غیر سیاسی اسلام: ایک غریب اصطلاح : خالد بلغاری —- حصہ دوم

0

گزشتہ سے پیوستہ 

آج یہ مخفی اثرات اس وقت واضح طور پر سامنے آتے ہیں جب نظریات اور نظام کے حوالے سے تعریفات متعین کرنے کی باری آتی ہے، اور جب حق و باطل، خیر و شر اور حسن و قبح کے معیار طے کرنے کیلئے سوال پوچھے جاتے ہیں۔ جیسے مثلاً آج کا سوال، کہ دین اور سیاست کا آپس میں کیا تعلق ہے اور کیا دین سے سیاست کو الگ کیا جانا چاہئے؟ کیوں، اور کیوں نہیں۔ وغیرہ۔

سیاست” کا دائرہ کار متعین کرنے، اور خاص طور پر دین کیساتھ اسکے تعلق کو طے کرتے وقت لہذا، غالب قوم کے فلسفہ کے زیر اثر ہمارے ہاں ایک تو مغربی جمہوریت کو سیاست کے متبادل سمجھا جاتا ہے اور دوسرے دین اور سیاست کو الگ الگ خانوں میں بانٹ کر ایک کو دوسرے کے دائرہ اثر سے دور رکھنے کی حمایت شد و مد سے کی جاتی ہے۔ جمہوری سیاست کو غالب کرنے کیلئے چونکہ یورپ نے مسیحیت کو گرجے کے اندر مقفل کردیا گیا تھا، ہمارے روشن خیال دانشور بھی اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے اسلام کو مسجد کے اندر محصور کرنا چاہتے ہیں تاکہ جمہوریت کو اسکی اصل مغربی روح کیساتھ نافذ کیا جاسکے۔

غیر سیاسی اسلام” اسی طرح کے مغلوب اذہان میں پلنے والی اُس مستعار فکر کا عنوان ہے جسکے زیر اثر سیکولرزم کی تبلیغ ہوتی ہے اور ریاست بے دین قرار دی جاتی ہے۔
دین اسلام کے دو بڑے ماخذات ہیں؛ اللہ کی کتاب اور نبی ص کی سنت۔ پہلے ماخذ کی بنیاد بھی دراصل نبی ص ہی کی ذات ہے کیونکہ قرآن کریم آپ کے قلب اطہر پر نازل ہوا اور ہم مسلمان آپ ہی کی خبر پر یقین کرکے قرآن کو خدا کا کلام کہتے ہیں۔ لہذا دونوں ماخذات کا تعلق نبی ص سے ہے اور انہی کی ذات گرامی ہمارے لئے دین کی اصل بنیاد ہے۔
دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح سیاست کا بھی دائرہ کار دین اسلام کی نظر میں متعین کرنے کیلئے لہذا، نبی ص کی سیرت کے سیاسی کردار سے بہتر نمونہ اور دلیل ممکن نہیں۔

انبیاء کی سیاست کے موضوع پر صحیح بخاری کے باب “احادیث الانبیاء” کے حوالے سے ایک حدیث ملی۔ اس حدیث میں سیاست کیلئے لفظ “تسوسھم” استعمال ہوا ہے۔ حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ نبی ص نے فرمایا
” ـ”بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ ونائب نبی ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے ہاتھ پر پہلے بیعت کرلو اسے پورا کرو اور احکام کا حق انکو ادا کرو بے شک اللہ ان سے انکی رعایا کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔”

سیرت نگاری ایک باقاعدہ صنف ادب ہے اور سیرت کے موضوع پر بڑی مستند اور معیاری کتابیں موجود ہیں جن میں نبی ص کی سیاسی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق معلومات ملتی ہیں۔ چند سال قبل سیرت کے حوالے سے معروف مستشرق منٹگمری واٹ کی شہرہ آفاق کتاب کا تعارف ایک آڈیو لیکچر کے دوران ہوا۔ اسلام کے حوالے سےدین اور سیاست کا تعلق، پہلی اسلامی ریاست اور نبی ص بطور مردِ ریاست کے موضوعات پر بہت معیاری اور تفصیلی مواد پروفیسر واٹ کی کتب میں موجود ہے۔

ولیم منٹگمری واٹ کا شمار ان چند مستشرقین میں ہوتا ہے جن کی دین اسلام سے متعلق تحریریں اور تجزیے مسلمان اور غیر مسلم علماء، ہر دو کے نزدیک آزاد اور تعصب سے بالا سمجھے جاتے ہیں۔ واٹس 1909 میں سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ اینگلکن پادری تھے۔ 1964 سے لیکر 1979 تک ایڈنبرا یونورسٹی میں عربی اور اسلامیات کے پروفیسر رہے۔ محمد ص کی حیات پر انکا شہرہ آفاق کام دو حصوں “محمد ایٹ مکہ” اور محمد ایٹ مدینہ” کے نام سے موجود ہے۔ بعد میں ان دونوں کتابوں کے مواد کو پروفیسر واٹ نے اپنی ایک اور معروف کتاب میں یکجا کرکے کچھ تبدیلیوں کیساتھ شائع کیا۔ اس کتاب کا عنوان ہے

Muhammad: Prophet and statesman

پروفیسر واٹ کی غیر جانبدار رائے میں نبی صلعم کی مکی اور مدنی زندگی، دونوں کا سیاسی پہلو اس قدر بھرپور رہا تھا کہ انہوں نے اس کتاب کے عنوان ہی میں نبی ص کو پیغمبر ہونے کے ساتھ سٹیٹسمین یا مردِ ریاست بھی قرار دیا۔
سیرت کا عمومی طور پر اور پھر اسکے سیاسی پہلو کا خصوصی طور پر ایک یورپی غیر مسلم کی نظر سے انہوں نے جیسا گہرا اور تفصیلی مطالعہ کیا ہے اس کا ثبوت کتاب کے مطالعے ہی سے بخوبی مل سکے گا۔

نمونے کے طور پر انکی کتب میں سے چند منتخب اقتباسات کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے
پروفیسر واٹ لکھتے ہیں:
مذہب اور سیاسیات کے معاملات کو یہاں آپس میں ملا ہوا دیکھ کر قاری کو شاید یہ محسوس ہو کہ عرب قبائل کی اسلامی ریاست میں شمولیت شاید صرف ایک سیاسی اقدام تھا اور مذہبی نہیں۔ ایسا سوچنا درست نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کے مصر سے انخلاء کے بعد مشرق وسطی میں مذہب اور سیاست ہمیشہ ایک دوسرے کیساتھ جڑے رہے ہیں۔ اور اس مشاہدے کا کہ اس شمولیت کا ایک واضح سیاسی پہلو ہے ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کام کا مذہب سے تعلق نہیں تھا۔ (جیسا کہ عموماً مغرب میں سمجھا جاتا ہے)۔
اسلام نے ایک مکمل معاشی، سماجی اور سیاسی نظام مہیا کیا اور مذہب اس نظام کا ایک لازمی جزو تھا، کیونکہ یہی وہ تصورات پیش کرتا تھا جن کے اوپر اس پورے نظام کی بنیاد تھی۔”6۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
“اس زمانے کے عرب یقینی طور پر نظام کو ایک مجموعی اکائی سمجھتے تھے۔ وہ نظام کو معاشیات، سیاسیات اور مذہب کے خانوں میں منقسم تصور کرنے سے قاصر تھے۔ اہم ترین سوال انکے آگے یہی تھا کہ اس نظام میں شامل ہوا جائے یا الگ رہا جائے۔ وہ خدا اور پیغمبر پر ایمان کی مذہبی دعوت کو تسلیم کئے بغیر سیاسی اور معاشی فوائد حاصل ہی نہ کرسکتے تھے۔ خدا اور پیغمبر پر ایمان کی اس دعوت کو تسلیم کرنا بے معنی تھا اگر وہ محمد صلعم کی جماعت کا حصہ نہ بن جاتے، ایک ایسی جماعت جو سیاسی ہونے کیساتھ ساتھ مذہبی بھی تھی۔ لہذا ایسا سوچنے میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں ہے کہ 630 اور 631 ء میں قبائل کی جوق در جوق شمولیت کے پیچھے مذہب کارفرما تھا۔ یورپ کی تجزیاتی زبان میں یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی عمل ہوگا (اگرچہ ایسا کہنا شاید یورپ کی مادیت کی طرف متعصبانہ جھکاؤ کی بنیاد پر ہے)، تاہم واقعات کی اصل حقیقت کو دیکھا جائے تو ان میں سے مذہب اور سیاست کو جدا کرنا ناممکن ہے۔”7۔

کتاب کے آخر میں پروفیسر واٹ نے “عظمت کی بنیادیں” کے عنوان کے تحت نبی ص کی تین صلاحیتوں کا خصوصیت کیساتھ تذکرہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
“خاص طور پر ہم تین ایسی صلاحیتوں کا ذکر کرینگے جو محمد ص کی غیر معمولی کامیابیوں کیلئے ناگذیر کہی جاسکتی ہیں۔
پہلی خصوصیت انکی صلاحیت بطور غیب دان یا پیش گو کے ہے۔۔۔۔
دوسری خصوصیت انکی صلاحیت بطور مردِ ریاست اور مدبر سیاستدان کے ہے۔ قرآن میں سیاسیات کے حوالے سے ھدایات کا محض ایک بنیادی ڈھانچہ ہی دیا گیا ہے۔ اس ڈھانچے کو ٹھوس حکمت عملی اور مضبوط اداروں کا سہارا فراہم کرنا ضروری تھا۔ اس کتاب میں انکی دور رس سیاسی حکمت عملی اور سماجی اصلاحات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا۔ انکی سیاسی حکمت کی کامیابی کا یہ کافی ثبوت ہے کہ ایک چھوٹی ریاست کیسے ایک قلیل مدت میں وسیع و عریض عالمی سلطنت میں تبدیل ہوگئی اور یہ کہ کتنے مختلف اور متنوع حالات کے اندر انکے اس نظام کو کامیابی کیساتھ لاگو کیا گیا اور پھر یہ سلسلہ تیرہ صدیوں تک جاری رہا۔
تیسری خصوصیت انکی انتظامی صلاحیت ہے اور وہ دانائی جسکے تحت ایسے قابل افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جنکو اہم اور حساس ذمہ داریاں سونپی جاسکیں۔۔۔۔

آدمی جس قدر ابتدائی اسلام اور محمد صلعم کے ساتھ پیش آنے والے تاریخی واقعات پر غور کرتا ہے اسی قدر وہ انکی کامیابیوں کے پھیلاؤ پر حیرت زدہ ہوتا ہے۔ انکو حالات نے جس طرح کے مواقع فراہم کئے اگرچہ کم لوگوں کو ملے ہونگے لیکن وہ اپنے دئے گئے حالات کیلئے ہر پہلو سے موزوں پائے گئے۔ اگر انکے اندر ایک نبی، ایک مرد ریاست اور ایک زبردست منتظم ہونے کی صلاحتیں نہ ہوتیں اور پھر اس کی پشت پر یہ اٹل یقین بھی، کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، تو بنی نوع انسان کی تاریخ کا ایک اہم باب لکھنے سے رہ جاتا۔ ” 8۔

لہذا اب بھی کسی فرد یا جماعت کا “غیر سیاسی اسلام” جیسی غریب اور انمل اصطلاح کی لسانی ساخت سے حظ اٹھاتے رہنے کا ارادہ ہو، تو ذوق کے اس بگاڑ یا ارادے کے ایسے فساد کا کوئی حل نہیں۔ شاید اس طرح کی شغل بے کاری کیلئے “دانشور حلقوں” میں ایک محدود پیمانے پر گنجائش بھی نکل سکتی ہو، لیکن یہ بہرحال طے ہے کہ ریاست اسلام کے نزدیک ابتدا ہی سے پیغمبر کے ماتحت ایک دینی ادارہ رہا ہے۔ اسلامی طرزِ حکومت کے اندر سے دین اور سیاست کو جدا کرنا ممکن نہیں، اور یہ بھی، کہ اسلام کبھی بھی غیر سیاسی نہیں رہا، نہ کبھی ہوسکے گا۔

نوٹ: بریکٹ میں دئے گئے الفاظ بھی پروفیسر واٹس کے ہیں۔ تراجم مصنف مضمون ھذا نے کئے ہیں۔

6. Muhammad at Medina. (1956) Oxford University Press. ISBN 0-19-577307-1. p. 224.
7. Muhammad at Medina. (1956) Oxford University Press. ISBN 0-19-577307-1. p. 225.
8. Muhammad at Medina. (1956) Oxford University Press. ISBN 0-19-577307-1. p. 334-335

 

مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں 

About Author

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: