دیدہ ور : ڈاکٹر اسراراحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکور پٹھان

0

(26 اپریل 1932۔۔…۔14 اپریل 2010)

اپریل 2010 کے یہی دن تھے۔پاکستان اور بھارت کے ٹی وی چینلز ایک ھیجانی کیفیت میں مبتلا تھے۔ ہندوستان کی ٹینس کی ملکہ ثانیہ مرزا، پاکستان کے کرکٹ اسٹار شعیب ملک کی شادی کا ہنگامہ تھا۔ دونوں طرف کا میڈیا نہایت خضوع وخشوع سے اس اہم ترین واقعہ کی ایک ایک تفصیل اپنے ناظرین تک پہنچانیے کی تگ و دو میں دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔ حیدارآباد دکن میں ثانیہ اور سیالکوٹ میں شعیب کے گھروں کے سامنے ٹی وی کیمرے گھات لگائے بیٹھے تھے اور دونوں کی پل پل کی حرکات بریکنگ نیوز کے طور پر دکھائی جارہی تھیں۔ اسی دھوم دھڑکے میں خبروں کے دوران ایک مختصر سی خبر سنائی گئی ۔ ،، ممتاز اسکالر اور تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد آج لاہور میں انتقال کر گئے ،،، آئیے آپ کو دوبارہ سیالکوٹ لئے چلتے ہیں جہاں شعیب ملک۔۔۔۔۔

میڈیا نے اپنی کاروباری فراست کا ثبوت دیا تھا۔ ڈاکٹر اسرار احمد کی کوئی ،، فین فالوئنگ (Fan Following)،، تو تھی نہیں۔ بہت سے لوگ تو انہیں جانتے بھی نہیں تھے اور جو جانتے تھے ان میں سے بہت سے انہیں پسند بھی نہ کرتے ہونگے۔ خوبرو ثانیہ اور نوجوان شعیب ملک بہر حال،، ہاٹ کیک (Hot Cake)،، تھے۔

اور یہ ضیاٗالحق کے دور حکومت کی بات ہے۔ میں ان دنوں تعطیلات پر گھر آیا ہوا تھا۔ ایک رات کسی ٹی وی پروگرام میں پہلی مرتبہ بلند قامت، سیاہی ماٗئل رنگت ، سیاہ شیروانی اور جناح کیپ میں ملبوس ڈاکٹر صاحب کو دیکھا۔ سامعین میں اکثریت نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے درس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ میرے لئے یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا۔ اس سے پہلے اکثر علماٗ اور دانشوروں کو خطاب کرتے یا لیکچر دیتے سنا لیکن اسطرح کا مکالمہ پہلے نظر سے نہیں گذرا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے انداز بیان میں کچھ ایسی بات تھی کہ مین متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ حالانکہ ہمارے یہاں اکثر مذہبی پروگراموں کے درمیان ٹی وی بند کر دیا جاتا تھا کہ اس دوران کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر اطمینان سے ڈرامہ دیکھا جائے۔

انہی دنوں یہ بھی دیکھا کہ گورنر سندھ ( شاید جنرل عباسی) کی اہلیہ کی قیادت میں خوش پوش و خوش شکل خواتین کا ایک گروہ شاید ٹی وی اسٹیشن یا سندھ اسمبلی کے سامنے مظاہرہ کر رہا ہے۔ غالباَ ڈاکٹر صاحب نے خواتین کی ملازمت کے بارے میں اپنا نظریہ بیان کیا تھا جسے ہماری تعلیمیافتہ اور روشن خیال خواتین نے سخت ناپسند کیا تھا۔ یہ بات صدر ضیاالحق کے نوٹس میں لائی گئی توملک کو اسلامائزیشن کی راہ پر لے جانے والے جنرل صاحب نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کون ہوتے ہیں۔ فائنل اتھارٹی میں ہوں۔ ڈاکٹر صاحب تک جنرل کا بیان پہنچا تو انہوں ننے صرف یہ کہا کہ فائنل اتھارٹی اللہ اور اس کا قانون ہے۔ میرا علم اور میرا ضمیر مجھے جو کہتا ہے میں نے عرض کر دیا ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب سرکاری ٹی و ی پر نظر نہیں آئے۔

پھر یہ بھی سننے میں آیا کہ ڈاکٹر صاحب نے ضیاالحق کی مجلس شوریٰ سے استعفا دے دیا ہے کہ یہاں کوئی کام کی بات نہیں ہوتی اور میرا میدان کوئی اور ہے۔

پھر ڈاکٹر صاحب کا نام ایک اور مچیٹے میں سننے میں آیا۔ انہوں نے کرکٹ کے کھیل پر تنقید کی تھی اور اسے وقت کی بربادی اور فرائض دینی سے غفلت کا سبب بتایا تھا۔ ان دنوں عمران خان نوجوانوں ، خاص کر خواتین کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے تھے۔ کرکٹ کا کھیل تو ویسے بھی ایک قومی جنون کی شکل اختیا ر کر گیا ہے۔ نوجوان نسل نے اس مولوی کی تنقید کا سخت برا منایا اور انہیں اپنی،، گڈ بکس،، سے خارج کردیا۔

پھر ایکدن دوبئی میں نماز جمعہ کے بعد اعلان کیا گیا کہ پاکستان سے تشریف لائے ہوئے عالم دین ،،مولانا اسرارالحق صاحب،، خطاب فرمائیںگے۔ ،،مولانا ،،نے گردن موڑ کر حیرت سے امام صاحب کی طرف دیکھا اور منبر پر تشریف لے آئے۔ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب دینی فرائض کے جامع تصور کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ میں انکے خطاب میں کچھ ایسا کھو گیا کہ وقت کا احساس ہی نہین رہا۔ ان دنوں موبائل فون وغیرہ تو تھے نہیں نہ ہی مسجد میں فون تھا۔ میری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ نماز جمعہ کے دو گھنٹے بعد جب گھر پہنچا تو بیوی کو پہلے تو پریشان پھر جو خفا پایا کہ الامان الحفیظ۔

اسکے بعد تین اور مواقع پر دوبئی اور شارجہ میں داکٹر اسرار احمد کو بالمشافہ سننے کا موقع ملا اور کچھ عرصہ بعد ایک ایسے تعلق میں بدل گیا جس نے نی اس خاکسار کی زندگی کا رخ بہت حد تک موڑ دیا۔ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ میرے لئے مرشد، معلم، محسن،مربی اور روحانی باپ کا درجہ رکھتے ہیں حالنکہ ان دو تین مواقع کے علاوہ انہیں بہ نفس نفیس دیکھنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔

یہ ڈاکٹر صاحب ایسے ہی اکل کھرے اور بے دھڑک تھے۔ جس بات کو حق سمجھا اسے دل سے زبان پر لانے میں لمحہ بھر کا بھی تامل نہ ہوتا۔ مصلحت پسندی، ریا کاری، حالات سے سمجھوتا، زمانے کا ساتھ دینا، ، آسان راہیں ڈھونڈنا اوردین کی ایسی تاویلات پیش کرنا جو مغرب اور مشرق کو قابل قبول ہوں چاہے دین سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو، ڈاکٹر صاحب ان خصوصیات سے دور کا بھی واسطہ نہیں رکھتے تھے۔جسے انہوں نے حق جانا نہ صرف بے دھڑک اور بلا کم و کاست بیان کیا بلکہ اس پر خود عمل کر کے دکھایا۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد جب اتمام حجت کیلئے جنرل پرویز مشرف نے علما اور مشائخ کو مدعو کیا اور امریکہ کا ساتھ دینے کے اپنے فیصلے کی وضاحت کی تو مشائخین کی عظیم اکثریت نے نہ صرف اس فیصلے پر آمنا و صدقنا کہا بلکہ جنرل کی موقع فہمی پر حسب توفیق داد و ستائش کے ڈونگرے برسائے۔

ڈاکٹر صاحب سکہ بند عالم نہ کسی دینی مدرسے یا دارالعلوم سے فارغ التحصیل، نہ جانے کس کھاتے میں بلائے گئے تھے۔ جنرل آگاہ کر رہا تھا کہ امریکہ کا ساتھ نہ دینے سے کیا مشکلات پیش آئینگی اور ہمارا دشمن ہندوستان اس سے کس طرح فائدہ اٹھائے گا۔ اور یہ کہ ہم کتنی مصبتوں سے بچ گئے۔۔ ڈاکٹر صاحب کی باری سب سے آخر میں آئی۔ جنرل سے مخاطب ہو کر کہا کہ بچیں گے آپ پھر بھی نہیں اور امریکہ یا بھارت آپ کو کسی قسم کی رعایت نہیں دینگے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک سال کے اندر ہی بھارت نے دو ڈویژن فوج ہماری سرحدوں پر لاکھڑی کر دی۔ڈاکتر صاحب سیاستدان نہیں تھے نہ عملی سیاست سے کوئی تعلق تھا لیکن ملکی اور بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ مسجد جامع القران لاہور میں انکا خطبہ جمعہ عموما حالات حاضرہ کے ہی موضوع پر ہوتا۔۔ جن میں وہ نہ صرف غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتے۔

لیکن ڈاکٹر صاحب کا اصل میدان دعوت دین تھا۔ زمانہ طالبعلمی سے ہی غلبہ دین کی جدوجہد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرتے ہی، اسلامی جمیعت طلبہ، جس کے یہ ناظم اعلیٰ تھے، سے استعفا دیا اور جماعت اسلامی کی رکنیت کی درخواست دے ڈالی۔ جماعت اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد کا پہلا پیار تھی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نہ صرف انکے امیر بلکہ فکری رہنماٗ بھی تھے۔ جماعت میں شمولیت دراصل ان کے اندر چھپے ہوئے، اعلائے کلمئہ حق کیلئے خون پسینہ ایک کرنے والے سپاہی کی جدوجہد کا پہلا قدم تھا۔ لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ جماعت کی تاسیس جن مقاصد کیلئے ہوئی تھی اور وہ ایک انقلابی تحریک کے بجائے، انتخابی سیاست کا شکار، عام سی جماعت بنتی جارہی ہے تو جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ 1957 میں ماچھی گوٹھ میں سالانہ اجتماع کے بعد ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا غفار حسن، حکیم ؑعبدالرحیم اشرف جیسے اکابرین اور ارشاد احمد حقانی وغیرہ بھی شامل تھے۔

ڈاکٹر صاحب لیکن اس تحریک سے جذباتی وابستگی رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ ان اکابرین کے ساتھ مل کر اس تحریک کو اس کے اصل خطوط پر جاری رکھا جائے۔ لیکن جماعت کے سابق اکابرین کی طرف سے کسی مثبت پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں اولا انجمن خدام قرآن اور آخر کار تنظیم اسلامی کی بنیاد ڈالی۔ ڈاکٹر صاحب کی خواہش تھی کہ جماعت سے علیحدہ ہوئے اکابرین میں سے ہی کوئی تنظیم کی باگ ڈور سنبھالے لیکن جب یہاں بھی کوئی سامنے نہیں آیا تو آخرکار خود ہی اس بھاری پتھر کو اٹھالیا۔

ڈاکٹر صاحب کی ساری زندگی ، احب للہ و ابغض للہ (محبت اللہ کیلئے، مخالفت اللہ کیلئے) کا عملی نمونہ تھی۔ اپنے نظریے اور اپنی فکر پر ساری زندگی خلوص سے کاربند رہے اور اس پر کبھی کوئی سودے بازی نہیں کی۔ جس بات کو حق سمجھا اس کیلئے کسی کی خوشی یا ناراضگی کی پرواہ نہیں کی۔

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہ نہ سکا قند

یہی وجہ تھی کہ انکے مخالفین بھی کم نہ تھے۔ لیکن اگر علم اور دلیل کی بنیاد پر ان پر سچ آشکارا ہوا تو اپنی رائے سے رجوع کرنے میں دیر نہ لگائی۔  یہ انکی اپنے مقصد سے وابستگی اور رضائے الہٰی کی لگن تھی کہ کھڑے بھی حق کیلئے رہتے اور جھکتے تو بھی حق کیلئے۔

داکٹر صاحب فکر کی بنیاد شیخ الہند مولانا محمودالحسن کے فرمودات تھے جس میں کالے پانی کی قید سے واپسی کے بعد انہوں نے مسلمانان ہند کے زوال کے دو اسباب بیان کئے تھے۔ ایک آپس کی نا اتفاقی اور دوم قرٓان سے دوری۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے معنوی مرشد کی بات پلے سے باندھ لی اور قرآن کا پیغام پھیلانے میں ایسے جتے کہ ساری زندگی صرف اور صرف قرآن کیلئے وقف کردی۔

شیخ الہند کے علاوہ، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا حمیدالدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی بھی ڈاکٹر صاحب کی فکر پر غالب رہے آپ نے ان تمام نابغہ اور نادر روزگار ہستیوں سے فکری رہنمائی لی لیکن جس کی فکر ڈاکتر صاحب کی ساری تحریکی زندگی پر حاوی رہی وہ علامہ اقبال تھے۔ وہ اقبال کو اپنے دور کا مجدد مانتے تھے۔ اقبال کا کلام انکے نزدیک قرآن کی شعری تفسیر تھا۔

ڈاکٹر صاحب بےحد وسیع المطالعہ اور شعرو ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ جگر، فیض، حسرت، اصغر گونڈوی کے اشعار اکثر نوک زبان پر ہوتے۔۔ اور اقبال کے تو وہ حافظ تھے۔ اس خاکسار کی سمجھ میں اگر تھوڑا بہت کلام اقبال اایا تو وہ ڈاکٹر صاحب ہی کے دروس کی دین ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے ہم عصر اہل علم سے اس لحاظ سے ممتاز تھے کہ دیگر علمائے دین کی بہ نسبت انھوں نے دنیاوی علوم بھی حاصل کئے تھے۔  وہ کسی مدرسے سے فارغ التحصیل نہیں تھے البتہ کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے اول درجے میں کیا تھا۔ لیکن سکہ بند علما نے انہیں کبھی عالم دین نہیں مانا۔

جسطرح ڈاکٹر صاحب کی دل اور زبان ایک تھے اسی طرح ان کے قول و عمل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ جس بات کی تلقین دوسروں کو کی، سب سے پہلے خود اس پر عمل کیا۔ انکے بھائی اظہار احمد کا کراچی میں کاروبار تھا۔ ڈاکٹر صاحب انکی کمپنی میں بطور جنرل مینیجر کام کررہے تھے (ان کا دفتر کورنگی میں دارلعلوم کے قریب تھا اور وہیں ڈاکٹر صاحب کی ملاقات مفتی محمد شفیع اور انکے صاحبزدگان، رفیع عثمانی اور مفتی تقی عثمانی سے رہتی)۔

اظہار احمد صاحب نے کاروباری ضرورت کیلئے بنک سے سودی قرضہ لیا تو ڈاکٹر صاحب ان سے شدید ناراض ہوگئے اور شراکت سے علیحدگی اختیار کر لی۔

 

شادی بیاہ اور دییگر رسومات میں جو بدعات در کر آئی ہیں انکے شدید مخالف تھے چنانچہ اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادیاں خالص اسلامی طریقے پر کیں۔ ڈاکٹر صاحب شادی کی تقاریب میں شرکت نہیں کرتے تھے اور صرف مسجد میں نکاح ہونے کی صورت میں شامل ہوتے تھے۔ بارات مین لڑکے والوں کو کھانا کھلانے کے سخت مخالف تھے کہ نہ صرف یہ خلاف شرع ہے بلکہ جو باپ اپنے جگر گوشے کو غیر کے حوالے کر رہا ہے اس پر ظلم جانتے تھے۔

درویش صفت ڈاکٹر صاحب کی ضروریات بہت کم تھیں۔ زندگی بے حد سادہ تھی۔ قرآن اکیڈمی لاہور سے متصل ایک کمرے مین رہائش تھی جس میں ایک بستر، ایک میز اور ایک صوفہ تھا جو دن میں مہمانوں کیلئے اور رات میں انکی اہلیہ کا بستر ہوتا تھا۔ سادہ غذا اور سادہ لباس ساری زندگی کا معمول رہے۔

انکے ہم عصروں میں شاید ہی کوئی خطابت میں ان کی ہمسری کرسکے۔ بلند آہنگ، صاف لہجہ، الفاظ کا اتار چڑھاو ایسا کہ شیکسپیر کے ڈرامے کی یاد آجائے۔ کڑک اور پاٹ دار آواز اور اس میں آیات قرآنی، احادیث نبوی، مشاہیر کے اقوال اور اشعار کی آمیزش ایک سماں باندھ دیتی۔ جہان خطابت میں یکتا تھےوہیں تحریر مین بھی لاثانی تھے۔ انھون نے جسطرح دین اور مذہب، اسلام اور ایمان، اور جہاد اور قتال کا فرق واضح کیا یہ انہی کا کمال تھا۔ داکٹر صاحب نے بے شمار کتابیں اور مضامین لکھے جن میں نمایاں ترین کارنامہ جسے انکے بد ترین مخالفین نے بھی سراہا ، مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق، ہے۔۔ مجھے اپنی قرآن پڑھنے کی رفتار پر بڑا مان تھا۔ لیکن جب یہ کتاب پڑھی تو احساس ہوا کہ قرآن پر صرف ایمان، اسکی تکریم ہی نہیں بلکہ اسے درست طور پر پڑھنا ، سمجھنا، اپنی زندگی پر اسے نافذ کرنا اور اسکا پیغام اوروں تک پہنچانا قرآن سے محبت کے اصل تقاضے ہیں۔ اور یہ وہ خانہ ہے جو ہماری زندگیوں سے خالی ہے۔

داکٹر صاحب نے قرآن مجید کا ایک منتخب لیکن جامع نصاب ترتیب دیا جسکی بنیاد سورۃ العصر تھی۔ جس میں آخرت میں نجات کی چار بنیادی شرطیں، ایمان جسکا لازمی تقاضہ عمل صالح اور جسکے نتیجے میں حق کی تلقین اور پھر راہ میں آنے والی ابتلا اور مشکلات پر صبر و استقامت کی تلقین ، بیان کئے گئے۔ بقیہ نصاب ایمانیات، عمل صالح کے انفرادی اور اجتماعی پہلووں اور تواصی حق اور تواصی صبر پر مشتمل ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا یقین کامل تھا کہ اسلام ایک انقلابی دعوت ہے اور یہ انقلاب اسی نہج پر آسکتا ہے جس کی عملی تصویر نبی کریم ﷺ نے پیش کی۔ انکی کتاب ، منہج انقلاب نبوی، تمام تر حیات طیبہ کے مختلف ادوار کے مطالعے سے اخذ کردہ نتائج سے مستنبط ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی طبیعت میں ایک مستقل بے چینی، بے قراری اور اضطرار رہتا تھا۔ یہ جلالی کیفیت، یہ دو ٹوک انداز اور یہ جدو جہد صرف اور صرف اعلائے کلمتہ الحق اور شہادت علی الناس کیلئے تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی فکر اور انکے نظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن وہ ایک با علم شخصیت تھے، انکی دلیل سے عدم اتفاق تو ہو سکتا ہے لیکن قرآن پر انکی دسترس، خوش کلامی، انکے خلوص اور نیک نیتی سے انکار ممکن نہیں۔

اس عاصی کی زندگی پر ڈاکٹر صاحب کے دو احسان ہیں۔ پہلا تو قرآن کی طرف متوجہ کرانا۔ قرآن فہمی سے پہلے کوئی تعلق نہ تھا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی تربیت سے قرآن نہ صرف تجوید سے پڑھنے اور تحفیظ کا شوق ہوا بلکہ قرآن پر تدبر کے شوق نے تفاسیر کی طرف توجہ دلائی۔

اور دوسرا بڑا احسان، نفس ملامت گر سے آشنا کرانا ہے۔ میں پہلے بھی دنیا میں مگن تھا اور اب بھی ہوں

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کردیا

 تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے

کچھ عرصہ صراط مستقیم کی خار دار راہ پر چلا، پھر اپنی ڈگر پہ واپس آگیا۔

تپتی راہیں مجھے پکاریں

 دامن پکڑیں چھاوں گھنیری

لیکن اس نفس لوامہ کی بدولت اپنی تمام تر بد اعمالیوں کے باوجود اپنے گناہ کا احساس رہتا ہے اور اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کو دلیل اور جواز سے چھپانے کی کوشش نہیں کی تاکہ یہ احساس ندامت توبہ کے دروازے تک لے جائے کہ وہ بڑا غفور الرحیم ہے۔

ڈاکٹر صاحب ایک بھر پور زندگی جئے، جس کا ایک ایک لمحہ اپنے شوق اور اپنے مقصد کیلئے خرچ ہوا۔ ان کا کام تو مکمل نہیں ہوا لیکن وہ اپنے حصے کا کام کر گئے۔ جب رفیق اعلیٰ کا بلاوا آیا تو گویا وہ منتظر ہی تھے۔ انتقال کے وقت چہرے کا سکون دیدنی تھا۔

 نشان مرد مومن با تو می گویم

 چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست

داکٹر صاحب ہمیں اقبال کے اشعار سنایا کرتے تھے لیکن ہمارے لئے تو خود اس کی تفسیر بن گئے۔

سرود رفتہ باز آید کہ ناید

 نسیمے از حجاز ٓاید کہ ناید

 سر آمد روزگارے ایں فقیر

 دگر دانائے راز آید کہ ناید

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: