حقیقی مسائل اور سیاست کا تماشہ: اسد خان

0

ملک کے حقیقی مسائل کیا کیا ہیں؟  جمہوریت کی نام لیوا حکومت کو ان مسائل سے کتنا سروکار ہے؟ ترقی کے جو میگا پروجیکٹ بنائے جاتے ہیں ان میںحقیقی ترقی کتنے فیصد ہے؟ عوامی مسائل کے تدارک کے لئے کیا سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں؟  سیاست نام ہی شائد اس تمام جدوجہد کا ہے، جبکہ حالات کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں کہ یہ پندرہ کروڑ افتادگان خاک سیاسی کھیل میں غیر مرئی کیوں ہیں؟ ان کا سیاست میں کچھ حصہ نہیں سوائے اس کے کہ الیکشن کے دنوں میں تنبو قناتیں لگا کر سبز باغ دکھا کر،  بریانی کھلا کر ووٹ لے لئے جائیں.اس کے بعد ان کا اس سیاسی کھیل میں کچھ مزید کردار نہیں رکھا جاتا یا اشرافیہ تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتی وہ جمہوریت کی من پسند تاویل پر ہی سیاست سیاست کھیلتی ہے..

قیام پاکستان کے وقت سے ہی یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے ، اس نزاکت کے پردے میں مراعات یافتہ طبقہ وسائل کی لوٹ مار سے دن بدن امیر ہوتا جا رہا ہے اور عوام غربت کی پستیوں میں گرتے جا رہے ہیں. جب ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر عوام کے حالات بہتر کیوں نہیں ہوتے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ شروع دن سے ہی عوام کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے اور بالادست طبقے کی ترجیح ان حقیقی مسائل کا حل کبھی رہا ہی نہیں. عوام کے اصل حالات اور بالادست طبقے کی چالاکیوں کو طبقاتی شعور کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے، خوشنما دعووں اور بلند آہنگ نعروں سے نظام کی مکروہ صورت کی لیپا پوتی کر دی جاتی ہے.

پاکستان میں پندرہ کروڑ سے زیادہ لوگوں کی آمدنی ان کی بنیادی ضرورتوں کے حصول کے لئے نا کافی ہے ، چار کروڑ لوگ مڈل کلاس میں شمار ہوتے ہیں جو بالائی طبقے میں شامل ہونے کی اندھی دوڑ میں بھاگے جا رہے ہیں مگر ان کی اکثریت تھک کر نچلے طبقے میں گر جائے گی اور ایک فیصد طبقہ ایسا ہے جو پچاس فیصد سے زیادہ وسائل کا مالک ہے.

سیاست میں ان پندرہ کروڑ غربت کا شکار اور محروم لوگوں کا کوئی ذکر ہے اور نہ کوئی حصہ. غذائی ضروریات، علاج، تعلیم، ٹرانسپورٹ، رہاش، بجلی، گیس اور نکاس ہر فرد کی ضرورت ہے مگر محروم طبقے کی سسکتی زندگی کو سہل بنانے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی. سینٹ میں پیش کی جانی والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق % 84 آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے. غذائی قلت کا شکار یہ مفلوک الحال لوگ معیاری علاج سے محروم ہیں اور تعویز گنڈے پر گزارہ کرتے ہیں. تین کروڑ سے زیادہ بچے سکول سے باہر ہیں . ان افتادگان خاک کے لئے غیر مرئی کی پھبتی حسب حال ہے. بے روزگاروں کی فوج بڑھتی جا رہی ہے اور دور دور تک ان کے لئےامید کی کوئی کرن موجود نہیں.

دوسری طرف استحصالی طبقہ لوٹ مار کے گونا گوں ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے . پراپرٹی کا کاروبار، ٹمبر مافیا کی بدمعاشی، ٹھیکوں میں کمیشن، اسمگلنگ،  بنیادی ضروریات فراہم کرنے والے اداروں کی نجکاری سے منافع کا حصول ، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی . اس بدعنوان اشرافیہ کی پرتعیش زندگی کی قیمت مزدور اپنے خون سے چکاتا ہے.

دولت اور طاقت کی حصہ داری میں مسلسل کشمکش اور سطحی تصادم کو حق اور باطل کی لڑائی بنا کر پیش کیا جاتا ہے. کرپشن کے الزامات کے گرد ہونے والی نورا کشتی سے عوام کے مصائب میں کوئی کمی آنے والی نہیں ہے.
یہ ملک 74.6 ارب ڈالر سے زیادہ کا مقروض ہو چکا ہے اور بجٹ کا بڑا حصہ اس قرضے کی اقساط کی واپسی میں صرف ہوتا ہے. قرضوں کا یہ سارا بوجھ غریبوں کی کمر پر لاد دیا گیا ہے اور حکمرانوں کی یہ ترقی غریبوں کو پستی کی کھائیوں میں دھکیل رہی ہے. منافع کے لالچ میں ماحولیاتی آلودگی کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے جس سے بارشوں کے سلسلے بے ہنگم اور ناقابل اعتبار ہو گئے ہیں. جنگلات کی کٹائی سے بدمعاش اشرافیہ کی تجوریاں تو بھر گئی ہیں مگر عوام سیلاب سے روندے جا رہے ہیں . آبادی میں بے تحاشہ اضافہ معیار زندگی میں مسلسل تنزلی کا باعث بن رہا ہے ان حقیقی مسائل پر مگر کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں .

اٹھارہ سے بیس فیصد لوگوں کو انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت میسر ہے مگر یہ درمیانہ طبقہ لبرل، قدامت پرستی، سیکولرازم اور مذہبیت کے درمیان تکرار اور بے معنی بحث میں الجھا ہوا ہے جس میں محرومی اور ذلت کا ذکر ہے اور نہ کوئی حل. سوشل میڈیا پر انتہائی سطحی اپروچ سے سینہ کوبی جاری ہے ، ملکی مسائل کی درست نشاندہی ، ان کی وجوہات کے تعین اور پھر حل کی طرف بڑھنے کے بجائے الزام تراشیوں ، پھکڑ بازی اور سیاپا فروشی کی ثقافت پروان چڑھ رہی ہے. باقی اسی فیصد عوام ان دانشوروں کی نظروں سے اوجھل ہیں .

میڈیا پر نان ایشوز کی تکرار جاری ہے اور اس کا استعمال عوام کے شعور کو پراگندہ کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے. مصنوعی چکا چوند دکھائی اور سطحی جذبات بھڑکائے جاتے ہیں. جعلی دانشور سازشی تھیوریاں سناتے ہیں . وینا کی طلاق اور نواز شریف کی پتھری ہفتوں تک زیر بحث رہتی ہے مگر پندرہ کروڑ غریب کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہی رہتے ہیں. حکومتی اہلکاروں اور فوجی افسروں کی بدن بولی سے ایک صفحہ پر ہونے یا نہ ہونے پر قیاس آرائیاں تو بہت ہوتی ہیں مگر پندرہ کروڑ لوگوں کی آہوں اور سسکیوں کو یہ بہرے کان نہیں سن پاتے.

سیاست کا مقصد عوامی مسائل کے حل کی کوشش ہے مگر ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں بالائی پرت کے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں. کہنے کو تو یہ جمہوری سیاسی جماعتیں ہیں مگر ان کا جمہور سے وہی تعلق ہے جو شکاری کا شکار سے ہوتا ہے. یہ چند شخصیات کے گرد گھومتی ہیں اور ان کی ملکیت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے ، عامی اس کا ووٹر اسپوٹر تو ہو سکتا ہے مگر کسی اہم پوزیشن کے لیے نا اہل ٹھہرتا ہے. حکمران خاندان کے مفادات کا حصول ہی ان کا اصل منشور ہے اور شخصیتوں کا تضاد بنا کر مصنوعی لڑائیاں اور جوش و خروش سے ایک دوسرے کی کردار کشی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ہتھکنڈہ ہے . یہ جمہوریت کے علمبردار اس سوال کا جواب نہیں دے پاتے کہ ان کی اپنی جماعتوں میں جمہوریت عنقا کیوں ہے اور یہ کہ فوجی آمریت اور نام نہاد جمہوری حکومت میں عوام کے لحاظ سے کیا جوہری فرق ہے ؟.

یہ سب اس نظام کے محافظ ہیں جو ان کی ہوس زر اور حکمرانی کے مسرت بخش موقع کا ضامن ہے. چہروں کو بدلنے کی تحریک تو چلائی جاتی ہے مگر نظام کی تبدیلی سے چونکہ زد ان کے مفادات پر پڑتی ہے اس لیے ہر کونے سے ایک ہی آواز آتی ہے “نظام کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے” . عوام کے لئے  روزگار، تعلیم، علاج، بجلی، گیس ٹرانسپورٹ اور دوسری بنیادی ضروریات کی فراہمی ان کے پروگرام میں کبھی شامل نہیں ہو پاتی. پولیس اور پٹوار کی دھاندلی ہو  یا عدالتوں میں انصاف کی خرید و فروخت، فیکڑیوں ، کارخانوں، کھیتوں اور نجی اداروں میں عوام کا استحصال ہو یا وڈیروں، ملکوں ، چودھریوں اور خانوں کے انسانیت سوز ہتھکنڈے یہ ہمیشہ اپنے طبقے کے ساتھ ہی کھڑے نظر آئیں گے.

عوام کے مسائل ان کی نظروں میں اہمیت حاصل نہیں کر پاتے. ان کی ساری لڑائی دولت کے حصول اور اقتدار میں شراکت کے گرد گھومتی ہے اور ان کی ساری حرکات انتہائی مضحکہ خیز ہیں. عورتوں کو زندہ دفن کرنے کو یہ ثقافت کہتے ہیں، ایماندار افسروں کو بے وقوفی کے طعنے دیتے ہیں، ایک دوسرے کو گھسیٹنے کا اعلان کرتے ہیں اور پھر ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگتے ہیں، ان کے گھروں سے اتنا روپیہ برآمد ہوتا ہے کہ نوٹ گننے والی مشینیں گرم ہو جاتی ہیں، یہ چور دروازوں کا طواف کرتے ہیں کہ اقتدار کی دیوی کسی طرح مہربان ہو جائے. خود کو چالاک اور عوام کی بیگانگی کو بے وقوفی سمجھتے ہیں ، عوام کو زبان، نسل اور مسلک کے نام پر تقسیم کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ میدان مار لیا . لیکن آخر کب تک ؟ کاٹھ کی ہنڈیا بار بار تو نہیں چڑھتی.

جس دن پندرہ کروڑ مفلوک الحال محنت کشوں نے جڑت پیدا کر لی اور اپنا حق حاصل کرنے نکل پڑے اس جعلی سیاست کا جنازہ نکل جائے گا.

….

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: