آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

0

پچھلے دنوں بحرین جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں ایک چار سو برس پرانا درخت دیکھا جو ایک بے آب و گیاہ صحرہ میں ہرا بھرا کھڑا ہوا ہے۔جسے دیکھنے غیر ملکی سیاح جوق در جوق آرہے تھے۔ہم سیاح نہیں لیکن پھر بھی پہنچ گئے ۔حیرت ہوئی کہ ایسے درخت تو پاکستان میں بھی ملتے ہیں لیکن تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے کوئی دیکھتا تک نہیں۔غیر ملکی بھی نہیں آتے۔
آئیر لینڈ میں ایک جگہ ہے ’’The Giant Causeway‘‘ جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح جاتے ہیں۔ہم سیاحت کے لیئے تو نہیں تفریحاً وہاں گئے،۔۔ سمندر میں چند چٹانوں کے درمیان ایک نامکمل پل کے آثار ہیں ایک بڑی بلڈنگ میں کھانے پینے کی دکانوں کے علاوہ دیگر اشیا کی دکانیں ہیں۔۔ایک بڑی اسکرین پر ایک فلم مسلسل چلتی رہتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک دیو دوسرے کنارے سے یہاں تک پہنچنے کے لیئے ایک پل بناتا ہے۔یہاں تک آتا ہے لیکن اس کنارے پر رہنے والے ایک جوڑے کی حکمت عملی کی وجہ سے یہ خوفزدہ ہو کر بھاگتا ہے اور اس پل کو توڑ دیتا ہے کہ کوئی تعاقب نہ کر سکے۔ ۔ یہ دیکھنے کے لیئے لوگ دور دراز سے آتے ہیں تصاویر بناتے ہیں اور بیوقوف بنتے ہیں۔۔ ہم تو تفریحاً وہاں گئے۔۔اس کازوے کو دیکھنے کے لیئے پاکستان سے نہیں نکلے۔ لیکن سیاح اس کی شہرت سن کر گھر سے نکلتے ہیں۔
ہم نے اور بھی کئی جگہیں دیکھیں ۔۔مثلاً
٭ برنارڈ شا کا گھر جہاں وہ پیدا ہوا۔( ہمارے پاس بھی قائد اعظم ؒ کی جائے پیدائش ہے تو سہی لیکن تشہیر سے محروم)
٭جیسے دو دریائوں کا سنگم جہاں بیٹھ کے ’ سر تھامس مور‘ (Sir Thamas Moor) شاعری کرتا تھا۔ ( ہمارے پاس بھی دو دریائوں کا سنگم ہے دریائے کابل اور دریائے سندھ جو ان دو دریائوں سے کہیں بہتر ہے)۔
٭جیسے بیلفاسٹ جہاں ٹائیٹینک بنایا گیا تھا۔۔
٭فلی ڈیلفیا(Philidalphia )میں ہمارے میزبان ایک محلے میں لے گئے وہا ں ایک گھر میں بھی جانا ہوا جس میں بیٹسی روس (Betsy Ross) رہتی تھی جس نے امریکہ کا پہلا پرچم سیا تھا۔اس کے مکان کو حکومت نے قومی ورثے کے طور پر محفوظ کر لیا ۔( ہمارا قومی پرچم سینے والے کے مکان کا تو شاید ہی کسی کو علم ہو)
اور بھی بہت سی جگہیں ہیں جن میں بات تو خاص نہیں لیکن حکومتوں نے انہیں سیاحوں کی جنت بنا دیا جبکہ ہمارے پاس ان سے بہتر چیزیں ہیں۔
٭بھارت میں بھی مغل بادشاہوں کے مقبروں ۔ مساجد وغیرہ کو سیاحوں کو متوجہ کرنے کا زریعہ بنادیا جبکہ ہم نے مغلوں کی بنائی ٹھٹھہ کی شاہی مسجد یا لاہور کی بادشاہی مسجد کے علاوہ جہانگیر اور نورجہاں کے مقبروں کو بھی پس پشت ڈالدیا۔۔ان کو قومی ورثہ بنانے کے لیئے کوئی آگے نہیں آتا۔
ہمارے ملک میں دہلی کی جامع مسجدنہیں لیکن بادشاہی مسجد توہے ۔شاہجہاں اور ممتاز کا مقبرہ نہیں لیکن شہنشاہ جہانگیر اور نورجہاں کا مقبرہ تو ہے۔ان کے علاوہ، ہڑپہ، موہنجو ڈرو اور ٹیکسلا موجود ہیں جنہیں سیاحوں کے لیئے ڈیویلپ کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں۔۔ ہاں سیاسی اسکورنگ کے لیئے استعمال کی جا سکتی ہیں
ان کو محفوظ رکھنے کے لیئے حکومت کو چاہیئے کہ کوئی نیلی پیلی ٹرین یا میٹرو بس کا روٹ ان کے قریب سے گزارنے کا اعلان کردے تو پھر سارے حقوقوں کے ٹھیکے دار اپنے اپنے بلوں سے نکل پڑیں گے۔ ۔لاہور کی چار برجی کو بچانے کے لیئے عدالت جانے والی عاصمہ جہانگیر بھی پھر شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے کو بچانے نکل پڑیں گی۔
لاہور کی چوبرجی کو شاید ہی سارے لاہوریوں نے کبھی دیکھا ہو لیکن ہمیں یقین ہے اس کو بچانے کے لیئے عدالت جانے والے بھی شاید ہی وہاں گئے ہوں۔لیکن آج یہ بتا رہے ہیں کہ یہ ورثے ہماری قوم کے لیئے بہت ضروری ہیں۔یہ قومی ورثے کیا ہمیں کھانے کو دیتے ہیں۔۔دیگر ممالک تو ایسے قومی ورثوں سے ٹورزم کی مد میں خوب کما کھا رہے ہیں لیکن ہمارے یہاں تو سیاسی وجوہات کی وجہ سے چالیس پچاس لوگ اس کو اس لیئے بچانا چاہتے ہیں تاکہ لاکھوں انسانوں کو سفری سہولتوں سے محروم رکھا جائے۔ان کا منشا یہ ہے کہ یہ اورنج ٹرین وقت پر مکمل نہ ہو۔ تاخیر کا شکار ہو تاکہ دیر ہونے کی وجہ سے لاگت بڑھ جائے اور ووٹ بینک بھی ٹوٹ جائے۔
ہماری حکومت کو چاہیئے کہ سب سے پہلے ان این جی اوز کو بین کردے جو افغانستان پر نان نیوکلیر بم کے خلاف تو احتجاج نہیں کرتی لیکن بے مقصد عمارتوں کے تحفظ کے لیئے پورا زور لگارہی ہیں۔ان کی سنجیدگی تو اس سے ہی عیاں ہے کہ لاہور میں ہی ایک ایسے ورثہ پر ایک کمرشل پلازہ بنا یا گیا تو ان کے کان پر جوں نہیں رینگی لیکن چو برجی او ر بادشاہی مسجد کے قریب سے گذرنے والی ٹرین ان عمارتوں کے لیئے خطرہ بن رہی ہے۔اگر یہ اتنی ہی سنجیدہ ہیں تو قائد اعظم کی جائے پیداش میں موجود فلیٹ کے تحفظ کے لیئے مہم چلائے۔۔۔ایک اور مشورہ بھی مفت ہے۔۔ یہ ملالہ کے گھر کو بھی قومی ورثہ قرار دینے کے لیئے مہم چلائے۔۔ اس میں امریکہ بھی سرمایہ کاری کرے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: