پانامہ کیس اور عمران خان و جماعت اسلامی کی سیاست

0

دونو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی جان پانامہ فیصلے کے طوطے میں اٹکی ہوئی ہے پپلزپارٹی کو پانامہ فیصلے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا بلکہ فیئر الیکشن کی صورت میں وہ سندھ سے بھی مزید 8/10 نشستیں کھو دے گی۔
اگر فیصلہ نواز شریف کے حق میں آتا ہے،اگلے الیکشن میں وہ خود حصہ بھی لیتے ہیں تو پھر عمران خان ہم خیال سیاسی جماعتوں سے اشتراک عمل کرتے ہؤے مقابلے میں اتریں گے جبکہ مولاھم فضل الرحمن ایم ایم اے وغیرہ میں وقت ضائع کرنے اور پابند ہونے کے بجائے مسلم لیگ ن اور اے این پی کو ترجیح دیں گے تاکہ ہر قیمت پہ اقتدار میں رہ سکیں۔
فیصلہ نواز شریف کے خلاف آنے یا عارضی سٹیپ ڈاؤن کی صورت میں عمران خان کا گراف تیزی سے اوپر جائے گا جسکے نتیجے میں وہ کسی سے بھی ہاتھ نہیں ملائیں گے البتہ جماعت کو مونگ پھلی کی بوری میں سے 2/3 مونگ پھلیاں آفر کریں گے جسے جماعت مسترد کر دے گی اور مسترد کرنا بھی چاہیے۔
ہر دو صورت میں مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان ہی ہوگا البتہ نواز کی نااہلی اور سٹیپ ڈاؤن کی صورت میں مولانا فضل الرحمن ن لیگ کے اشارے پر ایم ایم اے بنا کر پنجاب میں ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی طرف آئیں گے اور یہی وہ وقت ہو گا جب جماعت اسلامی اندرونی شکست و ریخت سے دو چار ہو جائے گی۔
جماعت اسلامی اس سازشی سیاست کو سمجھے اور مرکز و چاروں صوبوں میں پی ٹی آئی سے باوقار سیٹ ایڈجسمنٹ کرے اور نہ ہونے کی صورت میں سولو فلائیٹ کو ترجیعح دے۔بنیادی سوچ بس یہ رہے کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو نہ ہو جماعت اسلامی نے اپنے پرچم تلے اپنے انتخابی نشان کے ساتھ ہی میدان میں اترنا ہے۔
احتمال یہ بھی موجود ہے کہ میاں نوازشریف کے خلاف فیصلہ نہ آنے کی صورت میں بھی مولانا فضل الرحمن صاحب کے پی کے میں عمران کا راستہ روکنے کے لیے مسلم لیگ کی ایماء پر ایم ایم بنا لیں یا جماعت اسلامی سے ـ’’سیاسی‘‘ سیٹ ایڈجسمنٹ کر لیں تا کہ جماعت کے سیدھے سادھے لوگوں کو عمران سے لڑا کر ووٹ لو اور جہاں جے آئی کا کنڈیڈیٹ ہو وہاں بظاہر ساتھ رھو مگر ووٹ ن لیگ اور اے این پی کو دو تاکہ عمران کو آؤٹ کرنے کے بعد حسب سابق نواز شریف کے ساتھ ملکر اقتدار میں آیا جاسکے۔
سیٹ ایڈجسمنٹ کی صورت میں تو سرے سے کوئی رکاوٹ ہی نہیں ہو گی البتہ ایم ایم اے کی صورت میں اگر جماعت مزاحمت کرے نواز شریف کے حامی مولویوں سے مل کر اکثریت کی بنیاد پر جماعت کو ہی ایم ایم اے سے آؤٹ کر دو۔۔
اگر پی ٹی آئی /جماعت اسلامی کے مابین مخلصانہ اشتراک عمل ہو جائے تو دونوں جماعتیں کے پی کے میں کلین سویپ کر سکتی ہیں۔
کراچی میں بھی اس کے واضح امکانات موجود ہیں بلکہ فئیر الیکشن کی صورت میں دونو جماعتیں سرپرائز دیں گی۔
پنجاب میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے مابین 3/4 ہزار ووٹوں کا فرق جماعت اسلامی کی وجہ سے نہ صرف کور ہو جائے گا بلکہ ہر حلقہ کا 15/20 ہزار نیوٹرل ووٹ بھی پی ٹی آئی اور جے آئی کی طرف ٹرن کرے گا اور اسکا بہت زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہی ہو گا مگر ضرورت یہ ہے کہ پی ٹی آئی دل بڑا کرے اور اپنے فائدے کے لیے ہی سہی جماعت اسلامی سے مرکز اور چاروں صوبوں میں باعزت و باوقار سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرے۔ مفت میں میں جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی دیگ کے نیچے لکڑیاں نہیں پھونکے گی۔
وزارتیں جماعت اسلامی کا مطمع نظر کبھی نہیں رہی ہیں البتہ جماعت اسمبلیوں میں معقول نمائندگی ضرور چاھے گی اور اصلاحات، اداروں کی مضبوطی، میرٹ اور کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے ہارڈ لائنر رھے گی اس پر پی ٹی آئی کو بھلا اعتراض بھی کیا ہو سکتا ہے؟؟؟
جہاں تک مختلف کرپٹ جماعتوں سے اتحاد کی بات ہے تو جماعت اسلامی کے کارکنان بھی اس پالیسی سے خوش نہیں ہیں لیکن اگر جماعت نے 4 کرپٹ جماعتوں سے مختلف جگہوں پہ اتحاد کیا ہے تو پی ٹی آئی اب تک 8 سے اتحاد کر چکی ہے اس لیے چھاج کا چھاننی کو طعنہ بنتا نہیں۔
2013 میں سیٹ ایڈجسٹنمنٹ نہ ہونے کی ذمہ دار صرف پی ٹی آئی نہیں جماعت اسلامی بھی ہے۔۔ عمران خان کے واضح اعلان کےباوجود کہ “سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گی تو سارے پاکستان میں ہو گی” جماعت بیک وقت پشاور میں پی ٹی آئی اور لاہور میں ن لیگ سے مزاکرات کرتی رہی۔
جماعت کو لاہور سے کنفرم سیٹوں کا جھانسہ دے کر ن لیگ نے ٹریپ کیا جسکا دونو جماعتوں کو نقصان ہوا کیونکہ اگر عمران خان اپوزیشن لیڈر ہی بن جاتے تو نواز شریف چیرمین نیب کی تقرری سمیت کئی معاملات میں من مانی نہ کر سکتے۔
عمران خان اور سراج الحق کو چاہیے کہ وہ کارکنان کے درمیان سیزفائر کے لیے کردار ادا کریں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: