چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 3

0

چامکوں کی جان محترمہ چودھری کی بے بسی: (7)
ایک ایک کرکے لڑکیوں کی انٹری ہوتی جارہی تھی، مگر محترمہ چودھری کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی اور بالآخر ایک موٹے اور بھدے شخص کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ وہ اِس کی جانب لپکی اور اس پر جس طرح نچھاور ہورہی تھی وہ قابل دید منظر تھا۔ ایک حسینہ ایک ایسے شخص پر لٹو دکھائی دیتی تھی جسے اپنے گھر والے بھی اتنی دلچسپی نہ دیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تھیڑ کا مالک ہے۔ دونوں نے کچھ چہ میگوئیاں کیں اور پھر پروڈیوسر بھی تھیٹر مالک کے کہنے پر آگیا اور یوں محترمہ چودھری کو پھر سے تھیٹر پر کام مل گیا۔اگلے دن سے وہ اِس ٹیم کا پھر سے حصہ تھی۔ مگر چامکوں کی جان، حسینہ طرح دار، محترمہ چودھری کو اس کی کیا قربانی دینی پڑی ہوگی اس کیلئے زیادہ دماغ پر زور دینے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ پروڈیوسر اَرشد چودھری اور اداکارہ سوہا علی کا حالیہ چپقلش کا واقعہ تو یاد ہوگا ناں۔ ؟؟
٭٭
سوہا علی، پروڈیوسر اور چامکا (8)
2017ء میں جنوری کی ابتدائی تاریخوں میں لوگ نئے سال کا جشن منا رہے تھے اور سوہا علی خود پر ٹوٹنے والے ظلم کا ماتم منا رہی تھی۔ سوہا علی نے پروڈیوسر ارشد چوہدری کے خلاف جنسی زیادتی کی درخواست مقامی تھانے جمع کروائی۔نجی ٹی وی کے مطابق اداکارہ سوہا علی نے سی سی پی او لاہور کے دفتر میں ایک درخواست جمع کرا ئی۔جس میں الزام عائد کیا گیا، پروڈیوسرارشد چوہدری نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اب اکلوتے بیٹے کو قتل کرنے کی سنگین دھمکیاں دے رہا ہے۔
کتنی حیرت کی بات ہے کہ ارشد چوہدری کی جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی سٹیج ڈا نسر دودن غائب رہنے کے بعد اپنا بیان بدلنے پر مجبور ہوگئی اور ملزم ٹھہرائے گئے پروڈیوسر کو اپنا محسن گردانتے ہوئے جنسی بداخلاقی کی خبروں کو جھوٹ قراردیا،یہی نہیں بلکہ یہ پروڈیوسر کے کسی دشمن کی سازش قراردیدیا حالانکہ سوہا علی کی ویڈیوز اور آڈیو کلپس کے علاوہ تھانے میں جمع کرائی گئی درخواست کی کاپی کافی عرصہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنی رہیں۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگوکرتے ہوئے سوہاعلی کاکہناتھاکہ ارشدچودھری سے کوئی جھگڑایا زیادتی نہیں ہوئی،انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا البتہ ڈرامہ کرکے گھر پہنچنے کے بعد طبیعت خرابی کی وجہ سے وہ دو دن منظرعام پر نہیں آسکیں، فیس بک اورمختلف ویب سائٹس پر پر ہم دونوںپر غلط الزامات لگائے جارہے ہیں اور یہ ساراجھوٹ ہے، ہم نے چارسال اکٹھے کام کیا بلکہ مجھے آگے لانے والے بھی ارشدچودھری ہی ہیں،ایسی خبروں پرمیں بھی کافی پریشان ہوں، یہ لوگ شاید ان کے کوئی دشمن ہیں۔
دوسری طرف اس سے قبل روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قبل اداکارہ کہہ چکی تھیں کہ ارشد چودھری نے بداخلاقی کا نشانہ بنایا، اس تھیٹرمیں ایک گانے کے بدلے لڑکیوں کو عزت کی قربانی دینی پڑتی ہے، مجھے بھی کہاگیالیکن میں نے پہلے توجہ نہیں دی لیکن اس دن مجھے اس نے پکڑلیا، جتنی تکلیف مجھے دی، ایک دن اس کیساتھ بھی کوئی ایساہی کرے گا تو اسے پتہ چلے گا۔بہر حال لاکھوں روپے کے بدلے میں سوہا علی اپنا بیان بدلنے پر مجبور ہوگئی اور یوں یہ معاملہ رفع دفع ہوگیا تو کیا صرف سوہا علی ہی تک یہ کہانی رُک گئی ؟
بات اب سوہا تک نہیں رہی بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق ارشد چوہدری کی آفرین خان سے شادی، اس سے ایک بیٹی کی پیدائش، اداکارہ فائزہ خان، ارم چوہدری، لیلی علی، صوبیہ خان، سارا خان، سیمی خان، وردہ، لاشانہ، شبنم چوہدری، سجنی، شمع رانا، جیا بٹ، لائبہ خان، عرج، انمول وفا، نمی، کشف، رمل، ماریہ مسکراہٹ، انیشا خان سمیت دیگر کئی اداکارائوں کے ساتھ بھی جنسی تعلقات کی باتیں عام ہو چکی ہیں۔ اور یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ارشد چوہدری نے وہاں کام کرنے والے خواجہ سرا، لائیکہ خان کو بھی نہیں بخشا۔ ارشد چوہدری کے اس سارے مکروہ دھندے میں ڈاکٹر منور چاند اور ارشد چوہدری کے ملازم راحیل شاہ وارثی اور اعجاز حیدر بھی برابر کے شریک رہے۔ یہ انکشافات تو ہوچکے مگر ارشد چوہدری نے اپنے پیسے اور خاص لوگوں کے زریعے ناصرف سوہا علی کو یو ٹرن لینے پر مجبور کر دیا بلکہ اپنی حمایت میں لوگوں سے بیانات بھی دلوائے ہیں۔
کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اکثرتھیٹر ڈرامہ پروڈیوسر حضرات کسی نہ کسی کا چامکا ہوکر اس مستقل اس فیلڈ کا چنائو کرلیتے ہیں کیونکہ کسی نے کیا خوب کہا ہے’’ایک لڑکی کا دیا گیا غم، دوسری لڑکی ہی دور کرسکتی ہے۔‘‘

٭٭
چامکوں کی عیاشی کی دنیا: (9)
ٹی وی میں کام کرنے کے لئے تو معیاری تعلیم کا ہونا ضروری ہے مگر تھیٹر ایک ایسا شعبہ بن چکا ہے جس کے بارے میں یہ بات عام ہوچکی ہے کہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔تماشہ دیکھنے والوں میں اکثریت تو ان کی ہوتی ہے جو چند سو روپے کے ٹکٹ لیکر تھیٹر میں دو چار گانے جو کہ مجرے سے کم نہیں ہو تے وہ دیکھ کر گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ لیکن اب بڑے بڑے غنڈوں، بدمعاشوں اور مالداروں نے بھی اپنی عیاشی کے لئے تھیٹر کو محفوظ پناہ گاہ بنا لیا ہے جہاں پر ایسے شوقین افراد کو پروڈیوسرز اور اداکارائوں کے سیکرٹری جو اصل میں ان کے سب کرتا دھرتا ہوتے ہیں ان کی بھی مکمل حمایت حاصل ہوچکی ہے۔ شوقین مزاج اگر کسی اداکارہ کو ملنا چاہے تو یہ کام پروڈیوسرز اور اداکارہ کے سیکرٹری کے ذریعے کسی لمبی چوڑی کوشش کے بغیر ایک فون کال پر ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسٹیج ڈرامے کے پروڈیوسرز کا نام ذہن میں آتے ہی لاہور کی ہیرا منڈی میں شام کے وقت گھومنے والے دلال ذہن میں آتے ہیں۔ وہ لوگ تو لڑکیاں تو آگے بھیجتے ہی رہے ہیں لیکن اب یہ خوفناک انکشاف بھی ہوا ہے کہ پروڈیوسرز بھی کسی سے کم نہیں۔ وہ شہرت کی بھوکی اداکارئواں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر ان کی عزتوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور اپنا کمیشن رکھ کر آگے بھی سپلائی جاری رکھتے ہیں۔

دوسری قسط یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: