کائنات کا تصور اور محدود بصیرت

0

انسانی فطرت کے روائتی تصور کے حوالے سے انسان ہونے کے کیامعنی ہیں؟
مغربی تصور اس حوالے سے مکمل طور پر ایک موقف لیے ہوئے ہے اور وہ یہی ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اس کائنات کی دولت سمیٹنے اور اس سے حاصل ہونے والے آوٹ پُٹ کو اپنے کمال تک لے جانے کے لیے ہے۔ اس کائنات سے باہر اگر کچھ ہے بھی تو وہ بے سود ہے الا کہ اس دنیا کے علاوہ بھی کوئی دنیا ہو۔
مگر کیا یہ تصور انسان کی ذہنی رسائی کو محدود کرتی ہے؟ کیا دوسری مخلوقات اور انسان میں اس دی گئی مثال سے کوئی فرق رہتا ہے؟ اس کا جواب ڈھونڈنے والے پر ہے۔
اس کو مزید ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
موسمِ بہار کے ایک منظر کاتصورکیجیے جو اگرچہ ہماری محدود نظر کی وجہ سے محدودلگتا ہے۔ مگر حقیقتاََ غیر محدود ہے۔ جہاں تک ہماری نظر کام کررہی ہے پہاڑ وادیاں، جنگل اور اس کے علاوہ بھی آپ کے اختراع پسند دماغ میں جو آسکے فرض کرلیجیے۔ فرض کیجیے کہ ان لامحدود وسعتوں میں کسی جگہ ایک بچہ ہوا میں بلبلے اڑارہا ہے جو سورج کی روشنی میں چمکتے زمین و آسمان کے بیچ تیر رہے ہیں۔ اب اپنی کائنات کو ایسا ہی ایک بلبلا فرض کرلیجیے جس میں ہماری دنیا یعنی تمام چاند ستارے اور سورج سب شامل ہیں۔۔۔۔ ایک حبابِ تنہا۔۔۔۔ اس بچے کے بلبلوں کی طرح، یہ بھی ہمارے مفروضہ منظر کا حصہ ہے یہ موجود تو بحرحال ہے مگر ہے بہت چھوٹا اور چند لمحوں میں اسے ختم ہوجانا ہے۔
یہ ایک طریقہ ہے اس تعلق کو بیان کرنے کا جو ہماری دنیا کو اُس عالم سے ہے جو اس سے ورا ہے۔ یہی روائتی تصورِ کائنات ہے۔ چلیے اسی تمثیل کو آگے بڑھاتے ہیں۔
بلبلے کی سطح باہر کے منظر کو منعکس کرتی ہے اور ساتھ ہی شفاف بھی ہے کہ اس کے آر پار نظر آتا ہے ۔ جو لوگ اس بلبلے کے اندر رہتے ہیں وہ باہر کے منظر سے کئی مختلف انداز میں آگاہ ہوسکتے ہیں۔ وہ جن کی نظر کمزور یا غیر تربیت یافتہ ہوگی بیرونی منظر کے وجود کا قیاس کریں گے اور تیز نظروالوں کے بتائے کو مان کر اس پر ایمان لے آئیں گے۔ دوسرے چند لوگ جو بلبلے پر خارجی منظر کے انعکاس کا ادراک کرلیں گے ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ اس کے اندر جو کچھ ہے عکس سے زیادہ کچھ نہیں اور اس کی اپنی بالذات ہستی کچھ نہیں، تیسری قسم کے تھوڑے سے لوگ وہ ہوں گے جو ایک معجزہِ نظر کے طور پر اس بلبلے کی شفاف دیوار کی حقیقت پہچان لیں گے۔ ان کی نگاہ اس باریک جھلی کے پار بھی دیکھ سکے گی جو دوسروں کے لیے دھندلی ہے اور ایمان کے علاوہ مشاہد بھی کررہے ہوں گے۔
یہ تینوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں مگر ان کا باہمی اختلاف اُس اختلاف کے مقابلے میں کچھ نہیں جو ان تینوں کو ان لوگوں سے جدا کرتا ہے جو بلبلے ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ اس ننھے سے دائرے کے باہر بھی کوئی حقیقیت ہے۔ اہلِ ایمان اور اہلِ نظر کے لیے جو حق ہے وہ ان کے نزیدک فریب۔۔۔۔ ان دونوں کے درمیان کوئی مشترک زبان موجود نہیں۔ تجربات میں آنے والی اشیاء کو دونوں نے جو نام دے رکھے ہیں، ان سے مراد ایک کی کچھ ہے دوسرے کی کچھ اور۔
سیدنا رسول صلی اللہ عیلہ والہ وسلم کی اب ایک حدیث مبارکہ جو ہماری معلوم دنیا اور اس سے سِوا اور ورا عالم میں اختلاف کی نسبت کو ظاہر کرتی ہے، آپ صلعم نے فرمایا۔
مجھے قسم ہے اپنے رب کی کہ یہ دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں اپنی ایک انگلی ڈبو کر نکالے اور اس پر جو پانی لگا ہو اس کا مقابلہ سمندر سے کیا جائے۔
ایک چھوٹے سے قطرے اور سمندر کے درمیان کوئی مشترک پیمانہ ممکن نہیں۔ سِوائے ان اہلِ فکر کے جو ادراک رکھتے ہوں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: