بین الصوبائی تنازعات کا احوال : معیشت اور عوام کا نصیب: (12) لالہ صحرائی

0

 بین الصوبائی تنازعات کا احوال 

پچھلے چیپٹر میں ہم نے یہ بات کہی تھی کہ دنیا کی تمام فیڈریشنز میں ریاست کے مرکز اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات اسی طرح سے چلتے ہیں، ان میں نزاعی معاملات اور ان پر عدم اتفاق بھی ہوتا ہے لیکن کوئی تقاضا بین الصوبائی نفرت اور کسی لسانی و طبقاتی تحریک کا باعث نہیں بنتا، سب معاملات خوش اسلوبی سے طے پا جائیں تو بھی ٹھیک ہے اور غیر متفقہ رہیں تو بھی ٹھیک ہے، ان دونوں صورتوں میں ٹھیک کہلانے کی وجہ دراصل یہ ہے کہ بنیادی طور پر ایوارڈز اپنے طے شدہ آئینی فارمولے کے عین مطابق ہوتے ہیں اسلئے ان پر قانونی و غیر قانونی اعتراض کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

 

قانونی اعتراض صرف اس وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب ایوارڈ اپنے آئینی طریقہ کار سے انحراف پر مبنی ہو، ایسی صورت میں معاملہ عدالت میں لیجایا جا سکتا ہے اور آپشنل معاملات پر اگر کنسینسس نہ ہو سکے تو مختلف انٹلیکچوئل فورمز پر اپنی ضروریات کے حق میں آپ کنویسنگ تو کر سکتے ہیں لیکن اسے سیاسی رنگ دینا یا نفرت انگیز ماحول پیدا کرنا غیر ذمہ دارانہ اور غیراخلاقی حرکت کے سوا کچھ نہیں۔

 

[متنازع آپشنل امور کی مثالیں]

مثال کے طور پر کوئی صوبہ یہ کہتا ہے کہ مجھے فلاں مجبوری کے تحت زیادہ فنڈز درکار ہیں اس لئے مجھے دس فیصد زیادہ دیا جائے تو یہ ایک آپشنل اور فرمائشی پروگرام ہے، باقی صوبوں کی طرف سے اس فرمائش کا انکار کرنا ایوارڈ کے بنیادی قانون سے انحراف کے مترادف نہیں، درخواست گزار اگر بددل ہو کر ایوارڈ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کا استحصال کیا گیا ہے۔

 

دوسرا نزاعی معاملہ فورس۔میجورے سچوایشن میں پیش آتا ہے، مثال کے طور پر کسی صوبے میں سیلاب یا زلزلہ کی صورتحال ہے تو صوبے کی گزارش ہے کہ اس بجٹ کے ڈویژیبل پول میںسے پہلے دس فیصد حصہ الگ کر کے اسے دے دیا جائے تاکہ وہ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کر سکے، پھر باقی پول کو حسب سابق آبادی پر تقسیم کرلیا جائے لیکن باقی تین صوبے اس بات پر متفق نہیں ہوتے بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ پول کو حسب سابق تقسیم کیا جائے پھر ہم اپنے اپنے حصے کی رقم سے دو دو فیصد آپ کو دے دیں گے، اس میں دو فیصد اپنا ملا کے آٹھ فیصد سے آپ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کر لینا۔

 

تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دو صوبے یہ تجویز پیش کر دیں کہ پول کی رقم میں سے پہلے بیس فیصد رقم غربت زدہ علاقوں کیلئے نکال لی جائے اور غربت کے حساب سے آپس میں بانٹ لی جائے، اس رقم کو ہم مین۔سٹریم میں رکھنے کی بجائے علیحدہ سے غربت زدہ علاقوں پر خرچ کریں گے لیکن باقی دو صوبے اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ ایک تو ان کے ہاں غربت کم ہے دوسرا انہوں نے جس طرح سے اپنا بجٹ پلان کر رکھا ہے وہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 

چوتھی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پول کی رقم چونکہ آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہونی ہے اور چونکہ مردم شماری نہیں ہوئی، اس صورت میں تقسیم کا عمل جنرل کنسینسس پہ ہوتا ہے لیکن دو صوبے اس کنسینسس پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیتے ہیں۔

 

[‌مردم شماری اور مجبوریاں]

چیپٹر۔نائین میں ہم نے یہ بات ڈسکس کی تھی کہ نئی آنے والی حکومت اپنا پانچ سالہ پروگرام چلانے کیلئے این۔ایف۔سی ایوارڈ وضع کرتی ہے جو آبادی کی بنیاد پر صوبوں میں تقسیم ہوتا ہے، پھر بڑھتی ہوئی آبادی کے حساب سے، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے علاوہ ترقیاتی منصوبے ترتیب دینے کیلئے بھی آبادی کا پتا چلانا ضروری ہوتا ہے، اسی لئے ہر پانچ سال بعد مردم شماری بھی ایک ضرورت تھی تاکہ ہر صوبے کی حقیقی آبادی سامنے آسکے اور غلط اعداد و شمار کی بنیاد پر منصوبہ سازی اور فنڈز کی تقسیم میں غلطی نہ ہو۔

 

98 تک مردم شماری باقائدہ ہوتی تھی تاہم اگر کبھی مقررہ وقت پر ایسا نہیں ہوا تو یہ کوئی بڑا مسئلہ بھی نہیں تھا، ایسی صورت میں فنڈ کو پرانی مردم شماری کی بنیاد پر تقسیم کر لیا جاتا ہے یا برتھ ریٹ کی بنیاد پر ماہرین شماریات کی مدد سے کرنٹ آبادی کا ایک پروویژنل فیگر ڈیویلپ کر لیا جاتا تھا اور اسی کی بنیاد پر منصوبہ سازی اور فنڈز کی تقسیم بھی کرلی جاتی تھی۔

 

مردم شماری نہ ہونے کا نقصان چھوٹے صوبوں کو نہیں بلکہ بڑے صوبے کو ہوتا ہے، یہ ایک سیدھا سا اصول ہے کہ جہاں کنبہ بڑا ہوگا وہاں آبادی بھی تیزی سے بڑھے گی، اس سے چھوٹے صوبوں کے استحصال کی نوعیت پیش نہیں آتی، بالفرض ایسا مان بھی لیا جائے تو برتھ ریٹ چونکہ انیس بیس کے فرق سے سب قوموں کا ایک جیسا ہی ہوتا ہے لہذا کسی کو کم یا زیادہ رقم چلی جائے تو اس کا والیم کروڑوں میں ہوگا نہ اربوں میں البتہ چند ملیئن کا فرق ضرور پڑسکتا ہے۔

 

98 کے بعد نادرا کی موجودگی میں قوم کا بڑا حصہ ڈاکومنٹڈ ہے، دیہی آبادی میں ایسا طبقہ ہے جو نادرا پر رجسٹرڈ نہیں، شہروں میں جس کا شناختی کارڈ ابھی نہیں بنا وہ بھی ڈیٹا بیس میں اپنی فیملی کیساتھ موجود ہے، اب برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی نادرا میں رجسٹر ہو رہے ہیں اسلئے آئیندہ کبھی مردم شماری کی ضرورت پیش ہی نہیں آئے گی، ہر مطلوبہ فیگر آپ کو نادرا سے مہیا ہوتا رہے گا۔

 

[ماضی میں صوبوں کی جائز ڈیمانڈز]

تاریخوں کے تضاد اور طوالت سے بچنے کیلئے میں یہ نہیں بتا سکوں گا کہ کس صوبے کا کونسا مطالبہ کب سامنے آیا پھر دوسرا تیسرا مطالبہ کب اور کیسے آیا البتہ یہ ہے کہ صوبوں کی بیشتر ڈیمانڈز قائد عوام بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد ضیاء صاحب کے دور میں سامنے آئیں اور کچھ ان کے بعد جمہوری ادوار میں بھی سامنے آئیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کا حل ہونا بھی شروع ہو چکا تھا۔

 

صوبہ سندھ کی طرف سے سیلز ٹیکس صوبوں کو واپس کرنے اور کسٹم ڈیوٹی کو ڈویژیبل پول میں شامل کرنے کا مطالبہ سر فہرست تھا، سندھ کا دوسرا مطالبہ آئل و گیس کی رائلٹی کا تھا اور تیسرا مطالبہ کراچی پورٹ کے فنڈز کی کلیکشن پر حصہ لینے سے متعلق تھا۔

 

صوبہ سرحد کی طرف سے ابتدائی طور پر غربت الاؤنس کا مطالبہ تھا لیکن سندھ اور بلوچستان نے جب آئل و گیس کی رائلٹی کا مطالبہ کیا تو سرحد نے بھی منگلا و تربیلا کی بجلی پر رائلٹی کا مطالبہ پیش کر دیا، بلوچستان کی طرف سے غربت الاؤنس، انورس پاپولیشن اور گیس کی رائلٹی کا مطالبہ تھا۔

 

ابتداء میں پنجاب کا کوئی مطالبہ نہیں تھا لیکن جب یہ رائلٹی کے مطالبات اٹھے تو پنجاب نے بھی اپنی گندم، رائس اور کاٹن ایکسپورٹ پر رائلٹی کا مطالبہ کر دیا، گویا صورتحال وہی 73 سے پہلے والے ریزمین ایوارڈ کے فارمولے جیسی بننے جا رہی تھی لیکن بہت سی وجوہات کی بنا پر یہ مطالبات یا تو منظور نہیں ہوئے یا پھر ان پر باہمی اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا اسلئے یکے بعد دیگرے تین نیشنل ایوارڈز غیر متفقہ طور پر منظور ہوئے ان میں دو ضیاء صاحب کے اور ان کے بعد ایک محترمہ بینظیر شہید صاحبہ کا بھی تھا لیکن پچھلے چیپٹر میں ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ اتفاق رائے نہ ہونے سے ایوارڈ غیرمتفقہ ضرور ہوتا ہے لیکن غیر آئینی ہرگز نہیں ہوتا اسلئے کہ جو کچھ بھی درکار تھا وہ آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں تھا اور جو کچھ ان ایوارڈز میں دیا گیا تھا وہ آئین کے عین مطابق تھا۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اگلے چیپٹر میں اٹھارہویں ترمیم اور اس کے بعد کی صورتحال پیش کریں گے۔

مضمون کا گیارہواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: