سندھی عوام کی ترقی، پانامہ کیس اور کلبھوشن پر سندھی اخبارات

0
  • سندھی عوام کو ترقی کے راستے خود تلاش کرنے پڑیں گے

روزنامہ عوامی آوازنے اپنے 9 اپریل 2017 کے ادریئے میں لکھا ہے کہ صوبہ سندھ آمدنی اور قدرتی وسائل کے حوالے سے پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہاں75 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے والی زندگی گذار رہی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ سندھ کے عوام نے گذشتہ چالیس سال سے منتخب نمائندوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن شروع والے بھٹو صاحب کے دور کے بعد ان کو خوشحالی نصیب نہیں ہوئی۔ دنیا کے حالات بدل رہے ہیں لیکن ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔ آج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں نئی نئی خبریں اور نئے نئے خیالات سامنے آرہے ہیں اور 57 فیصد لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے خبروں کا تبادلہ کر رہے ہیں جبکہ اخبارات فقط 28 فیصد لوگ پڑھتے ہیں۔ ان بدلتے ہوئے حالات میں سندھ کے عوام کو بھی اپنے نئے رستے تلاش کرنے ہونگے اور ایسا دباو بڑھایا جائے جس میں حکمرانوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی کارکردگی کو عوام کے سامنے لائیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ سوشل میڈیا ایک ہتھیارکہ طور پہ سامنے آیا ہے لیکن اس کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ جناب ہم کیا کر سکتے ہیں ،کچھ نہیں ہوگا ۔اس مایوسی کے چنگل سے نکلنا ہوگافقط منفی نعرے بازی سے کچھ نہیں ہوگا۔ لوگوں کو اپنے منتخب نمائندوں سے کاردکردگی کی مناسبت سے احتساب کرنا ہوگا۔

  • پانامہ کیس کو زمین کھاگئی یاآسمان نگل گیا

روزنامہ سروان کراچی نے اپنے ادارتی نوٹ میں عدالت عظمیٰ کے لارجربینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے کمنٹس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایک تفصیلی فیصلہ ہوگا جس کہ متعلق 20 سال کہ بعد بھی لوگ کہیں گے کہ یہ فیصلہ قانون کے مطابق دیا گیا ہے۔

 روزنامہ عوامی آواز نے پانامہ کیس کے فیصلے کے متعلق لوگوں کے اتنظار کی شدت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کیس جس تیز رفتاری سے عدالت عظمیٰ نے چلایا تو لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اس کا فیصلہ بھی اتنی ہی تیز ی سے آجائیگا۔ لیکن ابھی تک پاناما کیس کا فیصلہ نہیں آیا جس پر لوگوں کے اندر اداسی اور مایوسانہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں عدالتوں کے بہت اہم فیصلے نظریہ ضرورت کے تحت کئے گئے ہیں۔ ابھی جب انتخابات کی مدت میں ایک سال باقی رہ گیا ہے اوراس فیصلہ کی وجہ سے مختلف سیاسی جماعتوں، خاص طور پر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن، وزیر اعظم اور ان کے خاندان پر گہرے اثرات پڑیں گے۔ فیصلہ میں تاخیر پرمختلف لوگ مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ پنجاب جیسا کہ نواز لیگ کا گڑھ ہےاور دیگر تین صوبوں کے مقابلے میں پنجاب کی قومی اسمبلی کی نشستیں زیادہ ہیں اس لئے حزب اختلاف کی جماعتوں کی کوشش ہے کہ وہ پنجاب میں اپنا اثررسوخ بڑھائیں اور اس کا تعلق اس فیصلہ سے وابستہ ہے۔ اس لئے جیسے جیسے کیس کے فیصلے میں دیر ہوتی جارہی ہے لوگ ایک دوسرے سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ پانامہ کیس کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔

  • بھارتی جاسوس کلبھوشن کو موت کی سزا کا معاملہ

روزنامہ عوامی آواز نے اپنے 12 اپریل کے ادارتی نوٹ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کوموت کی سزا سےبچانے کے لئےبھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے پارلیامینٹ کے ایوان بالا میں پالیسی بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایک دھمکی آموز بیان ہے جس سے پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات خطرے میں پڑگئے ہیں۔ اس سلسلے میں اخبار نے لکھا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے اور یہ مداخلت کاسلسلہ تقسیم ہند کے بعد مسلسل جاری ہے اور اس معاملے میں بھارت کا دھمکی آمیز موقف حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان گذشتہ چند دھائیوں سے انتھائی خطرناک صورتحال میں سے گذرتا رہا ہے وار افغان جنگ کے بعد یہ ملک مسلسل دھشتگردی کی کاروائیوں کی لپیٹ میں ہے اور یہاں جتنے بھی بڑے دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں ان کی جڑ افغانستان سے ملتی ہے۔ پاکستان کے اندر دہشتگردیوں کے واقعات میں 37 ہزار سے زیادہ جوان اور ہزاروں کی تعداد میں شہری شہید ہوئے ہیں۔ اس عالم میں ہمارے پڑوسی ملک کے ایک حاضر سروس فوجی افسر جاسوسی کرتے ہوئے پکڑا جائے تو عالمی برادری کو اس پر اپنا رد عمل دکھانا چاہیے تھا لیکن یہ بات قابل افسوس ہے کہ یہ تو نہیں ہوا بلکہ ان کی خاموشی سے دوہرا معیار اور کیا ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشتگرد حملے کے بعد ان دہشتگردوں کو عبرت کا نشانہ بنانے کے لئے سزائے موت کے سلسلے کو دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پاک بھارت تعلقات اس صورت میں معمول پر آسکتے ہیں جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے پرہیزکریں اور عالمی برادری حقیقت پسندی کے ساتھ مسائل کو سمجھے اور حل کرے۔ اس سلسلے میں اخبار نے عالمی برادری کو متوجہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں بھارتی مداخلت کا نوٹس لیکر برصغیر میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

روزنامہ عبرت نےاپنے 12 اپریل کے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ گذشتہ سال مارچ کے مہینے میں بلوچستان کے علاقے ماشکے سے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث بھارتی بحریہ کے آفیسر کمانڈر کلبھوشن یادو جو حسین مبارک کے نام سے گرفتار ہوا تھا اور اسے آرمی ایکٹ کے تحت تمام الزامات ثابت ہونے کے بعد موت کی سزا پر بھارت کی حکومت نے ان کو بچانے کے لئے آخری حد تک جانے کی دہمکی دی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کی اس بیجا مداخلت کو نہایت ہی صبر وتحمل سے برداشت کیا ہے کیونکہ وہ اس بات کو سمجھتا ہے کہ ان کے یہ معاملات پاک چین راہداری والے منصوبےپر بھی اثر انداز ہونگے اس لئےابھی بھی امید کی جاتی ہے کہ اب بھی اس طرح کی بردباری کا مظاہرا کیا جائے گا لیکن بھارت نے شروع سے جھگڑالوپالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ بھارت شروع سے نہ فقط پاکستان بلکہ چین سے بھی اس طرح کی کاروائیاں کرتا آرہا ہے اور کشمیر میں بھی کئی معصوم شہریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ خود بھارت کے اندر کروڑوں شہری مکانات سے محروم فٹ پاتھوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن بھارت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

روزنامہ مہران نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کے سزائے موت پر بھارتی سرکار کے سخت رد عمل پر لکھا ہے کہ اس پر دونوں ممالک کے وزراء اعظم کی پراسرار خاموشی محل نظر ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ بھارت کا وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ اس سلسلے میں دونوں سرگرم دکھائی دیتے ہیں اور ان کا رد عمل بھی سامنے آرہا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان کے وزیر خارجہ نہ ہونے اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی خاموشی حیران کن ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حکومت اور عوامی سطح جذبات کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ اور آگے چل کر یہ جنگ آگ کے شعلوں میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے اس لئے اس جنگ کو ایک کرمنل کیس کے حوالے سے دیکھا جائےاور اسے اپنی ملکی سلامتی اور ملکی مفادات کو سامنے رکہہ کر آگے پیش قدمی کرنی چاہیے اور ماضی کی پاک بھارت جنگوں کے نتائج کو بھی سامنے رکھا جائے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان نے بھارتی جاسوس کو گرفتار کیا ہے اور جاسوس کی سزا دینا یہ پاکستان کا قانونی حق ہے اور بھارت کو بھی جذباتی بننےکے بجائےقانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے اور یہ ہی محفوظ راستہ ہے جو دونوں ممالک کو خوفناک جنگ سے بچا سکتا ہے۔ بھارت یہ نہ سمجھے کہ وہ پاکستان کو دہمکیاں دے کر اپنے جاسوس کو آزاد کروالےگا۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: