں کسی مذہب، نسل اور خطے سے قطع نظر تمام انسانوں کو پیش کیاگیا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح یورپ سے لیکر لاطینی امریکہ اور ایشیا سے لیکر افریقہ تک انسان زندہ لاشوں میں تبدیل ہوچکے ہیں اور دیگر صحت مند انسانوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔ اس فلم کا ایک شاندار منظریہ تھا کہ اسرائیل نے بیت المقدس کے ارد گرد ایک مضبوط دیوار تعمیر کرلی تھی اور اپنی زیادہ تر آبادی کو اس دیوار کے حصار میں لاکر محفوظ کرلیا تھا جو بہت موٹی اور مضبوط ہے۔دیوار کے اگلی طرف لاکھوں انسان زندہ لاشوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہاں پر مختلف مذاہب کے لوگ مختلف گروہوں میں جمع ہوکر اپنی عبادتوں اور دعاؤں میں مشغول ہیں کہ خدا انہیں اس آفت سے بچائے۔ لیکن لوگوں کی عبادت کا شور اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ دیوار کے پار موجود زندہ لاشوں کو ان کی خبر ہوجاتی ہے اور وہ دیوہیکل دیوار کو پھلانگ کر اندر آنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں اور یوں لاکھوں کی تعداد میں زندہ لاشیں یروشلم میں داخل ہوجاتی ہے اور صحت مند لوگوں کو شکار کرنے لگتی ہیں۔بہرحال ایک طویل جدوجہد کے بعد، ہیرو ایک تریاق اور بچاوٗ کا حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
13 اپریل،2017 میرے واٹس ایپ پر کچھ کلپس آتے ہیں۔
بادی النظر میں یوں لگا کسی نئ ہارر یا زومبی فلم کا منظر یا ٹریلر ہے۔ لیکن اگلے چند لمحات میں جس کیفیت نے دل و دماغ کو سن کر کے رکھ دیا اس کا اظہار یا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ ایک نوجوان بھی کچھ زومبیزکے نرغے میںجنہوں نے چند منٹوں یا لمحوں میں اسے لاش میں تبدیل کر دیا۔ پھر بھی دل نہیں بھرا، زومبیز نے پھر اس کی لاش کو بھنبھوڑنا شروع کر دیا۔ ہاں فرق صرف یہ تھا کہ ہالی ووڈ کی فلم نہیں کلپ دوسو فیصد سچائی تھی۔ جگہ یونیورسل سٹوڈیو نہیں، ویڈیو کے کیپشن کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا، ہماری ایک جامعہ کی سرزمین تھی۔ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کوتیرہ اپریل، جمعرات کے روز مبینہ توہینِ رسالت کے الزام میں اسی یونیورسٹی کے طالب علموں نےایک ہجوم کی صورت میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ انتہائی وحشت اور بربریت کے بعد، مشال کو مار مار کر اس کی ہڈیاں توڑی گئیں، اس کی لاش کو گھسیٹا گیا، کچلا گیا، اس کے سر میں گولیاں ماری گئیں، اس کے جسم کو ننگا کیا گیا۔ پینٹ شرٹس اور ٹائی میں ملبوس کچھ زومبی طالب علموں نے اس کے بدن کو ٹھوکریں لگائیں۔ باقی تماشہ دیکھتے اور کلپ بناتے رہے۔ سنا ہے بمشکل تمام پولیس نے لاش کو جلانے سے روکا۔ سب سے دل دہلانے والی بات پتا کیا تھی؟ مارنے والے سب اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے!!!

کچھ حادثے اور جرائم ایسے ہوتے ہیں جن کے اثرات قوموں ملکوں یا علاقے کی اجتماعی نفسیات پر گہرا اثر مرتب کرتے ہیں۔ یہ ردعمل منفی اور مثبت یا بے حسی پر بھی مبنی ہو سکتا ہے۔ فیس بک پر اس وقت کروڑوں پاکستانیوں کی دسترس میں ہے۔ ہر کسی کی ٹائم لائن میں اس کے ہی فرینڈز کی پوسٹس نمودار ہوتی ہیں، میری طرح آپ بھی پچھلے ایک دو دن سے لوگوں کے بیانات پڑھ رہے ہونگے جو اپنے نام اور تصویر والے کسی بھی دوسرے اکاونٹ یا کسی اور جگہ سے شائع شدہ مواد سے لاتعلقی کا اعلان کر رہے ہیں۔ کچھ نے اس بات کو طنزیہ انداز میں لکھا ہے تو کسی نے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ خیر بنیادی بات یہ ہے اس کا محرک فی الحال تو مشال خان کی بہیمانہ ہلاکت ہے جس میں تواتر سے سکرین شاٹ لاگانے والی ایک خاص طرح کی ذہنیت سے ڈر ہے۔ سب کو لگ رہا ہے ہم اگر تھوڑی بہت فیس بک اور ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں تو کوئی ہم پر بھی کسی طرح کی جھوٹی سچی گستاخی منسوب اور نشر کر سکتا ہے۔ اپنی ذاتی دشمنی نکال سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے، ایک ہی سانس میںاس یا کسی بھی واقعے پر سکرین شاٹ بنا تاکون ہے اور سوشل میڈیا لوگ بلا سو چ و تحقیق اس کو کیوں پھیلاتے ہیں۔ کیا مشال کو سوشل میڈیا کے ذریعے مارا گیا؟مشال خان کے کیس سے ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مشال کی درندگی ہر مبنی ہلاکت نے ہر صاحب ذی شعور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔کہا یہ بھی جاتا ہے ہجوم کو اشتعال دلوانے والوں نے اس سے منسوب سوشل میڈیا پوسٹس کو بھی استعمال کیا جن میں چیٹس اور کمنٹس تک کے سکرین شاٹس تھے۔خیر اس سانحے کے بعد وہی سکرین شاٹس فوراً سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے۔ اب دو باتیں ہیں۔۔۔ یا تو وہ مواد جو مشال سے منسوب کیا جا رہا ہے وہ سچا ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ جھوٹا اور فیک ہے، یعنی گھڑا ہوا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ وہ سب کچھ سچ تھا، تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سچ کو اس طرح سکرین شاٹ سے پھیلانے والوں، لوگوں کو مشتعل کرنے والوں کا مقصد کیا تھا۔ سکرین شاٹ اگر سچ بھی تھے تو جانے یا انجانے میں بنانے والا کیا یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے نتائج خوفناک ہو سکتے ہیں۔ اگر واقعی وہ ایک دینی فریضہ سر انجام دے رہا تھا اور ایک گستاخ سے دل آزار تھا تو اس نے عدالت، قانون اور یونیورسٹی مینجمنٹ کا رخ کیوں نہیں کیا۔ توہین مذہب ورسالت کی سزا بھلے آئین و ریاست میں موت سہی، لیکن وہ تو طالب علم تھا، نہ ریاست نہ عدالت نہ پولیس۔ پھر ایک یونیورسٹی سطح کے طالب علم نے کیوں نہیں شعور، صبر اور قانون کی راہ اپنائی؟ کیا ہمارے منبر و محراب سے لے کر، ایوانوں اور درسگاہوں میں بیٹھے لوگ یہ بتانے اور سمجھانے میں ناکام نہیں ہو چکے کہ ایک انسانی جان کی حرمت کیا ہے، اور کسی کا اختیار نہیں کہ وہ ریاست اور قانون کے ہوتے دوسروں کی جان لینے کا فیصلہ کرے۔
اب دیکھتے ہیں دوسری طرف، اگر یہ سکرین شاٹ جعلی تھے ؟ تو کیا اس سے ظاہر نہیں ہوتا کہ دشمنیاں نکالنے والوں کو پتا تھا کہ ہم ماریں گے کسی کو تو کیس کچھ اور بنے کا، لیکن اگر ہجوم کسی کو مارے تو ہینگ لگے نا پھٹکری، کیس الجھانا آسان اور ذمہ داری متعین کرنا مشکل۔ چنانچہ یہ ایک سوچا سمجھا قتل کا ماسٹر پلان تھا جس میںاس بات کو استعمال کیا گیا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو بھی یہ سوچنا سمجھنا پڑے گا کہ اگر آپ نے محض وہ سکرین شاٹس محض کمنٹس یا ان باکس میں ریسیو کئے ہیں، دوسروں کے اکاونٹس پر پوسٹ کئے دیکھے ہیں تو بنا تحقیق کیوں آگے بڑھا دیئے؟ کیا اس رویئے نے بھی اس قتل میں اپنا حصہ نہیں ڈالا؟
اب دیکھتے ہیں واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کا رویہ۔ دکھ کی بات ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انتہائی بے شرمی اور فاتحہ کا مقام ہے کہ اس ملک میں ظلم اور سانحات بھی بٹے ہوئے ہیں۔ پولیس والوں کے لئے پولیس والے، ڈاکٹر ز اور وکیلوں کے لئے ان کے اپنے ہم پیشہ، صحافیوں کے لئے ان کی برادری، اور مذہبی لوگوں کے لئے صرف ان کے مسلکی بھائی ہی مذمت اور احتجاج کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ باقی جو طبقات یا لوگ برادری، پیشے یا مسلک کی تائید سے محروم ہوتے ہیں، مثلاً گھریلو عورتیں، اقلیتیں اور سماجی کارکنان، ان کی داد رسی اور آواز کے لئے این جی اوز اور حقوق انسانی یا سول سوسائٹی کی تنظیموں اور افراد کو سامنے آنا پرتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اول ذکر گروہوں کی طرح ان میں سے بھی ذیادہ تو اپنے ایجنڈے یا ایریا میں ہی کام کرتے ہیں اور اکثر و بیشتر مالی مفاد بھی حاصل کرتے ہیں، تاہم یہ بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ بہت سے درد دل رکھنے والے اپنے طور پر بھی حصہ ڈالتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ مشال خان جیسے لبرل سوچ کے نمائندے کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بعد آپ مذہبی اداروں، مدرسوں، طلبہ تنظیموں، اسلام پھیلانے کے دعوے داروں، یا ایسی کسی بھی جماعت، اس کے سٹوڈنٹ فرنٹ، آفیشل پیجز کا وزٹ کر لیں، ماشااللہ کسی سے ایک پوسٹ تک نہیں لکھی گئی۔ پاکستان کی جنرل طلبہ کمیونٹی بھی اپنے ایک ساتھی کی موت پر عملا خاموش ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں تقریب کے کیمپ اکھاڑنے پر تو ایک ہنگامہ برپا تھا، کچل کچل کر مار دینے اور لاش کا مثلہ کرنا جیسی واردات، شاید ان کی نظر سے اوجھل ہے۔
جو شور و غوغا ہے وہ فیس بک پر ہے۔ اس میں بھی سکرین شاٹ مافیا سر گرم عمل ہے۔ اب یہاں بھی دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو لوگ اس واقعے میں شامل و حامی ہیں ان کے اور ان کے حواریوں کی جانب سے یہ جھوٹی سچی سکرین شاٹس عام کی جا رہی ہیں تاکہ رائے عامہ میں کنفیوژن پیدا کی جائے۔ دوسرے پھیلانے والے وہ لوگ ہیںجن کی سوچ یہ ہے کہ توہین مذہب و ریاست کی سزا موت ہے اور اس کو نافذ کرنے کے لئے کسی عدالت قانون کی ضرورت نہیں، کوئی کرے گا تو مرے گا۔ جن کے لئے صرف اتنا سننا جاننا کافی ہے کہ مقتول ایک لبرل تھا، آذاد خیال یا مذہب بیزار سوچ رکھنے والا۔ چنانچہ تحقیق تو کرنی نہیں سو ایسا آدمی اگر مار دیا ہے تو مارنے والوں نے اچھا کیا، یا ٹھیک کیا۔ ایسے لوگ سکرین شاٹس اور سیاق و سباق سے ہٹ کر احادیث و روایات دھڑا دھڑ پھیلا رہے ہیں۔ اس کام میں کچھ سوشل میڈیا کے لکھاری اور اخبار ات کے کالم نگار بھی ہیں، جو واقعے کو مذمت کریں گے نہیں ، اور کریں گے تو برائے نام افسوس کےساتھ اگر، مگر اور لیکن یا طنز کے تیر۔ بہرحال یہ بھی قتل ناحق کو جائز قرار دینے کی بات ہے!
مشال کے واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مذہب کے نام پر، غیرت کے نام پر یا قبائلی روایت کے نام پر لوگوں کے اندر کا درندہ جگانا کتنا آسان ہے۔شاید کچھ لوگوں کو یقین ہے کہ مشال کے ساتھ ایسا جھوٹی پوسٹوں اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے کیا گیا۔ کیا واقعہ کے بعد فیس بک پر ہماری کوئی دوسری برانچ نہیں ہے جیسی پوسٹنگ کرنے والے اسی حقیقت کی طرف لاشعوری طور پر اشارہ کرتے ہوئے نظر نہیں آرہے؟ وہ الگ بات ہے اس معاشرے میں الزام اور منفیت بنا تحقیق قبول کر لی جاتی ہے اور تردید پر دھیان اور کان کوئی نہیں دھرتا۔لوگوں کو لگتا ہے کہ ان ہی کے محلے میں سالہا سال سے ساتھ رہنے والے، اور یونورسٹیز میں ساتھ پڑھنے والے اور آفس میں کام کرنے والےکسی بھی دن، کسی بھی سکرین شاٹ پر مشتعل ہو کر، اچانک بد ل جائیں گے کسی زومبی اور ہارر فلم کے کرداروں کی طرح؟
کیا ہم سب کے ذہنوں میں یہ خوف نہیں کہ جب مشال کو ایک ہوسٹل کی چھت تلے رہنے والوں، ایک ساتھ پڑھنے والوں، ایک کینٹین پر کھانے والوں، اور ایک درسگاہ میں آنے والوں سے پناہ نہیں ملی، تو ہمیں کون بخشے گا؟ کس کے پاس اتنا وقت کہ وہ آئے، بیٹھے، پوچھے، سمجھے اور سمجھائے۔ اور جو قتل میں حصہ نہیں ڈال سکتا ہوگا، وہ جھوٹی سچی سکرین شاٹ آگے کر کے کام چلا دیتا ہے، یا قتل کے بعد اس کی صفائی اور جوازدینے کا کام کرتا ہے۔چنانچہ ہر کسی کو لگ رہا ہے کہ ابھی سے اعلان کر دوں کہ میرا کوئی اور اکاونٹ نہیں ہے۔ لیکن شاید ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ چند دن پہلے مشال نے اپنے فیس بک اکاونٹ سے ایک پوسٹ نشر کی جس میں اس نے یہ ہی کہا تھا، ایسا ہی جعلی اکاونٹس سے اعلان برات کیا تھا۔ شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ سکرین شاٹس پڑھ کر آنے والے زومبی، ہاتھوں میں سیل فونزاور ٹیب نہیں، لوہے کے پائپ اور لکڑی کے ڈنڈے لائے تھے۔ جن کو کچھ نہیں ملا انہوں نے ہاتھوں مکوں اور لاتوں سے بدن کو کچلا۔ کچھ رہ گیا تھا تو مسجد کے امام نے جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ یونیورسٹی نے بیک ڈیٹ میں ایک نوٹس سے ان طالب علموں کو خارج کر دیا۔ یہ معاملہ ہی نہیں کہ آپ اب چار کو پکڑیں یا چالیس کو،صوبائی اور وفاقی حکومت کی طرف دیکھیں یا چیف جسٹس کے سوموٹو کو، انتہا پسندی کا یہ وائرس اندر سے سب کو زومبی بنا چکا ہے جو ہر صحت مند شخص اور بلند ہوتی آواز کے تعاقب میں ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ زومبی ہر دیوار کو پھلانگ جائیں، اس سے پہلے کے ہم سب بھی مارے جائیں یا خود زومبی بن جائیں، ہمیں اس کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا۔ ہمیں آنے والی نسلوں کو اس زہر سے بچانا ہوگا!
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کے
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
(جلیل حیدر لاشاری)

About Author

"کچھ ہڈ بیتی، کچھ جگ بیتی، تحریریں مگرلاؤڈ تھنکنگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ زندگی کی فسوں کاری میں غم روزگاراورغم جاناں کے بیچ، بس نمک کی کان میں نمک ہونے سے بچتا ہوں۔ "

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: