اسفند یارا! مائنڈ مت کرنا، مشعل مرگیا اور تم زندہ ہو؟ ۔۔۔۔ اعجاز منگی

0

معروف ترقی پسند دانشور اعجاز منگی کا مشعال قتل پہ دلگداز اظہار

آج محسوس ہو رہا ہے
وہ خاندان ختم ہو گیا!!
وہ خاندان جس کا بیج
سرحد کی سوندھی مٹی میں
باچا خان نے بویا تھا!!
پختونوں ہم سے گلے ملو
آج ہم تمہارے پاس
آنسوؤں کا پانی پینے آئے ہیں
آج ہم صرف تمہارے پاس
یہ بتانے آئے ہیں
وہ خاندان ختم ہوگیا
جو سیاست کے سرد موسم میں
پہاڑی چوٹیوں پر
ایک چراغ کی طرح جلاتھا
وہ چراغ بجھ گیا
مشال کے سانسوں کے ساتھ!!
ہم اس چیف منسٹر سے شکایت کیا کریں؟
جس کا رہنما پاکستان کا برگر لیڈر ہے
ہم اس برگد کے پیڑ کا پتہ پوچھنے آئیں ہیں
جو اس آندھی میں جڑ سے اکھڑ گیا
جو مردان کی ’’ولی خان یونیورسٹی‘‘ میں چلی!
اور اس میں گر گیا
ایک سرخ پھول
جوروندا گیا’’امن کے اداس فلسفے‘‘ کی مانند!
اسفند ! یارا مائنڈ مت کرنا
وہ ایک نوجوان کو نہیں
تمہارے خاندان کو پیٹ رہے تھے
دھرتی سے پوچھو
آکاش سے پوچھو
وہ لاش تمہارے خاندان کی تھی
وہ لاش باچا خان کی تھی
وہ لاش ولی خان کی تھی
وہ لاش غنی خان کی تھی!
وہ لاش ایک چیخ تھی
تمہاری مقتول تاریخ تھی
مشال خان کے باپ نے
بیٹے کو نہیں
سرحدی گاندھی کے فلسفے کو دفن کیا ہے!!
اسفند !یارا مائنڈ مت کرنا
آج تمہارا خاندان
اس بچے کے ساتھ
دفن ہوگیا
جس کے سر پر
سرخ ٹوپی تھی
جس کے ہاتھ میں
قلم تھا
وہ قلم
جو علم تھا
وہ مردان کی مٹی میں مدفون ہوگیا!!
اسفند یارا!
تم تو جانتے ہو
آج اگر باچا خان زندہ ہوتا
وہ تاحیات بھوک ہڑتال کا اعلان کرتا
آج اگر ولی خان موجود ہوتا
وہ سیاست سے رٹائرمنٹ کا اعلان کرتا
آج اگر غنی خان جیتا ہوتا
وہ اس غم میں غرق ہوجاتا
اسفند یارا!
مائنڈ مت کرنا
مشعل مرگیا
اور تم زندہ ہو؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: