بکھرا نظامِ تعلیم: چوہدری خضر امیر

0

ایک محتاط اندازے کے مطابق اِس وقت دنیا میں 195-96 ممالک موجود ہیں ۔ مختلف ادوار میں کچھ ممالک عروج کی سیڑھی چڑھے اور کچھ زوال کی ندی میں غوطہ زن ہو ئے ۔ ترقی پانے والے تمام ممالک مربوط و منظم تعلیمی نظام کے زیرِ سایہ رہے ، کیونکہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی اس میں بنیادی کردار تعلیمی نظام نے سر انجام دیا ۔ زوال پانے والے ممالک علم و تحقیق سے دوری کا شکار ہوئے ۔ عصرِ حاضر میں ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیا جائے تو بلا شبہ ہم ایک ہی نقطے کو اہم جانیں گے یعنی کہ تعلیمِ نظام ۔جنوبی کوریا اس وقت تعلیمی نظام میں دنیا کے نقشے پر اول درجے پر ہے ۔عمر کے لحاظ سے جنوبی کوریا پاکستان سے دو سال بڑا ہے ۔ 
اِسی طرح جاپان ، امریکہ ، سنگا پور، کینیڈا، فن لینڈ اور نیوزی لینڈ وغیرہ بھی اعلیٰ تعلیمی نظام کی حامل ممالک کی صف میں شامل ہیں ۔پاکستان آزادی سے لے کر اب تک نو مختلف پالیسیاں ترتیب دے چکا ہے۔ پہلی تعلیمی کانفرنس1947ء ، دوسری 1954ء ، تیسری 1959ء ، چوتھی 1970ء ،پانچویں 1972ء ، چھٹی 1979ء ، ساتویں 1992ء ، آٹھویں 1998ء اور نویں ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پچھلے چند سالوں (2010۔2005) میں ہوئیں مگر نتائج اطمینان بخش ثابت نہیں ہوئے۔ یہ تمام پالیسیاں انگریزی نظام کے مرہونِ منت تھیں اور ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک ہم کس حد تک اور کیوں اپنا تعلیمی معیار تسلی بخش نہیں بنا سکے؟کیا جس تعلیمی نظام کو ہم ستر سال سے اپنائے ہوئے ہیں وہ اس قابل بھی ہمیں نا بنا سکا کہ ہم اپنا مربوط اور منظم تعلیمی نظام بنا اور اختیار کر سکے۔ 
اگر سابقہ ادوارِ حکومت اور نظامِ تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو میرے خیال میں اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں: 
ان میں سب سے اہم اور پہلا درجہ مذہبی اور غیر مذہبی تعلیمی تفریق ہے۔
دوسرا درجہ سرکاری و نجی اداروں میں امیر اور غریب کا تصور ہے۔
تیسرا درجہ ان تمام اداروں کا غیر مکمل اعداد و شمار کا ہے۔
پہلے درجے میں مذہبی و غیر مذہبی اصطلاحات کا غیر سنجیدہ اور کم علمی طریقوں سے استعمال ہونا ہے۔ چونکہ ان اصطلاحات کے ذریعہ نوجوان طبقے کو ٹیکنالوجی کی طرف جانے سے ہرگز روکا گیا۔ اسلام جیسے وسیع وامن پسند دین کا شیطانی طریقے سے اس گھناؤنے فعل کیلئے استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ مدرسہ اور اسکول و کالج میں تعصب کی صورت میں بھگتنا پڑا۔یہ بات کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مدارس بُرے ہیں بلکہ اس کا مقصد مدارس دشمنی کو واضح کرنا ہے۔ کچھ باتیں حقائق پر مبنی ہوتی ہیں مثال کے طور پر:
کیا اسلام ڈاکٹر و انجینئر بننے سے منع کرتا ہے؟ کیا اسلام ٹیکنالوجی کے حصول کے راستے رکاوٹ ہے؟ اگر ہم قرآنِ پاک کا جامع مطالعہ کریں تو چودہ سو سال پہلے، اور تم اپنے گھوڑے تیار کر رکھو؟ کیاحالاتِ حاضرہ میں ان گھوڑوں اور تلوار کی جگہ جدید ٹیکنالوجی نے نہیں لے رکھی؟بلکہ قرآن تو ہمیں تحقیق و جستجو، تفکر و تدبر کا درس دیتا ہے۔مگر صد افسوس کہ آج جو مضامین مدارس میں پڑھائے جا رہے ہیں وہ دہائیوں سے چلے آ رہے ہیں۔مدارس کے ساتھ ایک اور بڑا ظلم 1977ء سے 1988ء تک ان مدارس کے طلبا ء کومستقبل کے روشن ستارے بنانے کی بجائے نام نہادجہاد کیلئے تیار کیا جاتا رہا۔ جس کے سنگین نتائج آج ہم شدت پسند مسلمان جیسی اصطلاحات کی صورت بھگت رہے ہیں۔ 
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 کی رو سے پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے ہر بچے کیلئے تعلیم کی فراہمی ریاست کا بنیادی فرض ہے۔الف اعلان کے حالیہ سروے کے مطابق چوبیس ملین بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ دوسرے درجے میں سرکاری و نجی تعلیمی نظام کا میں غیر مساوی حصوں میں منقسم ہوناہے۔ ایک بیوروکریٹ یا وزیر کا بچہ تو بیکن ہاؤس یا ایجوکیٹر میں پڑھ سکتا ہے مگر ریڑھی بان کا بچہ کیوں نہیں؟؟؟ ظاہر سی بات ہے جب پاکستان میں 48 فیصد سرکاری سکول بغیر ٹائلٹ چار دیواری اور بجلی و پینے کے پانی سے محروم ہوں گے تو یہ تفریق مزید بڑھے گی۔ اس وقت سرکاری و نجی سکولوں میں 1.4 ملین اساتذہ ہیں جن میں سے 51 فیصد صرف سرکاری سکولوں میں ہیں۔ اس 51 فیصد حصہ کا 58 فیصد حصہ قومی سرگرمیوں کا علم نہیں رکھتا جبکہ 73 فیصد بغیر ٹیچنگ کورس کے ہے۔
تیسرے درجے کا مسئلہ ان تمام اداروں کا بغیر اعداد و شمار کے نافذ العمل ہونا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سابقہ تعلیمی اعداد و شمار کی بنیاد پر خامیاں تلاش اور نئی حکمتِ عملی اپنائی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں اس کی مثال مدرسوں اور پرائیویٹ سکولوں کا غیر رجسٹرڈ ہونا ہے۔ 1947 سے 1999 تک مدارس کا رجسٹر ہونے کا تصور دور دور تک نظر نہیں آتا۔9/11 کے بعد مشرف دور میں امریکہ دباؤ کے نتیجہ میں مدرسہ رجسٹریشن کا آغاز کیا گیاجوکہ ابھی تک پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اسی طرح اگر غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی بات کی جائے تو عصرِ حاضر میں بھی ایک بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ ہے۔ بظاہر تو ہر ڈویژن سطح پر تعلیمی بورڈ، چاہے مذہبی ہو یا غیر مذہبی، موجود ہے مگرعملی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔اگر موجودہ جدیدیت اور ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار کیا گیا اور مدارس اور سکول و کالج میں فاصلے کو مزید وسعت دی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب ہم بھکاری اقوام کی صف میں اول درجے پر ہوں گے اور نتیجہ شام و فلسطین جیسا حال ہمارا ہوگا۔ اگر ہم 2.3 ملین مدارس کے طلباء کو قومی دھارے میں ترقی کے واسطے شامل کر لیں تو نتائج مثبت ہو سکتے ہیں۔ اس وقت حکومت کو چاہئے کہ تعلیمی نظام کو اولیت دے اور اس ملک کے مستقبل کو چٹانوں اور جھاڑیوں کی آغوش سے بچا لے۔ اگر ہم احتساب، قانون کا بول بالا، احساسِ کمتری سے چھٹکارا، جھوٹ، چوری اور کرپشن جیسی لعنتوں سے نجات چاہتے ہیں ،  تعلیمی نظام کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: