مٹی کے پتلے: جانسن ۔۔۔۔۔۔ شکور پٹھان

0

“اینی پرابلم سر؟ فوڈ نو گڈ!!”

(Any problem Sir!, food no good?)

جانسن کے لہجے میں تشویش تھی، جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو کھانا نہ کھاتے دیکھ کر فکرمند ہوجاتی ہے۔

میں اپنی کسی شدید الجھن میں کھویا ہوا تھا۔ ذرا سا کھانا پلیٹ میں ڈال کر سامنے رکھے بیٹھا تھا لیکن دماغ کہیں اور ہی تھا۔ چمچ سے چاولوں کو ادھر ادھر کررہا تھا۔

میں اپنی ادھیڑ بن میں گم تھا۔ جانسن کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔

” نہیں ، کچھ نہیں۔ میں کچھ سوچ رہا تھا” میں اپنے خیالوں سے باہر آیا۔

” سب ٹھیک ہے۔ آپ ٹھیک ہیں ناں ؟” جانسن نے اپنی گلابی انگریزی میں پوچھا۔

وہ ایسا ہی فکر مند ہوجاتا تھا۔

جانسن ہماری کمپنی کی کینٹین کو کھانا مہیا کرنے والی کیٹرنگ کمپنی کا ملازم تھا۔ وہ جنوبی ہند کے صوبے کیرالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا، سیاہی مائل، یا گہرے سانولے رنگ کااور دبلا پتلا، چھوٹے سے قد کا لڑکا سا تھا۔ عمر شاید تئیس چوبیس سال کی تھی لیکن لگتا اٹھارہ بیس سال کا لونڈا سا تھا۔ ایسے لڑکے جو گیراج یا ورکشاپ میں ” چھوٹے” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جنہیں میں اور آپ کبھی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ یہ معمولی سے، غیر اہم سے لوگ ہمارے آس پاس تو ہوتے ہیں لیکن ہم ان سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ ہماری دنیا میں ان کا گذر نہیں ہوتا۔ جیسے مشین یا گاڑی میں چھوٹے بڑے کئی کل پرزے لگے ہوتے ہیں لیکن ہماری نظر صرف انجن یا موٹر پر ہوتی ہے جس پر مشین کا دارومدار ہوتا ہے۔ حالانکہ چھوٹے موٹے، نٹ بولٹ، اسکریو، سپرنگ اور لاتعداد دیگر چیزیں مشین کو مکمل کرتی ہیں۔ یہ “چھوٹے ” بھی دنیا چلانے میں ایسے ہی شامل ہوتے ہیں جیسے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، حساب دان، سائنسدان یا سیاستدان وغیرہ ، جو سب اپنی جگہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔ جن کا نوٹس لیا جاتا ہے، جن کی ہر چھوٹی بڑی بات سنی جاتی ہے۔ اور یہ ‘ چھوٹے” سامنے ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتے جیسے کہ گویا لینڈ اسکیپ کا حصہ ہوں۔

جانسن روز کھانا لانے والی وین کے ساتھ آتا۔ وین ڈرائیور کے ساتھ کھانا اتارتااور کینٹین تک کھانا پہنچا کر ڈرائیور واپس چلا جاتا۔

اب وہ سب سے پہلے بڑی ڈشوں یا مین کورس کو اسٹینڈ ہر رکھ کر ان کے نیچے چھوٹے سے چولہے روشن کرتا کہ کھانا گرم رہے۔ چاول، قورمہ، سالن، دال، سبزی، ایک عربی سالن ، پاسٹا یا نوڈل وغیرہ، کباب، یا چکن تکا، یا فرائی مچھلی وغیرہ ۔

پھر ایک جانب سے دو طرح کے سلاد کے علاوہ علیحدہ سے کٹے ہوئے ٹماٹر، کھیرے، لیموں، ہری مرچیں، پیاز وغیرہ ٹرے میں سجاتا۔ہاٹ پاٹ میں روٹی، ڈبل روٹی لاکر رکھتا۔ ایک بڑے سے گول برتن میں سوپ انڈیلتا اور اس کے نیچے بھی لیمپ جلاتا تاکہ سوپ گرما گرم رہے۔ چٹنیاں، اچار، پاپڑ، سلاد کی ڈریسنگ قرینے سے رکھتا۔ پھر میز کے آخری سرے پر میٹھے کی گرم والی ٹرے کی نیچے چولہا جلاتا جس میں کبھی شاہی ٹکڑے، یا پڈنگ، کبھی گلاب جامن یا عربی ” ام عالی” قسم کی چیزیں ہوتیں۔ ایک بڑے سے کٹورے میں فروٹ سلاد رکھتا،

کھانے، کی پلیٹوں، میٹھے کی کٹوریوں، چمچ، چھری کانٹے سجا کر اور ڈشوں میں سے کھانا نکالنے والے بڑے چمچ رکھ کر تو اس کا کام ختم ہوجاتا، اب اسے صرف اس ہر نظر رکھنا ہوتی کہ کسی ڈِش میں سے کچھ کم ہورہا ہے تو اسے ازسرنو بھردے، لیکن وہ ” بوفے ” کی میز کے پیچھے جا کھڑا ہوتا ۔ حالانکہ یہ ” سیلف سروس” بوفے ہوتا لیکن وہ آگے بڑھ بڑھ کر ہر ایک کی پلیٹ میں کھانا ڈالتا، کوئی خاص چیز ہوتی تو ایسے بتاتا گویا ہم اس کے گھر مہمان ہیں اور ہماری خاطر داری کے لئے چیزیں آگے کررہا ہے۔ بیچ میں جب کبھی وقت ملتا، ہر میز پر جاکر پوچھتا کھانا کیسا ہے۔ کوئی شکایت کرتا تو یوں پریشان ہوجاتا جیسے گھر آئے مہمان کے سامنے سبکی ہورہی ہے۔ پہلے تو کچھ تاویل دیتا کہ کس وجہ سے کمی رہ گئی، پھر رجسٹر شکایت اٹھا کر لے آتا کہ اس میں لکھ دیں کہ کیا شکایت ہے۔ کسی شکایت پر اس کا اضطراب دیکھنے جیسا ہوتا گویا کہ وہ ہی تمام چیزوں کا ذمہ دار ہے۔جبکہ اس کا کام صرف کھانا لگانا اور اس کی نگرانی کرنا تھا۔ کسی دن اس کی جگہ کوئی دوسرا ملازم آتا تو ایک کونے میں بیٹھا کھانا ختم ہونے کا انتظار کرتا رہتا کہ سب فارغ ہوجائیں تو وہ اپنا کام سمیٹے اور گھر کی راہ لے۔

اور ایک روز میں کسی کام سے دفتر سے باہر تھا۔ مجھے دیر ہوگئی اور کھانے کا وقت ختم ہونے کو تھا۔ میں نے کینٹین میں جاکر دیکھنا چاہا کہ کچھ بچا ہوا ہے یا پھر میں کہیں باہر سے کچھ منگوالوں۔

میں کینٹین پہنچا تو گویا جانسن میرا منتظر تھا۔ اسے میرے ساتھیوں سے علم ہوگیا تھا کہ میں دیر سے آؤں گا۔ اس نے میرے لئے کھانا اٹھا کر رکھا ہوا تھا۔ اس نے میرا موبائل نمبر لے لیا کہ کبھی دیر ہوتو وہ مجھے فون کرکے پوچھ لیا کرے گا۔ اور دو تین بار ایسا ہوا بھی کہ میں باہر تھا اور اس کا فون آیا کہ میں کھانے پر آرہا ہوں یا نہیں۔

اس کا یہ سلوک سب ہی کے ساتھ تھا لیکن مجھ سے اسے کچھ خصوصی تعلق تھا، وجہ شاید یہ تھی کہ میں سب سیے پہلے کینٹین پہنچتا تھا۔ میں دراصل فجر کے فورآ بعد ہلکا سا ناشتہ کرکے دفتر کے لئے نکل جاتا ہوں اور پھر دوپہر تک ایک پیالی چائے کے علاوہ کچھ نہیں کھا یا پیتا۔ ساڑھے بارہ بجے کینٹین شروع ہوتی اور میری بھوک بھی اپنے عروج پر ہوتی۔ لیکن ایک اور وجہ تھی جو اس قربت کا باعث تھی وہ یہ کہ میں جب کھانے پہنچتا عموماً کینٹین خالی ہوتی اور میں جانسن سے ادھر ادھر کی گپ شپ کرتا۔ میرے علاوہ شاید ہی کوئی اس سے بے تکلفی سے پیش آتا ہو۔ اسے بھی کرکٹ کا شوق تھا، مجھ سے کرکٹ پر تبصرہ کرنے میں اسے مزہ آتا۔

میرے ادارے میں اکا دکا پاکستانی ہیں ، یہ بڑی کمپنی ہے اور یہاں زیادہ تر ہندوستانیوں کا راج ہے۔ گو کہ یہ ملٹی نیشنل کمپنی ہے اور یہاں پاک و ہند کے علاوہ عرب، یوروپین، فلپائنی، اور افریقی بھی کام کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہندوستانی بھائی اسے انڈین کمپنی سمجھتے ہیں اور بلا دھڑک دوسری قومیتوں ، خاص کر پاکستانیوں کے بارے میں جو جی چاہے کہہ دیتے ہیں، ان کی بات کا جواب ہم عموماً نہیں دیتے کہ دفتر ی ماحول خراب نہ ہو۔ ایک آدھ بار جب بات حد سے کچھ زیادہ بڑھ گئی تو پھر انہیں ان کی زبان میں جواب دینا پڑا اور اس دن سے انہیں اندازہ ہوگیا کہ پاکستانی چاہے دو تین ہی ہوں، ان کے سامنے سنبھل کر بات کرنی چاہئیے۔ لیکن عادت سے مجبور ہیں اور اکثر سیاست یا کھیل کے حوالے سے کوئی نہ کوئی طنزیہ جملہ کہہ جاتے ہیں۔

ہم عموماً بحث اسی لئے کرتے ہیں کہ اپنی بات منوا سکیں اور اپنی برتری ثابت کرسکیں ، چاہے اس سے دوسرے کی دل آزاری ہو۔ جانسن لیکن جب بھی کرکٹ پر تبصرہ کرتا تو بڑا محتاط رہتا ۔ اگر کسی میچ میں بھارت نے پاکستان کو شکست دے دی ہے تو ہمارے ہندوستانی دوست اپنی خباثت کا بھر پر مظاہرہ کرتے۔ لیکن اگر پاکستان جیتتا، تو دوسرے دن دفتر میں ایسی خاموشی ہوتی جیسے کل کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ کوئی کرکٹ کی بات ہی نہیں کرتا۔

جانسن ہمیشہ خیال رکھتا کہ اگر پاکستان ہار بھی گیا ہے تو وہ پاکستان کے کھیل کی کسی اچھی بات کا ذکر کرتا۔

” ہارڈ لک یسٹرڈے، بٹ افریدی پلیڈ ویری ویل” وہ میری دلجوئی کرتا۔ اور یقین جانئیے آج کے دور میں اتنی وسعت قلبی صرف فرشتوں میں ہوسکتی ہے۔

شاید نویں یا دسویں جماعت میں ہم نے مولوی عبدالحق کا مضمون ” نام دیو مالی ” پڑھا تھا۔ نامدیو خاموشی سے اپنے کام سے کام رکھتا اور فضولیات میں وقت نہیں گنواتا تھا۔

جانس خاموش طبیعت تو نہیں تھا لیکن کام میں اس کی لگن دیکھ کر نامدیو مالی یاد آجاتا۔

یہ کبھی خالی نہیں بیٹھتا، مستقل کچھ نہ کچھ کرتا رہتا گویا اس کی زندگی کا دارومدار آج ہی کے کام پر ہے۔

مجھے یاد ہے کہ پردیس جانے سے پہلے میں نوکری کی تلاش میں تھا۔ میرے کچھ دوست سرکاری دفتروں میں کام کرتے تھے اور اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ بتاتے تھے کہ ” یار کام ہی کچھ نہیں ہوتا” ۔

ہمارا ایک دوست بجلی کے محکمے میں تھا، گیارہ ساڑھے گیارہ بجے گھر سے نکلتا، دفتر پہنچ کر حاضری لگوا کر ٹیلیفون آپریٹر کے کمرے میں شطرنج کی بازی جما کر بیٹھ جاتا۔ ڈیڑھ دو بجے ، دوگھنٹے کا ” اوورٹائم ” درج کر کے گھر کی راہ لیتا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

ایک اور دوست کے ڈی اے میں ملازم تھا جو صرف تنخواہ والے دن دفتر جاتا تھا اور فخر سے ہمیں بتاتا تھا کہ میں تو کبھی دفتر نہیں جاتا اور ہم رشک سے اسے دیکھتے۔

مجھے بھی اتفاق سے پہلی ملازمت سرکاری ادارے میں ہی ملی۔ اور میرا بھی حال کچھ مختلف نہیں تھا۔ البتہ میرے کام کی نوعیت ایسی تھی کہ بادل نخواستہ دفتری اوقات کے اختتام تک بیٹھنا پڑھتا۔ یہ بھی کوئی زیادہ نہیں تھے یعنی دو بجے دفتر بند ہوجاتا گو کہ ہم ڈیڑھ بجے ہی سب کچھ سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کرلیتے۔ چند ایک کام تھے جو مجھے لازمی کرنے ہوتے جیسے تنخواہیں بنانا اور ادارے کے ڈائریکٹر کے ٹی اے اور ڈی اے کے بل بنانا۔ بقیہ اوقات میں مکھیاں مارا کرتا یا پرانے اخبار پڑھا کرتا جو میرے ادارے کے قائم ہونے کے دن سے اس وقت تک میرے ہی کمرے میں نجانے کس وجہ رکھے ہوئے تھے۔ مجھے کوئی پرانا واقعہ یاد آتا اور میں اس اخبار کو ڈھونڈ نکالتا۔ یا پھر ساتھیوں سے گپ شپ کرتا رہتا۔ چائے کے دور چلتے اور کھیل، سیاست، فلموں وغیرہ کی باتیں ہوتی رہتیں۔

باہر آنے کے بعد اپنی اوقات میں آنا پڑا اور یہاں حق حلال کی روزی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ کچھ عرصہ ایک پاکستانی بینک میں کام کیا جہاں میرے افسر کا انداز وہی پاکستان والا تھا اور چونکہ ان کا سارا کام میں نے سنبھال رکھا تھا چنانچہ وہ دفتر سے بیٹھے اپنے ” ہوٹل” کے معاملات دیکھتے رہتے جس کے وہ مالک تھے۔

یہ مستقل ملازمت نہیں تھی، چند ماہ بعد ایک بین الاقوامی ہوٹل کی “چین ” (chain)میں ملازمت مل گئی، وہ دن اور آج کا دن پے، ہمیشہ ” گوروں” کے ساتھ کام کرنا پڑا جن میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ کام کے وقت کام اور کھیل کے وقت کھیل۔ مجبوراً ایمانداری سے کام کرنے کی عادت پڑگئی۔ لیکن شام کو ہمیشہ گھڑی پر نظر رہتی کہ دفتر کا وقت کب ختم ہو اور میں اپنا بستہ باندھ کر گھر کی راہ لوں۔

کام کو شوق سے کرو تو مشغلہ بن جاتا ہے، بے دلی سے کرو تو مشقت بن جاتا ہے۔ جانسن تو کام کچھ ایسے کرتا جیسے عبادت کررہا ہے۔

انہی دنوں صبح دفتر آتے ہوئے جب ٹریفک کی سخت بھیڑ ہوتی اور شدید گرمی میں ایک نوجوان ٹریفک پولیس والے پر نظر پڑتی جو مسکراتے ہوئے ٹریفک کنٹرول کرتا رہتا۔ اس ہنس مکھ پولیس کے سپاہی کا ذکر میں۔ پہلے بھی کہیں کر چکا ہوں۔ لوگ اس کے قریب سے ہو کر گذرنے کی کوشش کرتے کہ اسے ہاتھ ہلا سکیں یا سلام کرسکیں۔ صبح کے دشمن ٹریفک میں وہ گویا اس دن کے لئے امید اور روشنی کا پیغام ہوتا۔

آپ یہی کہیں گے کہ اس پوری رام کہانی کا مقصد کیا ہے۔ بات صرف اتنی سی کہنی ہے کہ بے شک بڑے بڑے لوگ ہوتے ہیں جو ہمیں زندگی گذارنے کی راہیں دکھاتے ہیں۔ لیکن ان سے بڑھ کر ہمارے آس پاس یہ چھوٹے چھوٹے لوگ، یہ ماٹی کے پتلے بھی ہوتے ہیں جو ہماری زندگی کے استاد ہوتے ہیں۔ جانسن اور اس نوجوان پولیس والے نہ مجھے سکھایا کہ کام تو سب کرتے ہیں لیکن کام کی توقیر کیسے کی جاتی ہے۔ اور یہ کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ بڑائی اس میں ہے کہ جو کچھ کرو اس میں کمال حاصل کرو۔

احسان کی ایک قسم یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنے ذمے سے کچھ زیادہ کردیں۔ مثلاً ایک مالک اپنے ملازم کو اس کی مزدوری سے کچھ زیادہ دیدے یا کوئی مزدور اپنے مقررہ کام سے کچھ زیادہ کردے۔ لیکن احسان کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جو کچھ کرے احسن طریقے سے کرے، چاہے وہ عبادت ہو یا روزمرہ کے کام۔ اور جب یہ کام آپ کی روزی روٹی سے بندھا ہو اور جانسن جیسوں کی طرح کام کیا جائے تو یہ احسان بن جاتا ہے۔ احسان جو اللہ تعالی کی صفت ہے۔ یہ ہماری زندگیوں کے استاد ہیں، زمانہ ایسے ہی لوگوں کے زریعہ اچھائی اور برائی کا فرق سکھاتا ہے۔ جانسن نے مجھے سکھایا کہ اپنے کام کی عزت کرنا، اپنے رازق کا شکر ادا کرنا ہے۔

“پرسوں میرا آخری دن ہے” جانسن کی آواز خوشی سے لرز رہی تھی۔ اسے ایک بہت بڑے مسافربرداربحری جہاز ” Cruise Liner” پر نوکری مل گئی تھی۔ ایسے جہاز جن پر ایک دنیا آباد ہوتی ہے اور جن پر پنج ستارہ ہوٹلوں کا گمان ہوتا ہے۔ نہ صرف تنخواہ اچھی تھی بلکہ دنیا کے خوبصورت ترین بندرگاہوں کی سیر کے مواقع تھے۔

میں نے اس مبارکباد دی۔ لیکن مجھے افسوس بھی ہوا۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے اس کی کمی محسوس ہوگی۔ اس نے میرا بہت خیال رکھا تھا۔

دوسرے دن میں ایک سستی سی گھڑی اس کے لئے لے آیا جو کہ قیمت میں تو کم تھی لیکن نوجوانوں میں مقبول تھی۔ جانسن بڑا خوش ہوا۔ میں نے خصوصا” ایسے وقت کا انتخاب کیا تھا کہ آس پاس کوئی نہ ہو اور کوئی مجھے اس معمولی سے لڑکے سے اس طرح ملتے ہوئے نہ دیکھے۔ ہماری کمپنی کا ایک آفس بوائے وہاں موجود تھا اور حیرت سے ہمیں دیکھتا تھا۔ میری کمپنی میں نجانے کتنے لوگ آتے جاتے تھے اور میں نے کبھی کسی کو کوئی تحفہ نہیں دیا، اور یہ معمولی سا لڑکا اور وہ بھی دوسری کمپنی کا نوکر۔ آفس بوائے کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ تھی جسے میں کوئی نام نہ دے سکا۔

 

“سر ایک لڑکا پوچھ رہا ہے کہ وہ آپ سے مل سکتا ہے؟” ہماری فلپائنی ریسیپشنسٹ پوچھ رہی تھی۔

” کون ہے، کس کمپنی سے ہے۔ کیا اپائنٹمنٹ لیا ہواہے ؟”

” نہیں سر، جانسن نام بتا رہا ہے”

‘ کون جانسن؟” مجھے کچھ یاد نہ آیا۔

” وہ کہہ رہا ہے کہ آپ کو جانتا ہے”

میں نیچے آیا۔ استقبالیہ کے سامنے صوفے پر ایک ایک چھوٹا سا، سیاہ رنگت والا، معمولی سالڑکا بیٹھا تھا۔ میں پہچان نہیں پایا۔

” ہیلو سر، ہاؤآر یوسر؟’

یہ جانسن تھا، تقریباً آٹھ ماہ بعد اس کا جہاز دوبئی پر لنگر انداز تھا اور وہ خصوصی چھٹی لے کر مجھ س ملنے آیا تھا۔

میں نے بے ساختہ اسے گلے لگالیا۔ ہم وہیں صوفے پر بیٹھ گئے۔

” یہ دیکھیں سر، آپ کی دی ہوئی گھڑی”

کچھ دیر باتیں کرکے وہ اجازت لے کر کھڑا ہوگیا کہ اسے واپس بندرگاہ پہنچنا ہے۔

ہم پھر گلے ملے۔ جانسن چلا گیا۔  

فلپائنی ریسیپشنسٹ جو کہ نئی تھی حیرت سے ہمیں دیکھتی تھی۔

“کون تھا یہ؟”

” میرا ایک استاد”

” آپ کا استاد؟” اس کا منہ حیرت سے کھلا ہوا تھا۔

” ہاں تم بھی میری استاد ہوسکتی ہو، اگر اس کی طرح کام کرو”

اس نے عجیب نظروں سے مجھے دیکھا اور سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: