مختار مسعود: ایک ملاقات کا تذکرہ

1

میں میٹرک کے امتحانات دے کر فارغ ہی تھا اور راوی چین ہی چین لکھتا تھا (یہ الگ بات ہے راوی بصورت ممتحن ہمارے سائنس دان بننے کی راہ رکاوٹیں کھڑی کر رہا تھا. یعنی ہم سائنس کے مضامین میں فیل ہو گئے اور بڑی مشکل سے رو دھو کر میٹرک آرٹس میں پاس کی) ابن صفی حرز جاں بلکہ زندگی کا بیان بنے ہوئے تھے. شہر کی ایک لائبریری سے کرایے پر الم غلم سے ناول لا کر پڑھنے کا جنون سر پر سوار تھا. کبھی کبھار کوئی سنجیدہ چیز بھی نظر سے گزر جاتی مگر زیادہ دل لگی ابن صفی سے تھی. سلیم صاحب مرحوم کے اشاعتی ادارے کے آفس میں آنا جانا تھا اور بھی کئی لوگ وہاں آتے جاتے تھے ،انھیں میں سلیم صاحب کے ایک بچپن کے دوست ماسٹر عزیز الرحمن بھی تشریف لاتے تھے. ماسٹر صاحب کے والد جمعیت علمائے ھند سے تعلق رکھتے تھے اور مولانا داؤد غزنوی کے ذاتی دوستوں میں سے تھے ،دیو بند سے فارغ التحصیل تھے.
ہم جونیئر دوست ان بزرگوں کی گفتگو کے درمیان خاموش ہی رہا کرتے تھے. ایک کچھ شخصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے عزیز الرحمن صاحب نے مختار مسعود کا ذکر چھیڑ دیا اور فرمانے لگے کہ مسعود صاحب میرے والد سے عربی پڑھا کرتے تھے اور سول سروس کی تیاری کے لیے کچھ عرصہ وہ ہمارے گھر میں مقیم رہے. یہ ہمارا مختار مسعود صاحب سے پہلا تعارف تھا تھوڑی دیر کے بعد دوران گفتگو سلیم صاحب نے مجھے مخاطب کیا اور کہنے لگے “کیا تم نے مختار مسعود کی کتاب” آواز دوست پڑھی ہے ؟” میں نے نہیں میں سر ہلایا دیا۔
القصہ سلیم صاحب نے کتاب کے محاسن اور خوبیوں پر طویل قصیدہ کہا اور کہنے لگے میرا بس چلے تو تم نوجوانوں کو دو کتابیں زبردستی پڑھاؤں ایک چودھری افضل حق کی “زندگی” اور دوسری مختار مسعود کی “آواز دوست” پھر وہ اٹھے اور اپنی کتابوں کی الماری میں سے آواز دوست نکال کر میرے ہاتھ میں تھما دی اور کہا اسے دو چار دن میں پڑھ لو پھر اس پر بات کریں گے۔خیر ہم آواز دوست بغل میں داب گھر پہنچے لیکن اب “جونک کی واپسی” اور آواز دوست میں ٹھن گئی کچھ دیر کی ذہنی کشمکش کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا چلیں آج “قربانی” دیتے ہیں۔جونک کو کل دیکھتے ہیں مگر جیسے ہی میں نے آواز دوست کا پہلا صفحہ الٹایا تو سامنے انتساب تھا
“پرکاہ” اور “پارہ سنگ”
کے نام
ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا یا خدا یہ “پرکاہ” کہاں بکتی ہے اور “پارہ سنگ” کس بلا کا نام ہے؟ کچھ لمحوں بعد صفحے کے آخر پر نظر پڑی تو اس کی وضاحت تھی کہ پرکاہ وہ گھاس کی وہ پتی جو ان کی والدہ کی قبر پر اگی اور پارہ سنگ ان کے والد کا لوح مزار ہے۔
خیر میرے تو ہاتھ پیر پھول گئے کہ چلیں یہاں تو مصنف نے وضاحت کر دی لیکن ضروری تو نہیں باقی کتاب میں بھی وہ یہی کرم فرمائی کرتے رہیں گے۔حوصلہ کر کے اگلہ صفحہ پلٹا تو پھر یہ سفر “سفر نصیب” سے “لوح ایام” اور وہاں سے 177 بی شادمان پر جا کر ختم ہوا۔
غالباً جون 2008 میں ،میں نے مختار مسعود صاحب کو خط تحریر کیا اور ان سے مل کا وقت مانگا۔جب میں ان کے جواب سے مایوس ہو چکا تھا تو ایک سہ پہر ان کا جوابی مکتوب موصول ہوا۔فرحت اشتیاق سے اسے کھولا، دل کو سکون ملا کیونکہ مختار صاحب نے ملاقات کے لیے وقت عنایت کر دیا تھا۔
جوابی مکتوب پر ان کا فون نمبر موجود تھا، نمبر ملایا اور ان سے ملاقات کا وقت طے کیا ،اتوار عصر کا وقت ملاقات کا ٹھرا۔ہم بھی خوشی سے سرشار ٹی چوک میاں چنوں سے بس میں بیٹھ، لاہور پہنچ اپنے دوست کو ساتھ لے ایک دن پہلے ہی ان کے گھر کی تلاش میں شادمان جا پہنچے تاکہ اگلے دن گھر ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہ ہو.
ملاقات سے پہلے میرے ذہن میں یہی تھا کہ باکمال نثر لکھنے وا ہمارے عہد کے ایک بڑے ادیب سے ملنے جا رہے ہیں، جیسی ان کی نثر میں روانی اور شگفتگی پائی جاتی ہے ویسا ہی ہم نے مختار مسعود کا خاکہ بنایا مگر میں اس بات کو بھول گیا کے ان کی زندگی سول سروس کے تالاب میں گزری ہے جہاں جذبات کا گزر کم کم ہی ہوتا ہے۔
القصہ اگلے روز عصر کے بعد ہم 177 بی شادمان پہنچے ملازم نے ڈرائنگ روم میں بٹھایا،کچھ دیر بعد مختار مسعود صاحب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے،درمیانہ قد چہرے پر سنجیدگی، اس دن خوشگوار (افسرانہ خوشگوار) ماحول میں ان سے لگ بھگ دو گھنٹے گفتگو ہوئی، علی گڑھ، قائداعظم، تحریک آزادی پاکستان، ادب سیاست اور بہت کچھ مگر دھیمے سروں میں۔دو ہزار آٹھ میں پاکستان میں دہشت گردی آسمان کو چھو رہی تھی اس دن یا شاید ایک روز قبل آرڈیننس فیکٹری سے نکلتے ملازمین پر خود کش حملہ ہوا تھا اور کافی لوگ شہید ہوئے تھے۔مختار مسعود اس پر رنجیدہ تھے۔میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے آخری سوال کیا کہ انہیں دوبارہ موقع ملے تو کیا وہ علی گڑھ اسٹیشن پر مولانا آزاد کی گاڑی کو روکنے پہنچے گے ؟ اور اس پر افسوس کریں گے کہ ان کے پہنچنے تک گاڑی اسٹیشن سے جا چکی تھی؟
مختار مسعود صاحب نے تھوڑی دیر سامنے دیکھا اس دوران میں نے “آواز دوست” کو ان کے سامنے کر دیا جس پر انہوں نے تحریر کیا
عزیزم زید سرفراز
سے ملاقات کی یاد میں
نیچے اپنا نام تحریر کیا اور اس دن کی تاریخ ڈال دی۔وہ ہمیں دروازے تک چھوڑنے آئے اور فرمانے لگے زید صاحب کبھی پھر موقع ملا تو اس پر بات کریں گے۔اس کےبعد غم روزگار نے ایسا گھیرا کہ ایسی ملاقاتیں اچھے وقت کے لیے اٹھا دیں اور سچی بات یہ ہے کہ میں نے بھی کوشش نہیں کی.

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: