مشعال: والدین کے کاندھے کا مستقل بوجھ

1

مشعال خان کا قتل ہو گیا۔ اس کے باپ کیا بیان ابھی پڑھا۔ وہ صبر بھی کر لیں گے۔ خوبرو، جوان اور سعادتمند بیٹے کی لاش کو کاندھا دے کر جو صبر کرلیں، اللہ نے جنتوں کو شائد انہی کے لیے وسیع رکھا ہے۔
مگر کل سے اب تک مجھے قاتل کا سرا غ نہیں مل رہا۔ لوگوں نے کچھ بتایا ہے مگر یقین نہیں آتا۔ دل نہیں مانتا۔ ایک گولی، ایک بھالا، ایک پتھر خود سے قتل کر سکتی ہے بھلا؟
ہاں اس گولی کو چلانے والے طالبعلم (جس کو طالب اور علم کے الفاظ کے ساتھ لکھتے ہوئے قلم لرزتا ہے) ، اس پتھر کو پھینکنے والے بیٹے، اور اس بھالے کو اٹھانے والے انسان (حیوان کیسے کہوں؟ ) کو قاتل سمجھ لوں؟ مگر پھر نظر اس سے پیچھے چلی جاتی ہے۔
نعرہ تکبیر کی صدائیں جن حلقوں سے نکل رہی ہیں، اور جو ہاتھ اپنے نبی ﷺ کی ناموس کی خاطر اٹھ رہے ہیں، انکو کوئی غرض نہیں کہ جس کی ناموس کی خاطر وہ اس انسان کی جان لینے کے درپے ہیں، اس ہستیﷺ نے قیدیوں کے حقوق بھی مقرر کر رکھے تھے۔ مگر انکو کسی نے شائد یہ نہ بتایا ہو۔ انکو شائد یہ بھی نہ پتہ ہو کہ ایسا کرنے سے انکی بخشش کی بجائے جہنم کے دروازے ان پر کھولے جا سکتے ہیں۔ کہ میری نبیﷺ نے اپنے عالی مرتبہ صحابی سے بھی پوچھ لیا تھا کہ کیا تم نے قتل کرنے سے پہلے اس کے دل میں جھانک لیا تھا کہ وہ دل سے مسلمان ہوا یا نہیں۔
سراغ نہیں ملتا کہ اصل قاتل کون ہے؟ بے گناہ کو بغیر کسی حق صفائی کے مار دینے والے، یا عدم برداشت کا وہ ماحول جو ہمارے اردگرد پھیلا ہوا ہے، وہ ہی ہم سب کو ایک ایک کر کے مار رہا ہے۔ نام، مسلک، وجہ، اور جگہ مختلف ہو سکتی ہے مگر مارنے والا ہاتھ بالاخر اس انتہا پسند سوچ کا ہے جو ہمیں جابجا ہر گلی کوچے میں نظر آتی ہے، جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم سے مختلف رائے رکھنے والا قابل گردن زنی ہے، بس فیصلہ صرف یہ کرنا ہے کہ اس کو کب اور کہاں مارا جائے۔
میرے ملک میں توہین رسالت نہیں ہو رہی کہ ننانوے فیصد مسلمانوں کے ملک میں توہین رسالت ہونے کا سوال ہی مشکل ہے، مگر توہین رسالت کے خلاف ہماری ایمانی کیفیت کو بار بار مختلف لوگ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور ہم ہو رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان ہو رہے ہیں۔
مشعال خان کے قتل جیسے واقعات صرف اس لیے ہو رہے ہیں کہ قاتلوں کو اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ آسانی سے ہمارے ان جذبات کو ابھار سکتے ہیں، اور ان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ جس دن ہمارا معاشرہ، ہماری ریاست ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کے لیے پہلا قدم اٹھائے گی، مشعال خان زندہ رہیں گے اور اپنے بوڑھے والدین کے کاندھوں پر ہمیشہ کا بوجھ نہیں بنیں گے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: