خرِ خیبر گر بہ چائنہ رُود : لالہ صحرائی کی فکاہیہ تحریر

0

ادب اور گدھے کا تعلق بہت قدیم ہے، قدیم حکایات میں بھی گدھے کا تذکرہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے، گلستان سعدی کے اندر کہا گیا کہ “خرِ عیسٰی گرش بہ مکہ رُود چوں بیآید ہنوز خر باشد” لیکن کے۔ پی۔ کے حکومت نے چائنہ کو گدھے سپلائی کرنے کا جو ٹھیکہ لیا ہے اس میں گیا ہوا گدھا سرے سے واپس آنے کا ہی نہیں لہذا ایک نئی مثال پیدا ہوگی “خرِ خیبر گر بہ چائنہ رود بازگشت او نمی آید”

ادب میں گدھے کو مختلف صورتوں میں بیان کیا گیا ہے اور بعض جگہ تو گدھوں نے بھی ادب کو مختلف صورتوں میں بیان کیا ہے، ایسے لوگ آجکل نسیم حجازی اور علامہ اقبال کے چغے الٹا پلٹا کے دیکھ رہے ہیں، جدید ادب میں گدھے کا تذکرہ بیسویں صدی سے شروع ہوا تھا، اس کا سہرا جارج اورویل کو جاتا ہے جس نے “اینیمل فارم” میں اپنے گدھے بینجمن کو قابلیت اور عقلمندی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے، جارج کے بعد سی۔ایس۔لیوس اور دیگر کئی ادیبوں نے بھی گدھے میں بہت اچھے اچھے فیچرز تلاش کئے ہیں لیکن ہمارے ہاں کے کنوارے اور شادی شدگان کو ایک ہی فیچر زیادہ پسند ہے اور وہ ان میں پیدا ہو نہیں سکتا، واضع رہے کہ اس دوڑ میں مغرب بھی پیچھے نہیں مگر فی الحال یہ انگور واقعی کٹھا ثابت ہو رہا ہے۔

اردو ادب میں گدھے کے ساتھ بچوں کی پہلی دوستی میرزا ادیب نے کرائی تھی، ان کی کہانی میں ھیرو کے دوست کا نام دلبر تھا، اس سے پتا چلا کہ دوست دلبر ھوتا ہے پھر پوری کہانی پڑھ کے پتا چلتا ہے کہ دلبر گدھا بھی ھو سکتا ہے، بچوں کے مغربی لٹریچر میں بھی گدھوں کو حیران کن حد تک اخلاقی نتائج والی کہانیوں میں بیان کیا گیا ہے لیکن ان سب کے کام پر شیکسپیئر کی اسٹوری “آ مڈسمر نائیٹس ڈریم” نے یکسر پانی پھیر دیا ہے جس میں بے عقل انسان کو “ایس” کہہ کے گدھے سے مماثل قرار دیا گیا ہے۔

میرے اس مضمون میں کہیں کہیں آپ کو انسان اور گدھے میں کسی مماثلت کا شائبہ پڑھے تو اسے گستاخی کی بجائے سمجھداری اور وفاداری کی علامت پر محمول کیجئے گا، اگر ایسا نہ ہوتا تو اورویل اور میرزا ادیب اسے ھیرو نہ لیتے، میں نے بھی اسے وفاداری کے سمبل کے طور پر ہی چنا ہے ورنہ وفاداری کا دوسرا سمبل تو اس سے بھی گیا گزرا ہے بلکہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا لیکن جہاں آپ کا دل نہ مانے وہاں آپ شیکسپیئر کی سائڈ بھی لے سکتے ہیں وہ بھی بہرحال سمجھدار آدمی تھا۔

دنیا میں سب سے زیادہ گدھے ترقی پزیر ممالک میں پائے جاتے ہیں، 2016 کی گدھا شماری کے مطابق دنیا میں گدھوں کی 26 نسلیں ہیں اور کل آبادی 41 ملین ہے اس میں وہ گدھے شامل نہیں جو لکھتے بھی ہیں اور وہ بھی شامل نہیں جو سیاست اور صحافت کرتے ہیں۔

اسی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ گدھے چائنہ میں رہتے ہیں جن کی تعداد 11 ملین ہے باقیوں کے نام کافی مشکل مشکل ہیں، چائنہ کے بعد دوسرا ملک پاکستان ہے جہاں سب سے زیادہ گدھے پائے جاتے ہیں، لیکن جس حساب سے یہاں گدھے کٹ رہے ہیں اور اب چائنہ کو سپلائی ہونے جا رہے ہیں اس لحاظ سے کچھ سال بعد پاکستان گدھا فری کنٹری بن جائے گا تب یہاں پر صرف امریکن گدھوں کا بول بالا ہوگا، ان سب کو ایک نمایاں جگہ مل جائے گی جنہیں اب تک سراھا نہیں گیا حالانکہ رینکنے میں وہ بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

حقیقی زندگی میں پہلے نمبر پر کسان ہیں جو گدھا پالتے ہیں، دوسرے نمبر پر کمہار ہیں اور تیسرے نمبر پر چھڑے چھانٹ لوگ ہیں، اول الذکر دونوں طبقے ان سے بار برداری کا کام لیتے ہیں جبکہ تیسرا طبقہ بھی باربرداری کا ہی کام لیتا ہے لیکن زرا رومانس کے ساتھ، ویسے بھی گدھے کو ڈرادھمکا کر کسی کام پر مجبور کرنا بہت مشکل بات ہے، عموماً حفاظت خود اختیاری میں گدھا بہت زور کی دولتی بھی جھاڑ دیا کرتا ہے لیکن پیار محبت سے انسان اگر ایک بار کسی گدھے کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ گدھا دل وجان سے اس کا ہو جاتا ہے اور مشکل سے مشکل کام بھی انجام دینے کیلئے راضی رہتا ہے بدلے میں اسے اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے بھوسہ اور چارہ درکار ہوتا ہے، سنا ہے بعض برگر اور چائنیز بھی کھا لیتے ہیں۔

گدھے کو باربرداری کرتے دیکھ کر ہمہ اقسام کی مثالیں اور محاورے ایجاد ہوئے لیکن نوع انسان کبھی اس راز تک نہ پہنچ سکی کہ بے مثال قوت رکھنے والا یہ جانور سر جھکائے خاموشی سے وزن ڈھونے پہ کیوں راضی رہتا ہے، یہ راز دوھزار سترہ میں ہی آشکار ہونا تھا، ہوا یوں کہ جس طرح ہمیں یاجوج ماجوج سے ڈرایا جاتا ہے اسی طرح کسی قدیم سنیاسی گدھے نے اپنی برادری کو یہ خبر دی تھی کہ چپ چاپ باربرداری کرتے رہو ورنہ کوئی وقت ایسا بھی آسکتا ہے جیسا کہ بیل گائے اور بھیڑ بکری پر چل رہا ہے، یہ گدھا شائد نوسٹراڈیمس سے متاثر تھا، اس بَھوِشوانی کے پیش نظر گدھوں نے سرجھکا کے سینکڑوں سال امن کیساتھ گزار لئے لیکن اب ان کا شمار بھی ڈش میٹ میں ہونے لگا ہے۔

کہتے ہیں گوشت کا جو حصہ کھایا جائے وہ انسان کے اسی حصے کو طاقت دیتا ہے، سب سے پہلے اٹلی کے لوگوں نے گدھوں کی کچھ ڈشیں ایجاد کی تھیں البتہ یہ معلوم نہیں کہ وہ اپنے کس حصے کو طاقت دینا چاہتے تھے لیکن چائینہ والوں نے کچھ بھی مخفی نہیں رکھا، ان کے ہاں گدھے کا گوشت انتہائی لذیذ سمجھا جاتا ہے، کئی ریسٹورنٹ مختلف ڈشوں کیلئے مشہور ہیں ان میں خاص طور پہ
Guo Li Zhuang restaurants offer the “spare parts” of the donkeys
اور یہ سب سے زیادہ مشہور ریسٹورنٹ ہے، چین میں گدھے کے جنسی اعضاء پر مشتمل جو ڈشز ملتی ہیں وہ مردانہ قوت کیلئے ایک خزانہ سمجھی جاتی ھیں لیکن آپ کو اس کیلئے چین جانے کی کوئی ضرورت نہیں آپ کوئی بھی دیوار پڑھ کر قریبی دواخانے سے رجوع کر سکتے ہیں، گدھے کے اسپیئر پارٹس سے مردانہ قوت حاصل کرنے کا نسخہ چونکہ چینی نیوٹریشنز نے ایجاد کیا ہے اسلئے سب کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم ہوگیا، یہی نسخہ اگر ہمارے ہاں کے کوئی حکیم صاحب ایجاد کرتے تو حلال حرام کی شدید بحث چھڑ سکتی تھی۔

جو لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے دنیا کو کچھ نہیں دیا انہیں نوٹ کر لینا چاہئے کہ چینی ادویات میں جیلاٹین کا بڑا ذخیرہ ہمارے گدھوں کی وجہ سے مہیا ہو رہا ہے، گوشت اس کے علاوہ ہے جس میں لاہوریوں کی ایجاد کردہ ڈش کھوفتے اپنی مثال آپ ہے، خواتین کو اس کام میں مزید آگے آنا چاہئے اور کھوفتوں کے علاوہ کھوفتہ بریانی اور نرگسی کھوفتے جیسی مزید ریسیپیز بھی ترتیب دینی چاہئیں، مصالہ کمپنیوں کو بھی گدھا مصالحہ ایجاد کرنا چاہئے تاکہ گدھے سے ہر تواضع کا مکمل اہتمام ہمارے کریڈٹ پر رہے۔

امریکن بھی گدھے سے بہت لگاؤ رکھتے ہیں، ان کے گدھے دنیا کے ہر خطے میں پائے جاتے ہیں لیکن وہ ان کو اپنے ہاں صرف اسی وقت لیجاتے ہیں جب ان کو کوئی خطرہ درپیش ہو، عام حالات میں جو گدھا جہاں ہے وہیں اس کو چارہ پانی بھیجا جاتا ہے، امریکہ کے گدھے ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں لیکن انہیں کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے، انہیں چائنہ کے حوالے ہرگز نہیں کیا جائے گا کیونکہ ہمارے ہاں نظریاتی خرمستیاں انہی کے دم خم سے قائم و دائم ہیں جس سے ہمہ وقت رنگ برنگی رونق کا سماں بندھا رہتا ہے۔

عام حالات میں ایک گدھا 500 کلو تک کا وزن باآسانی اٹھا لیتا ھے لیکن بعض گدھے تو پوری فیس بک کا لوڈ اٹھائے پھر رہے ہیں اور رینکنے میں بھی ان کا ثانی کوئی نہیں، بعض گدھے دن رات بھارت کے حق میں بھی رینکتے ہیں لیکن بھارتی کمبخت ایسے بے مروت ہیں کہ اپنے قومی دن کے موقع پر بھی انہیں کوئی خیر سگالی کا پیغام نہیں بھیجتے پھر بھی یہ غریب شوقیہ ہینگتے رہتے ہیں۔

امریکہ میں پہلا گدھا کرسٹوفرکولمبس 1495 میں اپنے دوسرے سفر کے دوران وہاں لے گیا تھا، پھر گاہے بگاہے اکثر گدھے وہاں جانے لگے، جب یہ معقول تعداد میں امریکہ پہنچ گئے تو انہوں نے اپنی ایک قومی پارٹی بنالی جس کا نشان بھی خود کو ہی رکھ لیا اور آئیندہ کیلئے ویزے کی پابندی عائد کر دی اب بغیر ویزے کے وہاں کوئی نہیں رہ سکتا جبکہ شہریت لینے کیلئے کہا جاتا ہے کہ “فرسٹ یو ھیو ٹو میری اے وائلڈ امریکن ایس دین یو کین اپلائی فار دی نیشنیلٹی”۔

گدھوں کی نسل کشی کے بارے میں بھی دلچسپ انکشاف ہوا ہے، بتایا گیا ہے کہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے یعنی آپ گدھے کو گھوڑی کے ساتھ کراس کرائیں گے تو خچر پیدا ہوگا جسے mule کہتے ہیں، اگر گھوڑے کو گدھی کیساتھ کراس کرائیں گے تو ہینی hinny پیدا ہوگی اور اگر امریکن گدھے اور ہندی گدھے کا کراس کرائیں گے تو نظریہ پاکستان کے خلاف صرف دو آرٹیکل پیدا ہوں گے اور کچھ نہیں ہوگا۔

گدھے کو لیکر مختلف زبانوں میں مختلف محاورے بھی کہے گئے ہیں، برطانیہ میں بہت زیادہ باتونی لوگوں کی طرف اشارہ کرنے کیلئے کہا جاتا ہے
“to talk the hind legs off a donkey”
تقدیر پر راضی رہنے والوں کیلئے گریکس کی مثال ہے
“the donkey lets the rain soak him”
اٹلی میں کہا جاتا ہے کہ جس کے پاس پیسہ ہو بس اسی کی عزت ہوتی ہے
“put your money in the ass of a donkey and they’ll call him sir”
اٹلی والے مزید کہتے ہیں تین چیزیں اپنی دھن کی بہت پکی ہوتی ہیں
“women, donkeys and goats all have heads”
امریکیوں کا کہنا ہے کہ
“better a donkey that carries me than a horse that throws me”
امریکی پاکستان میں اپنے پیاروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ
“a donkey looks beautiful to a donkey”
ایتھوپئین کہتے ہیں کہ بری صحبت انسان کو برا بنا دیتی ہے
“The heifer that spends time with a donkey learns to fart”

جب کسی کو جاہل قرار دینا ہو تو شیکسپیئر سمیت کئی لوگ ڈونکی اور ایس کو منفی معنوں میں استعمال کرتے ہیں، امریکہ میں پوکر کے اناڑی کو ڈمب۔ایس اور جیک۔ایس کہا جاتا ہے، برطانیہ میں فٹبال کے اناڑی کو ڈونکی کہتے ہیں، ایک تو عمران کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ریلوکٹے کی بجائے اس طرح کی کوئی رائج الوقت سخت اصطلاح نہیں کہہ دی دوسری طرف اندریں حالات جاریہ نخرے باز محبوباؤں کو بھی نخرے سے تھوڑا اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ اس میں بھی خر موجود ہے، کہیں ان بےجا نخروں سے تنگ آکے کوئی سرپھرا عاشق کسی نئے محاورے کی بنیاد نہ رکھ دے۔

حافظ شیرازی نے کہا تھا، میں شراب بیچنے والوں پر حیران ہوں کہ اس سے پیسے کما کے وہ اور ایسا کیا خریدیں گے جو شراب سے بہتر ہوگا، دنیا میں گدھے پیدا ہوتے رہیں گے، بکتے بھی رہیں گے، کھاتے بھی رہیں گے اور کھائے جاتے بھی رہیں گے لیکن دیکھنا یہ ہے کے۔پی۔کے میں گدھوں کے بزنس سے کتنی کمائی ہوتی ہے اور اس کمائی سے وہ ایسا کیا خریدیں گے جو گدھوں سے زیادہ معصوم ہوگا۔

سنا ہے بعض لوگوں کے کھیل تلواری، باتیں شلواری اور شوق خر۔کاری ہوتے ہیں، کے۔پی سرکار کو چاہئے کہ اپنی کھوتا پالیسی کو کھوتے تک ہی محدود رکھے ورنہ وہ بیچارے بے آسرا ہو جائیں گے جن کا تکیہ ہی خر۔کاری پر ہے، نہ جانے قحط کی صورت میں ان بیچاروں کا کیا بنے گا اور آنے والے وقت میں اس کمی کو وہ کس طرح سے پورا کریں گے، ممکن ہے یہ گانا پھر سے مقبول ہو جائے۔

لائی کھوتیِاں دے نال یاری … تے ٹُٹ گئی تڑک کرکے

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: