مبارک ہو !!!!!!!!!! شوہر ہوا ہے

0

عورت کا وجود سیسہ پلائی دیوار تو نہیں البتہ عورت کو “امیدوار برائے شوہر” کا امتحان دینے اور کامیاب ہونے کےلئے جس زہنی و جسمانی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے وہ یقینا کسی محاز کو سر کرنے سے کم نہیں، جیت گئی تو پیاری اور ہار گئی تو نامراد۔

جیت کا میدان سر کرنا کیا اتناآسان ہے؟ کیا ہر عورت جیت کی خواہشمند ہوتی ہے؟ پہلے اماں ابا کی ارمانوں کی جیت اس کے بعد شوہر کی “محبت برائے کام “کی پریت۔

کام ہی کام ساتھ میں اچھی بیوی کا انعام، واہ واہ! کیا کہنے، بیوی کے کاموں پر شوہر کے انعام! واہ واہ

کیا کوئی بیوی بنے گی؟ کیا آواز آرہی ہے؟ کیا کوئی انعام کا طلبگار ہے؟ ایسی ہی کچھ پیاری پیاری سوچ لئے، لڑکوں کے رشتے لئے مضبوط اعصاب کی خواتین رشتے کرانے والیاں “میرج بیورو” کھول لیتی ہیں، اور ٹی وی پروگرام تو اب رشتہ گاہ میں تبدیل ہورہے ہیں۔

کیوں نہ ایک پروگرام ترتیب دیا جائے “رشتہ ٹی وی پر”، پھر ہر ماں کا مسئلہ حل ہوسکے گا، شادی ہوگی”سب کے سامنے” واہ واہ، کیا کہنے!

“بیٹی اب تم بڑی ہوگئی ہو، اب تمھیں شوہر کی ضرورت ہے” ایسا کوئی زبانی کہتا تو نہیں لیکن بہرحال شادی تو کرنی ہوتی ہے اور مرد سے ہی کرنی ہوتی ہے، دل کرے نہ کرے، دماغ کام کرنا چاہئے، ضروری نہیں آپ کا اپنا ہو، امی ابا کا بھی ہوسکتا ہے۔

جیت کا میدان سر کرنا کیا اتنا آسان ہے، ہر شخص کی آٓؤ بھگت، پہلے آپ اور پھر جناب کی تحریک؟

عورت مرد جیسی مضبوط ہڈیاں اور طاقت تو نہیں رکھتی البتہ وہ وقار اور انداز ضرور رکھتی جو مرد کی مردانگی کی لاج رکھ لیتا ہے۔

مرد یقینا بہت مضبوط اور طاقت ور تصور کیا جاتا ہے اور کیوں نہ ہو؟ خدا نے اسے طاقت ور بنایا ہے کیونکہ وہ گھر کا سربراہ اور کفیل ہوتا ہے اب یہ بات الگ ہے کہ وہ خود کو “حاکم اور عورت کو محکوم” تصور کرتا ہو۔

دماغ کا کیڑا مارنا ضروری ہوتا ہے چاہے عورت کے وجود میں ہو یا مرد کی سوچ میں! جس کا کام اسی کو ساجھے، لیکن یہ کام دونوں کرسکتے ہیں بغیر کسی تفریق کے!

لڑکپن سے جوانی اور جوانی سے” شوہر کی کہانی اور حکمرانی” کا آغاز بہت خوش آئند ہو سکتا لیکن صرف ایک شوہر نما مرد کے لئے!

کیا کوئی نو مولود بچہ حکمرانی کرسکتا ہے؟ یا اہلیت رکھتا ہے؟ بل کل رکھتا ہے وہ ماں باپ کو اپنے ماتحت رکھتا ہے، وہ جب چاہتا ہے ،سوتا ہے جب چاہتا ہے، جاگتا ہے اور جب چاہتا ہے، دودھ مانگتا ہے وہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہےلیکن مرد کوئی نومولود بچہ نہیں ہوتاجسے عورت پہلے پالے پھر سنبھالے، لیکن حقیقتا وہ ایک نومولود کی طرح ہی برتاؤ کرتا ہے، وہ چاہتا ہے بیوی اس کے ماتحت ہو۔

“شادی اور حکمرانی” میں بہت فرق ہوتا ہے، شادی ایک سماجی معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت کچھ قواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہونا آپ پر لازم ہوتا ہے، جسے لفظ “حقوق” کا نام دیا جاتا ہے۔

مرد کیا مسلط ہونے کا نام ہے؟ خوابوں پر خیالوں پر؟ فکر پر ارمانوں پر؟ عورت کی شادی خانہ آبادی کیا کہئے وہ تو پہلے ہی بن بنائی ماں بن جاتی ہے جس کی گود تو خالی ہوتی ہے لیکن ہاتھ کام کے بوجھ اور دماغ “شوہر کیا ہے”؟ کے سوالات کے حل میں مصروف عمل ہوجاتا ہے!

بیوی کو شوہرکی دیکھ بھال اور خواہشات کی تکمیل تو ایسے ہی کرنی ہوتی ہے جیسے کسی بچے کی، کی جاتی ہے لیکن عجیب بات دیکھئے اتنی تگ و دو کے باوجود عورت مرد کی نہیں بل کےمرد عورت کی تربیت کا تمغہ اپنے نام کرلیتا ہے کیونکہ عورت نے جو سیکھا بیوی بن کے سیکھا، جو کیا بیوی بن کے کیا، جو پایا بیوی بن کے پایا،یا یوں کہ لیجئے بیوی کی پیدائش سسرال اور افزائش کا سہرا شوہر کے نام ہوا، اس سے پہلے نہ تو وہ کسی کام کی تھی نہ علاج کی! گویا مرد نے بیوی اور بیوی نے شوہر کے رشتہ کو جنم دیا!

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: