ہیں تلخ بہت بندہ حجام کے اوقات

0

ایک انسان کو اپنی تقدیر اور حجام سے کوئی مفر نہیں جیسے تقدیر انسان کو آلیتی  ہے ایسے ہی درازئی گیسو کی ہلکی سی شکایت پہ حجام بھی انسان کو آڑے ترچھے ہاتھوں لیتا ہے لوگ کہتے ہیں گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کو بھاگتا ہے لیکن جب حضرت انسان اپنے سینے میں دبے صدیوں پرانے سربستہ رازوں کا بوجھ اٹھا اٹھا کے تھک جاتا ہے اور اسے اپنے رازوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے واسطے اک عدد مخلص رازداں کی ضرورت کا شدت سے احساس ستانے لگتا ہے تو وہ حجام کی طرف بھاگتا ہے۔
پاکستان میں حجام ہونے کیلئے بال کاٹنے کا ہنر آنا لازمی نہیں بس ضروری ہے کہ آپ اچھا سننے والے (listener) ہوں آپ بال بھلے کیسے ہی آڑے ترچھے کاٹ ڈالیے لیکن خیال رہے کہ بال کٹوانے والا جب گفتگو فرما رہا ہو اس دوران اسکی بات نہ کاٹی جائے کیونکہ اگر حجام نے بھی بال کاٹنے کی بجائے اسکی بات ہی کاٹنی ہے تو اسے حجام کے پاس آنے کی کیا حاجت ہے یہ کام تو اسکی سخت گیر زوجہ حجام سے بدرجہا بہتر کر سکتی ہیں۔
حجام ملکی امن و سلامتی کے امین ہیں کیونکہ دشمنوں کے وہ خطرناک ترین ارادے جن تک ہمارے خفیہ اداروں کی ابھی تک رسائی نہیں ہو پائی نہ جانے کون خفیہ ذرائع کی مدد سے ایسے خطرناک ارادوں کی چھوٹی سے چھوٹی اطلاعات تک بس ہمارے حجام ہی کی رسائی ممکن ہوپاتی ہے یہ بات یقینی نہیں لیکن پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ ملک کے دفاعی اداروں میں بھرتی جتنے بھی خفیہ ایجنٹ ہیں وہ یا تو حجام ہیں یا ان میں اک حجام کی صفات عود کر آتی ہیں۔
حجام قیل و قال کا بندہ ہے اور ہر فن مولا ہے ایک مولوی کے بال کاٹتے ہوئے اک حجام مفتئی اعظم کے عہدہ سنبھال لیتا ہے اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے وہ حسن نثار ہے کرکٹ کی بات پہ وہی حجام سکندر بخت کی کرسی سنبھال لیتا ہے اور جب بال کٹوانے والا گفتگو شروع کر دے ہمارا حجام صدر پاکستان ہو جاتا ہے۔
حجام کے پاس دلائل کی کبھی کمی نہیں ہوتی اور اسکی دلیلیں ایسی مسکت ہوتی ہیں کہ ہر اک دلیل منکرین کے انکار کو اقرار میں بدلنے کے واسطے کافی ہے یوں تو کان کے سوراخ کے قریب نوک دار قینچی کی موجودگی بھی حجام کی بڑی دلیلوں میں سے اک دلیل ہے مگر یہ صرف باریش اور مولوی حضرات کیلئے کارآمد ہے کیونکہ مولوی داڑھی نہیں منڈواتے تاہم بے ریش لونڈوں کیلئے حجام کی سب سے بڑی دلیل وہ ہے جو وہ داڑھی منڈتے شاہ رگ پہ استرے کے بلیڈ کی تیز دھار رکھ کے پیش کرتا ہے یہ ایسی دلیل ہے جس کے بعد مزید کسی حیل و حجت کی حاجت باقی نہیں رہتی۔
کچھ حجام صرف لوگوں کی دعوتوں میں کھانے خراب کرنے کیلئے مختص ہوتے ہیں جو نمکین دیگ میں ہر شے بڑے اہتمام سے ڈالنے کے بعد صرف نمک ڈالنا بھول جاتے ہیں اور اگر انہیں میٹھی دیگ بنانے کی فرمائش کیجائے تو آپ اسمیں میٹھے کے علاوہ باقی تمام ضروری اشیاء بڑی سہولت سے تلاش کر سکیں گے۔
ہمارے ہاں اک حجام صاحب کو اک عدد میٹھی اور اک عدد چنوں والی نمکین دیگ بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی موصوف نمکین دیگ کی تکمیل پر سانس لینے بیٹھے ہی تھے کہ اس خیال پہ چونک گئے کہ دیگ میں چنے ڈالنا تو بھول ہی گئے ہیں اللہ کی نعمت کی زیاں کاری کو ازقبیل گناہ جانتے ہوئے چنے میٹھی دیگ کے سر منڈ دیے اور طرہ تماشا یہ کہ جب میٹھی دیگ کی تکمیل پہ سانس سیدھا کرنے کیلئے آرام کرسی پہ براجمان ہوئے تو اس خیال پر پھر سے چونک اٹھے کہ میٹھی دیگ میں میٹھا ڈالنا بھول گئے ہیں اللہ اللہ خیر سلا۔
دنیا عالم کی کوئی تہذیب کبھی حجام کے وجود سے خالی نہیں رہی تاہم مسلم تہذیب نے اک حجام کو جو مقام دیا ہے وہ دنیا کی کوئی دوسری تہذیب دینے سے قاصر رہی ہے کیونکہ ہم بچے کی پیدائش کے ساتویں ہی دن عقیقے کی رسمیں ادا کرنے کیلئے اک عدد حجام کے دست نگر ہو جاتے ہیں وہ ادائیگی رسم کیلئے پہلے تو استرے سے حلق کرتے ہوئے بچے کے سر سے خون نکالنے کا فریضہ سر انجام دیتا ہے اور پھر پورے انہماک سے کھانا خراب کرنے کیطرف متوجہ ہوتا ہے اور من جملہ امور سے فراغت کے بعد بچے کو کٹ لگانے کے جرم میں ماں سے اور برا کھانا پکانے کے سبب دعوت میں آئے سبھی مہمانوں کی بددعائیں ڈھیر سارے پیسوں سمیت قبول کرتے ہوئے گھر کو سدھار جاتا ہے۔
ہیں تلخ بہت بندہ حجام کے اوقات

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: