نسیم حجازی: ایک بھولا بسرا شخص، ایک بھولا بھٹکا راستہ

0
  • 1
    Share

ڈاکٹرواسع شاکر پاکستان کے معروف نیورولوجسٹ ہیں، یہ ان دنوں آغاخان یونیورسٹی سے منسلک ہیں،ایک بار ان کی ملاقات ترکی کے سابق وزیراعظم اور موجودہ صدر رجب طیب اردوان سے ہوئی،انہوں نے اردوان سے” یورپ کے مردِ بیمار سے توانامرد تک “کی وجہ پوچھی توترک صدر نے ایک مختصر سا جواب دیا،ان کا کہنا تھا کہ اس لمبی جدوجہد میں ہم نے ایک چیز پر خاص توجہ دی ہے،ہم نے اپنی قوم کو اپنی اصل تاریخ سے جوڑدیا،قوم خود بخود اپنی اصل پہچان گئی۔”میں نے ان سے یہ واقعہ سنا تو متاثر ہوئے بغیرنہ رہ سکا۔

میں اس لمحےسوچنےلگا کہ ہمارے ہاں ایسا کون ہےجس نے ہمیں اپنی تاریخ سےملانے کی کوشش کی ہو؟جس نے ہمیں یہ بتایا ہوکہ تم وہ نہیں،جو تم ہو،خود کو پہچانو ذرا،تم کون ہو،تمھارے آباء کون تھے؟تمھارے اسلاف کیا تھے؟

یہ سوچنے بیٹھیں تو شایدآپ کےذہن میں چند شخصیات کانام ضرور آئےمگرمجھےتو جہد مسلسل کےساتھ ہمیں بھولی بسری تاریخ یاددلانے اور بار بارقوم کی آنکھیں واکرنے کیلئےلگے رہنے والی صرف نسیم حجازی کی شخصیت ہی نظر آتی ہے۔

نسیم حجازی ایک صحافی،ایک ایڈیٹراور ایک تاریخی ناول نگارہیں، نسیم حجازی نے سفرنامہ، ڈرامہ اور مزاح پر بھی طبع آزمائی کی،ان کے چند ناولوں پر پی ٹی وی نے ڈرامےبھی پیش کیے، جو اپنےدورمیں مقبول ترین سیریلز رہیں۔یہ اپنےعہد کے بےشماراخبارات سے وابستہ رہے، ان کی اصل شناخت تاریخی ناول نگاری بنی،اردوکےدامن میں ایسے تاریخی ناول نگار کئی ہیں،لیکن نسیم حجازی ان سب میں ممتاز درجہ رکھتے ہیں، نسیم حجازی کا اصل کمال ہی یہی ہے کہ انہوں نے تاریخ جیسے خشک موضوع کی جانب عام طبقے اور بالخصوص طلبہ کومائل کیا، چونکہ تاریخ پڑھنا اور سمجھنا اتنا آسان نہیں ہوتا،اس لیے اگر تاریخ کو واقعاتی یا محاکاتی طرز پر پڑھ لیاجائے تو گنجلک پس ِ منظر کوسمجھنے میں بڑی معاونت ہوتی ہے، نسیم حجازی کا یہی سب سے بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے اہم ترین ابطال جلیلہ کی زندگیوں اورمسلم اُمہ کے عروج و زوال کےمختلف ادوارکوآسان انداز میں جو داستانی پیرایا دیا،اس سے اس دور کے حالات و واقعات کو پڑھنا اور سمجھنابےحد سہل ہوگیا۔

نسیم حجازی نے تاریخ کو ہمارے لیے کیسے آسان بنایا؟ اگرآپ مسلم دور کی اہم فتوحات کے بارےمیں جاننا چاہیں تو “داستان ِ مجاہد ” پڑھ لیجیے، جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کے ابتدائی دور کا جائزہ لینا چاہیں تو”قیصر کسریٰ” کی ورق گردانی کر لیجیے، خلافت ِ راشدہ کا دور دیکھنا چاہیں تو “قافلہ ء حجاز” کا مطالعہ کیجیے، اندلس میں مسلمانوں کےعظیم الشان دور اور وہاں سے انخلاء اور سقوط ِ غرناطہ کا کرب جاننا چاہیں تو”شاہین” اٹھا لیجیے، اسی طرح “اندھیری رات کے مسافر” اور “کلیسا اور آگ” میں اسپین کی گلیاں آج بھی اس عظیم دور کی راہ تکتی نظر آئیں گی، فتح بیت المقدس اورسقوط ِ بغداد کیلئے “آخری چٹان” پر نظر ڈال لیجیے، ہندوؤں کے ہاں ذات پات کی تقسیم کے پس ِ منظر میں قدیم ہندوستان کی جھلکیاں دیکھنا چاہیں تو “انسان اور دیوتا” میں آپ کو تاریخ اور تہذیب دونوں نوحہ کناں نظر آئیں گی، قیام پاکستان سے قبل برصغیر متحدہ ہندوستان کی تاریخ، تہذیب اور حالات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو “پردیسی درخت”، “گمشدہ قافلے” اور “خاک و خون” سے بہتر کوئی چیز نہیں، جس میں آپ کو اس دور کی اتنی بہترین عکاسی ملے، یہی نہیں! بلکہ نسیم حجازی نے چند اہم مسلم شخصیات پر بھی خوب خامہ فرسائی کی، انہوں نے تاریخ اسلام کے کم عمر ترین سپہ سالار پر “محمد بن قاسم”، محمود غزنوی پر “آخری معرکہ”، شہید ٹیپو سلطان کی دلیرانہ زندگی پر “اور تلوار ٹوٹ گئی” جبکہ ان کے والد حیدر علی پر “معظم علی” جیسے ناول لکھ کر ان شخصیات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

نسیم حجازی نے اپنے ناولوں میں مسلمانوں کے عروج و زوال کے ادوار اور ان کے اسباب پر خاص روشنی ڈالی ہے، ان کے ناولوں میں آپ کو مسلم تہذیب، تمدن اور ثقافت بانہیں کھول کرہنستی مسکراتی جبکہ دوسری جانب مسلمانوں پرآنے والے مصائب پرتاریخ آنسو بہاتے نظر آئے گی، ان تحریر وں میں ادبی معیار، سلاست اور روانی اور شستگی خوب ملے گی،ان کے ناولوں میں شرم و حیااور عفت و پاکدامنی کاتحفط کرتی بیٹیاں آپ کواپنی تاریخ سے محبت کرنا سکھادیں گی اور اس پر آپ کا احساس ِ تفاخر جاگ اُٹھےگا،دین کی خاطر اسلاف کے طرز پر قربانیاں دیتے بیٹےآپ کے اَنگ اَنگ میں جوش اور جذبے بھردیں گے،جہاں مسلم سلطنتوں میں تہذیبوں کا سنگم آپ کو خوشگوار حیرت میں ڈالے دےگا تو دوسری طرف اپنوں کی ریشہ دوانیاں آپ کو خون کے آنسو رلائیں گی۔

آپ نسیم حجازی سے ضرور واقف ہوں گے،مگر شاید آپ نے ان کا کوئی ناول نہ پڑھا ہو،آپ میری مانیئے!آپ ان کےچند ناولز پڑھ ڈالیے، پھر یقینا آپ بھی یہی سوچیں گے کہ یہی وہ شخص تھا،جس نے ہمیں اپنی جیتی جاگتی تاریخ سے ملوایا،اپنا درد ہمیں دیا کہ شاید تم ہی کچھ کرلو،پرائی گلیوں میں ہم بھٹکنے والوں کو اپنا در دکھایا کہ یہ ہے تمھارا مرکز،اس میں ہے تمھاری وقعت اور یہی ہے تمھاری اصل منزل،پہچانو اور اپنی منزل سے لپٹ جاؤ!!!

نسیم حجازی کو لڑکپن میں پڑھا تھا، ان کو پڑھے ہوئے کئی برس بیت گئے مگر آج بھی ان کے ناولز اٹھاتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ مجھے جھنجوڑ رہے ہوں،مجھے کوئی بھولا ہوا سبق یاد دلارہے ہوں،میں اپنے لڑکپن کی یادوں میں کھوجاتا ہوں اورجہاں تاریخ کے بند دریچے وَا ہونا شروع ہوتے ہیں،میں دیکھتا ہوں،حالات اب بھی ویسے ہیں،جیسے کچھ بھی نہیں بدلا، آج بھی اپنوں کی عیاریاں اور غیروں کی چیرہ دستیاں میری آنکھوں کے سامنے کے مناظر دھندلادیتی ہیں،لیکن جیسے جیسے آگے پڑھتا جاتا ہوں تو راستے میں دور کہیں منزل کے آثار دِکھنے لگتے ہیں،پھر ایک امید،ایک جذبہ اور ایک اُمنگ سی جاگ اٹھتی ہے،جس سے مایوسی کےبادل چھٹنے لگتے ہیں،یقین کیجیے!یہی سب کچھ ہے، جو آپ ان ناولوں میں پائیں گے،نسیم حجازی ہماری تاریخ کا ایک بھولا بسرا کردار ہے، جس کو ہم نے فراموش کردیا، مگر آپ میری اس بات سے ضروراتفاق کریں گے کہ انہوں نے ہمیں بھولا بھٹکا رستہ دکھایا، بھولا ہوا سبق یاد دلایا،گم گشتہ شناخت یاد دلائی لیکن یہ کتنا عجیب ہے کہ ہم خود اس شخص کو بُھلابیٹھے۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: