چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 2

0

چامکاکی لیلیٰ کا حال: (5)
یہ اتفاق ہی تھا کہ فلم کے حوالے سے ملتان جانا تھا لیکن ریکارڈنگ صادق آباد میں مکمل کی تھی اس لیے کچھ رفقاء سے ملاقات کیلئے اس اسٹیشن پر اُترنا پڑا۔ بکرا عید کا دوسرا دن ہونے کی وجہ سے تھیٹروں کا زور و شور تھا۔ اس سے قبل لاہور میں ڈرامے دیکھے تھے لیکن ناظرین کے ساتھ بیٹھ کر۔ اس مرتبہ ہمارے میک اَپ آرٹسٹ کے بھائی راہی صاحب کا ڈرامہ صادق آباد میں ہی تھا، وہ پرفارم کررہے تھے۔ دعوت دی کہ آپ ملتان کل چلے جانا، آج آپ میرے مہمان ہو۔ ڈرامہ بھی انجوائے کرنا اور تھیٹر کی دنیا کو بھی قریب سے دیکھنا۔ ڈرامہ دیکھنے سے زیادہ میرے لیے دلچسپی کا باعث دوسری پیش کش تھی اس لیے ملتان کو کل پر ٹال دیا اور دعوت قبول کرلی۔ عام طور پر تھیٹر کا ایک ہی شو چلتا ہے لیکن عید کی وجہ سے اِس دن دو شو تھے، فیصلہ یہ کیا گیا کہ پہلا شو تو اسٹیج کے پیچھے بیٹھ کر ٹائم پاس کریں گے اور اگلے شو میں ناظرین کے ساتھ بیٹھ کر۔
جہاں آرٹسٹ ٹھہرے ہوئے تھے ہم وہاں آگئے، تین چار اداکارائوں سے تعارف ہوا جو ڈرامے کیلئے تیاری کررہی تھیں، میک اَپ تھوپا جارہا تھا اور بھڑکیلے، چمکیلے لباس زیب تن کیے جارہے تھے۔ امبر بلوچ(صرف بلوچ کے علاوہ نام تبدیل کیا ہے) سے تعارف ہوا، اس کے ساتھ اس کا شوہر بھی تھا اس کے باوجود اسے خبر ہوئی کہ میں ایک عدد فلم کا پروڈیوسر بھی ہوں تو خوش شکل، خوش اخلاق امبر نے کاروباری مسکراہٹ سے دیکھا۔
ابھی یہ مسکراہٹ پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک حسینہ محترمہ چودھری اپنے چار، پانچ سالہ بچے اور شوہر کے ساتھ آن دھمکیں اور پریشانی سے پوچھا’’آج کا شو کینسل ہوگیا ہے کیا؟‘‘
ایک کامیڈین نے اپنی کمر پر خارش کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تو پھر وہ مزید پریشانی سے بولی تو مجھے کیوں نہیں بلایا گیا، حالانکہ پوسٹرپر میری تصویر بھی لگی ہوئی ہے۔
کامیڈین نے پنجابی میں کہا’’یہیں ڈیک پر دوچار مجرے کرلو جو کرنے ہیں۔‘‘
اس کا شوہر بولا’’سولو پروگرام میں کوئی مسئلہ تو نہیں لیکن کوئی بندہ بھی تو ہو۔‘‘
کامیڈین نے ہم سب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شوہر نامدار پر جگت کی’’یہ سب بندے ہی بیٹھے ہیں، کون سا گملے رکھے ہیں۔‘‘
شوہر مسکرایا اور کہا’’یہ نوٹ والی پارٹی ہے کہ نہیں؟‘‘
راہی صاحب نے مداخلت کی’’آپ لوگ شو پر آکر پروڈیوسر سے ملاقات کرلینا، میرے مہمانوں کو ڈسٹرب نہ کرو۔‘‘
یوں محترمہ چودھری اپنی فیملی کے ساتھ اُداس ہوکر روانہ ہوگئی۔
ان کے جاتے ہی راہی نے بتایا’’پہلے تو بڑے نخرے کررہی تھی، آج دیکھنا، ہزار رَوپے میں شو کرنے کیلئے بھی پروڈیوسر کی منتیں کرے گی۔‘‘
٭٭
چامکے کی تلاش(6)
راہی صاحب کے کسی چاہنے والے نے قربانی کے صاف صاف گوشت کا قورمہ بنا کر بھیجا تھا جس سے فوری طور پر ہماری دعوت کی گئی اور پھر تھیٹر کی جانب راہی صاحب کی قیادت میں روانہ ہوئے۔دس منٹ بعد ہم تھیٹر کے گیٹ پر تھے جہاں عید کے باعث کافی رش تھا۔ جناتی پوسٹر کے ساتھ ہی تھوڑا سا راستہ تھا جہاں اندھیرے کا راج تھا۔ اسی راستے سے ہم گزر کر تھیٹر کے پیچھے پہنچے تو جنگل میں منگل کا سا سماں تھا۔ امبر بلوچ سمیت درجن بھر خوبصورت لڑکیاں جا بجا بکھری دکھائی دیں۔ چار جو خود ساختہ سینئر تھیں کرسیوں پر براجمان تھیں اور اپنا میک اَپ درست کررہی تھیں باقی زیر تعمیر عمارت کی اینٹوں پر بیٹھی ہوئی اپنے چہروں کو مزید سنوارنے کی کوشش کررہی تھیں۔ چونکہ راہی صاحب ہی یہاں کے کامیڈین کنگ تھے اس لیے دبدبہ کچھ زیادہ ہی تھا۔ ان کے کہنے پر چاروں کرسیاں لڑکیوں سے لے کر ہمیں بٹھا دیا گیا۔ ہمارے ساتھ فلم کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ فوراً ہی چائے بھی آگئی۔ راہی صاحب نے فرمایا’’آپ چائے پیو، میں انٹری مار کر آیا۔‘‘
راہی کے جاتے ہی ماحول کا پھر سے مشاہدہ کیا تو مجھے سجی سنوری فنکارائوں پر ترس آنے لگا۔ اندھیرے میں اُداس بیٹھی محترمہ چودھری بھی دکھائی دے گئی، جس کا شوہر اور بچہ اس وقت ساتھ نہ تھا۔ ڈرامہ کنٹرولر نے آکر ایک لڑکی کو اشارہ کیا کہ وہ تیار ہوجائے دو منٹ بعد اس کی انٹری ہے، وہ اٹھ کر اسٹیج کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔ اس کی انٹری ہوتے ہی دو تین لڑکیاں پردوں کے پیچھے سے جاکر پہلے والی لڑکی کی پرفارمنس دیکھنے لگیں لیکن راہی صاحب آچکے تھے اور میں نے اس بارے میں پوچھا ’’جو لڑکی ڈانس کررہی ہے کیا وہ زبردست پرفارمر ہے؟ جو یہ لڑکیاں اس کے رقص سے لطف لے رہی ہیں؟‘‘
راہی مسکرایا اور پنجابی میں کہا’’پرفارمنس ڈانسر کی نہیں، سامنے بیٹھوں لوگوں کی نوٹ کررہی ہیں کیونکہ بعد میں جب ان کی انٹری ہو تو پورا زور نوٹ والے چامکوں کی طرف ہو۔‘‘
میں حیرانگی سے یہ انکشاف سن رہا تھا، مجھے خاموش دیکھ کر راہی نے مزید آسان کرکے بتایا’’میرے شہزادے! یہ پروڈیوسر سے بے شک ہزار لے کر کام کریں لیکن پبلک میں بیٹھے اپنے شکار سے دس ہزار بھی نکلوالیتی ہیں اور یہ لڑکیاں وہی شکار تلاش کررہی ہیں کیونکہ ڈانسر لڑکی پر جو لوگ زیادہ نوٹ پھینک رہے ہیں یا دل و دماغ سے اس پر متوجہ ہیں تو انہوں نے بھی جاکر اُدھر ہی زیادہ ادائیں دکھانی ہیں۔‘‘
مطلب’’ہدف کا تعین‘‘ میں نے اُردو میں کہا تو جواب میں راہی صاحب کا پنجابی قہقہہ بلند ہوا۔

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔

اس سلسلہ کہ پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: