آدمی اورخبرکا المیہ

0

آدمی اور خبراہم ترین ضرورت میں بندھے ہیں۔ یہ ضرورت ‘سچ’ ہے۔ خبرکا ذریعہ جتنا ‘سچ’ رہا ہے، فلاح نے اتنا فروغ پایا ہے۔ یہ ذریعہ جتنا جھوٹ رہا ہے، آدمی اتنا تباہ ہوا ہے۔ تاریخ اس معیار’فلاح’ کا ثبوت ہے، تفصیل یہاں ممکن نہیں۔ سچ  ہمیشہ بمطابق حق رہا ہے۔ جھوٹ ہمیشہ بمطابق جہل رہا ہے۔ 

آج ‘خبر’ سنگین ترین جھوٹ سے دوچارہے۔ صحافت عالمی المیہ بن چکی ہے۔ اس المیے کےدوپہلوہیں۔ پہلا پہلو، سچ تک انسان کی نارسائی ممکن بنانا ہے۔ دوسرا، خواہشات کے خوابوں میں خوار رکھنا ہے۔ انتہائی تفصیل اورتحقیق طلب موضوع ہے۔ زیرقلم مضمون کا مرکزی مدعا المیے کا پہلا پہلو ہے۔ جھوٹ کیوں آدمی اورخبرکے درمیان حائل ہے؟ سچ کا یہ نقصان کہاں کہاں کیا اثرات مرتب کررہا ہے؟ جاننا چاہیئے۔

‘سچ’ خبرمعاشرے کے مقتدرحلقے کیلئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ یہ ‘سچ’ خبرفلاح عام کا سبب ہوسکتی ہے۔ فلاح عام سے معاشرے میں مساوات اور انصاف کا امکان ہوسکتا ہے۔ مساوات کا یہ امکان وسائل کی منصفانہ تقسیم کا سبب ہوسکتا ہے۔ مقتدر حلقے ایک ایسا معاشرہ برداشت نہیں کرسکتے، جہاں مساوات اورانصاف کا نفاذ ہوجائے، کیونکہ اس طرح وہ حلقے مقتدروحاکم نہ رہ پائیں گے۔ یوں ‘سچ’ خبرکا استیصال مقتدرحلقوں کا نسل درنسل فطری رجحان ہے۔

انبیاء کرام جب جب اپنی قوم کے سامنے ‘سچ’ خبرلیکرپہنچے، معاشرے کے مقتدرحلقے آڑے آگئے، انہوں نے دلیل دی کہ خدا کا پیغامبرمقتدر حلقے سے منتخب نہیں کیا گیا، اوراس کے ماننے والے معاشرے کے غریب ومسکین لوگ ہیں۔ چنانچہ وہ ایمان نہیں لاسکتے۔

‘سچ’ خبرکا یہ استیصال آج ہیئت ونوعیت میں جدیدترہوچکا ہے۔ مقتدرحلقے کا دائرہ اختیارعالمی ہے، اثرورسوخ گہرا ہے۔ سوچ وہی ہے، کہ اگر’سچ’خبرسے سب باخبرہوگئے، توفلاح کا امکان امن وانصاف کا مؤجب ہوجائے گا، اوریہ منظورنہیں۔

یہاں یہ سچ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ انبیاء سے آج تک ‘سچ’ نے اعلٰی اخلاقیات وکردارپرہی انحصارکیا ہے۔ کل بھی فلسفہ صدیق اکبرہی ‘سچ’ کا واحد پیمانہ تھا، آج بھی ایمان وکردارہی واحد معیارہے، جس پر’سچ’ کا تکیہ ہے۔ انسانی ترقی کی مادی منتہٰی ‘سچ’ کا کوئی انتظام تاحال نہیں کرسکی۔

پلٹتے ہیں مذکورہ سوال کی جانب، کہ جھوٹ کیوں آدمی اور خبرکے درمیان حائل ہے؟

جدید تناظرمیں عالمی وعلاقائی مقتدر حلقے ‘سچ’ خبرکا استیصال کیوں کررہے ہیں؟

امریکی ماہر لسانیات نوم چومسکی نے عالمی ذرائع ابلاغ کی جھوٹ سازی کے دس عام طریقے واضح کیے ہیں۔ پہلا طریقہ The Strategy of Distraction ہے۔ یہ اہم اور بنیادی معاملات سے توجہ ہٹاکرغیراہم اور سطحی معاملات میں عوام کوالجھانا ہے۔ لوگوں کو اصل مسائل پرغوروفکرسے روکنا ہے۔

دوسرا طریقہ Create problems, then offer solutions ہے۔ یعنی مسئلہ پیدا کرنا اورپھرحل پیش کرنا۔ مثال کےطورپرکسی ریاست کی تباہی کیلئے پہلے خانہ جنگی اورخون خرابے کا ماحول تشکیل دینا اورپھرلٹے پٹے پناہ گزینوں کی دادرسی کا سوانگ رچانا۔ شام وعراق کی مثالیں سامنے ہیں۔

تیسرا طریقہ The Gradual Strategy ہے۔ یہ ایک ناقابل قبول یا غیرواضح خبریا فکرکوبتدریج قابل قبول بنانا ہے۔ مثلادہشتگردی کے خلاف جنگ کی تکرارنے رائج بیانیے کی صورت اختیارکرلی۔ مگرآج تک ‘دہشتگردی’ کی ایک تعریف پراتفاق سامنے نہ آسکا۔ یہ قابل تشریح وتوضیح نہیں۔

چوتھا طریقہ The Strategy of Deferring ہے۔ یہ کسی ناپسندیدہ یا غیرمقبول فیصلے یا پالیسی کوناقابل گریزاور اہم ثابت کرنا ہے۔ یعنی ایسا کڑواگھونٹ بناکرپیش کیا جاتا ہے، جسے پیے بغیرچارہ نہ ہو۔ مثال کےطورپرامریکہ کی سلامتی کے نام پردنیا بھرمیں جنگ و فساد کا جوازگھڑنا ہے۔

پانچواں طریقہ Go to public as child ہے۔ لوگوں کی گمراہی کا بچکانہ سامان کرنا، یعنی معاملات کی سنگینی مصنوعی بھولپن سے زائل کرنا ہے، یوں ظاہرکرنا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، اوراگرہوبھی گیا ہے، توکندھے اچکادینا ہے۔

چھٹا طریقہ معاملہ کا جذباتی پہلونمایاں رکھنا، اور پھرتفتیشی یا تحقیقی پہلودبادینا یا چھپادینا ہے۔ مثلایورپ میں دہشتگرد ڈراموں کی سنسنی خیزی، اورپھرتحقیقاتی پہلوؤں پرمٹی ڈال دینا ہے۔

ساتواں طریقہ لوگوں کوبہترمعیار تعلیم سے دور رکھنا ہے۔ یہ سامنے ہے۔ حالات سے آگہی کی جستجونہ ہونا عام رویہ ہے۔ اسلام کے حوالے سے گمراہیاں ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہیں۔

آٹھواں طریقہ لوگوں کوبرے حالات کا عادی بنانا ہے۔ یعنی یہ کہ اب کیا کیا جاسکتا ہے؟ دنیا میں طاقت کا زور چلتا ہے، یہی سچائی ہے، اب جیسے بھی حالات ہیں، گزارہ کرنا ہی پڑے گا۔

نواں طریقہ ممکنہ باغی خیالات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، انہیں نظام کا بےکارحصہ باورکروانا، اورمرکزی دھارے میں ہلچل سے بازرکھنا ہے۔

دسواں طریقہ ذہنوں میں واقعات کی مطلوبہ صورت گری ہے۔ یہ عموما پروپیگنڈہ میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ سب طریقے عالمی مقتدر حلقے اس لیے اپناتے ہیں، تاکہ ناجائزجنگوں، استعمارکے ہتھکنڈوں، معاشی ناانصافیوں، معاشرتی تباہ کاریوں، اورخالص جرائم پرپردہ رہے۔ دنیا تک ‘سچ’ خبرنہ پہنچ پائے۔ فلاح عام اوراصلاح عام کا کوئی امکان پیدا نہ ہوسکے۔ بصورت دیگریہ مقتدرحلقے حاکمیت وفرعونیت سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔

اب چلتے ہیں دوسرے سوال کی طرف، خبرکی جھوٹ سازی کن پرکس طرح اثرانداز ہورہی ہے؟ موجودہ عالمی صحافت کا سب سے بڑا اور بنیادی ہدف اسلامی تہذیب ہے۔ یہ مسلمان اورغیرمسلمان دونوں پراثرانداز ہورہی ہے۔ دونوں اثرات پرایک ایک مثال کفایت کرے گی۔ گو عالمی منظرنامہ ساری صورتحال بیان کررہا ہے۔ 

ایک مثال ہے لندن ویسٹ منسٹرپرخالد مسعود کا واقعہ۔ یہ بےکرداربدنام شخص کا چاقو سے چند افراد پرمبینہ حملہ تھا، جوعالمی ذرائع ابلاغ پراسلام مخالف پروپیگنڈہ بن گیا۔ برطانیہ کی وزیراعظم سے پوری دنیا نے اظہاریکجہتی کیا، کہ اسلام پسندوں سے نمٹنے کیلئے شانہ بہ شانہ ہیں۔

دوسرا واقعہ شام میں کیمیائی حملہ تھا۔ اس واقعہ پرجیسے عالمی ذرائع ابلاغ کوسانپ سونگھ گیا۔ سلامتی کونسل میں مذمتی قرارداد کی بے وقعت وبے حس رسم نمٹادی گئی۔ امریکہ روس نے نورا کشتی شروع کردی۔ امریکہ نے انسٹھ میزائلوں سے چارآدمی مارکرفاتحانہ شان سے عظمت کے جھنڈے گاڑدیے۔ یہ کیمیائی حملہ پہلا نہیں باسٹھواں تھا۔ پہلی بارردعمل سامنے آیا، وہ بھی شرمناک تھا۔ (اب امریکہ اور روس بتدریج بشار سے جان چھڑانے اورایران کومحدود کرنے کے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔ بشارسے جوکام لیا جانا تھا وہ شاید ہوچکا۔ امریکہ، روس، اوراسرائیل سے اشتراک میں کسی مسلمان ملک کی خیرنہیں۔ یہ سمجھنا مسلمانوں کیلئے امن کی شاہ کلید ہے۔) اس حوالے سے بی بی سی پرروسی مؤقف کی پذیرائی اور دہرائی نمایاں ہے۔

غرض، فلسطینی امریکی دانشورایڈورڈ سعید نے اسلام پرمغرب کی جھوٹی ملمع کاری قدرے تفصیل سے نمایاں کی ہے۔ Orientalism اور Covering Islam علمی حلقوں میں مقبول ہیں، یہ اس حوالے سے انتہائی اہم تحقیقاتی حوالہ ہیں۔

حال ہی میں امریکہ کے دو صحافیوں ڈاکٹرلارنس پنٹاک اوراسٹیفن فرینکلن نے Islam for Journalists کے عنوان سے رہنما کتاب مرتب کی ہے۔ یہ رہنما کتاب اس اعتراف کی تفصیل ہے، کہ عالمی ذرائع ابلاغ اورصحافی اسلام کی الف سے بھی واقف نہیں، اورانہیں اسلام پرکچھ کہنے لکھنے اور رپورٹ کرنے سے پہلے بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہونا چاہیئے۔ لارنس پنٹاک نے اس کاوش کی توجیح Why We Compiled This Book میں لکھا کہ ”تیس سال پہلے، جب میں بطورسی بی ایس مشرق وسطٰی نمائندہ بیروت پہنچا، اسلام کے بارے میں میری معلومات کیا تھیں؟ اسلام، جوخطے کا غالب مذہب تھا، اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ اگرمسلم دنیا میں مامورصحافی اسلام کا مناسب علم نہ رکھتے ہوں، تویہ ممکن نہیں کہ مسلمانوں اوراسلام کی میڈیا کوریج نبھا سکیں۔”

مختصرا، عالمی صحافت اسلام کی کردارکشی چاہتی ہے، کیوں؟ اس لیے کہ عالمی مقتدر حلقے ایسا چاہتے ہیں۔ وہ کیوں ایسا چاہتے ہیں؟ جواب مذکور تاریخ میں آچکا، مگردہرادینا مفید ہوگا۔

اسلام عالمی مقتدرحلقے کیلئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ یہ فلاح عام کا سبب ہوگا۔ فلاح عام سے معاشرے میں مساوات اور انصاف کا امکان ہوگا۔ مساوات کا یہ امکان وسائل کی منصفانہ تقسیم کا سبب بن جائے گا۔ عالمی مقتدر حلقے ایک ایسی دنیا برداشت نہیں کرسکتے، جہاں مساوات اورانصاف کا نفاذ ہوجائے، کیونکہ اس طرح وہ حلقے مقتدرومقدس نہ رہ پائیں گے۔

یہ مقتدر حلقے کون ہیں؟ وہی جنہوں نے انبیاء کا انکار کیا، انبیاء کا قتل کیا، انبیاء کی تعلیمات کومسخ کیا، اوررب کائنات سے اعلان جنگ کیا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: