موت کا خوف اور زندگی ۔۔۔ فارینہ الماس

0
  • 1
    Share

ایک پر سکون زندگی کا تصور بہت سادہ اور عام فہم ہے۔ اگر ہمارے دن ،ہماری راتیں اور ہماری نیندیں ہر طرح کے تناؤ اور دباؤ کے احساس سے عاری ہیں تو سمجھ لیں کہ ہماری زندگی کو سکون کی ٹھنڈی چھایا نصیب ہے ،ہمارا دل بھی آنے والے وقت کے ان دیکھے اندیشوں اور واہموں سے میلوں دوری پر ہے۔ لیکن اگر ایک ان دیکھا “خوف” ہمارے سکون کی چھایا کو پی جائے کچھ اس طور کہ ہماری ذات کے گرد اپنے وجود کی متنوع خاردار تاروں کا جال بچھاتا چلا جائے، جو تحفظ کی بجائے ہزار گھاؤ سے ہماری روح کو زخمانے لگے، تو سمجھ لینا چاہیئے کہ ہماری زندگی اپنے باطن میں اک عجب سے بے حساب و بے کراں، بے قرار و مضطرب خیال کا شکار ہے۔ یہ خیال اپنے وجود میں اک بے جہت سے خوف کو سمیٹے ہوئے ہے ۔۔۔۔”چھن جانے کا خوف ” ایک ایسا خوف جو باعث اضطرار بھی ہے اور اس سے مفر بھی نا ممکن۔ تاریخ انسانی سے قبل، بنی آدم سے جنت کا چھن جانا ایک ایسا حادثہ ثابت ہوا جو چھن جانے کے اس بے اختیاری خوف میں ڈھل کر انسان کی گھٹی میں ازل سے ہی شامل ہو گیا۔ یہ محرومی کئی محرومیوں کی مؤجب بنی۔ اس نے انسان کو فنا کے رستے پر ڈال کر موت کو زندگی کی گھات سونپ دی۔ وہ گھات جس سے مفر اختیار کرنے کو انسان سو طرح کے حیلے بہانے کرتا آیا ہے لیکن آخر کار اسے اجل کے بے باک ہاتھوں میں اپنا تن سونپتے ہی بن پڑتی ہے۔ آج کا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بڑی خاموشی سے اسی خوف کی بوئی ہوئی فصل کو کاٹتے پر مجبور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور ہماری زندگی موت کو جا لینے سے بہت پہلے ہی موت کی تاریک اور بھیانک سرسراہٹ تلے آجاتی ہے ۔کچھ اس طور کہ ہماری زندگی پر تا عمر موت ہی کا سکوت طاری رہتا ہے۔ ہر دم اک انجانی سی دہشت اور وحشت ہماری روح کو بے سکوں کئے ہوئے ہے۔ نہجانے کس گام، کس مقام پر ہم کس حادثہءحیات کی نظر ہو جائیں۔ کہاں کس جگہ کسی دجال کے دہشت ناک خونی منصوبے کا شکار ہو جائیں؟۔ یہ وہ خطرہ ہے جو ہر دم ہمارے سروں پر منڈلاتا اور ہمیں بے چین کئے رکھتا ہے۔ لیکن کچھ بے چینیاں اور بد حواسیاں خود ہمارے شعور نے ہمیں عطا کر رکھی ہیں۔ اک شعر کے اس مصرعے کے مصداق، جو آگہی کا سراب ہے یہی سب سے بڑھ کے عذاب ہے۔۔۔۔”

جوں جوں انسان کو بہت سی ان دیکھی کو دیکھنے اور بہت سی انجان حقیقتوں کے ادراک کا شرف ملتا گیا اس کا چین اس کا سکون در بدر ہونے لگا۔ ہر روز اس زندگی کی گھات لگائے بیٹھی موت کو شکست فاش دینے کے لئے ہمارے سامنے نئے نئے رازوں اور گروں کا خلاصہ کیا جاتا ہے ۔گویا اجل ایک جرثومے میں سمٹ کر دن رات ہمارے گردا گرد گھومتی رہتی ہے۔ کبھی ہمارے ہاتھوں پر ،کبھی ہمارے چہرے پر ،جیسے کبھی بھی کہیں بھی ہمارا دھیان ٹوٹا تو یہ جرثومہ پھسل کر ہمارے حلق کے رستے یا بدن کے کسی کٹے پھٹے لوتھڑے سے چپک کر ہمارے اندرون میں اترے گا اور خون کی ڈھیروں شریانوں کے اندر گھومتا گھماتا کبھی پھیپھڑوں تو کبھی جگر، اور کبھی دل کے اندر موت کی دھمال ڈالنے لگے گا اور ہمیں اندر ہی اندر چیر کے رکھ دے گا کہ ہمیں پتہ ہی نہ چل پائے گا کہ کب موت اپنے کا ند ھوں پر ہمارا تابوت اٹھائے ہمارے سامنے آ کھڑی ہو گی۔ انسان کو اس کے علم وشعور نے اس قدر محتاط بنا ڈالا ہے کہ وہ عمر بھر جینے کی بجائے احتیاط کے ڈھیر وں بھاشن سننے اور اس متوقع جرثومے کی تباہی سے نپٹنے کے منصوبے بناتے بناتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ہر روز ہر دن ہر لمحہ اک نیا ادراک اسے آگاہی دیتا ہے کہ کیسے زندگی کو زندہ رکھا جائے۔ ۔۔۔۔۔
دیکھو زندہ رہنا ہے تو ہر دم خوش رہو، جسم کا نظام درست رکھو، ورزش کرو، بیماریاں بھگانا ہیں تو پانی ابال کے پیو، برتن نیم گرم پانی میں دھو کر برتو، سبزیاں بار بار دھو کر کھاؤ، چاول کے دانے پر ڈھیروں کیمیائی اثرات ہیں اچھا ہے کہ انہیں رات بھر بھگو کر رکھو، باہر ضرورت کے سوا مت نکلو بڑی تباہی مچا رکھی ہے اس بدبخت آلودگی کے مضر اجزاءنے، سانس لینا ہے اس جان لیوا فضا میں تو منہ پر ماسک کو جمائے رکھو، چینی بھی اک زہر ہے زندہ رہنا ہے تو اس سے پرہیز کرو، دیکھو ہاتھ دن میں بار بار دھو کر رکھو کہیں کوئی جرثومہ ان کے راستے معدے میں نہ اتر جائے۔ دیکھو زندگی کو زندہ رکھنا ہے تو یہ اور ایسے ہزاروں اسباق ازبر کر لو۔۔۔ اپنی آئندہ نسل کو بھی یہی بھاشن دو۔۔۔۔ دیتے رہو یہاں تک کہ ان کی زندگی بس ان کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ہی بیت جائے۔ انگنت نصیحتوں کا اک پندار ہے جو جینے کے لئے سننا اور سیکھنا ہو گا ورنہ تم مر جاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو مرنا تو اک دن ہے لیکن وقت پر مرنا بھلا، بے وقت کی موت بڑی قیامت ہے مرنے والے کے لئے بھی اور پیچھے رہ جانے والے کے لئے بھی” یوں لگتا ہے کہ انسانی بستیاں انسانوں سے نہیں بلکہ ایسے بے جان مردوں سے اٹی پڑی ہیں جو اپنے اپنے خوف کی الگ الگ قبروں میں لیٹے ہوئے اپنے اپنے کتبے سر پر اٹھائے بے دھیان پڑے ہیں ۔


موت سے کہیں ذیادہ بھیانک اور خوفناک شے “موت کا ڈر” ہے۔


میں نے زندگی میں بہت سے لوگوں کو موت کو شکست دینے والے سبھی گروں اور نسخوں پر چلتے بھی دیکھا اور اجل کے ہاتھوں ان کی جان لیوا بے بسی کا نظارہ بھی نظر پڑا ۔۔۔ایک تندرست و توا نا ،ہشاش بشاش ،شخص کوجو بلا ناغہ اپنی صحت کو قائم و دائم رکھنے کی خاطر گھنٹوں جوگنگ کیا کرتا تھا ، اک دن عین جوگنگ کے دوران رستے پر اوندھے منہ گر کر جان کی بازی ہارتے دیکھا۔ ایک خاتون جو کبھی گھر میں باہر کے ہوٹلوں کا کھانا نہیں آنے دیتی تھیں ،اور جو برتن بھی گرم پانی سے دھویا کرتیں ،جو ابلے اور صاف شفاف پانی کے علاوہ کوئی مشروب حلق سے نہ اتارتیں انہیں اچانک جگر ختم ہونے کے مرض میں مبتلا ہو کر چند ہی دنوں میں اپنا وجود اجل کے ہاتھوں سونپتے دیکھا۔ میں نے ایک ایسے شخص کو جو ہمیشہ صاف ستھری اور گھر کی سادہ خوراک کھانے کا عادی رہا اسے معدے کے کینسر سے مرتے بھی دیکھا۔ میں نے ایک ایسے شخص کو طویل العمری میں بھی دیکھا جو سداکوڑے کے ڈھیر سے اپنی خوراک چن کر کھایا کرتا ہے ،جس کا لباس گندگی سے لتھڑا ہوا اور بال میل سے اٹے ہوئے ہیں ،اس کے ہاتھوں پر جمی غلیظ مٹی بھی تو روٹی کے ٹکڑوں میں لپٹ کر اس کے اندر جاتی ہو گی لیکن کمال حیرت کا باعث ہے کہ وہ ابھی تلک معدے یا جگر کے کینسر سے مرا نہیں ۔۔۔وہ سڑکوں پر ،فٹ پاتھوں پر بھنبھناتی مکھیوں میں گھرا بنا تپائی کے لیٹ کر اپنی نیند بھی بلا خوف و خطر پوری کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ تو بے شعور ہے ،اسے کسی بھی آگہی کا ادراک نہیں لیکن پھر بھی وہ بے حد پر سکون ہے ۔۔۔۔ ہو سکتا ہے اس لئے کہ وہ موت کے خوف میں مبتلا ہی نہیں ۔ اس لئے بے خوف جی رہا ہے۔کیونکہ کہتے ہیں کہ موت سے کہیں ذیادہ بھیانک اور خوفناک شے “موت کا ڈر” ہے۔ ہم موت کے خوف میں مبتلا ہو کر اس سے بچنے کو آگے ہی آگے بھاگتے چلے جاتے ہیں ۔۔ بغیر کسی پڑاؤ کے ۔۔بنا سانس لئے اور یکدم معلوم پڑتا ہے کہ موت ہمارے پیچھے نہیں موت تو ہمارے آگے کھڑی ہے ۔ گو یا زندگی کو احتیاط سے کہیں ذیادہ موت کے خوف سے نجات کی ضرورت ہے ۔ ورنہ ہزار گر بھی کا م کے نہیں رہیں گے اور زندگی ،خود اپنے ہاتھوں ہار جائے گی ۔ اس کربناک خوف سے نپٹنے کا گر محض زندگی کو کسی مثبت مقصد سے جوڑ دینا ہی ہے ۔ ایک پر مصرف زندگی ہی پر مسرت زندگی بن سکتی ہے وہ زندگی جو موت کے خوف سے کوسوں دور ہو ۔ جس کے لمحات فنا کے اندیشوں سے خالی ہوں ۔اپنے وجود کو فنا کے اندیشوں سے بچانے کے لئے اسے لافانی بنانا ہو گا اور انسان کو لافانی بنانے کے لئے ضرورت ہے اپنے اظہار زات اور اظہار ہنر کی ۔وہ ہنر جو اسے موت کی گھات سے بچنے کی بجائے زندگی میں زندہ رہنے کا گر سیکھاتا ہے اور انسان اسے پوری سچائی اور لگن سے نبھاتا ہے کچھ ایسا دھیان جتا کر کہ اسے خود بھی معلوم نہیں پڑتا کہ کب سفر تمام ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: