کیا خلافت ایک دینی اصطلاح ہے؟ سید متین شاہ کے جواب میں

0

گذشتہ روز شایع ہونے والے اس موضوع پہ خورشید ندیم کے کالم کے جواب میں شائع ہونے والے سید متین شاہ صاحب کے مضمون کے جواب میں ڈاکٹر عرفان شہزاد نے یہ مضمون لکھا ہے، قارئین کے مطالعہ کے لئے پیش ہے۔ کوئی اور صاحب اگر اس سلسلے میں اپنی تحریر بھیجنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔ ادارہ


علم کی دنیا میں بڑے اچنبھے کی بات ہوتی ہے کہ بعض اوقات ایک سادہ سی بات علمی مغالطے کا شکار بن کر اہل علم کے لیے بھی مخمصہ بن جاتی ہے۔ یہی کچھ خلافت کے دینی اصطلاح ہونے کے بیان میں بھی ہو رہا ہے۔ چند توضیحات امید ہے معاملہ کی تنقیح میں معاون ہوں گی۔

جب یہ کہا جاتا ہے کہ خلافت کوئی دینی اصطلاح نہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ خلافت کے نام سے مسلمانوں کی کی ریاست کا کبھی کوئی وجود نہیں تھا، یا مسلمانوں کے حکمرانوں کو خلفاء نہیں کہا جاتا تھا، یا قرآن میں یہ لفظ حکمران کے لیے استعمال نہیں ہوا۔

بات علمی دائرے میں کی گئی تھی کہ کہ خلافت دینی اصطلاح ہے یا نہیں۔ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ کوئی لفظ اپنی لغوی معنی سے اصطلاح کیسے بنتا ہے؟

جب کسی علمی یا عملی ضرروت کے تحت کسی لفظ میں اس کے لغوی معنی سے کچھ زائد مفہوم یا مفاہیم شامل کر دیئے جائیں تو وہ اصطلاح بن جاتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ کوئی لفظ دینی اصطلاح کب بنتا ہے؟

لفظ دینی اصطلاح تب بنتا ہے جب اللہ یا اس کا رسول کسی لفظ کو دینی لحاظ سے اس کے لغوی معنی سے زائد مفاہیم پہنا دے۔ مثلا الصلوۃ۔ اس کا لغوی مطلب دعا ہے، اور اصطلاحی مفہوم، نماز کا وہ مخصوص طریقہ ہے جس سے ہم سب واقف ہیں۔ یہ اس کے اصطلاحی معنی ہیں۔

دین خدا کی طرف سے پیغمبر لے کر آتا ہے، دینی اصطلاح قائم کرنے کا حق بھی خدا اور اس کے رسول کا ہے اور کسی کا نہیں۔ علوم دینیہ میں جو علمی ضرورت کے لیے اصطلاحات وضع ہوتی ہیں وہ فنی اصطلاحات ہیں جیسے ہر علم میں ہوتی ہیں، انہیں دینی اصطلاح قرار دے کر خدا اور رسول کے دائرہ اختیار میں قدم رکھنا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا خلافت یا خلیفہ کے لفظ کو بھی خدا اور اس کے رسول نے دینی لحاظ سے اس کے لغوی معنی سے کوئی زائد مفہموم دیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ دینی اصطلاح بنے گی ورنہ نہیں۔

قرآن میں اس لفظ کا استعمال دیکھیے۔ خلیفہ کا لفظ جانشین اور حکمران دونوں معانی میں استعمال ہوا ہے اور دونوں معانی لغوی ہیں۔ قرآن میں کہیں یہ صرف حکمران کے معنی میں آیا ہے جیسے:

یا داؤد انا جعلناک خلیفہ

ایے داؤد ہم نے تمہیں خلیفہ یعنی حکمران بنایا۔

اور بعض جگہ مفسرین نے خلیفہ کے لفظ کے تحت ایک ہی آیت کے دونوں معانی کے لحاظ سے تفسیر کی ہے، مثلا:

وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ

یعنی قوم عاد کو قوم نوح کے بعد دنیا میں بسایا

دوسرے معنی کے لحاظ سے، قوم نوح کی سلطنت و تمکن کے بعد قوم عاد کوسلطنت و تمکن عطا کی۔

اس میں اصطلاح بننے جیسی کیا بات ہے؟

اب حدیث میں دیکھیے۔ اللہ تعالی کو انسان کا خلیفہ کہا گیا ہے:

اللهم انت رفيقي في سفري و خليفتي في اهلي و مالي

اے اللہ تو میرے سفر میں میرا رفیق ہے اور میرے گھر والوں اور میرے مال میں میرا خلیفہ ہے۔

اب اگلا سوال زیادہ اہم ہے۔ اگر خلافت دینی اصطلاح ہے تو اس کا مطلب و مفہوم کیا ہے؟

اگر اس کا مطلب محض حکمران ہے تو یہ تو اس کے لغوی معنی ہیں۔ اس میں کوئی اشکال نہیں۔

اگر اس سے مراد مسلمانوں کا حکمران ہے؟ تو اس معنی میں یہ قرآن میں مخصوص طور پر استعمال نہیں ہوا۔ درج ذیل بالا آیت دوبارہ دیکھیے:

قوم عاد کو قوم نوح کا خلیفہ کہا گیا ہے۔ قوم نوح بھی کافر تھی اور قوم عاد میں۔ یعنی کافر کا جانشین بھی کافر یا کافر حکمران قوم کی جانشین حکمران قوم بھی کافر۔

ایک اور زاویے سے دیکھیے۔ خلیفہ عادل و صالح ہو یا غیر عادل و صالح، تب بھی اسے خلیفہ ہی کہا جاتا ہے۔ وہ عادل و صالح نظام قائم کرے یا انحراف کر ڈالے، اسے خلیفہ ہی کہا جائے گا۔ اسی وجہ سے خلافت کے لفظ کے ساتھ خلیفہ راشد، خلیفہ عادل اور خلیفہ غیر عادل کی اضافتیں لگائی جاتی ہیں۔

تو خلافت کو دینی اصطلاح قرار دینے سے آخر مطلب کیا ہے۔

خلافت دینی اصطلاح نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی نظام حکومت کا سر عنوان ہے۔ یہ ایک لفظ ہے جسے اس کے لغوی مفہوم میں مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اختیار کر لیا گیا تھا۔

رہی یہ بات یہ علامہ فراہی اور مولانا اصلاحی خلافت کے وجوب کی بات کرتے ہیں تو یہ دیکھا جائے کہ وہ اسے دین اور مسلمانوں کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں یا فی نفسہ دین کا مطالبہ سمجھتے ہیں۔ اس کی ضرورت سے انکار کسی کو نہیں، لیکن فی نفسہ اسے دین کا مطالبہ سمجھنا اور اس کے قیام کو دینی فریضہ قرار دینا اور اس کے ترک پر مسلمانوں کو ایسے ہی گناہ گار سمجھنا جیسے کہ نماز کے ترک پر سمجھا جا سکتا ہے، دین میں اضافہ کرنا ہے۔

اب یہ سوال کہ اسلام کا قانون سیاست کیا ہے، اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے کیا دینی احکامات ہیں یہ موضوع ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: